Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (8) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 538 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (8)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 538)

الدعوۃ قبل القتال

قتال سے پہلے کفار کو اسلام کی دعوت کا کیا حکم ہے؟…

اس بارے میں فقہاء کے تین مسالک ہیں:

(۱) کفار کو قتال سے پہلے دعوت دینا لازم ہے انہیں پہلے دعوت پہنچ چکی ہو یا نہیں۔ یہ قول امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور ان کی دلیل وہ معروف روایت ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی لشکروں کی روانگی کے وقت ان کے امراء کو کی جانے والی وصیتوں کا ذکر ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کا ہر سریہ کے امیر کو یہ تاکید فرمانا کہ کفار کو پہلے اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ اسے قبول نہ کریں تو جزیہ دے کر مسلمانوں کی رعایا بن رہنے کی دعوت دینا اور اگر اسے بھی قبول نہ کریں تو قتال کرنا، اسی طرح غزوہ خیبرکے دن حضوراکرمﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جھنڈا سپرد کرتے ہوئے یہی تاکید فرمائی۔ یہ تاکید دلیل ہے کہ ہر جنگ سے پہلے دعوت لازم ہے اور اس میں دعوت پہنچ چکے ہونے یا نہ ہونے کا کوئی فرق نہیں۔

(۲) دعوت دینا لازم نہیں پہلے سے پہنچ چکی ہو یا نہیں۔

ان فقہاء کرام کی دلیل صحیحین کی یہ روایت ہے:

’’ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے نافع کو خط لکھ کر قتال سے قبل دعوت کا حکم دریافت کیا۔

انہوں نے فرمایا:

یہ دعوت اول اسلام میں لازم تھی۔(بعد میں نہیں رہی) نبی کریم ﷺ نے بنی مصطلق پر بے خبری کے عالم میں حملہ کیا۔ وہ غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ مجھے یہ بات عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتائی اور وہ خود اس لشکر میں شامل تھے ‘‘…(متفق علیہ)

نصب الرایہ میں امام زیلعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

حازمی نے الناسخ والمنسوخ میں لکھا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ان روایات کے لئے ناسخ ہے جن میں دعوت کے وجوب کا ذکر ہے۔ یہ روایت اس مسئلہ میں صریح ہے کیونکہ میں اس میں کہا گیا ہے کہ دعوت کا لزوم اول اسلام میں تھا ‘‘ ( نصب الرایہ ج۳ ص ۳۸۲)

(۳) جن کفار تک دعوت پہنچ چکی ہو انہیں دعوت دینا لازم نہیں، مستحب ہے۔ البتہ جنہیں نہ پہنچی ہو ان کو دعوت دینا لازم ہے۔

یہ مذہب جمہور فقہاء کا ہے۔

امام کاسانی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اگر ان کفار کو دعوت نہ پہنچی ہو تو لشکر مسلمین پر لازم ہے کہ انہیں دعوت دے اور ان سے دعوت کے بغیر قتال کرنا ناجائز ہے‘‘…

 تھوڑا آگے چل کر فرماتے ہیں:

’’اور اگر انہیں دعوت پہنچ چکی ہو تو جائز ہے کہ بغیر تجدید دعوت کے قتال کا آغاز کر دیں۔ البتہ باوجود اس کے افضل یہ ہے کہ قتال سے پہلے دعوت کی تجدید کر لیں۔اس لئے رسول ﷺ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ قتال سے پہلے ان کفار کو بھی دعوت دیا کرتے تھے جنہیں پہلے دعوت دی جا چکی ہوتی تھی۔‘‘( بدائع الصنائع)

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’کفار کو اسلام اور جزیہ کی دعوت دینا اسی صورت میں لازم ہے کہ انہیں پہلے سے دعوت نہ پہنچی ہو البتہ جب پہنچ چکی ہو، تو انہیں دعوت دیے بغیر قتال کرنا جائز ہے‘‘…

اسی ذیل میں آگے فرماتے ہیں:

’’ولا اعلم احدا لم تبلغہ الدعوۃ الیوم الا ان یکون عن وراء عدونا الذین یقاتلون امۃ من المشرکین ‘‘ ( الاُم )

(میرے علم کے مطابق اس زمانے میں کوئی کافر قوم ایسی نہیں جسے دعوت نہ پہنچ چکی ہو۔ الا یہ کہ مشرکین کی کوئی ایسی جماعت ہو جو ہم سے قتال کرنے والے دشمنوں کے پیچھے رہتی ہو اور اس تک دعوت نہ پہنچ سکی ہو)

یہ امام المسلمین امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے زمانے کا احوال بیان فرما رہے ہیں جس میں نہ ذرائع ابلاغ اس قدر عام تھے اور نہ وسائل آمدروفت اس قدر تیز۔ اس جزئیے سے ہم اپنے زمانے کا حکم بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ البتہ یہ حقیقت ذہن نشین رہے کہ یہ تینوں آراء مسلمانوں کے کفار پر حملہ کر نے کی صورت پر مبنی ہیں ۔اگر کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہوں تو باجماع امت انہیں دعوت دئیے بغیر ان سے قتال کیا جائے گا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔

امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کی معروف کتاب السیر الکبیر اور اس کی شرح میں لکھا ہے:

‘‘ولو ان قوما من اہل الحرب لم یبلغہم الاسلام ولا الدعوۃ اتوا المسلمین فی دارھم فقاتلہم  المسلمون بغیر دعوۃ لیدفعوا عن انفسہم وسبوا واخذوا اموالہم فہذا جائز۔لان المسلم لو شہر سیفہ علی مسلم حل للمشہور علیہ سیفہ قتلہ للدفع فھاھنا اولیٰ‘‘ ( شرح السیر الکبیر)

 

( اور اگر اہل حرب کا کوئی لشکر جنہیں اسلام کی خبر اور دعوت نہ پہنچی ہو۔ مسلمانوں کے علاقے میں آ جائے اور مسلمان ان سے دعوت دئیے بغیر اپنے دفاع کے لئے لڑیں اور انہیں قتل کریں۔ قید کر لیں ، ان کے اموال حاصل کر لیں تو یہ جائز ہے۔ اس لئے کہ اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان پر حملہ آور ہو تو جس پر حملہ کیا گیا ہے وہ اپنے دفاع کے لئے اس حملہ آور مسلمان کو قتل کر سکتا ہے تو یہاں (کافر کے حملے کی صورت میں) یہ بطریق اولیٰ جائز ہو گا)

’’بخلاف ما اذا کانون یغزون فی بلادھم الخ ‘‘ ( السیر الکبیر)

( بخلاف اس کے کہ جب مسلمان اُن کے علاقوں پر حملہ آور ہوں گے تو دعوت لازم ہو گی )…

تربیت

جہاد کی تربیت کرنا اور آلات جہاد کا تیار رکھنا مستقل حکم شرعی ہے اور قرآن مجید میں اس کا امر وارد ہوا ہے:

ترجمہ:اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ قوت سے اور صحت مند گھوڑوں سے جمع کرسکو سو تیار رکھو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر رعب پڑے، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے، اور اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے تمہیں (اس کا ثواب) پورا ملے گا اور تم سے بے انصافی نہیں ہوگی۔(سورۃ الانفال آیت 60)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دو چیزیں تیار رکھنے کا حکم فرمایا:

(۱) قوۃ

اور نبی کریم ﷺ نے اس کی تفسیر میں فرمایا:

’’الا ان القوۃ الرمی‘‘

(قوت پھینک کر مارنا ہے)

یوں تو ہر طرح کا جنگی سامان تیار رکھنا اور اس کی مکمل تربیت حاصل کرنا اس آیت کا مصداق ہے لیکن نبی کریمﷺ کی تشریح کے سبب ’’الرمی‘‘ یعنی دور سے پھینک کر مارے جانے والے اسلحہ کو اس میں خاص مقام حاصل ہے اور اس کی تاکید احادیث مبارکہ میں زیادہ وارد ہوئی ہے۔

امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ امر اللہ سبحانہ المومنین باعداد القوۃ للاعدائ… وکل ماتعدہ لصدیقک من خیر او لعدوک من شر فھو داخل فی عدتک‘‘…

( اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو دشمنوں کے مقابل قوت تیار کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ ہر وہ چیز جو آپ اپنے ساتھیوں کی بھلائی اور دشمنوں کو ضرر پہنچانے کے لئے تیار کریں گے وہ اس تربیت میں شامل ہے)

(۲) گھوڑے باندھنا:

گھوڑا زمانہ قدیم کے جہاد میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا اور میدان جنگ میں لشکروں کی فتح و شکست کا مدار گھڑ سواروں کی کروفر پر ہی ہوا کرتا تھا۔ اس کی اس خصوصی حیثیت کے پیش نظر مال غنیمت میں گھڑ سوار کا حصہ پیدل فوجی سے دگنا رکھاگیا۔ گھوڑوں کی ٹاپوں اور حملوں کی قسمیں قرآن مجید میں کھائی گئیں ہیں اور گھوڑنے باندھنے کا تاکیدی حکم اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا۔ آج کے زمانے میں اگرچہ جنگ میں گھوڑے کی شرکت کے وہ امکانات ومفادات نہیں رہے۔البتہ عملی جہاد میں گھوڑے کا کردار نہ رہنے یا کم ہو جانے سے یہ حکم اور اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس حکم اور فضیلت کو قیامت تک جاری فرما دیا۔

’’ الخیل معقود فی نواصیہا الخیر الاجر والمغنم الی یوم القیامۃ ‘‘ ( صحیح مسلم)

( گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک خیر باندھ دی گئی ہے یعنی اجر اور غنیمت)

اور اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ہے کہ تربیت جہاد میں گھوڑے کا کردار جیسا زمانہ ماضی میں تھا آج بھی ہے۔ جہاد میں شرکت کے لئے ایک انسان کو جس قدر جسمانی اور قلبی مضبوطی درکار ہوتی ہے اس کے حصول کا گھڑ سواری سے بہتر ذریعہ آج بھی کوئی نہیں۔ چونکہ تربیت جہاد کا حکم قیامت تک کے لئے ہے اور گھوڑے کا اس میں کردار ہمیشہ رہے گا اس لئے گھوڑے باندھنے کا حکم اور فضیلت بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔

(گھوڑا پالنے اور رمی کرنے کے فضائل تفصیلاً فضائل جہاد میں ملاحظہ کر لئے جائیں)

آگے امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے تربیت جہاد کے حکم شرعی کی بات کی ہے:

’’ وتعلم الفروسیۃ واستعمال الاسلحۃ فرض کفایۃ وقد یتعین ( الجامع الاحکام ج 8، ص 35)

( گھڑ سواری اور اسلحہ چلانا سیکھنا فرض کفایہ ہے اور بعض حالات میں فرض عین بھی ہو جاتا ہے)

یعنی جس زمانے میں جو حکم جہاد ہو گا وہی حکم تربیت کا بھی ہو گا۔

فقہ کا مشہور و مسلم کلیہ ہے:

’’ ما لا یتم الواجب الا بہ فھو واجب‘‘

( واجب کی ادائیگی جس عمل پر موقوف ہو وہ بھی واجب ہوتا ہے)

فرضیت جہاد کی بحث پیچھے بالتفصیل گزر چکی ہے اور جہاد کی ادائیگی تربیت پر موقوف ہے۔ اس اصول کلی کی رو سے بھی تربیت جہاد کا حکم واضح ہے۔

حضرات علماء کرام نے تربیت جہاد کے وجوب پر ان روایات سے بھی استدلال کیا ہے جن میں تیر اندازی سیکھ کر بھلا دینے پر شدید وعید آئی ہے۔ اگر یہ کام واجبات میں سے نہ ہوتا تو اس کے ترک یا بھلا دینے پر وعید وارد نہ ہوتی۔

بہرحال کفار کے مقابلے کے لئے خود کو جسمانی طور پرمستعد اور مادی اعتبار سے تیار رکھنا اللہ تعالیٰ کے تاکیدی احکام میں سے ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ نبی کریم ﷺ کی اس پر خصوصی توجہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو تیاری کا حکم دیا، فضائل بیان فرمائے، ترک پر وعیدیں سنائیں،شوق دلانے کی خاطر مقابلہ بازی کا رجحان پیدا کیا اور مسابقین کو انعامات سے نواز کر حوصلہ افزائی فرمائی اور بہت سے صحابہ کرام کو خاص عسکری فنون کے حصول کے لئے دوسرے علاقوں میں بھی بھیجا۔ رہااس کاشرعی وفقہی حکم تو وہ اوپر امام قرطبی رحمہ اللہ کی عبارت میں آ چکاہے۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor