Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (9) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 539 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (8)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 539)

جہاد اصغر، جہاد اکبر

جہاد اصغر کیا ہے اور جہاد اکبر کون سا ہوتا ہے؟

اس بحث کو چھیڑنے سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ قرآن و حدیث کی واضح بلکہ واضح ترین نصوص سے یہ مضمون صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اعمال میں افضل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

قرآن مجید کی جن آیات میں یہ مضمون وارد ہوا ہے اور ان کے الفاظ اور ان کا شان نزول ثابت کرتے ہیں کہ ان آیات میں جہاد کو افضل ترین عمل کہا گیا ہے وہ تین ہیں:

(۱) ترجمہ:مسلمانوں میں سے جو لوگ کسی عذر کے بغیرگھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں برابر نہیں ہیں۔ اللہ نے بیٹھنے والوں پر جان ومال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑھا دیا ہے، اگرچہ ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے لڑنے والوں کو بیٹھنے والوں سے اجر عظیم میں زیادہ کیا ہے۔ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اوررحمت ہے اور اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے‘‘۔( سورۃ النساء :۹۵۔۹۶)

اس آیت میں مجاہدین کے عملِ جہاد کو ’’قاعدین ‘‘ یعنی پیچھے رہنے والوں کے تمام اَعمال پر فوقیت دی گئی اور ’’لا یستوی ‘‘ کے الفاظ سے واضح کر دیا گیا کہ پیچھے والوں کا کوئی عمل جہاد کے برابر نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ اس سے افضل ہو۔ آیت کے پہلے حصے میں برابری کی نفی ہے۔دوسرے حصے میں مجاہد کی’’ درجے ‘‘میں فضیلت کا اعلان ہے اور تیسرے حصے میں ’’اجر‘‘ کی فضیلت کا ذکر۔ اور اگلی آیت میں بتایا گیا کہ درجے کا فرق بھی معمولی نہیں بلکہ ’’درجات ‘‘ کا فرق ہے اور مجاہد کے لئے مغفرت اور رحمت کے اس خصوصی وعدے کا بھی اعادہ ہے جو دیگر درجنوں آیات میں فرمایا گیا۔

(۲)ترجمہ:’’کیا تم نے حاجیوں کا پانی پلانااور مسجد حرام کا آباد کرنااس کے برابر کردیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایااور اللہ کی راہ میں لڑا۔ اللہ کے ہاںیہ برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو راستہ نہیں دکھاتا۔ جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے ، اللہ کے ہاں ان کے لئے بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں، انہیں ان کا رب اپنی طرف سے مہربانی اور رضامندی اور باغوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں انہیں ہمیشہ آرام ہوگا‘‘۔( سورۃ التوبہ :۱۹تا۲۱)

اس آیت کے شان نزول میں امام بخاری و مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ اور مفسرین کرام نے اپنی کتب میں یہ روایت ذکر کی ہے کہ مسجد نبوی میں ’’روضہ‘‘ والے حصے میں تین صحابی بحث کر رہے تھے۔ ایک کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اسلام لانے کے بعد سب سے بہتر عمل حجاج کرام کی خدمت کرنا اور ان کے لئے پانی راحت وغیرہ کا انتظام کرنا ہے، دوسرے کا خیال تھا کہ مسجد حرام میں ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہنے سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں اور تیسرے کا خیال تھا کہ جہاد فی سبیل اللہ سب سے افضل عمل ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹ کر خاموش کرایا اور کہا کہ اس معاملے میں رائے کا کیا دخل؟ اس لئے بحث نہ کریں۔ ابھی حضور ﷺ تشریف لائیں گے ان سے معلوم کر لینا۔ اتنے میں آپ ﷺ اپنے حجرہ مبارکہ سے تشریف لائے اور ان کے سامنے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی۔ ان آیات میں بھی سورۃ النساء والی آیت کے مطابق پہلے برابری کی نفی ہے اور آگے جہاد کی افضلیت اور مجاہد کے درجات ، مغفرت اور رحمت کے خصوصی وعدے ہیں۔

(۳) ترجمہ:’’اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔ اللہ کے نزدیک بڑی ناپسند بات ہے جو کہواس کو کرو نہیں۔ بے شک اللہ تو ان کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں‘‘۔(سورۃ الصف:۲۔۳)

اس آیت کا شان نزول بھی اوپر سورۃ التوبۃ والی آیات کے موافق بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین عمل کا سوال کیا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

( ان تینوں آیات کی تفصیلی تفسیر اور معارف کے لئے ’’فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد ‘‘ کا مطالعہ فرما لیجئے)

روایات کے ذخیرے میں اس باب میں سب سے واضح روایات بخاری و مسلم میں اس عنوان سے مذکور ہیں کہ ایک شخص نے مجلس میں حاضر ہو کر سوال کیا:

’’ دلنی علی عمل یعدل الجہاد فی سبیل اللہ ‘‘

( مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہو؟)

ایک روایت کے مطابق حضور ﷺ نے اس کے بار بار سوال کے جواب میں یہی فرمایا:

’’لا اجدہ ‘‘

( میں ایسا کوئی عمل شریعت میں نہیں پاتا )

نبی کریم ﷺ کے اس فرمان میں ’’لا اجدہ ‘‘ سے بحث ہی ختم ہو گئی۔

اور ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ لا تستطیعونہ‘‘

( اور تم ایسا عمل کرنے کی قوت و استطاعت نہیں رکھتے)

اور پھر اس کے بار بار سوال پر تفصیل ارشاد فرمائی:

’’ مجاہد کی مثال اس روزے دار اور نماز میں مشغول شخص کی سی ہے جو نہ کبھی روزہ قطع کرے اور نہ نماز حتی کہ اللہ کے راستے میں نکلا ہوا مجاہد گھر کو لوٹ آئے‘‘…

گویا اس میں تعلیق بالمحال فرما دی کہ اگر بالفرض کوئی شخص ایسا عمل کرے کہ مجاہد کے گھر سے جہاد کے لئے نکلتے ہی نماز اور روزے کی نیت کر کے ان اعمال کو شروع کر دے اور مجاہد کے لوٹنے تک ان میں لگا رہے تو شائد اس کا عمل جہاد کے برابر ہو سکے اور ایسا کرنا کسی کے بس میں ہی نہیں اس لئے جواب وہی ہے کہ ایسا کوئی عمل ہے ہی نہیں۔

یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ صحابہ کا سوال ایسے عمل کا تھا جو جہاد کے برابر ہو سکے نہ کہ اس سے افضل۔ اس لئے کہ قرآن مجید کی واضح نصوص کے بعد گویا ان کے ذہن میں یہ خیال ہی باقی نہ رہا تھا کہ کوئی عمل اس سے افضل بھی ہو سکتا ہے ۔معلوم ہوا کہ جہاد سے افضل عمل ڈھونڈنا اور گھڑنا بعد کے زمانے کی پیداوار ہے۔

انہی واضح نصوص کی بناء پر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’ لا نعلم شیئا من ابواب البر افضل من السبیل( یعنی الجہاد) وذکر لہ امرا بعدو فجعل یبکی ویقول ما من اعمال البر افضل منہ…الی …قال رسول اللّٰہ ﷺ والذی نفسی بیدہ ما بین السماء والارض من عمل افضل من جہاد فی سبیل اللّٰہ ‘‘( المغنی )

( ہم نیکی کے کاموں میں جہاد سے افضل کسی عمل کو نہیں جانتے۔ اور امام صاحب کے سامنے دشمن کے مقابلے کا ذکر کیا گیا وہ رونے لگے اور فرمایا: نیکی کے کاموں میں اس سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں۔ آگے چل کر فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے آسمان و زمین کے درمیان کوئی عمل جہاد سے افضل نہیں…)

اب آئیے اس مسئلے کی طرف جو جہاد پر معترضین کی نظر میں سب سے بڑا اعتراض ہے اور اس کی اہمیت و عظمت کم کرنے کے لئے ایک مسلمان کے ذہن پر سب سے بڑاوار یہی کیا جاتا ہے۔

ایک روایت (اسے روایت کہنے پر اللہ تعالیٰ معاف فرمائے آمین) نقل کی جاتی ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے سوال کیا یا رسول اللہ! بڑا جہاد کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نفس کی مخالفت کرنا…

اس واقعہ کو بنیاد بنا کر قتال فی سبیل اللہ کو چھوٹا جہاد اور ایک بے نام غیر متعین عمل کو بڑا جہاد کہہ کر دعوت دی جاتی ہے کہ چھوٹا جہاد چھوڑئیے اور بڑا جہاد کیجئے۔

اس حوالے سے چند اصولی باتیں سمجھ لیں:

(۱) یہ بات اور واقعہ حدیث کے موضوع پر اب تک لکھی جانے والی کسی چھوٹی بڑی کتاب میں مذکور نہیں۔

(۲) احیاء العلوم کی تالیف سے پہلے تک اس کا ذکر سلف کی نہ کسی کتاب میں آیا اور نہ کسی نے اسے نقل کیا۔

(۳) اس روایت کی جتنی بھی اسناد ہیں سب موضوع ہیں اور اس بات پر ائمہ جرح و تعدیل کا گویا اجماع ہے۔صرف ایک سند جو موضوع نہیں لیکن صحیح یا حسن درجے کی بھی نہیں شاذ درجے کی ہے امام بیہقی سے منقول ہے لیکن امام بیہقی نے اپنی مشہور تالیفات السنن الکبری، السنن الصغری وغیرہ میں اسے ذکر نہیں کیا بلکہ ایک انتہائی غیر معروف تالیف ’’الزہد‘‘ میں نقل کی۔اس سے خود ان کی نظر میں بھی اس کا مقام واضح ہے۔

(۴) ایک ایسے عمل کا اَسلاف امت اور علمائِ متقدمین میں بالکل ذکر ہی نہ ہونا جو جہاد سے بھی افضل تھا بالکل غیر ممکن بات ہے۔ اگر یہ بات ثابت ہوتی تو امت میں عام ہوتی اور خیر القرون میں رواج پاتی۔

(۵) جس عمل کو جہاد اکبر کہا گیا وہ مجہول ہے۔نفس کی مخالفت تو ہر عمل میں ہے۔ یہاں کون سا مراد ہے؟

(۶) ایک ایسے غزوے سے واپسی پر یہ فرمایا گیا ( بالفرض ) جس میں نہ نکلنے والوں پر عموماً حکم نفاق لگایا گیا اور جو مخلصین نہیں نکلے تھے انہیں سخت سزا دی گئی۔ چھوٹے جہاد کے ترک پر یہ سخت معاملہ ہوا تو اس کے مقابل جسے بڑا جہاد کہا گیا اس کے تارکین کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ااور ان کے لئے کیا وعید آئی؟…

یہ سارے سوالات ہیں جو یہ بات نقل کرنے والوں پر قرض ہیں۔ اور اگر علی سبیل التسلیم اسے بالکل صحیح درجے کی روایت مان لیا جائے تو بھی دو باتیں غور طلب ہیں۔

(۱) کیا اس روایت سے ایسا مسئلہ ثابت ہو سکتا ہے جو قرآن مجید کی واضح نصوص اور اس سے ہر طرح قوی روایات سے صراحت کے ساتھ ثابت ہو رہا ہے؟ اصول کی رو سے ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ محدثین کرام نے ان نصوص کی بناء پر ہر اس صحیح روایت میں بھی تاویل کی ہے جس میں کسی عمل کو جہاد سے افضل یا خیر بتایا گیا۔ امام نووی رحمہ اللہ نے ایسی تمام صحیح روایات کو مخصوص اشخاص کے ساتھ خاص بنایا ہے عام حکم وہی ہے جو نصوص میں مذکور ہے( شرح النووی جلد ۱ ص ۴۲۹/۴۳۰)

اور ابن حجر رحمہ اللہ ہر جگہ یہ تاویل کرتے ہیں کہ یہاں ’’من‘‘ کا لفظ محذوف ہے یعنی وہ اعمال بتائے گئے جو فضیلت والے ہیں ان کی باہمی تفضیل موضوع نہیں۔ ( فتح الباری)

تو جس طرح محدثین کرام نے دیگر صحیح روایات میں تاویل کی ہے یہاں بھی ہو گی۔

(۲) اس مقولے میں ’’جہاد ‘‘ اپنے شرعی معنی قتال میں تو مراد نہیں ہو سکتا، یقینا لغوی معنی مشقت اور تکلیف مراد ہیں۔ تو اس کا معنیٰ یہ ہو گا کہ ’’جہاد اکبر‘‘ وہ عمل ہے جس میں نفس پر مشقت دوسرے اعمال کی نسبت زیادہ ہو۔ اس کے علاوہ اور کوئی بھی مطلب ممکن نہیں۔ اب اس معنی پر خود فیصلہ کیجئے کہ ’’جہاد اکبر‘‘ کون سا عمل ہوا؟…

ہر انسان اپنے نفس پر تمام دینی اعمال کو پیش کرتا جائے اور خود اپنے نفس سے ہی پوچھ لے کہ اس کے لئے سب سے مشقت، مشکل اور خطرے والا عمل کون سا ہے اور نفس سب سے زیادہ کس کام سے روکتا ہے؟…بسم اللہ کیجئے اور اپنے نفس سے ہی فیصلہ لے لیجئے خود اپنے مفتی بن جائیے۔

 

ہر جگہ جھوٹ بولنے والا نفس، یہاں جھوٹ نہ بول سکے گا کہ جہاد اکبر یعنی بڑی مشقت قتال فی سبیل اللہ میںہی ہے۔

اب آئیے سودا کرتے ہیں:

مجاہدین قتال کے عادی ہو چکے ہیں اور یہ ان کے لئے آسان ہو چکا ہے جبکہ واپس آنا اور دوسرے کام کرنا انہیں مشکل لگتا ہے۔ ان کے لئے بڑی مشقت واپس آنا ہے اس لئے انہیں واپس بلاتے ہیں اور یہ قصہ نقل کرنے والوں کے لئے یقینا بڑی مشقت جہاد کی تربیت کرنا اور عملاً جہاد میں شرکت کرنا ہے لہٰذا وہ جہاد اکبر کریں اور اللہ کے راستے میں نکلیں۔

اگر اس روایت پر ایمان ہے تو یہ سودا قبول کرنے میں آپ کو ذرا بھی عذر نہ ہونا چاہیے اور اگر عذر ہوتا ہے توا س کا مطلب ہے آپ خود اسے نہیں مانتے۔ جواب قرض ہے مجھے نہ دیں اپنے آپ سے ضرور پو چھ لیں۔بھلا اس عمل سے بڑھ کر پُرمشقت عمل بھی کوئی ہو سکتا ہے جسے فرض کرنے کے ساتھ ہی ’’وھو کرہ لکم ‘‘ کہہ دیا گیا تھا …

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor