Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ (10) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 540 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ (10)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 540)

باموالکم:

قرآن مجید میں جہاد کا حکم دو چیزوں سے دیا گیا اور اکثر مواقع پر جہاد کا ذکر اسی طرح وارد ہوا ہے کہ اپنے اموال اور اپنی جان جہاد میں خرچ کرو۔ جہاد امر اجتماعی ہے، اس کے لئے جماعت سازی اور اس جماعت کو امارت اور اطاعت کے نظام پر قائم کرنا کس قدر ضروری ہے اس کا اندازہ قرآن مجید میں بیان فرمودہ دو واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔

(۱) بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد عمالقہ سے جہاد۔اس کا ذکر سورۃ البقرہ میں دو رکوع کے اندر تفصیل کے ساتھ وارد ہے۔

(۲) غزوۂ اُحد

ان دونوں واقعات میں جہاد کا پورا عملی نظام سمجھایا گیا اور نتائج سے واضح کیا گیا کہ کن امور کی فراہمی فتح کی ضامن ہے اور کہاں کمزوری کا آنا نتیجہ کو بدل ڈالتا ہے۔

ترتیب کی ابتداء نظریہ سازی سے ہے۔

زندگی موت کا فلسفہ عملی مثال کے ساتھ سمجھا کر یہ رکاوٹ دورکر دی گئی کہ نفس یہ سمجھا کر پاؤں باندھ دیتا ہے:

’’جہاد میں موت ہے‘‘…

اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نکلنے کے بغیر ہی ساری قوم کو موت سے دوچار کر دیا پھر زندہ کر دیا تاکہ سمجھ جائیں زندگی موت کا تعلق جہاد میں نکلنے، نہ نکلنے سے نہیں۔

یہ مرحلہ مکمل ہوا تو آگے جان و مال کی قربانی پر آمادہ کیا گیا اور سامان جہاد کی فراہمی کے لئے مال خرچ کرنے کا حکم آیا۔ اللہ تعالیٰ کو پوری قدرت ہے چاہتے تو اسباب جہاد غیب سے فراہم کر دیتے۔ جس طرح آسمان سے فرشتے اور نصرت کے دیگر سامان اُتر سکتے ہیں، سامان جہاد بھی مہیا ہو سکتا تھا مگر اس کی فراہمی کے لئے مالی قربانی کو بھی جہاد کے عمل کا حصہ بنا کر بندوں پر لازم کرایا گیا۔ اس لئے بنی اسرائیل کو بھی نظریہ سازی کے بعد متصلا ًحکم آیا:

’’کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے اچھا، پس وہ اسے اس کے لئے بڑھا دے کئی گنا‘‘ ( البقرۃ ۲۴۵)

مال دینا چونکہ مشکل کام ہے اس لئے یہ فلسفہ بھی انسانی فطرت کے مطابق کر کے سمجھا دیا گیا کہ یہ مال جو خرچ کیا جا رہا ہے اپنے نفع کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ محتاج نہیں۔ اس کا خرچ نہ کرنا انسان کو ہلاکت میں مبتلا کر سکتا ہے۔

’’اور خرچ کرو جہاد میں اور اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘ ( البقرۃ ۱۹۵)

یہ مال بطور قرض لیا جا رہا ہے اور قرض کا عنوان یہ باور کرانے کے لئے دیا گیا کہ اس کی واپسی یقینی ہے اور پھر واپسی برابر سرابر نہیں بلکہ سینکڑوں گنا بڑھا کر۔

’’اور مثال اُن لوگوں کی جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس ایک دانے کی ہے جو سات بالیں اگائے ، ہر بال میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور اللہ تعالی بڑی کشائش والے کامل علم والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ۔ آیت ۲۶۱)

اور درجنوں صحیح احادیث ان پر مستزاد…

ساتھ ساتھ مال خرچ نہ کرنے پر سخت وعیدیں…

اس طرح یہ مشکل کام آسان کر دیا گیا۔ نبی کریمﷺنے اپنی امت کے لئے جہاد کے اسی طریقے کو پسند فرمایا کہ یہ اپنے مال سے اسباب فراہم کر کے لڑے اور جان کے ساتھ مال خرچ کرنے کا اجر پائے۔

اس لئے غزوات کے موقع پر اپنی چادر مبارک پھیلا کر مسلمانوں سے مال طلب فرمایا۔ مال خرچ کرنے والوں کو بڑی بڑی بشارتوں سے نوازہ اور روکنے والوں کو وعید دی۔ پہلے گزر چکا کہ نبی کریم ﷺ سے ایسا عمل پوچھا گیا جو جہاد کے برابر ہو سکے۔ آپ ﷺ نے اس کے وجود کی نفی فرمائی، البتہ جہاد میں مال خرچ کرنے کو ( خواہ وہ سامان جہاد کی فراہمی کے لئے ہو یا مجاہدین کے گھروں کی کفالت کے لئے) جہاد کرنے جیسا عمل قرار دیا۔

’’جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے کے مجاہد کو سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر بار کی بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا‘‘ ( مسلم)

اور یہ بھی گزر چکا کہ ایک مومن کے لئے جہاد میں شرکت کا وہ کم از کم درجہ جو وعید سے مامون کر دے یہی ہے کہ وہ کسی غازی کو سامان جہاد فراہم کرے یا اس کے اہل خانہ کی کفالت کرے۔

(جہاد میں مال خرچ کرنے کے تفصیلی فضائل کے لئے مطالعہ کیجئے ’’فضائل جہاد‘‘ ( مصنفہ حضرت مولنا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ)

وانفسکم سے جہاد:

دوسری چیز جس سے جہادکا حکم دیا گیا وہ جان سے جہاد کرنا یعنی قتال میں عملی شرکت کرنا ہے۔ اس کا حکم شرعی گزر چکا۔ فضائل بے شمار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو جنت کا ثمن اور قیمت قرار دیا۔ اس پر مغفرت کا یقینی وعدہ فرمایا۔ اس میں جان بچا کر لوٹ آنے والے کے لئے اجر عظیم کے وعدے، فتوحات کی بشارتیں، ایک ایک قدم پر اجرو ثواب کے انمول خزانے اور اپنی رضاء کی خوشخبریاں عطاء فرمائیں۔

ترجمہ:مدینہ والوں اور اُن کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کو یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اُس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں۔ یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یاوہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتااور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے ۔‘‘(سورۃ التوبہ آیت ۱۲۰/۱۲۱)

اور جو اپنی جان وار دے اُس کے لئے جو انعامات ہیں ان کا تصور ہی ایک مومن کو دیوانہ بنا دینے کے لئے کافی ہے۔ ایسی موت جس کی تمنا خود امام الانبیائ، سرور کونین ﷺ نے فرمائی اور اسکا بدلہ ایسی زندگی جس کی کیفیات کو رب العالمین نے اپنے کلام کا حصہ بنا دیا۔ ایک آیت اور ایک حدیث سے اندازہ لگانے کی کوشش کیجئے۔

تفصیلی تذکرہ فضائل جہاد میں ملاحظہ کر لیا جائے۔

ترجمہ:اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں سے رزق دیے جاتے ہیں۔ اللہ نے اپنے فضل سے جو انہیں دیا ہے اس پر خوش ہونے والے ہیں اور ان کی طرف سے بھی خوش ہوتے ہیں جو ابھی تک ان کے پیچھے سے ان کے پاس نہیں پہنچے اس لئے کہ نہ ان پر خوف ہے او رنہ وہ غم کھائیں گے۔ اللہ کی نعمت اور فضل سے خوش ہوتے ہیں اوراس بات سے کہ اللہ ایمانداروں کی مزدوری کو ضائع نہیں کرتا۔(سورۃ آل عمران آیت ۱۶۹ ، ۱۷۰ ، ۱۷۱ ) 

حضرت مقداد بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ  نے ارشاد فرمایا: شہید کے لئے اﷲ (تعالیٰ) کے ہاں چھ خصوصی انعامات ہیں:

(۱) خو ن کے پہلے قطرے کے ساتھ اُس کی مغفرت کردی جاتی ہے اور جنت میں اس کا مقام اس کو دکھلادیاجاتاہے (۲) اسے عذاب قبر سے بچالیاجاتاہے (۳) قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے وہ محفوظ رہتاہے (۴)اس کے سرپر وقار کا تاج رکھا جاتاہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے (۵)بَہتَّر(۷۲)حورعین سے اس کا نکاح کرادیاجاتاہے (۶)اور اس کے اقارب میں سَتَّر کے بارے میں اُس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ (ترمذی، مصنف عبد الرزاق ، ابن ماجہ)

دعوت جہاد:

قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے جہاد کے بارے میں دو حکم دئیے گئے:

(۱) پس قتال کیجئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ، نہیں ذمہ آپ پر مگر اپنی جان کا۔

(۲) اور ایمان والوں کو اُبھارئیے۔ (سورۃ النساء آیت ۸۴)

اور سورۃ الانفال میں بھی یہی حکم دیا گیا:

’’ اے نبی! ایمان والوں کو قتال پر اُبھارئیے۔‘‘ (الانفال آیت ۶۵)

جہاد چونکہ نفس انسانی پر سب سے شاقّ عمل ہے اس لئے اس پر تیار رکھنے اور رہنے کے لئے مسلسل ترغیب کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس پر تحریض کا ہر طریقہ بروئے کار لایا۔ امر بھی ہے، ترغیب بھی ، ترہیب بھی ، فضائل بھی، مظلوم مسلمانوں کی پکار بھی، تخجیل بھی اور تذلیل بھی۔ غرضیکہ ہر وہ اسلوب اختیار کیا گیا جو مومن کے مزاج پر اثر انداز ہو سکتا ہو اور اسے اس مشکل کا بار اٹھانے پر آمادہ کر سکے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی حکم خداوندی کی تعمیل میں ہر انداز سے تحریض اور دعوت دی۔ صحابہ کرام میں ایسے لوگوں کو مستقل اس کام پر مامور فرمایا جو اس کی صلاحیت رکھتے تھے حتی کہ دوران قتال بھی یہ سلسلہ جاری رہا کرتا اور جہاد کے داعی عین معرکہ قتال کے وقت بھی اس میں مشغول رہا کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اسلامی معاشرے کے لئے دعوت جہاد کو لازمی جزو بنایا اور اس کا عام فائدہ یہ ارشاد فرمایا کہ اسلامی معاشرہ اگر نظریہ جہاد سے سرشار اور دعوت جہاد سے آباد رہے گا تو:

’’قریب ہے اللہ تعالیٰ کفار کی جنگ کو روک دے۔ ‘‘ ( النساء ۸۴)

یعنی ایسا معاشرہ کفار کی دستبرد سے محفوظ رہے گا اور کفار اس پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہ کر سکیں گے، گویا دعوت جہاد کا فروغ ایک مسلم معاشرے کے لئے امن و سلامتی کا ضامن ہے اور یہ ضمانت اللہ تعالیٰ نے خود دی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے دعوت جہاد کو بھی جہاد کا جزو قرار دیا ہے:

’’جاھدوا المشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم ‘‘ ( ابو داؤد)

( مشرکین کے خلاف اپنے اموال ، جانوں اور زبانوں سے لڑو)…

جہاد کے نصاب کی تکمیل گویا اس روایت سے ہو گئی کہ جان، مال اور زبان سے کفار کے نظام کو مٹانے، اسلام کو غالب کرنے اور مظلوم مسلمانوں کو کفار سے نجات دلانے کے لئے لڑائی میں حصہ لینے سے جہاد مکمل ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید کی آیت:

’’اور جہاد کرو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جیسا اس کا حق ہے‘‘ ( الحج)

کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے، یعنی کہ جہاد کا حق تب اداء ہوتا ہے جب ان تمام صلاحیتوں کو کفار کے خلاف استعمال کیا جائے۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor