Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بدر والے (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 541 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

بدر والے

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 541)

خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ ’’بدر‘‘ والے تھے…

بدر میں شرکت کے جرم میں پکڑے گئے اور قید میں ڈال دئیے گئے…

پھر اسی قید کی حالت میں مظلومانہ مگر پُرعزیمت شہادت پائی…

بدر والے کامیاب رہے…

اور انہیں قید میں ڈالنے والوں نے ایک ماہ آقا محمد ﷺ کی مسلسل بد دعائیں پائیں اور دنیا و آخرت میں رُسوا ہوئے…

’’بدر‘‘اللہ تعالیٰ کی حجت ہے اور ان کا محبوب دن…

انہیں بدر کا دن بھی پیارا ہے اور بدر والے بھی…

اس لئے بدر والے ان اُعزازات سے نوازے گئے کہ بعد والے ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے…

ان کے لئے آئندہ گناہوں کی بھی پیشگی معافی کا اعلان آیا…

ان پر فخر سے جھانکا گیا…

جبرائیل امین علیہ السلام نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا:

’’اہل زمین میں سے افضل مقام والا کنہیں سمجھا جاتا ہے؟

فرمایا:

بدر والوں کو…

عرض کیا:

آسمانوں پر بھی یہی ماجرا ہے ( جو فرشتے بدر میں قتال کے لئے اُترے تھے وہ رشکِ ملائک بنے)…

جو لوگ بدر کی کی نسبت اور محبت کو زندہ رکھتے ہیں

بدر کی یاد تازہ رکھتے ہیں…

بدر کا ذکر جاری رکھتے ہیں…

بدر کی روشنی پھیلاتے ہیں اور

بدر کا پیغام عام کرتے ہیں…

وہ بھی توپھر یقینا کسی اِختصاص کے قابل گردانے جاتے ہوں گے…

بدر والے کامیاب تھے…

اُن کے ساتھ ہونا عظیم کامیابی ہے…

تو اب سنیے!

جیش بدر سے جڑی جماعت ہے اور بدر کے پیغام کو عام کرنے کا مشن رکھتی ہے…چند ماہ قبل پورا ملک بدر کے حسین تذکرے سے گونج اُٹھا۔ جب بزم یوسفی نے بدر کا پیغام ایک ایک شہر عام کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔جن کے روحانی و قلبی رشتے بدر کے میدان والوں سے ہیں وہ بدر بدر سناتے پھر رہے تھے اور جن کی نسبتیں بدر کے گندے کنویں والے مشرکین سے ہیں وہ چیں بجبیںہو رہے تھے۔بہت برافروختہ تھے۔

انہوں نے بدر کا نام لینے والوں کو پکڑا۔ جیلوں میں ڈالا اور اسی قابل فخر عنوان کی ایف آئی آر بھی کاٹی گئیں۔

’’ملزم نے غزوہ بدر بیان کر کے سامعین کے جذبات مشتعل کئے‘‘…

انہی پکڑے جانے والوں میں خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کا ایک نام لیوا دعوت جہاد، تذکرہ بدر کا دیوانہ ’’بھائی راشد‘‘ بھی تھا…

اسے بدر کا نام لینے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی…

پکڑے جانے والے کی نسبت بھی پکی ہوئی…

پکڑنے والے نے بھی اپنی جماعت چن لی…

اور منصف نے بھی اپنا رشتہ پکا کر لیا…

ہر ایک کو اپنا اپنا مقام مبارک ہو…

کہنے کو شہد کی مکھی بھی مکھی ہے اور گند کی مکھی بھی…

مگر مقام کا بہت فرق ہے…

ہر ایک اپنے اپنے مقام پر براجمان ہوا…

مگر کل یوں ہوا کہ ہمارے ’’راشد‘‘ کو بدر والوں نے اپنے پاس بلا لیا۔ اس کا جسم جیل میں رہ گیا اور روح پرواز کر گئی…اُدھر جہاں نہ کوئی خوف ہے نہ غم …نہ جیل ہے نہ جیلر…

وہاں بدر والے ہیں…

ہاں ’’راشد‘‘ کے سینکڑوں فدائی دوست اور ہزاروں شہید ساتھی ہیں…

وہاں وہ ہیں جن کے خون کی خوشبو وہ دیوانہ وار بانٹتا تھا…

وہاں ان کی رفاقت ہے جن کے نقوش پا کا نور وہ دنیا بھر کو دِکھاتا تھا…

ان شاء اللہ ’’راشد‘‘ تو اپنوں میں گیا…

اسے پکڑنے والے، بند کرنے والے اور موت کا تماشہ دیکھنے والے اپنے انجام کا انتظار کریں…

بدر میں ایک گندہ کنواں بھی ہے جو ایسی روحوں کو اپنے اندر قید کرنے کا مشتاق رہتا ہے جو بدر والوں کو مٹانے کے ارادے رکھتی ہیں…

شہباز شریف کو ، اُس کی سی ٹی ڈی کو اور اُس کی عدالتوں کو ابو جہل کی ذریت سے رشتہ داری اور نسبت مبارک ہو…

اور ہمارے راشد کو بدر والوں کی سنگت…

ہاں یہ کوئی نہ سمجھے کہ بدر والے جھک جائیں گے ، دَب جائیں گے یا اپنا راستہ بدل لیں گے…

کان کھول کر سنو!

بدر کا قیدی صلیب پر لٹکتے ہوئے کیا فرما رہا ہے:

لست ابالی حین اقتل مسلما

علی ایّ شق کان للہ مصرعی

وذلک فی ذات الالہ وان یشاء

یبارک علی اوصال شلو ممزع

ہم اس نبی کے اُمتی ہیں جنہوں نے ’’ شعب ‘‘ کی جیل کو رونق بخشی…

اُس امام کے مقلد ہیں جس کا جنازہ جیل سے نکلا…

اور اس امیر کے ہاتھ پر بیعت ہیں جس نے مشرکین کی جیلوں کو قرآن سے آباد کیا اور دعوتِ جہاد سے منور کیا…

بدر والے اگر ابو جہل و مودی والوں سے اور ان کی جیلوں سے ڈر گئے تو ہائے بد نصیبی…ہائے شکست … ہائے نسبت…

٭…٭…٭

ایک ضعیف ماں کو کراچی سے اٹھایا گیا،سینکڑوں میل دور لاہورلاکر نامحرموں کے ہاتھ دیا گیا کہ توہین آمیز سوال جواب کریں۔۔

کیوں؟۔

اس لئے کہ اس کے دو بچے پاکستان کی "شہہ رگ"بچانے گئے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک نے وہاں سے ماں کو فون کیا تھا..بچے شہید ہوچکے اور انکی شہادت پر خوشی سے مٹھائی بانٹنے والی ماں کو انٹیروگیشن کے کرب نے رُلا دیا۔

جس کی خاطر اُس نے اپنے بچے وارے اُس کا غضب تو ضرور حرکت میں آیا ہوگا۔

سات معصوم بچوں کا باپ،دل کا مریض،مرنجاں مرنج عالم دین جس کا آخری بچہ ابھی صرف 9دن کا ہے اپنے گھر سے غائب ہے۔

کیوں؟۔

اسے بھی کشمیر سے اس کے ایک ساتھی نے فون کیا تھا اور دَم رخصت کچھ پیار محبت کی باتیں کی تھیں۔

جسکی خاطر اُن کی باہمی محبت تھی وہ ضرور ناراض ہوا ہوگا۔

پٹھانکوٹ حملہ ہندوستان میں ہوا۔ حملہ آور شہید ہوگئے درجن بھر علماء ومجاہدین اس جرم میں بند ہیں کہ وہ پٹھانکوٹ پر حملہ کرنے والوں کو اَپنا کہتے ہیں۔

یہ سب جس کی خاطر ایک دوسرے کے اپنے ہیں وہ اپنے دوستوں کے لئے بہت ناراض ہونے والی ذات ہے۔

پاکستان کی عدالتوں نے کسی کے حکم پر "غزوہ بدر" بیان کرنے پر اسی عنوان کی ایف آئی آر پر ایک عالم دین مجاہد کو پانچ سال کی سزا سنا دی اور دیگر نو مجاہدوں کو "القلم" اخبار تقسیم کرنے پر۔

کیوں کہ "القلم"بدر والوں کا راستہ دکھاتا ہے۔

بدر کا دن تو ایک عظیم ذات نے اپنا دن قرار دے رکھا ہے، اس کی نصرت ہمیشہ بدر والوں کے قدم چومتی ہے اور بدر والوں کے مقابل کھڑے ہونے والوں کو گندے کنووں کا رزق بنانا اس کی عادت ہے۔ 

تین شہید بیٹوں کے والدین کو کسی نے حج پر بھیجنے کی خوشخبری سنائی۔انہوں بچشم نم شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی۔

کیوں؟۔

اس لئے کہ شہیدوں کا چوتھا بھائی اپنے بھائیوں کے "جرم" کی پاداش میں جیل میں ہے اور والدین گرفتاری کے خوف سے روپوش اور دربدر۔

یقیناً مودی ان سب اقدامات پر خوش ہوا ہوگا مگر کوئی تو یقینا ناراض ہوا ہے۔

پولیس مقابلوں کے عنوان سے کون کون خاک وخون میں تڑپایا گیا؟اور لاشیں اس حالت میں گھروں کو پہنچیں کہ کئی لاشیں مائوں کو دکھائی بھی نہ جاسکیں اور سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔۔(اور اب ایک "چھوٹو" نے ان مقابلوں کی اصلیت کھول کردنیا کے سامنے رکھ دی ہے)

"برادر" ملک خوش ہوا ہوگا یقینا ہواہوگا مگر جس کے پیاروں کا وہ نام لیتے تھے وہ تو ضرور ناراض ہوا ہوگا ۔

سزائے موت کے پرانے قیدی ابھی تک لائن میں ہیں۔کسی گستاخ رسول کوآج تک سزا نہیں دی جاسکی مگر ایک قریبی مقدمے کی کاروائی ہنگامی طور پر پوری کر کے "عاشق رسول" پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

لبرلز خوش ہوئے،مغرب میں شادیانے بجے مگر کوئی تو ضرور ناراض ہوا ہوگا

اور وہ جب ناراض ہوجائے اسی طرح پردے فاش کرتا ہے

رسوا کرتا ہے

اور اقتدار سے محروم کرتا ہے۔

پانامہ لیکس کے پیچھے عالمی سازشیں تلاش کرنے والوں کو خبر ہو!

جس ملک کے عقوبت خانوں سے ہسپتالوں تک مظلوم ماں باپ روتے اور بچے تڑپتے ہوں،عزتیں پامال ہوتی ہوں اور کمائیاں لٹتی ہوں،دن رات آہیں آسمان کی طرف جاتی ہوں وہاں کے حکمرانوں کو اپنے خلاف کسی غیر کی سازش کی ضرورت نہیں رہتی۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor