Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ ( ۱۱) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 542 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ ( ۱۱)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 542)

فدائی حملہ:

دورِ حاضر کے جہادی مباحث میں ایک اہم مسئلہ ’’فدائی حملے‘‘ کے جواز و عدم جواز کا ہے۔

فدائی حملہ زمانۂ حاضر کے مجاہدین کا وہ ہتھیار ہے جس نے دنیا کی تمام تر عسکری ٹیکنالوجی اور دفاعی حکمت عملی کاتاروپود بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ ہر طرح سے محفوظ بنائی گئی تنصیبات، حفاظتی حصاروں میں گھرے ہوئے اڈے اور چھاؤنیاں، زمینی و فضائی نگرانی کے جال میں گھرے حساس مقامات جو بظاہر اَسباب کی نگاہ میں ہر طرح کے بیرونی حتیٰ کہ فضائی حملوں اور میزائلوں سے بھی محفوظ تصور کر لئے گئے ہوں، یہ الٰہی ہتھیار ہر جگہ کاری وار کر چکا ہے اور اب دنیا بھر کا کفر سپرپاور کے مقام تک پہنچ کر بھی اِس کے خوف سے تھر تھر کانپتا ہے۔

فدائی حملہ جسے عربی زبان میں ’’ عملیۃ اِستشہادیۃ‘‘ کہا جاتا ہے اس زمانے کی ایجاد نہیں ہے کہ اس کے جواز کو ثابت کرنے کے لئے اجتہاد کی ضرورت ہو بلکہ یہ زمانہ خیر القرون، اس کے بعد کے جہادی اَدوار سے اب تک تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور کتب فقہ و تفسیر میں ’’الاقتحام ‘‘ کے عنوان سے اس پر بحث کی گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر زمانے کی جنگ اور آلات جنگ کے بدلاؤ کے ساتھ اس حملے کی صورت بدلتی رہتی ہے۔

فدائی حملہ یا اِقتحام کا مطلب ہے کسی مسلمان کا کفار کی اتنی بڑی جماعت پر اکیلے حملہ کر دینا جہاں اس کا بچ نکلنا محال ہو اور اس کی نیت بھی بچ نکلنے کی نہ ہو۔

یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔ عام طور پر روایتی جنگ میں اپنے بچاؤ کا سازو ساماں ساتھ رکھ کر اور حفاظتی تدابیر اختیار کر کے ایک ترتیب کے ساتھ لڑا جاتا ہے جس میں دفاع مقدم اور اِقدام موخر ہوتا ہے۔ عام طور پر اسی طرح کی لڑائی ہی مسلمانوں کے لئے نافع ہوتی ہے، اسی میں مقاصد جہاد کی تکمیل بھی ہے اور اسلام کا اعزاز و شوکت بھی، قرآن و حدیث میں بھی اسی کا حکم ہے۔ سورۃ النساء میں فرمایا گیا:

ترجمہ: ’’ اے ایمان والو! اپنے بچاؤ کا سامان لے لو اور پھر نکلو چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں یا اکھٹے‘‘ ( النساء ۷۱)

لیکن کچھ غیر معمولی حالات میں بچاؤ کا سازو سامان پھینک کر دشمن پر شہادت کے لئے ٹوٹ پڑنے اور خود کو یقینی موت کے حوالے کرنے کا نہ صرف جواز ہے بلکہ اس پر مدح و توصیف بھی کی گئی ہے لیکن حضرات فقہاء کرام نے اس حالت کی نُدرت اور عمومی ترتیب کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس کا جواز مطلق نہیں مانا بلکہ مشروط کر دیا ہے۔

اس کے دلائل اور شرائط درج ذیل ہیں:

(۱) ترجمہ: اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی جان بیچ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اور اللہ تعالیٰ (ایسے) بندوں پر بہت مہربان ہے۔ ( البقرۃ ۲۰۷)

امام قرطبی ؒ نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’ اور یہ آیت اس شخص کے حق میں نازل ہوئی جو قتال کی صف پر اکیلا حملہ آور ہو جائے۔ ہشام بن عامر نے قسطنطنیہ میں کفار کی صف پر اکیلے حملہ کر دیا اور لڑتے رہے، یہاں تک کہ قتل ہو گئے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ( الجامع لاحکام القرآن ج ۳ ص ۲۵)

یہ اس حکم کی ایجابی دلیل ہے ۔ ایک دلیل اس کی سلبی بھی ہے۔ سلبی دلیل کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک عمل کسی علت اور سبب کی وجہ سے بظاہر ناجائز معلوم ہو رہا ہو ، مگر اس پر ایسی دلیل قائم کر دی جائے جو ثابت کرے کہ وہ عدم جواز کی علت اس جگہ نہیں پائی جاتی۔ اس سے عمل کا جواز ثابت ہو جاتا ہے۔

’’اقتحام ‘‘ بظاہر جس وجہ سے ناجائز معلوم ہوتا ہے وہ علت ہے اس کا خود کشی ہونا۔ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالنا جو کہ ناجائز ہے۔ کیونکہ قرآن مجیدکا واضح ارشاد ہے:

’’اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘ ( البقرۃ ۱۹۰)

لیکن اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ ’’اقتحام ‘‘ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالنا نہیں ہے تو اس کا جواز ثابت ہو جائے گا اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔

’’ اسلم ابو عمران کہتے ہیں کہ ہم ارض روم میں شریک جہاد تھے۔ روم کا لشکر بہت بڑا تھا اور شہر پناہ کی دیوار کو پشت پناہ سمجھے ہوئے تھا۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نکلا اور اس نے اکیلے ہی اس لشکر پر حملہ کر دیا اور اندر گھستا چلا گیا حتی کہ شہید ہو گیا۔ لوگوں نے کہا: اوہ، اوہ اس نے تو خود کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈال دیا۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا:

اے لوگو! تم اس آیت کا مصداق اس شخص کو قرار دے رہے ہو ؟ ہرگز نہیں ( یہ اس کا مصداق نہیں) یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جب ہم نے کچھ وقت کے لئے ترک جہاد کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس میں ہمیں کہا گیا کہ اگر تم اپنے اموال کی فکر میں پڑ کر جہاد چھوڑ دو گے تو خود کو ہلاکت میں ڈال لو گے۔ ( ترمذی)

ابو داؤد میں بھی یہ روایت الفاظ کے تھوڑے فرق کے ساتھ وارد ہوئی ہے:

اب دیکھئے!

میزبان رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق ’’اقتحام‘‘ کرنے والا خود کشی کرنے والے کی طرح نہیں اور پیچھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بھی گذر چکی کہ انہوں نے ’’اقتحام ‘‘ کرنے والے کو اس دوسری آیت کا مصداق قرار دیا جس میں جان بیچنے والے مومن کی مدح کی گئی۔ اب دونوں روایات کو ملا کر نتیجہ نکال لیجئے۔ اس طرح حملہ کرنے والا مومن خود کش نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام یافتہ ہے۔

امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات و روایات کو سامنے رکھ کر اس پوری بحث کا جو خلاصہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ ایسا کام اگر تین مقاصد کی وجہ سے کیا جائے تو اس کا جواز ہے، ورنہ نہیں۔

’’وقال محمد بن الحسن: لو حمل رجل واحد علی ألف رجل من المشرکین وہو وحدہ ، لم یکن بذلک بأس إذا کان یطمع فی نجاۃ أو نکایۃ فی العدو ، فإن لم یکن کذلک فہو مکروہ ; لأنہ عرض نفسہ للتلف فی غیر منفعۃ للمسلمین ، فإن کان قصدہ تجرئۃ المسلمین علیہم حتی یصنعوا مثل صنیعہ فلا یبعد جوازہ ; ولأن فیہ منفعۃ للمسلمین علی بعض الوجوہ ، وإن کان قصدہ إرہاب العدو ولیعلم صلابۃ المسلمین فی الدین فلا یبعد جوازہ ، وإذا کان فیہ نفع للمسلمین فتلفت نفسہ لإعزاز دین اللہ وتوہین الکفر فہو المقام الشریف الذی مدح اللہ بہ المؤمنین فی قولہ:إن اللہ اشتری من المؤمنین أنفسہم الآیۃ ، إلی غیرہا من آیات المدح التی مدح اللہ بہا من بذل نفسہ ‘‘(الجامع لاحکام القرآن ،ج  ۲ ص ۳۶۲)

خلاصہ اس عبارت کا یہ ہے کہ اگر اقتحام تین مقاصد کے لئے ہو تو یہ نہ صرف جائز بلکہ ایسا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تعریف اور اس کی رضاء کا مستحق بناتا ہے:

(۱) مسلمانوں کے حوصلے بلند کرنا تاکہ وہ بھی ایسا عمل کریں اور دشمن کا نقصان کریں۔ خصوصاً مایوسی اور شکست کے وقت۔

(۲) کفار کو مرعوب کرنا اور ان کا زیادہ نقصان کرنا۔

(۳) مسلمانوں کو نفع پہنچانا۔

اگر اقتحام کرنے والے کی نیت ان مقاصد میں سے کسی کے حصول کی ہو تو ایسا کرنا جائز ہے۔ اگر نیت کوئی اور ہے تو درست نہیں۔

اب ان تینوں مقاصد کے جواز کے دلائل و اَمثلہ

(۱) حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا واقعہ

غزوہ احد کے دن جب مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی شہادت کی خبر سنی تو ان کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ میدان میں مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ کچھ مسلمان اس حالت میں مدینہ کی طرف بھی دوڑ پڑے تھے۔ انس بن نضر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گذرے اور ان سے کہا: یوں کیوں مایوس ہو کر بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ شہید ہو گئے اب ہم کیا لڑیں؟ حضرت انس نے فرمایا:

جس چیز پر نبی کریم ﷺ نے جان دی تم بھی اس پر جان دو۔ خدا کی قسم مجھے تو جنت کی خوشبو احد پہاڑ سے آ رہی ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی زرہ اتار پھینکی اور دشمن کے اندر گھس گئے اور لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ ان کے اس عمل سے غفلت کے عالَم میں بیٹھے ہوئے مسلمان اٹھے اور دشمنوں پرحملہ کر کے انہیں میدان سے بھگا دیا۔

(۲) حضرت معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ دوران جنگ نبی کریم ﷺ کے سامنے آئے اور عرض کیا:

’’بندے کا وہ کیا عمل ہے جو رب کو اس پر ہنسا دیتا ہے؟‘‘

حضور ﷺ نے فرمایا:

اس کا اپنی ذرہ اتار کر دشمنوں کے خون میں لت پت ہو جانا

یہ سن کر انہوں نے اپنی ذرہ اتار پھینکی اور دشمن پر حملہ آور ہوئے حتی کہ شہید ہو گئے(مصنف ابن ابی شیبہ)

اس طرح کا غیر معمولی حملہ دشمن کے لئے روایتی جنگ سے زیادہ نقصان دِہ ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اپنا بچاؤ کر کے لڑنے والے شخص کی یلغار میں وہ شدت اور قوت نہیں ہوتی جو ایک فدائی کی یلغار میں ہوتی ہے۔اس لئے روایتی جنگ کے ساتھ چند لوگوں کا اس طرح غیر معمولی اقدام بھی جنگ میں فتح اور دشمن کی کمر توڑنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔

(۳) سِیَر کی تقریبا تمام کتب میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ جنگ یمامہ میں جب بنو حنیفہ نے خود کو ایک اونچی دیواروں والے باغ میں بند کر لیا اور اندر سے تیر اندازی شروع کر دی تو مسلمانوں کو نہ صرف شدید نقصان پہنچایا بلکہ ان کی پیش قدمی بھی مکمل روک دی۔ تمام تر تدبیریں جب ناکام ہوئیں تو معروف صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہیں ڈھال پر بٹھا کر چند مسلمان اچھال کر باغ کے دروازے کے سامنے اندر پھینک دیں وہ دروازہ کھول دیں گے تو مسلمانوں کا لشکر اندر داخل ہو جائیگا۔ ابتداء میں انہیں انکار کیا گیا مگر جب کوئی صورت کارگر نہ ہوئی تو انہیں اندر پھینک دیا گیا۔ انہوں نے دروازے پر متعین تیر اندازوں کو قتل کر کے دروازہ کھول دیا اور خود شہید ہو گئے۔ مسلمان اندر داخل ہوئے اور فتح یاب ہوئے۔اس طرح انہوں نے مسلمانوں کی منفعت کے لئے یقینی موت کو قبول کیا اور صحابہ کرام کے جم غفیر نے انہیں اس کے حوالے کیا جو اس عمل کے جواز کی بیّن دلیل ہے۔

مسلمانوں کی منفعت کے لئے اقتحام کا یہی مطلب ہے کہ اگر کفار ایسی تدبیر اختیار کر لیں جس سے پیش قدمی رک جائے اور لشکر اسلام کی کارروائی کی کوئی صورت نہ رہے تو ایسی حالت میں کسی مسلمان کا ایسا غیر معمولی اقدام کہ وہ اپنی جان دے کر رُکی ہوئی جنگ کو جاری کر دے اور مسلمانوں کی فتح کا دروازہ کھول دے۔

حضرات صحابہ کرام سے ان تمام مقاصد کے لئے ایسے استشہادی حملے ثابت ہیں اور ہر زمانے کے جہاد میں ان کی مختلف شکلیں اختیار کی جاتی رہیں ہیں۔ دور حاضر میں بھی کفار کے خلاف فدائی حملے انہی مقاصد کے حصول کے لئے کئے جاتے ہیں، اس لئے ان کے جواز میں کوئی شبہ باقی نہیں رہنا چاہیے۔ رہی بات خود کشی ہونے کی تو اس کا جواب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ والی روایات میں آ چکا۔

جہاں تک بات ہے اسلامی ممالک میں ہونے والے خود کش حملوں کی وجہ سے کفار پر ہونے والے ان حملوں کے جواز پر شک کی تو یہ بات کوئی عاقل نہیں کر سکتا۔ کیا کوئی غلط کام کسی صحیح کام کے غلط ہونے کی وجہ بن سکتا ہے؟

مسلمانوں کے عوام پر ہونے والے ان حملوں کے نہ تو یہ مقاصد ہیں جو اوپر درج کئے گئے اور نہ ہی یہ جہادی نقطہ نظر سے کئے جاتے ہیں۔ یہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں پر کچھ لوگوں کا انتقامی رد عمل ہیں جسے کوئی اہل علم نہ جائز کہہ سکتا ہے اور نہ ان کی تحسین کر سکتا ہے بلکہ علماء اسلام اور مجاہدین نے ہمیشہ ان کی مذمت کی ہے اور اس کی پاداش میں خود بھی ان کا نشانہ بنے ہیں۔

مجاہدین دنیا بھر میں حربی کفار کے خلاف دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ میں ’’اقتحام ‘‘  ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ عظیم ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے جسموں کو اسلحہ بنا کر کفار کی ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کا بطلان دنیا پر واضح کر دیا ہے اور ان فرعونوں کی کمزوری عیاں کر دی ہے۔ اسلام کے ان فدائیوں کو سلام …

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor