Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کا بیانیہ ( ۱۲) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 543 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

جہاد کا بیانیہ ( ۱۲)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 543)

جماعت:

جہاد کی فرضیت اور اہمیت کو سمجھنے کے بعد یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا لازم ہے کہ جہاد کا اہم ترین اور بنیادی رکن جماعت ہے۔ مسلمانوں کا ایک ایسا منظم گروہ جو جان و مال کی قربانی کے جذبات سے سرشار ہو، اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر گھر بار، خاندان، قبیلہ، تجارت و زراعت ہر چیز ترک کرنے پر آمادہ ہو اور ایک امیر کے ہاتھ پر جان دینے اور استقامت کے ساتھ جہاد کو قائم رکھنے کی بیعت کرچکا ہو اور اس امیر کے حکم کو بصدق دل مانے تا قتیکہ وہ اللہ رب العزت کی نافرمانی کا حکم کرے، اگروہ ایسا کر لے تو اس کی اطاعت ناجائز ہوگی بصورتِ دیگر تمام امور میں اس کی اطاعت لازم ہے۔

قرآن پاک میں سورہ بقرہ کے وہ دو رکوع جن میں ایک مومن کو جہاد کا پورا نصاب سمجھایا گیا ہے ان میں اہل ایمان کو جان و مال کی قربانی پر آمادہ کرنے کے بعد جو سب سے پہلی بات سمجھائی گئی ہے وہ یہی ہے کہ جہاد کے لیے جماعت قائم کی جائے۔ دوسرے پارے کے آخری دو رکوع نظریہ جہاد، نظریہ جماعت، نظریہ اطاعت اور پھر ان تینوں باتوں کے فوائد سمجھانے کے لیے کافی و شافی ہیں۔ آئیے! ان کی روشنی میں قرآن پاک کے اس حکم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بنی اسرائیل کی وہ قوم جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا جانے والا میثاقِ جہاد توڑنے کی سزا چالیس سال زمین میں سرگرداں پھرنے کی شکل میں مسلط کی گئی۔ مدت عذاب گزر جانے کے بعد اپنے نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کفار کے خلاف جہاد کرکے غلامی سے نجات پانے اور سابقہ غلطی کا ازالہ کرنے کی استدعا کی۔ اس امت پر چونکہ جہاد ہمیشہ کے لیے فرض نہیں تھا اس لیے ہر موقع پر ازسر نو اجازت حاصل کرنا پڑتی تھی، اجازت مل جانے کے بعد ہدف کے حصول تک جہاد فرض رہتا تھا۔ اس قوم کو جب جہاد کی اجازت ملی تو بزدلی اور بخل میں مبتلا ہو گئے۔ شیطان نے دشمن کی ظاہری طاقت کی طرف متوجہ کرکے ڈرایا اور موت کے خوف میں مبتلا کر دیا تو دل میں جہاد سے پہلو تہی اور اعراض کا خیال آنے لگا اور ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا کہ جہاد میں تو مال بھی خرچ ہوگا۔ اس طرح تم مفلس ہو جائو گے اور اپنی ضروریات پوری نہ کرسکو گے۔ جہاد کا حکم سن کر بزدلی اور بخل میں مبتلا ہونا ایک داخلی مرض ہے اور سخت امتحان ہے، اکثر انسان اس امتحان سے دوچار ہوتے ہیں پھر کچھ بچ نکلتے ہیں اور کچھ اس کی وجہ سے رہ جاتے ہیں۔ اس مشکل کا حل اس قوم کو اور اس قوم کی وساطت سے ہمیں یوں دیا گیا کہ زندگی موت کا فلسفہ سمجھا کر حبِّ جان کا اعلاج کیا گیا اور مال کیوں لیا جارہا ہے؟ یہ بتا کر حبِّ مال کا علاج کر دیا گیا۔ زندگی موت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، وہ  مُحیی (زندگی دینے والا) اور وہی مُمیت  (مارنے والا) ہے۔

ہر انسان کی موت کا وقت، جگہ اور انداز لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی شخص نہ لمحہ بھر تجاوز کر سکتا ہے اور نہ پہلے مرسکتا ہے، اور ایک عملی مثال سے یہ بات بھی سمجھا دی گئی کہ جہاد سے رکنا موت سے نہیں بچا سکتا بلکہ زیادہ تر لوگ میدانِ جہاد سے پیچھے رہ کر ہی مرتے ہیں اور جب جہاد کرایا گیا تو مزید پختگی کے ساتھ یہ منظر دکھایا گیا کہ میدانِ جہاد میں کوئی ایک شخص بھی شہید نہ ہوا۔ اور رہی بات مال کی، تو بتایا گیا کہ یہ مال بطور قرض کے لیا جارہا ہے، واپس لوٹا دیا جائے گا اور اجر و ثواب کا پیمانہ بھی اس عمل کے باب میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ غنی ہیں تم محتاج ہو۔ دنیا کی زندگی مختصر اور آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے، وہاں حاجت دنیا کی نسبت زیادہ ہے اس لیے اس اصل زندگی کے لیے محفوظ کیا جا رہا ہے۔ فکر مند نہ ہو بہت بڑھ کر ملے گا۔ یوں بخل بھی دور ہو گیا۔ یہ ہے نظریہ جہاد کہ جان و مال کی قربانی کے لیے تیار ہو جائیں۔

پہلی مشکل حل تو ہو گئی مگر جہاد آسان نہیں ہوا۔ اب ایک اہم مرحلہ درپیش ہے۔ جہاد بغیر جماعت کے نہیں ہوسکتا اس لیے لازماً جماعت بنائی جائے۔ نظریہ جہاد کے حاملین اکٹھے ہو جائیں اور ایک مقصد پر جمع ہوں۔ یہ ہے جماعت۔ اور جماعت کے لوازم میں سے امام اور امیر کا تعین ہے کہ اس کے بغیر جماعت بنتی ہی نہیں۔ یہ ایک سخت امتحان ہے۔ امیر کسے بنایا جائے؟ امام کسے چنا جائے؟ نماز کی جماعت کے لیے امام ضروری ہوتا ہے اور امام بنایا جاتا ہے اس شخص کو جو صحیح طریقے سے نماز پڑھا سکے، اپنی نماز بھی ٹھیک ہو اور دوسروں کو بھی درست طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچا نے والا ہو۔ یہاں جہاد کے لیے امیر بنانا ہے۔ لازماً ایسا شخص درکار ہے جو جہاد کراسکے۔ یہ شخص کون ہوگا؟ ایک ایسا مومن جو نظریہ جہاد کا حامل ہو اور دو صفات میں مسلمانوں کی جماعت میں امتیازی شان رکھتا ہو۔

(۱) علم

(۲) جنگی مہارت و ترتیب

علم اس لیے ضروری ہے کہ جہاد ایک انتہائی نازک فریضہ ہے۔ اس میں لڑائی اور قتل و غارت کی حدود مقرر ہیں۔ اگر ان حدود سے تجاوز کیا جائے تو جہاد فساد بن جاتا ہے۔ جہاد کے احکام بہت زیادہ ہیں دورانِ جنگ بھی اور جنگ کے بعد بھی، اگر ان احکام کو پورا نہ کیا جائے تو مقاصد جہاد تشنہ تکمیل رہ جاتے ہیں۔ اور ان سب باتوں کو صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو علمِ صحیح وافر مقدار میں رکھتا ہو۔ اور دوسری چیز جنگ کی سمجھ بوجھ ہے تاکہ جنگی چالوں کے ذریعے دشمن کو شکست دے سکے۔ اپنا اور اپنی جماعت کا دفاع کر سکے، پینترے بدل بدل کر دشمن پر وار کرے تاکہ اسکا زیادہ سے زیادہ نقصان ہو۔ جنگ کے تمام رائج الوقت طریقوں کو جانے تاکہ ہر دشمن سے لڑ سکے اور لڑا سکے۔ قرآن پاک بتاتا ہے کہ مذکورہ بالا دو صفات کی بنیاد پر امیر منتخب کیا جائے تو جماعت کامیاب ہوتی ہے اور اس انتخاب میں قوم، قبیلہ، ذاتی منصب و وجاہت اور دولت کو ہرگز نظر میں نہ رکھا جائے۔ لیکن یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔ اس میں اختلاف ہوتا ہے۔ لوگوں کے خود متعین کردہ امیر کا کیا ذکر یہاں تو اللہ تعالیٰ کے منتخب فرمودہ امیر پر بھی اختلاف ہوا اور لوگ جماعت کے ساتھ جڑے نہ رہ سکے۔ کسی کو قوم اور قبیلہ کی محبت لے ڈوبی، کوئی عصبیت کے سیلاب میں بہہ گیا، کسی نے دولت کی کمی کے سبب راہیں جدا کر لیں اور کوئی ذاتی وجاہت کے نہ ہونے کا بہانہ کرکے ٹوٹ گیا۔ جماعت بننا مشکل کام ہے اور اس میں یہ سارے مراحل آتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نظریہ جماعت سمجھ میں آجائے اس کے لیے معاملہ آسان ہے۔ قرآن نے خود امیر کے انتخاب کا پورا نصاب بتا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو جماعت کا امیر بنایا اوراس کی دو وجوہات بھی خود ارشاد فرما دیں تاکہ جہاد کرنے والی جماعت کو کبھی بھی انتخاب امیر میں دشواری پیش نہ آئے۔ پہلے دشواری اور بعد میں اختلاف صرف اسی وقت پیش آتے ہیں جب حکم  قرآنی کو فراموش کیا جائے اور امیر کے انتخاب میں ان دو امور کے علاوہ دیگر چیزوں کو پیش نظر رکھ لیا جائے۔

دو مراحل سے گزر کر جماعت تو وجود میں آگئی۔ لیکن ابھی ایک تیسرا مرحلہ باقی ہے۔ جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والے ہر شخص کو سمجھنا اور جاننا چاہیے کہ جماعت کا امیر محض ایک رسمی اور علامتی بزرگ نہیں ہے بلکہ ہر شخص کو اس بارے میں ایک اور نظریے کو پختہ انداز میں دل میں بٹھانا ہوگا اور وہ ہے نظریہ اطاعت۔ امیر واجب الاطاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺکی اطاعت کے ساتھ اس کی بات ماننے کا حکم ہے، امیر کی اطاعت فتوحات کی کنجی اور اس کی نافرمانی شکست کا دروازہ ہے، قرآن مجید یہ بات اچھی طرح سمجھا رہا ہے ، اس واقعے میں بھی سورہ آل عمران میں غزوہ احد کے ذکر کے موقع پر بھی۔ یہ بھی ایک سخت اور مشکل امتحان ہے۔ امیر کا ہر حکم ہر شخص کے لیے برابر قابلِ فہم بھی نہیں ہوتا اور ہر شخص کی ذاتی رائے کے موافق بھی نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں کیسے مان لیا جائے؟ اور وہ بھی بلا چون و چراں؟ اسی مان لینے کا نام اور سنتے ہی مان لینے کا نام السمع والطاعۃ ہے جسکی نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو محض ترغیب نہیں دی وصیّت کے الفاظ سے تاکید فرمائی ہے۔ اس قرآنی نصاب میں قرآن پڑھنے والوں کو جب جماعت بنانا سکھائی گئی تو جس  جماعت کو مثال بنایا گیااسے ان تمام حالات سے گزارا گیا۔ پہلے نظریہ جہاد سکھایا اور سمجھایا گیا پھر نظریہ جماعت کی پوری حقیقت ذہن نشین کرائی گئی اور پھر اطاعت کا امتحان لیا گیا۔ سخت تھکی ہوئی اور پیاس سے بے حال قوم کو امیر نے حکم دیا کہ وہ سامنے بہتے دریا کا پانی نہیں پی سکتے سوائے ایک چلو بھر مقدار کے۔ جو اس سے زیادہ پئے گا وہ جماعت کے ساتھ چلنے کا اہل نہ رہے گا۔ بات ناقابلِ فہم اورموقع کے اعتبار سے اس پر عمل بھی کافی مشکل تھااس لیے جماعت کی اکثریت اطاعت نہ کر سکی اور نافرمانی کر بیٹھی اور سخت وبال کا شکار ہوئی اور جہاد میں شرکت سے محرومی سے دوچار ہوئی۔ نافرمانی میدانِ جہاد سے باہر ہوئی تو نافرمان پکڑ میں آئے اور میدان جہاد کے اندر ہو جائے تو ساری جماعت مشکل میں پڑ جاتی ہے جیسے میدانِ احد میں ہوا۔

یوں دیکھئے! قرآن بتا رہا ہے کہ کوئی مسلمان نظریہ جہاد نہ سمجھنے کی وجہ سے جہاد سے محروم رہ جاتے ہیں اور کئی نظریاتی لوگ نظریہ جماعت نہ سمجھنے کی وجہ سے۔ اور پھر جماعت کے ساتھ چلنے والا وہ شخص بھی محروم ہو جاتا ہے جو نظریہ اطاعت کو نہ اپنائے۔ یوں کتنے تھوڑے خوش نصیب وہ ہوتے ہیں جو ان تینوں نظریات کو مکمل اپنا کر جہاد کے حسین میدان تک پہنچ جاتے ہیں؟ ہزاروں میں سے صرف تین سو تیرہ

اب پکی جماعت مختصر ہی سہی مگر اس کے حق میں نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ تین سو تیرہ لاکھوں پر غالب آتے ہیں، کمزور لوگ عمالقہ جیسے لمبے تڑنگے طاقتور دشمن کے دانت کھٹے کر دیتے ہیں، حضرت داود علیہ السلام بچپن کی عمر میں جالوت جیسے قد آور کافر کو مار گراتے ہیں اور جہادی جماعت کے پھینکے ہوئے معمولی کنکر لوہے کی دیواروں کو کاٹ کر گزر جاتے ہیں اور چند لمحوں کی لڑائی سے صدیوں کی غلامی سے نجات اور مقدس اراضی کی بازیابی عمل میں آجاتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ بڑی بڑی روحانی اور معنوی نعمتیں بھی ملتی ہیں اور تسلسل کے ساتھ ملتی رہتی ہیں تاکہ جماعت کا نظریہ اور پختہ تر ہوتا جائے۔

خلاصہ کلام یہ کہ جہاد فرض ہے ، اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ جماعت کا وجود جہاد کا رکن اعظم ہے اور جماعت کا قیام اطاعت کے ساتھ ہے۔اطاعت میں کمزوری جہاد کا وہ گناہ ہے جسکی سزا نقد ہے کہ اسکی موجودگی میں فتح ونصرت نہیں مل سکتی۔غزوہ احد کا واقعہ اسکا شاہد عدل ہے اور حجت کے طور پر قرآن مجید میں مذکور قیامت تک خبردار کررہا ہے کہ اطاعت امیر میں نقص ہوتو صحابہ کرام جیسی مقدس اورکامل جماعت بھی زخموں سے چور اور فتح سے دور کردی جاتی ہے۔۔ نبی کریمﷺ نے جہاد کے ہمیشہ جاری رہنے کی بھی خبر ارشاد فرمائی اور جماعت کے ہمیشہ قائم رہنے کی بھی۔ قرآن مجید میں بھی واضح ارشاد ہے کہ جب لوگ عموماً جہاد کو ترک کر دیا کریں گے، اللہ تعالیٰ کے امر سے جہاد کرنے والی جماعت حزب اللہ (اللہ کا لشکر) وجود میں آیا کرے گی اور اس جماعت کے ارکان کی صفات بھی قرآن مجید میں مذکور ہیں۔ انہی صفات کو اپنا کر میدان میں آنے والی جماعت ہی غالب آسکتی ہے اور جہاد کے مقاصد کی تکمیل کرسکتی ہے۔

البتہ ایک بات جو پہلے تفصیل اور دلائل کے ساتھ مذکور ہو چکی اس کا اعادہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جہاد کے لئے جماعت اور امیر کی شرط کا مطلب خلافت اور خلیفہ کا موجود ہونا نہیں ہے۔ اگر وہ موجود ہوں تو فبھا اور اصل اسلامی معاشرے کی صورت بھی وہی ہے لیکن ان کا ہونا ضروری شرط نہیں بلکہ جو لوگ بھی جہاد کرنا چاہیں ان پر لازم ہے کہ جماعت بنائیں، اس پر امیر مقرر کریں اور جہاد کریں۔ جہاد کے دشمن اور مخالفین اس بات کو اعتراض کے طور پرا ستعمال کر کے مسلمانوں کے ذہنوں کو جہاد سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مضمون کے بالکل آخر میں اس تلبیس کی تردید کے لئے حضرات اکابر علماء دیوبند کے جہاد شاملی کا واقعہ تبرکاً نقل کر رہا ہوں کہ وہ اس اعتراض کا جواب بھی ہے۔

 شاملی کا جہادی معرکہ جو کہ جنگ آزادی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے حضرت حاجی امداداﷲمہاجر مکیؒ کی سرکردگی میں لڑا گیا۔ ان کے امیر بنائے جانے کا واقعہ بھی عجیب ہے۔ خانقاہ تھانہ بھون جو اس زمانے میں دکّان معرفت کے لقب سے موسوم تھی تین بزرگوں کی آماجگاہ تھی۔ حضرت حاجی صاحبؒ، حضرت حافظ محمد ضامن صاحب شہیدؒ اور حضرت مولانا شیخ محمد تھانویؒ ۔ اوّل الذکر دونوں بزرگوں کا اتفاق تھا کہ علم جہاد بلند کرنا چاہئے مگر شیخ تھانویؒ کو اختلاف تھا۔ وہ چونکہ عالم تھے اس لئے ان سے اس سلسلے میں بحث کرنے تشریف لے گئے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ۔ بات چیت کچھ یوں ہوئی۔ شیخ محمد صاحب سائل تھے اور یہ حضرات مجیب۔

سوال: جہاد کے لئے امیر ہونا چاہئے ہمارے پاس امیر نہیں؟

جواب: امیر مقرر کرنا تو اپنے اختیار کی بات ہے، حضرت حاجی صاحب ہم سب کے بڑے ہیں ابھی ان کے ہاتھ پر بیعت علی الجہاد کر کے انہیں امیر بنا لیا جائے۔

سوال:جہاد استطاعت سے ہوتا ہے جبکہ ہم میں استطاعت نہیں؟

جواب: کیا اصحابِ بدر جتنی بھی نہیں؟

بس معاملہ ختم ہو گیا۔ بیعت ہوئی ، حاجی صاحبؒ امیر بنائے گئے اور جہاد کا اعلان کر دیا گیا۔ سید الطائفہ حضرت حاجی صاحبؒ امیر، حضرت نانوتویؒ امیر لشکر، حضرت گنگوہیؒ قاضی لشکر اور توپخانے کے انچارج۔

بس یہ ہے وہ جماعت سازی جو جہاد کے لئے شرط ہے۔

جہاد کا یہ مختصر بیانیہ یہیں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ جہاد کے اہم مباحث اور ان سے متعلق امت کا اجماعی موقف آسان الفاظ میںقارئین کے سامنے آ جائے۔ سوالات کے جوابات خود مسائل کے ضمن میں آ جاتے ہیں۔ تفصیل درکار ہو تو وقت نکال کر چھہ روزہ دورہ تفسیر آیات جہاد میں شرکت کر لیں۔ وہاں ہر سوال کا تفصیلی جواب بزبان قرآن مل جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس فریضے کی کماحقہ سمجھ نصیب فرمائیں جس کی سب سے بڑی دلیل آقا ﷺ کا اپنا مبارک خون اور حضرات صحابہ کرام کے جسموں کے ٹکڑے ہیں۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor