Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دوراتِ تفسیر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف

Assalam-o-Alaikum 544 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

دوراتِ تفسیر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 544)

اللہ کے وہ مقرب ترین بندے کون ہیں جن کے عمل کی ذمہ داری اللہ تعالی خود اٹھا تے ہیں.

’’اور تم نے انہیں نہیں مارا، بلکہ اللہ نے مارا‘‘(الانفال)

جن کا میدان میں اترنا خود اللہ تعالی نے اپنے آنے سے تعبیر فرمایا:

’’(اے گروہ کفار)اگر تم پھر میدان میں آئو گے تو ہم بھی دوبارہ آئیں گے‘‘(الانفال)

کون ہے ایسا لاڈلا سوائے ان کے جس کے بارے میں گویا یوں کہا جارہا ہے کہ جو اس نے کیا سمجھو ہم نے کیا۔

یہی تو ہیں جن کے بارے میں حدیث قدسی میں ارشاد ہے:

"اور پھر وہ قرب کی اس منزل پر آجاتا ہے کہ میں اسکا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے‘‘(الحدیث )

یہی تو ہیں وہ خاص بندے جو مجاہد کہلاتے ہیں ملامت سہتے ہیں اور کسی ملامت گر کی پرواہ نہیں کرتے مست حال رہتے ہیں ..

آپ بھی آئیے اور انکا مقام اخبارات اور میڈیا سے جاننے کی بجائے قرآن سے سنئے .

بزم ہر سو سجی ہوئی ہے آپکو بھی شرکت کی دعوت ہے.. الحمد للہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی دینی مدارس کی تعطیلات کے پہلے ہفتے میں ملک بھر میں دورات تفسیر آیات الجہاد کا حسین سلسلہ جاری ہے۔ یوں تو ایک ہفتے کا یہ دورہ جس کا مقصد قرآن مجید کے اس حصے کی تفسیر و تشریح امت کے سامنے لانا ہے جس کا تعلق اسلام کے ایک محکم فریضے جہاد فی سبیل اللہ سے ہے، پورا سال مرکز عثمانؓ و علی ؓ میں جاری رہتا ہے۔یہاں ہر ماہ دو بار اس دورے کا انعقاد ہوتا ہے اور ملک بھر کے شائقین جوق در جوق حاضر ہو کر قلب و نظر کی سیرابی کا سامان پاتے ہیں۔ البتہ اس خاص موسم میں ہر سال ملک بھر میں ان دورات کی بہار آتی ہے۔ یہ دورات خاص طلبہ دینی مدارس کے لئے رکھے جاتے ہیں تاکہ انہیں دین کے اس خاص پہلو سے کما حقہ روشناس کرایا جائے۔ جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے پھیلائے جانے والے وساوس اور ملحدانہ اعتراضات کے جوابات سے آگاہ کیا جائے اور انہیں جہاد کا ایک موثر داعی اور محرّض خطیب بنایا جائے۔ الحمد للہ ان دورات کو قبول عام حاصل ہوا۔ ہر سال ان کا دائرہ کار مزید پھیلا، تعداد میں اضافہ ہوا۔ شائقین کا رجوع بڑھا اور ان کے عمومی روشن اثرات نظر آئے۔ان دورات کی بنیاد تو دراصل حضرت امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے وہ دورات تفسیر ہیں جو آپ نے کوہاٹ اور مردان میں پڑھائے تھے۔ انہی کی روشنی میں بعد میں حضرت سے پڑھنے والے کئی مدرسین نے آپ کے حکم پر یہ دورات پڑھانا شروع کیے۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے امت پر عظیم انعام فرمایا اورحضرت اقدس امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ کے قلم سے وہ کتاب منصہ شہود پر آئی جس نے دعوت جہاد اور تحریض علی القتال کے کام کو ایک نئی جہت اور عظیم قوت فراہم کی۔ میری مراد قرآن مجید کی آیات جہاد کی اوّلین تفسیر  فتح الجوّاد فی معارف آیات الجہاد  ہے۔ اس کتاب نے جہاد کی دعوت دینے اور آیات جہاد پڑھانے والوں کو دلائل، معارف، نکات اور جوابات کا وہ  عظیم الشان ذخیرہ فراہم کیا کہ اب اس کام کے لئے کسی اور کتاب کے مطالعے کی حاجت نہیں رہی۔یہ مستند تفاسیر کا عطر ہے اور اسلامی لٹریچر میں بکھرے جہادی مواد کا یکجا خزانہ۔ دورات تفسیر کا وقت چونکہ صرف ایک ہفتہ ہے اور پڑھائی جانے والی آیات کی تعداد ساڑھے پانچ سو سے بھی زائد، غزوات کا ذکر بھی وقت طلب امر ہے اور سوالات کا جواب بھی کافی وقت لے جاتا ہے۔اس طرح مدرسین طلبہ کے سامنے وہ تمام معارف اور نکات نہیں لا سکتے جو فتح الجوّاد میں درج ہیں۔ لیکن فتح الجوّاد کے ایک ایک جملے کی اہمیت اس امر کی متقاضی ہے کہ طلبہ سے اس کا کوئی حصہ بھی مخفی نہ رہے۔اس کے لئے شرکائے دورات کو پر زور دعوت ہے کہ دورہ تفسیر میں جن مضامین جہاد کا خلاصہ آپ کے سامنے لایا جاتا ہے انہیں فتح الجوّاد میں تفصیل سے ضرور مطالعہ کریں۔ خصوصاً سورۃ الانفال اور سورۃ البراء ۃ کے مضامین اس قابل ہیں کہ ہر مسلمان بار بار پڑھے اور حرز جان بنائے۔

سورہ انفال اور توبہ کو قرآن کریم میں بیان جہاد کے حوالے سے اساسی حیثیت حاصل ہے بلکہ یہ دونوں طویل اور مفصل سورتیں پوری کی پوری جہاد فی سبیل اﷲ کے بیان پر ہی مشتمل ہیں۔ سورہ انفال غزوہ بدر کے موقع پر نازل ہوئی، غزوہ بدر مسلمانوں کیلئے جہاد کا نقطہ آغاز تھا اور امر الٰہی اسی ترتیب کا قیامت تک باقی رہنا تھا اس لئے اس موقع پر جہاد کا پورا نصاب آسمان سے اتار کر بتایا گیا کہ اس ترتیب کے مطابق جہاد کرنے پر بدر جیسے نتائج یعنی فتح مبین، نصرت کا نزول، دنیوی و اخروی انعامات کی بہاریں، اﷲ کی رضا کے پروانے اور جنت کی بشارتیں حاصل ہونگے۔ امیر المجاہدین حفظہ اﷲتعالیٰ نے سورہ انفال میں بیان فرمودہ اس مکمل جہادی نصاب کو تین بڑے عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔

(۱) قوانین جنگ

(۲) فوائد جہاد

(۳) مجاہد کی صفات

قوانین جنگ ، عسکری نقطہ نظر سے اہم ترین موضوع ہے، جہاد چونکہ شریعت کا حکم ہے اور شریعت نام ہے ایک ایسے ضابطے کا جس میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کی مکمل راہنمائی موجود ہو، اسلام جب لڑنے کا حکم دیتا ہے تو اس کی مکمل راہنمائی بھی کرتا ہے۔ مکمل دستور عطا کرتا ہے اور ایسے گر اور طریقے سمجھاتا ہے جن کو بروئے کار لا کر اسلامی جنگ لڑنے والا شخص ہمیشہ کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔ اسلام کی یہی جامعیت اسے دین قیّم کے مقام پر فائز کرتی ہے۔ فتح الجوّاد میں اس مجموعہ قوانین کو یکجا کر دیا گیا جو دیگر تفاسیر میں متفرق انداز میں مختلف عنوانات سے موجود ہے۔ ہر مجاہد اور عام قاری اب ایک عنوان کے تحت باحوالہ آیات ان قوانین کو یاد کرسکتا ہے تاکہ میدانِ جنگ میں بروئے عمل لا سکے، کتاب کی ابتداء ہی میں یہ  زریں قوانین باحوالہ آیات مذکور ہیں۔

دوسرا اہم عنوان اس نصاب کا ہے فوائد جہاد۔ جنگ ایک مشکل اور خطرناک عمل ہے اس میں خونریزی ہے، تھکاوٹ ہے، مشقت ہے، جان و مال کا خرچ کرنا ہے، گھر بار، علاقہ، اہل واولاد، مال و متاع کا چھوڑنا ہے، ان ساری مشکلات کے اٹھانے کا کوئی حسین من پسند نتیجہ سامنے نہ ہوگا تو یقیناً اس عمل کو کرنا بلکہ کرتے رہنا نفس پر انتہائی شاق ہو گا اور اس صورت میں اس کی حیلہ گری کے کارگر ہو جانے کا اندیشہ بھی بڑھ جائے گا کہ یہ بات سمجھا کرمیدان جہاد سے ہی بھگا دے کہ اس عمل کا فائدہ کیا ہے جس کی خاطر اتنا تعب اٹھا رہے ہو؟ شریعت نے انسانی نفسیات کی ایک کمزوری کو سامنے رکھ کر قرآن میں جہاد کے فوائد بھی جابجا بیان کئے۔ سورہ انفال چونکہ جہادی نصاب ہے اس لئے اس میں یہ موضوع قدرے تفصیل سے بیان ہوا دیگر مقامات پر مختصر، فوائد جہاد کے عنوان سے بیس اہم فوائد کا باحوالہ آیات یکجا تذکرہ بھی ابتدائے کتاب میں مذکور ہے، تفصیل ان کی متعلقہ آیات کی تفسیر میں درج ہے۔

جبکہ اس قرآنی نصاب کا تیسرا اہم موضوع یہ کہ غزوہ بدر میں اترنے والی نصرت، اسلامی خلافت کے قیام کی عظیم نعمت، دنیوی اخروی عزت کا حقدار اورجہاد کے ظاہری باطنی ثمرات کا مستحق ہے کون ؟ وہ کون مجاہد ہو گا جس کی مدد کیلئے فرشتے اتریں گے، بارش آئیگی اور سکینہ نازل ہو گا؟

کون سی صفات کا حامل شخص ہو گا جس کے درجے کو عبّاد، زہّاد رشک کی نظر سے دیکھیں گے؟

وہ مجاہد کون سا ہو گا جس پر اﷲ رب العزت ملائکہ کے سامنے فخر فرمائیں گے؟

سورہ انفال اس موضوع کو کھل کر بیان کرتی ہے، کتاب کی ابتداء ہی میں آپ کو مجاہد کی ان  صفات کا آئینہ مل جائے گا جن کی روشنی میں ہر مجاہد خود کو اس معیار پر لانے کی کوشش اور محنت کرے جس کا حامل نصرت الٰہی کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ بظاہر دیکھنے میں یہ صرف  صفحات کا مضمون ہے لیکن آپ خود سوچئے کہ اسے مرتب کرنے کیلئے اور بکھرے ہوئے ان موتیوں کو یکجا کرنے کیلئے کتنے ہزار صفحات کا مطالعہ کرنا پڑا ہو گا اور کتنی دماغ سوزی ہوئی ہو گی۔ دورات تفسیر آیات الجہاد کی تدریس اور فتح الجوّاد کی پروف ریڈنگ کے سلسلے میں بندہ کو تقریباً ان اکثر تفسیرات میں آیات جہاد کے مطالب دیکھنے کا موقع ملا جن کے حوالے آپ فتح الجوّاد کے ہر صفحے پر پاتے ہیں، اپنے ناقص علم اور مطالعہ کی بنیاد پر یہ بات واضح طور پر معلوم ہوئی کہ اس طرح ترتیب کے ساتھ کسی بھی کتاب میں یہ اہم موضوعات درج نہیں، البتہ متفرق طور پر یہ باتیں ان تفاسیر میں موجود ہیں۔ لیکن ایک عام مجاہد یا قاری بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ان تفاسیر کا مطالعہ کرنیوالے طالب علم کیلئے بھی اس تفصیل کے ساتھ اس پورے نصاب کو اخذ کر لینا از حد مشکل کام ہے۔ امیر المجاہدین کا قطعِ نظر دیگر معارف کے یہی احسان بہت بڑا ہے کہ انہوں نے سورہ انفال کے جہادی نصاب کو ہر پڑھنے والے کیلئے اس قدر آسان کر دیا ۔ فجزاہ اﷲ احسن ما یجزی بہ عبادہ۔

بیان جہاد کے حوالے سے دوسری اساسی سورت سورۃ التوبۃ ہے۔سورۃ الانفال غزوہ بدر کے موقع پر نازل ہوئی جو صحابہ کرام کی جہادی مہمات کا نقطہ آغاز تھا۔ سورۃ التوبہ غزوہ تبوک کے واقعات پر مشتمل ہے جو کہ جہاد میں پیش آنے والی مشقت کا نقطہ انتہا تھا۔

اس موقع پر وہ طبقہ کھل کر سامنے آ گیا جن کے دلوں میں ایمان نہیں صرف زبانی مومن تھے۔ حق و باطل کا ٹکراو چونکہ قیامت تک جاری رہنا ہے اور اس میں ہمیشہ بدر کی طرح فتحِ مبین ہی نہیں ملے گی بلکہ بسا اوقات تبوک و احزاب کے حالات بھی پیش آئیں گے اور اس موقع پر یہی حکم جہاد مسلمانوں کی صفیں ان چھپے دشمنوں اور جھوٹے دوستوں سے پاک کر دے گا ، یہ سورۃ توبہ کا اساسی موضوع ہے۔ اس طبقے کو جو اس موقع پر کھل کر سامنے آ جائے گا اور جہاد سے جان چھڑانے کیلئے ہر رخنہ ہر بہانہ تلاشے گا اور تراشے گا منافقین کا نام دیا گیا ہے۔ سورہ توبہ انہی منافقین کے راز کھولتی ہے اور انہیں ظاہر کرتی ہے، ساتھ ہی وہ جہاد پر ابھارنے کیلئے سختی، شدت اور وعید کا اسلوب اختیار کرتی ہے تاکہ اس موقع پر ان تہدیدات پر نظر کر کے مسلمان منافقین کی طرف جانے اور ان جیسا طرز عمل اختیار کرنے سے بچیں۔ اس اساسی موضوع کے ساتھ ساتھ دیگر اہم موضوعات بھی اس سورۃ میں بیان ہوئے ہیں۔ امیر المجاہدین حفظہ اﷲ تعالیٰ نے یہاں بھی انتہائی محنت اور عرق ریزی سے پوری سورۃ کے تمام مضامین کا عجیب و غریب جامع خلاصہ چند صفحات میں درج کر دیا ہے یہ خلاصہ ذہن نشین کرنے کے بعد پڑھنے والا گویا مولف محترم کی انگلی پکڑ کر سیر کرتا جاتا ہے اور ہر آیت کے مضامین و معارف اس پر کھلتے چلے جاتے ہیں۔

سورۃ التوبہ نفاق کے پردے چاک کرنے والی سورت ہے اور نفاق ایسی لعنت ہے جو انسان کو ذلت کے سب سے گہرے گڑھے میں گرانے والی ہے۔ خلاصے میں یہ بتایا گیا کہ جہاد نفاق کو ختم کر دیتا ہے اور جہاد میں نکلنے سے خود کو مستثنیٰ سمجھنا نفاق کی علامت ہے۔یہ مرض مسلمانوں میں خصوصاً ان طبقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جنہیں عامۃ المسلمین سے کچھ اختصاص حاصل ہو۔ عام طور پر ایسے لوگ خود کو جہاد سے مستثنیٰ بلکہ مجاہدین سے بھی بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ سورۃ توبہ کی تفسیر میں قرآنی دلائل اور دردمندی کے ساتھ حضرت مولف نے ان مسلمانوں کو نفاق کی اس بڑی علامت سے ڈرایا ہے۔ اﷲ تعالیٰ سب مسلمانوں کی حفاظت فرمائیں۔

دعوت جہاد ، اہل ایمان کو صحیح اسلامی، قرآنی نظریہ جہاد سے روشناس کرانا وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ اور صحیح انداز میں یہ کام کرنے کے لئے جن دلائل کی ضرورت ہے ان کے حصول لئے دورہ تفسیر آیات الجہاد ایک بہترین ذریعہ ہے اور فتح الجوّاد اس کا مکمل نصاب۔ اس لئے جن لوگوں نے ابھی تک دورہ نہیں کیا وہ ضرور کر لیں اور جو کر چکے ہیں وہ فتح الجوّاد کے مکمل بغور مطالعہ سے اس کی تکمیل کر لیں۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor