Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خوش در خشید (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 547 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

خوش در خشید

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 547)

اللہ تعالیٰ کے سچے بندے طالبان ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ وہ شریعت کی پاسداری کریں گے،شریعت کا عَلَم اونچا رکھیں گے، شریعت کے لئے قربانیاں دیں گے ، اپنی زندگیاں اِعلائے کلمۃ الحق کی خاطر گذاریں گے اور اسی کی راہ میں مریں گے۔

’’انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کر دکھایا۔ ان میں سے کچھ اپنا کام پورا کر کے جا چکے اور کئی منتظر ہیں اور ان کے عزائم بدلے نہیں‘‘۔

ملا عمر مجاہد نے یہ عَلم تھاما اور پھر زندگی کی آخری سانس تک میدان میں جم کر کھڑے رہے اور امت کا مان بلند کیا۔ ان پر کیا آزمائش نہ آئی؟…

دھونس، دھمکی، لالچ، ترغیب ترہیب ہر حربہ آزمایا گیا، مگر ان کا سر نہ جھکایا جا سکا اور نہ ان کے اجلے دامن پر کوئی داغ لگایا جا سکا۔ وہ تخت شاہی پر بھی ایک شان آزادی کے ساتھ براجمان رہے اور اسی شان سے تخت سے اترے اور پھر عزیمت و قربانی کے میدانوں کو بھی اسی شان سے زندہ رکھا۔ وہ دنیا میں عزم و استقلال کا استعارہ بن کے جئے اور قیادت کا ایک کڑا معیار قائم کر کے دنیا سے رخصت ہوئے۔ اگلے علمبردار نے وہ شان پھیکی نہ پڑنے دی ، عَلم نیچا نہ ہونے دیا، میدانوں کی گرمی ماند نہ پڑنے دی اور کڑے معیارات نیچے نہ گرائے۔ وہ بھی ایک شان سے آئے۔ آتے ہی دشمنوں کے سروں پر بجلی گرائی، شدید طوفانی معرکے اٹھائے، قندوز فتح کیا، سنگین قبضے میں لیا اور پورے جنوبی افغانستان میں تحریک کی دھاک بٹھا دی۔ جنوب پر ملا منصور کا سکہ چلا اگرچہ کابل حکومت قبضہ کی دعویدار رہی اور کابل کو ایک دن آرام کی نیند نہ سونے دیا۔

فارسی میں کہتے ہیں:

’’ خوش درخشید ولے شعلہ مستعجل بود‘‘

وہ اس مثل کا حقیقی مصداق تھے۔ خوب چمکے کھلے اور جلد ہی چلے گئے۔

رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

٭…٭…٭

وہ کیسے شہید ہوئے، ڈرون سے یا کسی اور صورت میں؟…

کہاں شہید ہوئے؟

کہاں سے آ رہے تھے اور کہاں جا رہے تھے؟

یہ سوال صحافت کے لئے اہم ہوں گے کہ سٹوریاں بکتی ہیں اور چینل کماتے ہیں۔

راہ خدا کے مجاہد کے لئے یہ سوالات اور یہ حالات کوئی معنی نہیں رکھتے۔

اللہ کے راستے کا سچا مجاہد، جہاں مرے، جیسے مرے، جس کے ہاتھوں مرے یکساں کامیابی پاتا ہے۔

’’اگر تم اللہ کی راہ میں مارے گئے یا مر گئے ، اللہ تعالیٰ کی (دونوں حال میں) مغفرت اور رحمت اس چیز سے بہتر ہے جو یہ لوگ دنیا میں جمع کر رہے ہیں اور تم اللہ کی راہ میں مر گئے یا قتل کئے گئے اللہ ہی کی طرف اٹھائے جاؤ گے۔( النسائ)

دنیا سٹوریاں تلاشنے میں لگی رہے ہمارے لئے اس پورے واقعے میں ایک ہی خبر ہے

امیر المومنین نے جام شہادت نوش فرمایا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

امیر المومنین کامیاب رہے۔ الحمد للہ

امیر المومنین دشمنوں کے ہاتھ نہ آئے۔ الحمد للہ

ان کا کام جاری ہے۔ الحمد اللہ

عَلم ایک علمی، عملی روحانی شخصیت نے تھام لیا ہے۔ الحمد للہ

فَلَسْتُ اُبَالِی حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمَا

عَلٰی اَیِّ شِقٍّ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِی

وَذٰلِکَ فِیْ ذَاتِ الِْالٰہِ وَاِن یَّشَاء

یُبَارِکْ عَلٰی اَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ

٭…٭…٭

ایک اور علمبردار گرا…

غزوۂ موتہ اسلام کی "صلیبیوں" کے خلاف پہلی بڑی جنگ تھی۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اس میں شریک نہ تھے مگر فاصلے پاٹ دئے گئے اور میدان آپ کے سامنے مسجد نبوی میں عیاں کردیا گیا۔

ابھی مسلمانوں کی قیادت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہے۔وہ گر گئے ہیں اور شہید ہوکر کامیاب ہوگئے ہیں۔ان کے لئے دو آنسو

اب جھنڈا مثیلِ رسول جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہے۔انکا ایک ہاتھ کاٹا گیا انہوں نے نے جھنڈا دوسرے میں تھام لیا وہ بھی کٹ گیا تو عَلم سینے سے لگا لیا۔اب وہ خود کٹ کر کامیاب ہوگئے ہیں اور بازئوں کی جگہ پَر لے کر جنت میں اڑتے پھر رہے ہیں۔رضی اللہ تعالی عنہ

اب عَلمِ اِسلام شاعر رسول عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے تھام لیا ہے۔رجز گاتے اپنے مختصر سے لشکر کو سپر پاور کے دستوں سے لڑاتے پھر رہے ہیں۔

لیجئے وہ بھی گرکر کامیاب ہوئے اور محبوب حقیقی نے جام شہادت انکے لبوں سے لگا دیا۔

اب جھنڈا ،اللہ کی تلوار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے تھام لیا اور جنگ اپنے انجام کی طرف جارہی ہے۔

وہی انجام کہ جو بدر واحد کی ٹکڑوں میں بٹی لاشوں، زخموں اور اَحزاب جیسے سخت امتحانات کے بعد ملا کرتا ہے

اِذَاجَائَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ

اسلام کی کامیابی، لشکراسلام کی فتح

٭…٭…٭

صلیبی جنگ جاری ہے۔

علمبردار گرکر کامیاب ہونا شروع ہوچکے ہیں اور گنتی اس عدد کو پہنچا ہی چاہتی ہے جہاں کوئی "سیف من سیوف اللہ"

اس عَلم کو تھام کر کامیابی کا اعلان کرے گا۔ان شاء اللہ العزیز

مایوس وہ ہو جو رَبّ کی راہ میں کٹ جانے کو ناکامی سمجھتا ہو۔

مایوس وہ ہو جس کا رب نہ ہو!

اور لشکروں کی تعداد، اسباب کی قلت وکثرت اور زمینی حالات پر فتح وشکست کے اندازے وہ لگائے جو بدر کو نہ جانتا ہو

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلٰی الَّذِیْنَ آمَنُوا وَ اَنَّ الْکَافِرِیْنَ لَامَوْلٰی لَہُمْ۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor