Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

روزہ … تقویٰ۔۱ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 548 (Talha-us-Saif) - Roza Taqwa 1

روزہ … تقویٰ(۱)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 548)

رمضان المبارک کی آمد ہوئی…اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ نعمت نصیب فرمائی…

الحمد للّٰہ رب العالمین…الحمد للّٰہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات

اللھم لک الحمد ولک الشکر کما ینبغی لجلال وجہک وعظیم سلطانک

اللہ تعالیٰ ہمیں اسے خوب کمانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

رمضان المبارک کی سب سے بڑی کمائی ’’تقویٰ‘‘ ہے…

رمضان کو جس عبادت کا خصوصی وقت بنایا گیا یعنی ’’صیام ‘‘، اُن کی حکمت قرآن مجید میں یہی بیان فرمائی گئی کہ ان سے انسان کو ’’تقویٰ ‘‘نصیب ہوتا ہے۔

’’تقویٰ‘‘ کا معنی ہے بچنا اور اس کا مرادی معنی ڈرنا بھی کیا جاتا ہے دونوں ایک دوسرے کو لازم و ملزوم ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو حواس عطاء فرمائے ہیں ان کے اَفعال کو حلال و حرام میں، جائز و ممنوع میں تقسیم فرما دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں دنیا میں رکھی ہیں اُن میں بھی یہاں حلال و حرام کی حد رکھ دی ہے۔

آنکھیں ہیں تو ان کا عمل یعنی دیکھنا بھی حلال و حرام میں تقسیم ہے۔

کان کا فعل سننا بھی حلال و حرام میں تقسیم…

زبان کا عمل بولنا…اس میں بھی حلال و حرام کی حدود…

کھانے کی اشیاء، کمانے کے ذرائع، پینے کی چیزیں، پہناوے کا سامان، ہر ایک میں کچھ چیزوں کو حلال رکھا اور کچھ کو ممنوع فرما دیا۔

اب ان تمام چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی منع کردہ حد پر رُکنا اور اپنے حواس کو قابو کرنا ’’تقویٰ‘‘ کہلاتا ہے اور یہ صفت چونکہ اللہ تعالیٰ کے خوف کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی، اِس لئے تقویٰ ڈرنے کو بھی کہا جاتا ہے۔

زبان چل رہی ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بناء پر جھوٹ،غیبت، بہتان ، دھوکہ ، اِیذاء رسانی سے روکنا ہو گا اور صرف وہیں استعمال کرنا ہو گا جس کی اس کے خالق نے اجازت مرحمت فرمائی ہے۔

آنکھ کو ہر اس منظر سے پھیرنا ہو گا جو مالک نے منع کر دیا ہے۔

کان کو ہر اس بات سے بند کرنا ہو گا جس سے اس کے خالق نے روک دیا ہے۔

کمائی کے ہر اُس ذریعے کو ترک کرنا ہو گا جو ’’ربّ‘‘ کے ہاں سے ممنوع ہوا ہے۔

یہ تقویٰ ہے اور یہی وہ صفت ہے جو انسان کو بہیمیت سے بلند کر کے شرفِ اِنسانیت کا مستحق بناتی ہے۔ وہ شخص جو اپنے حواس کو ان پابندیوں میں نہیں جکڑتا اور آزادانہ زندگی گزارتا ہے وہ تو بہائم جیسا ہے۔دنیا میں ایسے کھا پی رہا ہے اور نفس کی خواہشات پوری کر رہا ہے جیسے بہائم اور جانور کر رہے ہیں۔اس میں اور ان جانوروں میں کوئی فرق نہیں بلکہ اس کے خالق نے اسے جانوروں سے بھی زیادہ بھٹکا ہوا قرار دیا ہے۔ کیونکہ اسے تو شرفِ اِنسانیت تک پہنچنے کے اسباب دئیے گئے، اس کے لئے انبیاء مبعوث کیے گئے ، کتابیں اتاری گئیں، دلائل و براہین قائم کیے گئے، عقل سلیم عطاء کی گئی ، صحیح و غلط کی تمیز بخشی گئی، اس کے باوجود اس نے یہ نہ سمجھا کہ تقویٰ کے بغیر وہ شرفِ انسانیت سے محروم رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مقام بہیمیت سے بھی نیچے گرا دیا…

رمضان المبارک کے روزے اسی تقویٰ کی تعلیم ہیں اور صرف نظری نہیں بلکہ عملی تعلیم…

وہ کھانا پینا جو اس پر سال بھر چوبیس گھنٹے حلال رہتا ہے کچھ وقت کیلئے منع کر دیا گیا…

اب یہ اپنے خالق و مالک کے حکم پر جتنی دیر اس حلال سے رُکا رہتا ہے اس وقت کا ایک ایک لمحہ اسے یاد دلاتا رہتا ہے کہ اے اللہ کے حکم پر حلال سے رکنے والے! اُس کے حرام سے رُکا کر، اُن چیزوں سے بچا کر جن سے تیرے خالق و مالک نے تجھے روک رکھا ہے، اُن چیزوں کے قریب بھی مت جایاکر جو تجھ پر ہمیشہ کے لئے حرام کر دی گئیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں رزق کی کمی تو نہیں جس کی بناء پر ایک مسلمان کو چند گھنٹے کھانے پینے سے روک دیا جاتا ہے بلکہ یہ روکنا اسی امر کی تعلیم کے لئے ہوتا ہے کہ جس طرح دل کی خوشی سے اور اپنی ذِمّہ داری جان کر کھانے پینے سے رُک جاتے ہو اِسی طرح ہر ممنوع اور محظورِ شرعی سے بچنے کو ہمیشہ اپنی ذمہ داری سمجھو، دل کی خوشی سے رُکو اور اس پر ربّ تعالیٰ سے ثواب و اَجر کی امید رکھو۔ اس لئے حضور اکرم ﷺ نے روزے کی حالت میں تمام محظوراتِ شرعیہ سے بچنے کی تاکید فرمائی اور نہ بچنے والے کو سخت وعید فرمائی، تاکہ روزے کو صرف چند گھنٹے کی بھوک پیاس ہی نہ سمجھا جاتارہے۔ اس طرح اس کا مقصد ضائع ہو جاتا ہے ۔اس لئے فرمایا گیا کہ روزہ دار وہی ہے جو کامل روزہ رکھے یعنی ہر ممنوع سے بچے۔

(۱)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جس شخص نے (روزے کی حالت میں) بیہودہ باتیں (مثلاً: غیبت، بہتان، تہمت، گالی گلوچ، لعن طعن، غلط بیانی وغیرہ) اور گناہ کا کام نہیں چھوڑا، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے‘‘۔  (بخاری، مشکوٰۃ)

(۲)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے سوائے (بھوک) پیاس کے کچھ حاصل نہیں (کیونکہ وہ روزے میں بھی بدگوئی، بدنظری اور بدعملی نہیں چھوڑتے)، اور کتنے ہی (رات کے تہجد میں) قیام کرنے والے ہیں، جن کو اپنے قیام سے ماسوا جاگنے کے کچھ حاصل نہیں۔‘‘(دارمی، مشکوٰۃ)

(۳)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا : ‘‘روزہ ڈھال ہے (کہ نفس و شیطان کے حملے سے بھی بچاتا ہے، اور گناہوں سے بھی باز رکھتا ہے، اور قیامت میں دوزخ کی آگ سے بھی بچائے گا)، پس جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ تو ناشائستہ بات کرے، نہ شور مچائے، پس اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑائی جھگڑا کرے تو (دِل میں کہے یا زبان سے اس کو) کہہ دے کہ: میں روزے سے ہوں! (اس لئے تجھ کو جواب نہیں دے سکتا کہ روزہ اس سے مانع ہے )۔‘‘( بخاری و مسلم، مشکوٰۃ)

(۴)حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ‘‘روزہ ڈھال ہے، جب تک کہ اس کو پھاڑے نہیں۔‘‘(نسائی، ابن خزیمہ، بیہقی، ترغیب)

اور ایک روایت میں ہے کہ: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ ڈھال کس چیز سے پھٹ جاتی ہے؟ فرمایا: ’’ جھوٹ اور غیبت سے!‘‘ (طبرانی الاوسط عن ابی ہریرہ، ترغیب)

(۵)حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:’’جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اس کی حدود کو پہچانا اور جن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے ان سے پرہیز کیا، تو یہ روزہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہوگا۔‘‘(صحیح ابنِ حبان، بیہقی، ترغیب)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor