Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امریکہ…روزہ اور تقویٰ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 549 (Talha-us-Saif) - America Roza aur Taqwa

امریکہ…روزہ اور تقویٰ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 549)

امریکا کے شہر ’’اورلینڈو‘‘ میں لبرل دنیا کی سب سے لاڈلی مخلوق اور ویسے دنیا کی سب سے گندی مخلوق کے کلب پر حملہ ہوا۔ پچاس سے زائد لوگ مارے گئے اور اتنے ہی زخمی ہوئے۔ حملہ آور افغان شہری بتایا گیا جس کا والد سیاستدان ہے، صدارتی امیدوار ہے ، ٹی وی چینل پر اینکر ہے اور سی آئی اے کا اعلانیہ ایجنٹ ہے۔ وائٹ ہاؤس میں آمدورفت بھی رکھتا ہے اور امریکی آفیشلز کا دم چھلا ہے۔ شکل اور عمل دونوں سے ہی ملالہ یوسف زئی کے والد کے مشابہ ہے۔ حملہ آور عمر متین ایک سیکیورٹی آفیسر تھا۔ کچھ عرصہ قبل ایف بی آئی نے دوبار اس سے داعش اور دیگر جہادی جماعتوں کے ساتھ تعلق کے حوالے سے تفتیش بھی کی مگر معاملات صاف ہونے کی وجہ سے واچ لسٹ پر نہ رکھا بلکہ اس تفتیش کے بعد اس ریاست کے محکمہ داخلہ نے اسے اسلحہ رکھنے کا لائسنس بھی جاری کیا۔ عمر متین کے والد کے مطابق اسے ہم جنس پرستوں کو دیکھ کر شدید غصہ آتا تھا اور وہ کئی بار ان سے اُلجھ بھی چکا تھا۔ امریکی محکمۂ داخلہ اور سیکیورٹی ایجنسیاں اب اس حملے کے ہر پہلو پر تحقیق کر رہی ہیں۔ ایک فون کال کا دعوی تو کر دیا گیا ہے کہ حملے کے بعد عمر متین نے 911 پر کال کر کے بتایا کہ وہ کلب میں سینکڑوں لوگوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور داعش کی بیعت کر چکا ہے۔ جبکہ اب وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ امریکی محکمے اپنے اس موقف سے پیچھے ہٹتے نظر آ رہے ہیں۔ میڈیا کو سانپ سونگھا ہوا ہے اور اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ کس کے خلاف بکواس بازی کا بازار گرم کرے۔عمر متین ایک انتہائی لبرل گھرانے کا فرد ہے۔یونیورسٹی آف فلوریڈا کا گریجویٹ ہے۔اس کے پیچھے نہ ہی مدرسہ بر آمد ہو رہا ہے نہ مولوی اور نہ مجاہد ۔ اس لئے ان کی زبانیں گنگ ہیں اور عقلیں گم۔

اصل بات کی طرف کوئی آنے پر آمادہ نہیں کیونکہ اس پر بات کرنے سے امریکا ناراض ہو گا۔

سیدھی سی بات ہے کہ عمر متین افغان شہری ہے۔ اس سے پہلے کتنے ہی افغان فورسز کے ارکان،خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ، سیاستدانوں کے ساتھ رہنے والے معاون اور لبرل گھرانوں کے افراد جو درپردہ طالبان مجاہدین سے ملے ہوئے تھے اس طرح کی کارروائیاں کر چکے ہیں۔افغانستان میں مرنے والا سب سے ہائی رینکڈ امریکی آفیسر ایک افغان سپاہی کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔ یہ سپاہی امریکہ سے تربیت یافتہ تھا اور اسے امریکی فوج کی طرف سے وفاداری اور اعلیٰ کارکردگی پر سند دی گئی تھی ۔اسی اعتماد کی بناء پر وہ اس قدر اہم اجتماع کے موقع پر جس میں جنرلز اور اعلیٰ سیاسی و سفارتی اہلکار مدعو تھے سیکیورٹی کے فرائض پر مامور تھا اور اس نے موقع دیکھ کر اپنا کام کر دیا اور جام شہادت نوش کیا۔ امریکہ خود اور اس کا حاشیہ بردار میڈیا نہ تو افغان قوم کے مزاج کو پوری طرح سمجھ پائے ہیں اور نہ افغان سرزمین کی خاصیات کو۔ وہ افغانستان میں جس قدر ظلم کر چکے ہیں ، جس قدر حقوق پامال کر چکے ہیں اور جس قدر بے گناہوں کا خون بہا چکے ہیں افغان قوم کے فرزند کس کس روپ میں انتقام کی آگ سینوں میں دبائے پھر رہے ہیں اس کا انہیں اندازہ نہیں ہو رہا۔ اسی طرح وہ امارت اسلامیہ کو صرف ایسی تحریک سمجھنے کی غلطی میں مبتلا ہیں جس کی جڑیں صرف ایک طبقے تک محدود ہیں اور مدارس کے طلبہ و ملّا کے علاوہ کسی اور کی شمولیت کا امکان ہی ذہن سے نکال بیٹھے ہیں اس لئے ایسی ایسی جگہ سے چوٹ کھا رہے ہیں جس کا انہیں قطعاً اندازہ نہیں۔

امارت اسلامیہ نے جس انداز میں ملک پر حکمرانی کی، یہ لبرلز اس کے اثرات کا اندازہ میڈیا پر آنے والے لوگوں کی باتوں سے کبھی نہیں لگا سکتے۔ امارت اسلامیہ کی جڑیں افغانستان کے ہر شعبے اور ہر طبقے میں بہت گہرائی تک سرایت کی ہوئی ہیں اور امریکا نیٹو اور افغان حکومت کے خلاف ہونے والی تمام بڑی کارروائیوں میں خارجی کے ساتھ یہ داخلی عوامل بھی پوری طرح بروئے کار آتے ہیں، ورنہ اس تحریک کا نہ تو بقاء ممکن تھا اور نہ ہی رسوخ۔ عمر متین سالہا سال سے امریکا میں مقیم رہے۔وہ مسلح بھی تھے، ان کے خیالات بھی یہی تھے مگر کارروائی کی ٹائمنگ پر تحقیق کرتے ہوئے کیا امیر المومنین کی شہادت کے عنصر کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا ہم جنس پرست کلب کو ٹارگٹ کے طور پر منتخب کرنے کی وجہ پر غور کرتے ہوئے امریکی فوج اور پرائیویٹ جنگی اداروں میں علانیہ ہم جنس افراد کی کثرت اور ان کے افغانستان میں جرائم کی داستانوں کو فراموش کر سکتے ہیں؟…

لیکن میڈیا ان موضوعات پر کبھی بات نہیں کرے گا…

وہ اپنی پوری کوشش جاری رکھے گا کہ اس کارروائی کی آڑ میں اپنا وہی رٹا رٹایا ایجنڈا دہرائے اور پھر شدت پسندی کے موضوع پر اپنا خبث باطن نکالے…

امریکا اور اس کے اتحادی یورپ کی طرف سے افغانستان اور شام میں مسلمانوں پر جو مظالم جاری ہیں ان کا ردعمل اب مسلسل ان کی سرزمین پر کارروائیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ مسلمان ایسے مواقع پر براء ت اور اظہار افسوس و ندامت کے چکروں میں پڑنے کی بجائے انہیں یہ باور کروانے میں اپنا کردار ادا کیا کریں کہ یہ ردعمل ہے۔اگر اس باعث بننے والا عمل روک دیا جائے تو ان کے اپنے شہری بھی سکون کی نیند سو سکیں گے ورنہ موقع بہ موقع یہ عمل جاری رہے گا۔ ایسے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے سے کیا امریکا کی پالیسیاں بدل جائیں گی؟…

بہت سے لوگ اس کارروائی کے پیچھے بھی سازش تلاش کر لائے ہیں کہ یہ ٹرمپ کو صدر بنائیں گے تاکہ وہ اسلام کا صفایا کرے۔

ایسے عقلمندوں پر ہنسی آتی ہے۔

کیا متعصب بش کے بعد معتدل سمجھے جانے والے اوبامہ کے آنے سے کوئی پالیسی بدلی؟…

کیا ہیلری صدر بن کر پالیسی بدل دے گی؟…

یہی وہ باتیں ہیں جو ہندوستان میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے موقع پر کی جا رہی تھیں…

اور بعض لوگ اب اس رخ پر سرگرم ہو جائیں گے کہ بس سارے مسلمان برداشت اور مذمت کریں تاکہ امریکا اور یورپ کے رہنے والوں پر کوئی وبال نہ آئے تو کیا وہ لوگ پہلے کبھی وضاحتوں سے مطمئن ہوئے ہیں؟ ایسے مواقع پر ہم قرآن مجید کی راہنمائی کو کیوں بھول جاتے ہیں جو ہمیں ان کے ایک طعنے کے جواب میں چار چار سوال کرنا سکھاتا ہے نہ کہ معذرت خواہانہ رویہ…

٭…٭…٭

گذشہ کالم روزہ اور تقویٰ سے متعلق تھا۔ اس کے تتمہ کے طور پر حجۃ الاسلام امام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ کی دلنواز عبارت ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسا روزہ نصیب فرمائے۔ آمین

حجۃ الاسلام امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ:روزے کے تین درجے ہیں۔ :عام۔ :خاص۔ :خاص الخاص۔ عام روزہ تو یہی ہے کہ شکم اور شرم گاہ کے تقاضوں سے پرہیز کرے، جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔ اور خاص روزہ یہ ہے کہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دیگر اعضاء کو گناہوں سے بچائے، یہ صالحین کا روزہ ہے، اور اس میں چھ باتوں کا اہتمام لازم ہے:

اوّل: آنکھ کی حفاظت، کہ آنکھ کو ہر مذموم و مکروہ اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرنے والی چیز سے بچائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:نظر، شیطان کے تیروں میں سے ایک زہر میں بجھا ہوا تیر ہے، پس جس نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے نظرِبد کو ترک کردیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ایمان نصیب فرمائیں گے کہ اس کی حلاوت (شیرینی) اپنے دِل میں محسوس کرے گا۔

 (رواہ الحاکم وصححہ من حدیث حذیفۃ رضی اللہ عنہ وتعقبہ الذھبی فقال اسحاق رواہ وعبدالرحمن ھو الوسطی ضعفوہ، ورواہ الطبرانی من حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، قال الھیثمی وفیہ عبداللہ بن اسحاق الواسطی وھو ضعیف، مجمع الزوائد )

دوم: زبان کی حفاظت، کہ بیہودہ گوئی، جھوٹ، غیبت، چغلی، جھوٹی قسم اور لڑائی جھگڑے سے اسے محفوظ رکھے، اسے خاموشی کا پابند بنائے اور ذکر و تلاوت میں مشغول رکھے، یہ زبان کا روزہ ہے۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مجاہدکہتے ہیں کہ: غیبت اور جھوٹ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: روزہ ڈھال ہے، پس جب تم میں کسی کا روزہ ہو تو نہ کوئی بیہودہ بات کرے، نہ جہالت کا کوئی کام کرے، اور اگر اس سے کوئی شخص لڑے جھگڑے یا اسے گالی دے تو کہہ دے کہ میرا روزہ ہے۔ (صحاح ستہ)

سوم: کان کی حفاظت، کہ حرام اور مکروہ چیزوں کے سننے سے پرہیز رکھے، کیونکہ جو بات زبان سے کہنا حرام ہے، اس کا سننا بھی حرام ہے۔

چہارم: بقیہ اعضاء کی حفاظت، کہ ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء کو حرام اور مکروہ کاموں سے محفوظ رکھے، اور اِفطار کے وقت پیٹ میں کوئی مشتبہ چیز نہ ڈالے، کیونکہ اس کے کوئی معنیٰ نہیں کہ دن بھر تو حلال سے روزہ رکھا اور شام کو حرام چیز سے روزہ کھولا۔

پنجم: اِفطار کے وقت حلال کھانا بھی اس قدر نہ کھائے کہ ناک تک آجائے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں، جس کو آدمی بھرے۔ (رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ والحاکم من حدیث مقدام بن معدیکربؓ) اور جب شام کو دن بھر کی ساری کسر پوری کرلی تو روزہ سے شیطان کو مغلوب کرنے اور نفس کی شہوانی قوّت توڑنے کا مقصد کیونکر حاصل ہوگا؟

ششم: اِفطار کے وقت اس کی حالت خوف و رجا کے درمیان مضطرب رہے کہ نہ معلوم اس کا روزہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہوا یا مردُود؟ پہلی صورت میں یہ شخص مقرّبِ بارگاہ بن گیا، اور دُوسری صورت میں مطرود و مردُود ہوا، یہی کیفیت ہر عبادت کے بعد ہونی چاہئے۔

اور خاص الخاص روزہ یہ ہے کہ دُنیوی افکار سے قلب کا روزہ ہو، اور ماسوا اللہ سے اس کو بالکل ہی روک دیا جائے، البتہ جو دُنیا کہ دین کے لئے مقصود ہو وہ تو دُنیا ہی نہیں، بلکہ توشہء آخرت ہے۔ بہرحال ذکرِ الٰہی اور فکرِ آخرت کو چھوڑ کر دیگر اُمور میں قلب کے مشغول ہونے سے یہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اربابِ قلوب کا قول ہے کہ دن کے وقت کاروبار کی اس واسطے فکر کرنا کہ شام کو اِفطاری مہیا ہوجائے، یہ بھی ایک درجے کی خطا ہے، گویا اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رزقِ موعود پر اس شخص کو وثوق اور اعتماد نہیں، یہ انبیاء ، صدیقین اور مقربین کا روزہ ہے۔(احیاء العلوم ج:۲۔ ص:۱۶۸  ملخصاً)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor