Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شیاطین کو تکلیف (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 558 (Talha-us-Saif) - Shayateen ko Takleef

شیاطین کو تکلیف

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 558)

نیکیوں کا موسم آتا ہے تو پورے ماحول پر چھا جاتا ہے…

ہر چیز محو عبادت نظر آتی ہے اور شیطان بڑی سخت تکلیف میں پڑ جاتا ہے…

سال کے سب سے قیمتی اور افضل ایام شروع ہوا ہی چاہتے ہیں۔ایک دو دن میں چاند طلوع ہونے والا ہے اور پھر معاشرے کو نیکی کا ایک گہرا رنگ اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

حاجی کمر باندھ لیں گے کہ عشق و محبت میں گندھی اس عظیم عبادت کا وقت قریب ہوا جس کے لئے وہ گھر بار، کاروبار چھوڑ کر کسی کے در پر آ پڑے ہیں اور حج کے انتظار میں محبوب کی گلیوں میں گھوم رہے ہیں۔جو قافلے ابھی پہنچے نہیں وہ بھی دیوانہ وار چل پڑیں گے اور پھر ایک ایک لمحہ گن کر گزارنے کا مرحلہ شروع ہو گا۔

کب وہ وقت آئے گا جب ہم زرق برق لباس اتار کر دو کفنی چادریں اوڑھ لیں گے…

کب ہم پُرتعیش رہائش گاہیں چھوڑ کر ایک لق و دق صحراء میں جا پڑیں گے…

کب وہ وقت آئے گا جب ہم اچھی اچھی سواریاں چھوڑ کر پیدل کسی کی راہ میں چل پڑیں گے…

کب ہم شیطان کو کنکر مار کر دشمنی کا عہد تازہ کریں گے…

کب ہم ’’ لبیک‘‘ کی پُرسوز صدائیں بلند کر کے عہدِ وفا کی تجدید کریں گے…

ایک مومن عبادت کے انتظار میں تڑپتا ہے اور شیطان کا نٹوں پرلوٹتا ہے…

ایمان والے اللہ تعالیٰ کے گھر کو اور اس کے شہر کو آباد کرتے ہیں اور شیطان کا خانہ ویران ہوتا ہے…

مدینہ منورہ کی گلیاں عُشّاق سے بھری درود و سلام کے زمزموں سے گونجتی ہیں اور شیطان کا بازار سونا پڑ جاتا ہے…

حرمین کے علاوہ باقی عالمِ اسلام میں قربانی کی عبادت کا نور ہر طرف چھا جاتا ہے…

اہتمام سے پیسے جوڑے جائیں گے…

منڈیوں کے پھیرے ہوں گے…

اچھے جانور منتخب کر کے لائے جائیں گے…

اب ان مہمانوں کا ہر طرف شاہی پروٹوکول شروع ہو گا…

ان کے لئے اچھی جگہ کی فکر…

اچھا کھلانے پلانے کی فکر…بس یہی فکریں ہر طرف چھائی نظر آئیں گی…

بچے انہیں گلیوں گلیوں لئے پھریں گے اور ان کے ناز اُٹھائیں گے…

یوں ان ایام میںبس ہر طرف قربانی قربانی کا اعلان ہو گا اور رب کریم کے حکم کا ڈنکا بجے گا…

پھر دسویں کا دن آئے گا…

تکبیروں کی گونج ہو گی اور پھر ’’بسم اللہ، اللہ اکبر‘‘…اللہ کے حکم پر چھری چلا کر قربانی کا واجب ادا کر دیا جائے گا۔

اب نیکیوں کے اس موسم بہار میں شیطان کس قدر تکلیف میں ہو گا ۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ وہ ہر لمحہ ہر آن محنت کر کے بندوں کو رب سے کاٹتا ہے اور اپنے نفس کی غلامی میں دھکیلتا ہے اور نیکیوں کے یہ موسم آ کر اس کی محنت اَکارت کرتے ہیں…

وہ دیکھتا ہے کہ بندے تو پھر اللہ تعالیٰ سے جا ملے…

وہ ماحول میں گناہوں کی آلودگی پھیلاتا ہے پھر ایسے دن آتے ہیں جو ماحول کو نیکیوں کی خوشبو سے مہکا دیتے ہیں…

اور اس موسم کی ساری عبادات ہی اس کے لئے انتہائی تکلیف دِہ ہیں…

ان عبادات میں جان و مال کی قربانی ہے…

مہاجرت ہے…

قربانی ہے…

محبت ہے…وفاء ہے… اِطاعت کی شان ہے…خود سپردگی ہے…دانش وَری کی موت ہے … بن سوچے سمجھے عمل ہے… توبہ ہے…آنسو ہیں اور استغفار ہے…

اور یہ سب اِسے بہت ناگوار ہے…

اب آپ دیکھیں گے !

جہازوں کی فرسٹ کلاس نشستوں سے اتر کر مہنگے ہوٹلوں میں جا گھسنے والے ، سیاحتی مقامات پر کئی حجوں اور قربانیوں سے زیادہ مال پھونک آنے والے، مہنگے امپورٹڈ سوٹوں اور پورے جانور کی قیمت سے زیادہ مہنگے جوتوں میں ملبوس دانشور اپنے مہنگے قلم حرکت میں لا کر شیطان سے زیادہ تکلیف کا اظہار کریں گے کہ اتنے مسلمانوں نے نفل حج پر اور قربانیوں پر اتنا مال صرف کر دیا، اگر اس مال کو فلاں فلاں رفاہی کاموں پر ، تعلیم پر، اجتماعی شادیوں پر اور چناں وچنیں منصوبوں پر خرچ کر دیا جاتا تو دنیا میں کیا کیا تبدیلیاں آ جاتیں ۔ ان کی باتوں اور ہوشربار اعداد و شمار پر قطعی کان نہ دھرئیے گا۔ ان کا مقصد اگر تبدیلی ہوتا اور کسی نیکی کی ترغیب دینا ہوتا تو وہ آپ کو عبادت میں کٹوتی کر کے ان نیکیوں کا نہ کہتے بلکہ ضروریات اور فضولایت میں کٹوتی کا کہتے۔ یہ لیکچرز آپ انہیں مہنگے گھر بنانے والوں اور اینٹ روڑے پر فضول مال تھوپنے والوں کو دیتے نہیں دیکھا ہو گا۔ انہیں کبھی فضول رسومات پر مال جلانے والوں کو یہ حقائق سمجھاتے نہیں پایا گیا ہو گا۔ یہ آپ کو کبھی اپنی ناجائز خواہشات اور بلاوجہ تعیشات پر خرچ کرنے والوں کو اعداد و شمار سناتے نظر آتے نہیں ملیں گے اور سب سے بڑھ کر خود ان کے اپنے اعمال ان کے اقوال کے صریح خلاف نظر آئیں گے۔ ان کے یہ کالم اور مضامین، لیکچر اور تقریریں انسان کے درد کی وجہ سے نہیں، اُس تکلیف اور درد کی وجہ سے ہوتی ہیں جو نیکیوں کا دور دورہ دیکھ کر ایک دورے کی طرح ان پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ان کی طرف سے تکلیف کا اظہار دراصل شیطان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تجدید عہد و وفا ہے۔ انہیں یہ سب کرنے دیجئے اور ان کے لئے بھی ہمدردی کے ساتھ دعاء کیجئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس تکلیف سے نجات عطاء فرمائے۔

ویسے بھی ہر طرف شیطان کے لئے تکلیف کا موسم ہی چل رہا ہے…

کسی شیطان کو حلب کا محاصرہ توڑنے کی تکلیف ہے…

کوئی کشمیر میں نہ تھمنے والے عوامی طوفان سے چیں بجبیں ہے…

کوئی پاکستان زندہ باد کے نعرے سن کر بھیڑئیے کی طرح غرا رہا ہے…

کسی کی دم پر قندوز، حصارک اور ہلمند میں فتوحات کا بھاری پاؤں پڑ گیا ہے…

اور انہی پے درپے تکلیفوں پر مستزاد اب عشرہ ذی الحجہ، حج اور قربانی لئے نمودار ہو رہا ہے…

انہیں انہی تکالیف میں چھوڑئے اور لیجئے محسن اعظم ﷺ سے حج اور قربانی کے فضائل کا سبق سنئے!

۱)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ سے سوال کیا گیا:کون سا عمل سب سے افضل ہے؟

آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پھر پوچھا کہ اس کے بعد ؟ آپ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ۔ پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد؟ تو آپ نے فرمایا: مقبول حج۔ (بخاری، مسلم، ترمذی)

۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

مقبول حج کا بدلہ تو جنت ہی ہے (بخاری، کتاب الحج)

۳) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

جس شخص نے حج کیا اور دورانِ حج نہ گناہوں میں مبتلا ہوا اور نہ ہی بدگوئی کی تو وہ حج سے اس دن کی طرح لوٹے گا جس دن اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔ (بخاری)

۴)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا:

یوم النحریعنی عیدالاضحی کے دن اولاد آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قربانی والا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے پس اے اللہ کے بندو پوری خوشدلی کے ساتھ قربانی کیا کرو… (ترمذی)

۵)حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ا کے صحابہ نے عرض کیا کہ یار سول اللہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہمارے لئے ان میں کیا (اجر) ہے۔ آپ ا نے ارشاد فرمایا کہ ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ اون کا بھی یہی حساب ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں اون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی۔ (احمد)

۶)حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج (عید الاضحی) کے دن کی ابتداء ہم نماز سے کریں گے پھر واپس آکر قربانی کریں گے جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنّت (طریقے) کے عین مطابق کیا۔(صحیح بخاری،کتاب الاضاحی)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor