Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کشمیر کا مقدمہ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 560 (Talha-us-Saif) - Kashmir ka Muqadama

کشمیر کا مقدمہ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 560)

کشمیر میں وہی ہوا جو منطقی تھا…

ظلم آخر کب تک برداشت کیا جا سکتا ہے؟

کب تک صرف احتجاج، مظاہروں، ہڑتالوں پر اکتفا کیا جا سکتا ہے؟

کب تک صرف اپنی لاشوں پر نوحہ کنی کی جا سکتی ہے؟

کب تک زخمیوں پر اشک بہائے جا سکتے ہیں؟

آخر رد عمل آتا ہے اور اِسی شدت سے آتا ہے…

تب صف ماتم اپنا مقام بدلتی ہے…

تب رونے والی آنکھیں تبدیل ہوتی ہیں…

تب نوحہ و گریہ ایک کوچے سے دوسرے کو کوچ کرتے ہیں…

اوڑی کا معرکہ سبق ہے کہ جنگ اپنا پانسہ بدلتی ہے اور

تصویر کا دوسرا رخ وہاں ہوتا ہے…

اب رونے کی باری مودی کی ہے اور گریہ ہندو کے گھر برپا ہے…

اب چیخ و پکار کشمیر میں نہیں ہند کے ایوانوں میں ہے…

یہی قانون فطرت ہے اور یہی تاریخ کا سبق…

کاش کہ اسے وقت سے پہلے یاد کر لیا جائے…

امت کی گود بانجھ نہیں ہوئی…

اس کے ترکش کے تیر ابھی ختم نہیں ہوئے اور نہ کبھی ہوں گے…

ایسے چار چار جوانوں کی ٹولیاں اس امت کے پاس وافر مقدار میںموجود ہیں جو چند منٹوں میں مناظر بدل دیا کرتے ہیں…

پٹھانکوٹ سے بارہمولہ تک ’’ خیر الصحابۃ اربعۃ‘‘ کے مصداق امت کے یہی سرایا امت کا مان ہیں اور اس کی امیدوں کے نگہبان…

رہی بزدلانہ دانشوری تو اس نے نہ پہلے امت کو کچھ دیا نہ اب دے پا رہی ہے

اور نہ آئندہ کبھی دے سکے گی…

٭…٭…٭

میڈیا اور سوشل میڈیا تک رسائی نہیں اس لئے الحمد للہ زندگی بہت پُرسکون اور اطمینان بخش گذر رہی ہے… بتانے والے بتا رہے ہیں کہ ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ کمزور ہو گیا…کشمیر کاز کو نقصان پہنچ گیا…

کون سا مقدمہ؟

کون سی اس کی قوت اور کیا کمزوری؟…

وہی مقدمہ جو ستر سال سے بوسیدہ فائلوں میں لپٹا شنوائی کا منتظر ہے اور کوئی اسے پوچھتا نہیں؟…

یہ نہ ایسٹ تیمور کا مقدمہ ہے نہ اسرائیل کا، یہ مسلمانوں کا مقدمہ ہے اس لئے نہ اس کی فائل کھلتی ہے اور نہ قراردادوں کو قابل عمل سمجھا جاتا ہے…

ایسے مقدمے کی کمزوری کیا ہونی ہے جو کبھی طاقتور ہوا ہی نہ تھا…

یہ مقدمہ کس عدالت میں ہے؟

اقوام متحدہ کی عدالت میں…

وہی اقوام متحدہ جو امریکہ کی داشتہ اور کفر کی نگہبان ہے…

جس کا محض ایک ہی کام ہے کہ وہ امریکہ کی عینک سے دنیا کو

دیکھے اور اس کے طے شدہ مفادات کا تحفظ کرے…

جس اقوام متحدہ کے باس اور گاڈ فادر کو دو ماہ سے جاری دنیا کا طویل ترین کرفیو بھی نظر نہیں آیا کہ وہ اس پر کچھ بولتا…

اسے پیلٹ گنوں سے چھلنی سو سے زائد لاشیں اور ہزاروں زخمی بھی دکھائی نہیں دیے کہ

وہ ان کے لئے لب کشائی کرتا…

اسے اس المناک انسانی المیے کی خبر بھی نہیں پہنچی جو کشمیر میں برپا ہے کہ

وہ اس کی مذمت کرتا

مگر اسے اوڑی کیمپ میں گرنے والی سترہ لاشیں دکھی کر گئیں اور اس نے

فوراً ان کے ساتھ ہمدردی جتلائی…

اس امریکہ اور اس کی پروردہ اقوام متحدہ کی عدالت میں آپ اپنے ایمانی اسلامی کیس کو مضبوط باور کر رہے تھے تو آپ کو میڈیا پر نہیں کسی نفسیاتی ہسپتال میں ہونا چاہیے تھا…

اس مقدمے کا وکیل کون تھا؟

اس قوم کی بد نصیبی جسے مقدمہ لڑنے کے لئے وکیل پاکستانی حکمران ملے…

ایسے وکیل کرنے سے بہتر ہوتا کہ مقدمہ سے ہی دستبرداری اختیار کر لی جائے…

جن کا خیال ہے کہ پاکستانی حکمران اور پھر ان میں سے خصوصاً موجودہ حکمران کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے اور قوت کے ساتھ پیش کرتے اسے مشورہ ہے کہ کسی اچھے حکیم سے رجوع کرے…دماغ کا یہ خلل مستقبل میں کسی بڑے حادثے کا بھی سبب بن سکتا ہے…

ایسے ماہرانہ ہمدرد وکیل کی طرف سے ایسی منصف عدالت میں پیش ہونے والے ایسے مضبوط مقدمے کے کمزور ہونے کا غم، ایسی دانشوری کو دور سے سلام…

کشمیر کا مقدمہ کشمیری قوم اور مجاہدین کشمیر نے مل کر اچھے انداز میں پیش کر دیا ہے اور خوب طاقت کے ساتھ پیش کر دیا ہے…

یا تو دو ماہ سے پیش کئے جا رہے مزاحمتی عزم و استقلال کے سامنے سرنڈر ہو کر کشمیر حوالے کر دو یا پھر تابوت اٹھا کر…

کشمیر نے دونوں آپشن پوری دلیل کے ساتھ انڈیا کے سامنے رکھ دئیے ہیں اور اقوام عالم  کے سامنے بھی۔ ہمیں کشمیر لینا ہے اور آزادی حاصل کرنی ہے ۔ یہ ہماری لاشوں کے عوض دیتے ہو تو بھی منظور ہے اور اگر تمہاری لاشوں کے عوض دینا ہے تو اس کا مظاہرہ بھی دیکھ لو۔

دانشور صاحب!

مقدمہ کمزور نہیں ہوا، مضبوط ہوا ہے…

یہ ایسے وکیل نے پیش کیا ہے جس نے ستر سال میں ایک دن بھی کشمیریوں کا ساتھ نہیں چھوڑا…

جس نے حکمرانوں کی غداریوں سے لے کر خونی باڑ تک سارے زخم سہے ہیں مگر کشمیر کے مقدمے سے روگردانی نہیں کی…

جو کشمیری مسلمانوں کا سچا یار ہے اور وفادار دوست …

یہ مقدمہ مجاہد نے اپنے خون سے پیش کیا ہے اور پیغام اچھی طرح پہنچ گیا ہے…

اس جنگ میں گنتی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ سترہ تابوت لاکھوں کی تعداد میں آرمی رکھنے والے ملک کے لئے عددی حیثیت اگرچہ نہیں رکھتے مگر علامتی حیثیت بہت بڑی ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ سترہ تابوتوں میں صرف سترہ فوجیوں کی لاشیں نہیں یہ ایک منی سپرپاور کے غرور کا لاشہ ہے۔ یہ طاقت کی میت ہے…

یہ تکبر کا مردہ ہے، یہ ہٹ دھرمی کی موت ہے اور یہ سیکیورٹی انتظامات کا جنازہ ہے۔ چار مجاہدین نے لمحہ بھر میں یہ سب کچھ مار دیا اور اس کا لاشہ بھارت کے کندھوں پر رکھ دیا۔

٭…٭…٭

کشمیریوں نے غازی بابا کے جنازے پر بھی بتایا اور افضل گورو کی شہادت پر بھی…

عدیل جہادی کے جنازے پر بھی بتایا اور برہان وانی کی شہادت پر بھی…

اقوام متحدہ کو بھی بتایا اور انڈیا کو بھی…

وہ ان مجاہدین کے ساتھ ہیں اور انہیں ہی اپنا ہیرو اور حقیقی وکیل سمجھتے ہیں…اسی اوڑی سیکٹر میں گذشتہ ماہ بھی تین جنازے اٹھے تھے اُن پر بھی کشمیری مردو خواتین ہاتھ لہرا لہرا کر اعلان کر رہے تھے …

اب بھی یہی ہو گا

کشمیری پھر بتا دیں گے کہ ہر مجاہد کا گرنے والا لاشہ اور ہر بھارتی فوجی کی لاش

ان کے مقدمہ کو کمزور نہیں، مضبوط کرتی ہے

مقدمہ کشمیری قوم کا ہے، فیصلہ بھی انہیں کا معتبر ہو گا…

کشمیر اپنا مقدمہ خود لڑ رہا ہے اور اچھی طرح لڑ رہا ہے…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor