Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ڈڈو کے…… (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 561 (Talha-us-Saif) - D Do Kay

ڈڈو کے……

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 561)

کتنے بد ذوق ہیں وہ لوگ جو انڈین نیوز چینلز تک رسائی کے باوجود دیگر کامیڈی پروگرام اور فلمیں دیکھتے ہیں، حالانکہ جو ڈرامہ، ڈائیلاگز اور کامیڈی انڈین نیوز پروگراموں میں ہوتی ہے اس سے بہتر کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ہندوستان اور کشمیر میں جب بھی کوئی کارروائی ہوتی ہے کچھ میڈیائی دوست انڈین خبروں اور تجزیاتی پروگراموں کے کلپس تواتر سے بھیجنا شروع کر دیتے ہیں جو اس کارروائی سے متعلق ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر ہفتے کا رنگ و نور آڈیو سنانے کے لئے اس کے تراشے اور ان پر اینکروں ، اینکرنیوں کے تبصرے بھی آتے رہتے ہیں یقین کیجئے لطائف سننا اور پڑھنا اب ایک فضول ترین کام لگنے لگا ہے۔

حضرت سعدی حفظہ اللہ تعالیٰ نے گذشتہ شمارے کے رنگ و نور میں تحریر فرمایا تھا کہ انڈین میڈیا کو اس بار کے رنگ و ونور کا بہت شدت سے انتظار ہو گا تاکہ وہ اس سے اپنی مرضی کا مطلب کشید کر کے اپنے عوام کو سنا سکے اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ پاکستان میں القلم کا تازہ شمارہ عموماً جمعرات اور جمعہ کو تقسیم ہوتا ہے جبکہ انٹرنیٹ پر پورا شمارہ بدھ کی شام ہی دستیاب ہوتا ہے۔ لہٰذاانڈین میڈیا بھی پٹھانکوٹ واقعہ کے بعد سے بدھ شام کی خبروں میں رنگ و نور کے ٹوٹے چلا دیتا ہے۔القلم کی ویب سائٹ پر انڈیا سے آنے والوں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں کا ہندسہ چھو رہی ہے اور اس میں یہ کامیڈی میڈیا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ پھر رنگ و نور کے ایک ایک پیراگراف پر فلمی تبصرے ، تجزیے اور ڈائیلاگ… بار بار تکرار اور سنسنی پھیلانے والا بیک گراؤنڈ میوزک… یہ سب فلموں کی رسیا قوم کو بڑی تیزی سے حضرت امیر المجاہدین حفظہ اللہ تعالیٰ کی دعوت کی طرف نہ صرف متوجہ کر رہا ہے بلکہ اس دعوت کو ان کے لئے اثر انگیز بنا رہا ہے۔ جو لوگ فلمیں زیادہ دیکھتے ہیں ان کا مزاج بھی فلمی بن جاتا ہے۔ ان پر نصیحت سے زیادہ ڈائیلاگ اور کلام سے زیادہ بیک گراؤنڈ میوزک اثر انداز ہوتا ہے ۔ وہ انہی چیزوں کے زیر اثر خوش ہوتے ہیں اور انہی کے دام میں پھنسے رو پڑتے ہیں۔ اب مجاہدین ان لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے یہ سب انتظامات کرنے سے تو رہے خصوصاً جیش جیسی جماعت سے تو اس کا تصور بھی بعید ہے۔ لہٰذاانڈین میڈیا نے دعوت جہاد کو ڈرامائی رنگ میں پیش کرنے کا کام اپنے ذمہ لے لیا ہے۔

’’دیکھئے مسعود اجہر کس طرح یووکوں ( جوانوں) کو ہندوستان کے خلاف لڑنے پر بھڑکا رہا ہے…

ایک بار پھر سنیے!

دیکھا آپ نے…ہندوستان کا یہ کھونی دشمن کس طرح ہم پر کڑا وار کرنے کی بات کر رہا ہے…

دیکھئے !

اس نے اور کیا کہا؟…

کل ملا کر کھلاصہ یہ ہو رہا ہے کہ وہ ہندوستان سے یدھ بھڑکانا چاہتا ہے…

دیکھئے آتنک کا نیا پیغام…

ہا ہا ہا…مزا ہی آ جاتا ہے…

عرصہ ہو گیا…ہر ہفتے یہ سب سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں، شکر بجا لاتے ہیں اور جہاد کی طاقت پر ایمان اور پختہ ہو جاتا ہے…

 حس مزاح بھی ایک نعمت ہے ( بشرطیکہ شرعی حدود سے تجاوز نہ کرے) اور ان تجزیات میں اس کی تسکین کا بھی وافر سامان موجود ہوتا ہے۔ اس سلسلے کی اب تک کی سب سے مزاحیہ رپورٹ برادر کبیر مفتی عبد الرؤف صاحب زید مجدہ کے بارے میں نشر ہوئی تھی جس میں ان کا اور راشد رؤف کا ایسا ملغوبہ تیار کیا گیا تھا جو صرف انڈین میڈیا ہی کر سکتا ہے۔ پوری رپورٹ میں مفتی صاحب راشد رؤف میں اور راشد رؤف مفتی صاحب سے یوں ضم تھے کہ الگ کرنا نا ممکن نظر آتا ہے…بس

من تو شدم تو من شدی

کا منظر تھا ۔ اس کے بعد ایک رپورٹ آئی جس میں اینکر نے انتہائی سنسنی خیز انداز میں بہاولپور کو گوگل کے نقشوں کی مدد سے کراچی کے پڑوس میں کچھ یوں ثابت کیا کہ ہم حیدر آباد سے بھی آگے جا نکلے اور ہمیں اس دن بہاولپور کا میٹھا پانی کھارا ذائقہ دینے لگا جبکہ بہاولپور میں قائم ٹریننگ سینٹر کی وہ ہولناک تفصیلات بیان کیں کہ یقیناً کئی انڈین شیر وہ سن کر باتھ روم تک نہ پہنچ پائے ہوں گے اور بیویوں کے ہاتھوں پٹے ہوں گے، لیکن اس بار کے رنگ و نور پر تجزیے نے مزاح نگاری کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے۔

پہلے رنگ و نور کا پیراگراف مکمل سنایا گیا:

’’انڈیا نے اپنی طاقت کے بارے میں … اپنی عوام سے اتنا جھوٹ بول دیا ہے کہ…اب ہر واقعہ پر اس کی عوام فوراً اپنی حکومت سے پاکستان پر حملے کا مطالبہ کرنے لگتی ہے… ۱۹۷۱ء کی حادثاتی فتح نے ان کے دماغ پہلے ہی خراب کر رکھے ہیں…مزید کام ’’بالی وڈ‘‘ کی فلموں نے کر دیا ہے… ان فلموں کے وہ چوہے ہیرو جو اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں… وہ فلموں میں دن رات انڈیا کو مضبوط اور پاکستان کو کمزور دکھاتے رہتے ہیں… ایسے ہیرو بھی جو گیس کے مریض ہیں اور ہر پانچ منٹ بعد جن کی ہوا نکل جاتی ہے … وہ فلموں میں پاکستان پر حملے کرتے ہیں … یہاں آ کر کیمپ تباہ کرتے ہیں…یہاں سے مجاہدین اور ان کے قائدین کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں …وہ چونکہ ہیرو ہوتے ہیں اس لئے ان پر ہزاروں گولیاں چلتی رہیں …ان کو ایک بھی نہیں لگتی… جبکہ ان کی ایک ایک گولی سے پوری عمارتیں اُڑ جاتی ہیں اور کئی کئی مجاہد ڈھیر ہو جاتے ہیں…انڈین عوام دن رات یہ مناظر دیکھ کر واقعی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ انڈیا ناقابل تسخیر ہے اور اس کے فوجی فلموں کے ہیرو ہیں… حالانکہ منظر یہ ہے کہ چار افراد کے حملے میں اٹھارہ فوجی مارے گئے اور درجنوں زخمی ہو گئے…

اس سے ابھی چند دن پہلے ایک حملے میں انڈین فوج کے دو کرنل اور کئی فوجی مارے گئے … اب انڈیا میں ہر طرف شور ہے کہ …پکڑو، مارو …حملہ کر دو … اُٹھا لو…‘‘

اس سے آگے متصل جملہ تھا:

’’ارے ڈڈو کی اولادو! ‘‘

محترمہ اینکرہ جی کو اس جملے میں اپنے پتا یا پتی کی شکل نظر آئی یا مودی کا سراپا ذہن میں گھوم گیا اس لئے اس نے پکڑ لو، مار دو پر بریک دبائی اور وہ تجزیہ کیا کہ میرے پاس اگر دینے کے لئے کوئی ایوارڈ ہوتا تو اسے فوراً دے ڈالتا…

’’دیکھئے مسعود اجہر گھبرایا ہوا ہے…

اسے ڈر ہے کہ اب پکڑ لیا جائے گا یا مار دیا جائے گا…

اس جملے سے اس کی بوکھلاہٹ واضح ہے…

شرما جی آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا مسعود اجہر واقعی ڈرا ہوا ہے؟…

اور شرما جی بھی ڈڈو کی اولاد والا پیراگراف پڑھے سنے بغیر انتہائی بے شرمی سے تجزیہ کرنے لگے…

جی واقعی وہ بہت ڈرا ہوا ہے الخ…

میں نے کافی سوچا اور اس پیراگراف کو درجن بار پڑھا کہ اس میں آخر وہ بات کون سی ہو سکتی ہے جس سے ڈر ، خوف، بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا قطرہ کشید کیا جا سکتا ہو…

کافی سوچ بچار کے بعد بات سمجھ آ ہی گئی…

یہ سارا کیا دھرا ’’ ڈڈو کی اولادو! ‘‘ والے خطاب کا ہے…

تو اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کیسے؟ …

تو جناب خود کو انڈین نیوز چینل کے سامنے تصور کیجئے اور یہ تجزیہ مکمل پڑھیے بات سمجھ میں آ جائے گی…

جی شرما جی!

تو آپ کو کیا لگتا ہے مسعود اجہر واقعی ڈرا ہوا ہے؟

جی پوجا جی کل ملا کر یہی لگتا ہے کیونکہ دیکھئے انہوں نے جنگ کی بات کرنے والے انڈینز کو ڈڈو کی اولاد کہا۔ ڈڈو جو ایک چھوٹا سا اور بے ضرر سا جانور ہے اور اس کی اولاد کہنا کوئی بڑی گالی نہیں۔دیکھئے وہ ہمیں کتے کی اولاد نہیں کہہ پائے۔انہوں نے ہمیں سور کے بچو نہیں کہا حالانکہ وہ کہہ سکتے تھے مگر کہیں نہ نہیں ضرور کچھ ڈر اور بوکھلاہٹ ان کے بھیتر ضرور ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیں بڑی گالی نہیں دے پائے۔ انہیں ایسا لگا ہو گا کہ اگر انہوں نے ہمیں کتے یا سور کی اولاد کہا تو انہیں پکڑ لیا جائے، مار دیا جائے گا۔

جی جی شرما جی مگر کیا ان کا یہ ڈر درست ہے؟ کیا واقعی وہ ہمیں کتے یا سور کی اولاد کہہ دیتے تو اس کا کڑا بھگتان انہیں بھگتنا پڑتا؟…

نہیں پوجا جی!

میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے۔ دیکھیے مودی جی کی ماتا نے ان کی لال قلعے والی تقریر سن کر کہا تھا یہ سور کا بچہ پوری جنتا کو مروائے گا اور یشودھا بہن تو انہیں برابر کتے کا بچہ کہتی ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے یُدھ کی بات کی تو ان کی پتنی نے کہا کتے کے بچے جا اپنی سینا کے پاس بھوجن کر اور انہیں کھانا دینے سے انکار کر دیا۔

اجیت دوال جی کو ان کے سارے مِتر حرامی کا بچہ کہتے ہیں:

مگر ان سب نیتاؤں کو اس پر کوئی غصہ نہیں آتا نہ وہ کوئی ری ایکشن کرتے ہیں۔ تو ایسے میں اگر مولانا بھی انہیں کوئی بڑی گالی دیتے تو میرا ماننا ہے کہ یہ ان کا بھی کچھ نہ بگاڑ پاتے لیکن مولانا نے چھوٹی سی گالی دے کر کہیں نہ کہیں یہ جرور مانا ہے کہ وہ ڈرے ہوئے ہیں‘‘

دھنے واد شرما جی! …

تو اب سمجھ آ گیا آپ کو کہ خوف اور ڈر کا معنی کہاں سے کشید کیا ان ڈڈو کی اولادوں نے؟…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor