Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بدر سے بارہمولہ تک (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 562 (Talha-us-Saif) - Badar se Barahmula tak

بدر سے بارہمولہ تک

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 562)

ہندوستان نے دریاؤں کا پانی روکنے اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ عملاً کافی عرصے سے معطل ہے۔ دریاؤں پر ہندوستان درجنوں ناجائز ڈیم اور ذخائر تعمیر کر چکا ہے۔ حصے کے مطابق ان کا پانی عام طور پر نہیں دیا جاتا۔ سال کا اکثر حصہ دریا خشک رہتے ہیں اور ہمیں قلت کا سامنا رہتا ہے۔ پانی عام طور پر ایسے وقت چھوڑا جاتا ہے جب بے قابو ہو چکا ہوتا ہے اس لئے وہ سیلاب بن کر آتا ہے اور ہر سال پنجاب اور سندھ میں تباہی مچاتا ہے۔ پاکستان ہر سال عالمی عدالتوں میں اور فورمز پر شور شرابا کرتا ہے مگر اس کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوتی ہے۔ ضرورت کے وقت قلت اور غیر ضروری کثرت کا یہ کھیل سالہا سال سے جاری ہے جس سے ایک طرف زیر کاشت رقبہ روز بروز سکڑ رہا ہے۔ زراعت تباہ حال ہے اور کسان بد حال۔ جبکہ ہر سال کا سیلاب معیشت کو کروڑوں کا ٹیکہ لگا دیتا ہے اور ملک کی معاشی بدحالی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ ہندوستان کے یہ غیر قانونی ڈیم معیشت اور زراعت کے لئے تو بربادی ہیں ہی مگر ساتھ ہی وہ عسکری اعتبار سے بھی انتہائی تباہ کن ہیں۔ ان ڈیموں سے چھوڑا جانے والا بڑے درجے کا سیلاب پاکستان میں وہ تباہی و بربادی کر سکتا ہے جو بھاری مقدار میں روایتی اسلحے سے بھی ممکن نہیں۔پرویز مشرف نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر کے ہندوستان کو یہ ڈیم مکمل کرنے کا جو موقع فراہم کیا قوم اس کا وبال ہر سال بھگتتی ہے اور اس وقت تک بھگتے گی جب تک یہ بندوبست جڑ سے اکھاڑ نہیں دیے جاتے۔ ایسے میں ہندوستان نے ایک بار پھر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی جو دھمکی دی ہے وہ ایسے ہی نہیں، اس کی اسی وار ڈاکٹرائن کا بنیادی جزو ہے۔ ادھر خود ہندوستان چین کی طرف سے خود ایسی صورتحال سے دوچار ہے لیکن اس کی سنگینی اس قدر نہیں جس قدر پاکستان کے لئے بھارت کی آبی جنگ کی پالیسی۔ ہندوستان نے پاکستان کو دھمکی لگائی تو ساتھ ہی چین نے ہندوستان کو دھمکی دیدی کہ وہ بھی اس کے خلاف پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرے گا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کب تک چین کی اس پوزیشن کی وجہ سے ہندوستان کی آبی دہشت گردی سے بچا رہے گا؟ اور کیا چین کا ایسا اقدام پاکستان کے لئے اس مسئلے کی سنگینی کو کم کر سکتا ہے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

اسی صورتحال کے پیش نظر جنرل حمید گل مرحوم جیسے عسکری ماہرین کا خیال بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان و پاکستان کی آئندہ اور فیصلہ کن جنگ کسی اور ایشو پر نہیں پانی کے ایشو پر ہو گی کیونکہ یہ دونوں اقوام کے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہے خصوصاً پاکستان کے لئے جس کی زرعی، معاشی اور عسکری مفادات ہندوستان کی اس آبی جارحیت کے رحم و کرم پر ہیں۔ خطہ اب تیزی سے اسی فیصلہ کن صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ خیر فرمائے۔

٭…٭…٭

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی میں سمندر پار مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں اس کا کہنا تھا کہ ہندوستان زمین کا بھوکا ملک نہیں اور اس نے آج تک کہیں فوج کشی نہیں کی۔

مودی جی جس سکول میں پڑھے وہاں شاید یہ نہیں پڑھایا جاتا تھا کہ ہندوستان نے کشمیر پر فوج کشی کی، حیدر آباد دکن پر فوج کے ذریعے قبضہ کیا۔ جوناگڑھ بھی فوج کشی کرکے ہتھایا اور ۱۹۷۱؁ء میں بنگال میں بھی اپنی فوجیں سرحد سے داخل کیں۔ گٹے جوڑ کر جھوٹ بولنا محاورے کی زبان میں اسی کو کہا جاتا ہے۔ ویسے بھی پے درپے حملوں نے مودی اور دیگر وزراء کے حواس بری طرح مختل کر رکھے ہیں انہیں سمجھ نہیں آتا کہ کہا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔ سرجیکل سٹرائیک ایک عالمی لطیفہ بن چکا ہے۔ ہندوستانی حکومت نہ اپنی عوام کو اب تک سمجھا پائی ہے کہ وہ جسے سرجیکل سٹرائیک کہہ رہی ہے وہ کیا چیز تھی اور نہ اب تک عالمی برادری کے سامنے اسے ثابت کیا جا سکا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل نے بھی انڈین دعوے کو اپنی مبصرین کی رپورٹ کی بنیاد پر مضحکہ خیز قرار دے دیا۔ کشمیر کے پہاڑوں کے باسی بھی ایسی کسی کارروائی کے وقوع سے انکاری ہیں۔ بس ایک ہندوستانی حکومت ہے اور دوسرا وہاں کا ڈرامے باز میڈیا جو مصر ہے کہ سرجیکل سڑائیک ہوا ہے۔ ایک میڈیائی نابغے سے جب سوال کیا گیا کہ سرجیکل سڑائیک کے پاکستان پر اثرات کیوں نہیں سامنے آئے تو وہ بولا!

’’دیکھئے جی یہ سرجیکل آپریشن ہوا ہے۔سرجری سے پہلے مریض کو بے ہوش کیا جاتا ہے لہٰذا اسے پتا ہی نہیں چلتا اور بعد میں بھی کافی وقت گذرنے پر ہوش آتا ہے اور احساس بحال ہوتا ہے، پاکستان ابھی سرجری کے بعد والی کیفیت میں ہے اس لئے اسے احساس نہیں ہو رہا ‘‘…

( اچھی طرح ہنس لیجئے)

اس تناظر میں مودی کا بیان کہ ہندوستان نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا خود سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کی تکذیب ہے لیکن یہ بات آپ کم از کم کسی ہندو کو تو نہیں سمجھا سکتے کیونکہ اسے سمجھنے کے لئے عقل کی ضرورت ہے…ہندوستان نے سرجیکل سٹرائیک کیا ہے یا نہیں البتہ مجاہدین نے ضرور کر دیا ہے۔

اوڑی کے بعد گونجا ہے بارہمولہ اور وہاں راشٹریہ رائفلز کے ایک کیمپ پر پیر کی صبح فدائی حملہ ہوا۔ مجاہدین کتنے تھے یہ معاملہ اس بار بھی مبہم رہا ا ور ہندوستانی فوج کے متضاد دعوے سامنے آتے رہے۔ چند گھنٹوں کی فائٹ کے بعد اعلان کیا گیا کہ دو مجاہد تھے اور شہید کر دئیے گئے لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد میڈیا پر یہ خبر آنے لگی کہ حملہ کرنے والے مجاہدین کیمپ میں گھس کر مارنے کے بعد بحفاظت نکل جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اللہ اکبر ، اللہ اکبر

یہ حال ہے دنیا کی منی سُپر پاور کا جو پٹھان کوٹ حملے کے بعد سے اب تک ہر کارروائی کے موقع پر دیکھا جا رہا ہے کہ بھارتی ادارے مجاہدین کی درست تعداد کا بھی تعین نہیں کر پاتے اور اس سلسلے میں ان کے متضاد بیانات تھوڑی تھوڑی دیر میں ان کے پیشہ ورانہ مہارت کے ثبوت کے طور پر سامنے آتے رہتے ہیں۔

جبکہ ان کے مقابل مجاہدین کی مہارت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے مقرر کردہ ہدف تک تمام سیکیورٹی رکاوٹوں کو روند کر نہ صرف پہنچ جاتے ہیں بلکہ اپنا کام بھی ہر جگہ مکمل کرتے ہیں۔ اب یہ حالیہ اعتراف کہ مجاہدین کیمپ میں گھسنے اور مارنے کے بعد بحفاظت نکل گئے انڈین اداروں کی جنگی صلاحیتوں اور دعووں پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔یہ بے شک جہاد اور مجاہدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا بیّن ثبوت ہے۔

 مجاہدین کشمیری عوام کے شانہ بشانہ اس تحریک میں اپنا بھرپور حصہ شامل کر رہے ہیں اور کشمیری عوام کے ساتھ اپنا عہد بھی نِباہ رہے ہیں کہ سڑکوں پر گرنے والی ہر لاش کے بدلے کیمپوں میں لاشوں کے انبار لگائے جائیں گے۔ ہندوستان نہ پہلے مجاہدین کو روک پایا اور نہ ان شاء اللہ آگے روک پائے گا۔مشرکین کے خلاف جہاد بدر سے بارہمولہ تک اسی شان سے جاری ہے اور جاری رہے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor