Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اتمام حجت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 564 (Talha-us-Saif) - Itmaam e Hujjat

اتمام حجت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 564)

استقامت کسے کہتے ہیں؟…

کشمیری قوم جو کچھ کر رہی ہے اسے…

اور ڈھٹائی، بے شرمی ، بے حیائی کسے کہتے ہیں؟…

جو ہماری حکومت کر رہی ہے اسے…

کشمیر میں جاری تحریک کو سو دن مکمل ہو گئے مگر کشمیریوں کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی اور نہ ان کا عزم کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے…

کرفیو دائم ہے… پیلٹ گنوں کی تباہ کاریاں جاری ہیں…لاشیں گر رہی ہیں…

زخمیوں کی بہتات ہے، تعلیمی ادارے بند ہیں، مساجد پر تالے ہیں، اذان و نماز پر پابندی ہے، مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ اداء نہیں ہو رہی۔ اشیائے ضرورت کی شدید قلت ہے۔ میڈیا میں خبروں کا بلیک آؤٹ نافذ ہے…لیکن کشمیری مسلمان اپنی جگہ جم کر کھڑے ہیں اور اپنے مطالبے سے ایک انچ بھی دستبردار نہیں ہو رہے۔

بھارت اپنا ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ چکا، ظلم و ستم کا ہر قرینہ بھی اور ہر سفارتی پھندا بھی۔ مگر وہ اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل کشمیر کے حال پر رحم فرمائے اور انہیں ایمانی آزادی نصیب فرمائے۔ اس بار ان کی تحریک مایوسی کا شکار نہ ہو، اپنے ایمانی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ادھر پاکستان کی ناعاقبت اندیش حکومت مسلسل ایسے اقدامات میں مشغول ہے جن کے لئے بے حمیتی، ڈھٹائی ، بے حیائی ، بے شرمی ، ہٹ دھرمی جیسے الفاظ ناکافی ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے بات محض زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھنی تھی نہ بڑھی۔ جبکہ بھارت کا دباؤ لے کر ظالمانہ اور احمقانہ اقدامات کا عمل مسلسل جاری ہے۔شاید دنیا بھر میں وفود بھیجنے کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا نہیں تھا بلکہ اپنے آقاؤں کے پیغام لا کر پوری قوم کا یہ ذہن بنانا تھا کہ پاکستان کے لئے بنیاد پرستی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔وفود نے واپس آ کر قوم کو یہ خبر تو نہ سنائی کہ قومی خزانے کے کروڑوں روپے برباد کر کے کئے جانے والے ان دوروں سے کشمیر کاز کو کس قدر فائدہ پہنچایا گیا صرف یہی رونا سامنے آتا رہا کہ دنیا مجاہدین کی موجودگی کی وجہ سے ہماری بات سننے پر آمادہ نہیں اس لئے بس باقی سارے کام چھوڑ کر حکومت کو یہ کام کرنا چاہیے۔ کاش عقل کے اندھے یہ نمائندے اتنا ہی دیکھ لیتے کہ ان کے ان طوفانی دوروں کو ہندوستان نے اس قدر اہمیت بھی نہیں دی کہ امن کے بارے میں ایک چھوٹی سی خبر انڈین میڈیا پر جگہ بنا پاتی یا کسی ٹاک شو میں چند منٹ تجزیے کا موضوع بن سکتی جبکہ مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے ہر ہفتے کشمیر کے حوالے سے لکھے جانے والے چند الفاظ کئی دنوں تک انڈین میڈیا پر بلاناغہ گونجتے رہتے ہیں اور پوری دنیا تک کشمیر کا مقدمہ پہنچاتے ہیں۔

وزیر اعظم کے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ اور عالمی فورمز پر کہے ہوئے الفاظ کو میڈیا پر چند لمحوں کی پذیرائی نہیں ملتی اور نہ کوئی سنجیدہ نوٹس لیا جاتا ہے جبکہ کشمیر کے طول و عرض میں چلنے والی ایک گولی گھنٹوں تسلسل کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتی ہے، لیکن جب آنکھوں پر بزدلی ، حرص اور دنیا پرستی کی پٹیاں چڑھی ہوں تو یہ سب کیسے نظر آئے۔

ادھر تو صورتحال یہ ہے کہ وہ کام کر لیا گیا ہے جو آج تک شاید دنیا میں کہیں نہ کیا گیا ہو۔

پاکستان میں ہزاروں جیتے جاگتے افراد کے شناختی کارڈ منسوخ کر دئیے گئے ہیں۔

ان میں اکثر وہ لوگ ہیں جنہیں آج تک پاکستان کی عدالتیں کسی جرم میں سزا نہیں سنا سکیں۔

جو کسی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث نہیں ہوئے۔

جن پر ملک کے کسی تھانے میں کوئی مقدمہ درج نہیں۔

انہیں ملکی شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے۔

کیا یہ سزا دنیا کے کسی اور ملک میں بھی دی جاتی ہے؟

کیا آئین پاکستان میں کسی سخت سے سخت جرم پر بھی یہ سزا لکھی گئی ہے؟…

اور پھر اس سزا سے مقصد کیا ہے؟

یہ لوگ آزاد ہیں، جیلوں سے باہر گھوم پھر رہے ہیں، نہ خریدو فروخت کر سکتے ہیں نہ اپنے اکاؤنٹ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ نہ حج و عمرہ کا سفر کر سکتے ہیں۔ ان کی تمام املاک کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان کی جانیں خطروں کے حوالے کر دی گئیں ہیں۔ ان کے اہل و عیال کی شہریتیں بالواسطہ منسوخ ہو گئی ہیں۔

کیا اس احمقانہ طرز عمل کا کوئی عقلی، انسانی، قانونی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟

کیا اس بدنیتی کے مقاصد واضح کئے جا سکتے ہیں؟

اس اقدام کی سوائے اس کے کوئی وجہ نہیں کہ حکمران اندھے اور عقل سے عاری ہو چکے ہیں۔

 یہ ملک میں خانہ جنگی بھڑکانا چاہتے ہیں۔

یہ ان لوگوں کو بھی ملک کے خلاف نکل آنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے بہت سی بدنامیاں اور جفائیں سہہ کر اس ملک کی سا  لمیت کا تحفظ کیا ہے۔

یہ عاقبت نا اندیش لوگ ملک کو ایسی دلدل میں دھکیل دینا چاہتے ہیں جس سے یہ کبھی باہر نہ آ سکے۔

یہ اس ملک کو انڈیا کی کالونی بنانا چاہتے ہیں۔

اپنے کاروباری مفادات کے لئے مودی کے قدموں میں گرے ہوئے یہ دین دشمن حکمران…

یاد رکھیں! یہ ملک نہ ان کا ہے نہ مودی کا۔ یہ ان محب وطن دیندار مسلمانوں کا ہے جن پر آج عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔

ان حکمرانوں کی اپنی اولادیں اور اثاثے پاکستان سے باہر ہیں۔

انہیں غذاء بھی باہر کی راس آتی ہے اور دوا بھی…

اور جو کچھ اس ملک کے اثاثے باقی تھے وہ بھی انہوں نے قرض کے بدلے گروی رکھ دئیے ہیں۔ عجیب بات ہے۔اس  ملک سے محبت کرنے والے شہری بھی اس ملک کے نہیں رہے۔ اس ملک کو نفع دینے والے ادارے بھی اب ہمارے نہیں بلکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ہو چکے ہیں۔

اس ملک کی اہم عمارتیں بھی کفار کے ہاتھوں گروی رکھ دی گئی ہیں۔

پھر اس ملک کا کیا ہے؟

یہ بدنیت بد طینت حکمران؟…

الطاف حسین جیسے لیڈر؟…

علیحدگی پسند قوم پرست؟…

چور ڈاکو لٹیرے سیاستدان؟…

انسانیت کے قاتل لیڈران؟…

کرپشن کے خمیر سے بنے بیوروکریٹ؟…

ملت فروش بے حمیت ، بے ضمیر صحافی؟…

جو حرکتیں ان حکمرانوں نے اب شروع کر رکھی ہیں۔ یہ ہر ظالم و جابر کا اپنے خلاف اتمام حجت ہوا کرتی ہیں۔ حکمران شاید وہی کر رہے ہیں ۔ یہ اپنے اوپر حجت تام کر رہے ہیں تاکہ قانون فطرت اور دست قدرت حرکت میں آئے اور وہ منطقی انجام ظہور میں آئے جو ایسے لوگوں کا ہمیشہ ہوا کرتا ہے۔

بس یہ انتظار کریں ہم بھی انتظار میں ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor