Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

آہ استاذ جی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 565 (Talha-us-Saif) - Ah Ustaz Jee

آہ استاذ جی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 565)

انا للہ وانا الیہ راجعون

اِنتہائی مشفق اور محبوب اُستاذ حضرت حاجی احمد صاحب بھی اس دارفانی سے کوچ فرما گئے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

مدرسہ حبیبیہ انوریہ تیسری بار یتیم ہو گیا اور کاروانِ علم کے ایک ذی قدر رُکن نے دنیا سے پردہ کر لیا۔

شیخ الشیوخ حضرت مولانا حبیب اللہ گمانوی اور استاذ العلماء حضرت مولانا منظور احمد نعمانی نور اللہ مرقدہما کے جانشین نے بھی رخصتِ سفر باندھ لیا۔

استاذ حضرت حاجی صاحب قدس سرہ ’’ مَنْ طَالَ عُمَرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہ‘‘ کی عملی تصویر اور محاسن اکابر کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ انتہائی سادہ لباس ، پست آواز ، منحنی سا وجود اور کم آمیز طبیعت کے حامل استاذ محترم کو بادی النظر میں دیکھنے والا زیادہ سے زیادہ ایک کمزور سے کسان سے زیادہ کچھ باور نہ کر سکتا تھا لیکن جب وہ مسند علم پر جلوہ افروز ہوتے تو ان کا علم اس شان سے بولتا کہ بڑے بڑے بُرج ان کے سامنے چھوٹے نظر آتے۔

مدرسیہ حبیبیہ انوریہ میں کیا عالم ہوتا تھا جب ایک کمرے میں حضرت الاستاذ نعمانی قدس سرہ اور دوسرے میں حضرت حاجی صاحب قدس سرہ کے دروس جاری ہوتے…اللہ اکبر

دونوں بزرگ سادگی میں بھی اپنی مثال آپ تھے اور علم میں بھی۔ آپس میں استاذ و شاگرد کی نسبت بھی تھی اور عاشق و معشوق کی بھی۔ سادگی کا رنگ بالکل ایک، لیکن طبیعت کا رنگ کافی مختلف تھا۔ حضرت نعمانیؒ کی درسگاہ جلال اور وقار کا نمونہ تھی… وہاں ان کی آواز کے سوا پتہ بھی نہیں ہل رہا ہوتا تھا اور طلبہ بھی ’’کَاَنَّ عَلٰی رُؤُسِھِم الطُّیُورْ‘‘ کا مصداق بنے با ادب اور خاموش ہمہ تن گوش ہوتے، حضرت کی تقریر کا انداز بھی ایسا ہوتا کہ جو تھوڑی دیر کے لئے غافل ہوتا یا اِدھر اُدھر توجہ کرتا وہ سبق میں بہت پیچھے رہ جاتا اور بات اس کی گرفت سے نکل جاتی، حضرت کی نشست بھی ایسی ہوا کرتی کہ بس ایک کتاب سے دوسری کتاب کا سبق منتقل ہونے میں کچھ ہلچل ہوتی۔ حضرت خود بھی پہلو اس وقت بدل لیتے اور پھر فورا ًاگلاسبق شروع ہو جاتا۔

یوں کئی گھنٹے مسلسل یہ باوقار مجلس جاری رہتی، حضرت حاجی صاحب صبح سکول میں پڑھاتے تھے اور یہ پیشہ بھی انہوں نے اپنے دونوں بزرگ اساتذہ کے اتباع میں اختیار کر رکھا تھا۔ ان کی مدرسہ میں آمد تقریبا اس وقت ہوتی جب حضرت نعمانی ؒ اپنے اسباق سمیٹ رہے ہوتے تھے۔ اس کے بعد ان کا کچا کمرہ آباد ہو جاتا۔ درسگاہ کیا تھی؟ جگہ جگہ سے ادھڑی ہوئی چٹائی، دو چار ٹوٹی پھوٹی تپائیاں، ایک بہت ہی پرانا پنکھا اور کتابوں کی ایک الماری۔ حضرت حاجی صاحب اپنے مزاج کے مطابق مسکراتے ہوئے تشریف لاتے، بیٹھنے سے پہلے کوئی ایسا چٹکلا ہوتا کہ درسگاہ کشت زعفران بن جاتی۔ پھر اسباق شروع ہوتے اور وہ بھی اسی شان سے۔ لمحہ بہ لمحہ پہلو بدلتے۔ لنگی کے پلو سے بار بار پسینہ پونچھتے ، چشمہ کبھی اوپر کبھی نیچے اور ہر چند منٹ بعد کوئی قہقہہ بار چٹکلا۔

پھر اچانک اپنے حضرت الاستاذ گمانوی قدس سرہ یا اکابر میں سے کسی کا تذکرہ آتا اور ان کی آواز رندھ جاتی ، آنکھیں رواں ہو جاتیں اور وہ ایک دم صرف محفل کا ہی نہیں دلوں کا رنگ بھی بدل دیتے۔ اللہ اللہ اور ان سب پر مستزاد ان کا باکمال طرزِ تفہیم۔ حضرت الاستاذ نعمانی صاحب قدس سرہ جامعہ میں عقیدتوں کا محور تھے تو حضرت حاجی صاحب محبت کا۔ یہ حضرات اپنی طرز میں منفرد بھی تھے اور شاید آخری بھی… ان کے بعد علم کی مسندیں تو آباد ہیں اور قیامت تک آباد رہیں گی ان شاء اللہ لیکن وہ اکابر کا ایک مخصوص رنگ جو غالباً اصل ’’قاسمی‘‘ رنگ ہے ان حضرات کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوا۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی قدس سرہ کی سوانح میں پڑھا کہ ظاہری حلیے اور چال ڈھال سے ہرگز اندازہ نہ ہوتا تھا کہ اس پائے کے عالم دین ہیں۔ کئی لوگ ملاقات کے لئے آئے اور باوجود دیکھ لینے کے اندازہ نہ کر پائے کہ جن سے ملنے لمبا سفر طے کر آئے وہ یہی ہستی ہیں تاوقتیکہ تعارف نہ کرایا جاتا۔ یہ بات ہم کبھی بھی نہ سمجھ پاتے اگر اللہ تعالیٰ نے ان بزرگوں کی زیارت اور ان سے استفادہ کی توفیق نہ نصیب فرمائی ہوتی۔ خصوصاً یہ دونوں استاذ شاگرد تو اس طرح اس رنگ میں رنگے ہوئے تھے کہ ان کی سادگی اور علم میں فیصلہ کرنا مشکل کام تھا کہ کون دوسرے پر حاوی ہے۔

حضرت حاجی صاحب کی انہی اداؤں کا اثر تھا کہ دل میں ان سے بے انتہا محبت پیدا ہو گئی جس کا ان سے اظہار بھی کیا، انہوں نے ہمیشہ شفقتوں کی بارش فرمائی ۔دوران تعلیم بھی ان کی خاص توجہ اور محبت حاصل رہی اور بعد میں بھی جب ملاقات ہوئی انتہائی محبت و شفقت کا معاملہ فرمایا لیکن ’’فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد ‘‘ کی دوسری جلد کی رونمائی کے موقع پر بہاولپور میں جو فقید المثال مجلس شکر ہوئی، اس کے موقع پر انہوں نے جس طرح محبت کا معاملہ فرمایا وہ ہم سب کے لئے ناقابل فراموش ہے۔ بندہ اس مجلس میں تشریف آوری کی دعوت دینے کے لئے ان کے گھر حاضر ہوا ۔ کتاب پیش کی تو کتنی دیر اسے اپنے سر پر رکھ کر بیٹھے رہے پھر فرمایا:

مولنا محمد مسعود ازہر صاحب سے محبت کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن میرے لئے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں نے اپنے استاذ محترم حضرت نعمانیؒ کو ان سے اپنی اولاد سے بڑھ کر محبت کرتے دیکھا ہے اور میں تو بس اپنے استاذ کا مقلد ہوں۔ بندہ نے جلسے کی دعوت دی تو فرمایا کہ آپ سب لوگوں کو میرا یہ معمول معلوم ہی ہو گا کہ میں جلسوں میں بالکل نہیں جاتا خصوصاً رات کے جلسے میں تو کبھی بھی جانا نہیں ہوتا، اس وجہ سے کئی اہل تعلق علماء ناراض بھی ہیں اور یہ جلسہ بھی رات کو ہے اس لئے نہیں آ سکوں گا۔ بندہ نے عرض کیا جیسے آپ کو سہولت ہو لیکن اگر ہمیں اجازت مرحمت فرمائیں کہ ہم صرف بغرض برکت آپ کو جلسہ گاہ تک لے جائیں اور عشاء کی نماز تک گاؤں واپس پہنچا دیں تو ہمارے لئے بہت خوشی اور سعادت کی بات ہو گی۔ فرمایا کہ 70 میل کا سفر ہے ایسا کس طرح ممکن ہو گا؟ … میں نے عرض کی وہ ہماری ذمہ داری ہے اگر آپ خوشی سے حامی بھر لیں۔ اپنے خاص انداز میں فرمایا: فقیر اتنی ضد کیوں کرتا ہے؟ …میں نے عرض کی استاذ جی اصل میں حضرت امیر محترم کے استاذ نعمانی رحمۃ اللہ علیہ سے علم تفسیر میں تلمذ کی نسبت ہے اور یہ تفسیر کا کام ہے۔ استاذ جی ہوتے تو اس موقع پر کتاب کا افتتاح ان کے ہاتھوں ہوتا۔ اب ان کی جگہ آپ ہیں تو بس اتنی شفقت فرما دیں کہ تشریف لے آئیں اور ہم آپ کا عشاء کے فوراً بعد سونے اور لازما ًاپنے گھر میں سونے کا معمول بھی قضاء نہ ہونے دیں گے۔ استاذ جی آبدیدہ ہو گئے اور وعدہ فرما لیا۔

جلسے کے دن عصر کے بعد ان کی بہاولپور تشریف آوری ہوئی۔ حضرت ابا جی قدس سرہ کے ساتھ خوب گھل مل گئے۔ مزے کی گفتگو کوئی ۔ نماز مغرب کے لئے ہم انہیں عید گاہ لے آئے۔ نماز پنڈال میں ادا کی۔ جلسہ کی کارروائی کا آغاز ہوا تو میں نے آکر عرض کیا : استاذ جی ! آپ تشریف لے چلئے ان شاء اللہ عشاء تک گاڑی آپ کو گھر پہنچا دے گی۔

انہوں نے فرمایا: نہیں اب نہیں جاؤں گا۔ بس جب تک ہمت ہے یہیں بیٹھوں گا، تم مرکز میں آرام کا بندوبست کر دو وہاں جا کر سو جاؤں گا۔ گھر صبح بھجوا دینا۔

اور پھر وہ جلسہ صبح اذان فجر تک جاری رہا اور حضرت پورا وقت جلسہ گاہ میں بیٹھے رہے۔ بندہ بار بار حاضر ہو کر آرام کے لئے عرض کرتا تو وہ کبھی دعاء دیتے اور کبھی کسی چٹکلے سے نواز دیتے۔ جلسے کے اختتام پر انہوں نے قیمتی تاثرات سے نوازا۔ حضرت امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ کا جس وقت ریکارڈ شدہ بیان چلایا گیا تو مجمع پر عجیب سکوت کا عالم طاری رہا۔ بیان کے دوران استاذ جی مسلسل روتے رہے۔ بعد میں فرمایا کہ کارکنوں کی امیر محترم سے یہ والہانہ محبت صحابہ کرام کی رسول اکرم ﷺ سے محبت کا فیضِ جاری ہے اور امیر کی عدم موجودگی میں بیان میں اس قدر نظم و ضبط اور مجلس پر سکینہ کی کیفیت کی بہت تعریف فرمائی۔ میں دیکھ رہا تھا کہ استاذ جی پر ضعف کی حالت میں اتنی دیر مجلس میں بیٹھنا اور وہ بھی معمول سے بالکل ہٹ کر کس قدر تکلیف دِہ ہے، لیکن ان پر شائد حضرت نعمانیؒ کا حوالہ اتنی شدت سے اثر کر گیا کہ انہوں نے حضرت کی نیابت کا حق ادا فرما دیا۔ جزاہ اللہ خیرا فی الدارین

وہ حضرت نعمانیؒ کے عاشق زار تھے۔ ہمارے تعلیمی سال کئی بار مزاحاً فرماتے کہ مجھے مدرسے سے نہ تنخواہ کی حاجت ہے اور نہ مجھے تم جیسے نکموں کو پڑھانے کا شوق ہے بس یہ بابا مجھے گھر بیٹھنے نہیںدیتا۔ روزانہ اتنا لمبا سفر کرکے پڑھانے آنا پڑتا ہے۔ یوں وہ استاذ سے وفاء کا عہد نبھاتے تھے۔ پھر استاذ چل بسے اور حالات نے بھی جفاء کی مگر انہیں اسی عہد وفاء نے شدید بڑھاپے اور ضعف میں استاذ کے گلشن سے جوڑے رکھا اور انہوں نے تادم آخر اس کی آبیاری کا فرض نبھایا اور بالآخر استاذوں کی امانت کا حق ادا کرتے دنیا سے تشریف لے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے،ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں ان کی خدمات کا شایانِ شان اجر عطا فرمائے۔

بے شک وہ اس دور میں اپنی طرز کے آخری آدمی اور اپنے اساتذہ کی میراث کے آخری امین تھے۔

اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہْ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor