Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خاص لوگ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 566 (Talha-us-Saif) - Khaas Log

خاص لوگ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 566)

یہ جماعت کے شہداء ہیں…

یہ جماعت کی آن بان شان ہیں…

جماعت کا قابل فخر سرمایہ ہیں…

بلکہ سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ جماعت کے محافظ ہیں…

یہ جب تک زندہ ہیں جماعت کی خدمت میں ہیں…

اور جب دنیا سے رُخصت ہو رہے ہیں ان کی آخری اور سب سے اہم فکر جماعت ہے…

یہ گمنام ہیں، خاموش ہیں …کہیں جھاڑو لگا رہے ہیں اور کہیں برتن دھو رہے ہیں ، کہیں مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں اور کہیں کھانا کھلا رہے ہیں ، کہیں اپنی خاص موجودگی کا احساس نہیں دِلا دہے۔ پھر ان کے نمبر آ جاتے ہیں اور وہ ’’خاص‘‘ بن جاتے ہیں، اس وقت ان کی باتیں ، ان کے خیالات اور ان کے خطوط، ان کے خاص ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ تو بڑی اونچی سوچ اور فکر والے لوگ ہیں…

یہ تو اُمت کے درد میں تڑپنے والے حقیقی غمخوار ہیں… ان کی فکر تو وہ تمام حدیں پھلانگ چکی ہے اہل دانش جن کے ورے بھٹک رہے ہیں۔

شکر اللہ تعالیٰ کا، لاکھ لاکھ شکر کہ ہمیں ایسے لوگوں کی صحبت اور ان کا قرب نصیب ہے۔ ہم ان میں کچھ وقت رہتے ہیں، ان کی مجالس سے فیض یاب ہوتے ہیں اور ان کی صحبت کا حظ اُٹھاتے ہیں۔

ان کا ساتھ ایمان افزاء اور ان کے بعد ان کی یادیں مشعل راہ بنتی ہیں۔ یہ سب کچھ مجھے آج اس لئے پھر یاد آ رہا ہے کہ میں نے کل ایک خط پڑھا ہے۔

کیسا عجیب خط … سبحان اللہ

یہ اُس مجاہد کا خط ہے جس کے دو چھوٹے بھائی اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت پا چکے۔ وہ خود ایک طویل مدت خادم کی حیثیت سے جماعت کے مختلف مراکز میں رہا اور بحیثیت خادم اپنی شناخت بنائی۔ وہ ہر جگہ اسی تعارف سے جانا گیا کہ وہ بہت اچھا خادم ہے۔ کھانا بنانا، مریضوں، زخمیوں کی عیادت کرنا، کپڑے دھونا اور ایسے کئی کام اور پھر تشکیل کی محدود مدت نہیں بلکہ قریباً عشرے پر محیط رضاکارانہ دورانیہ۔ پھر وہ اپنے دو چھوٹے اور ایک بڑے بھائی کو بھی اپنے ساتھ اسی راستے پر لے آیا۔ دونوں چھوٹے دو مختلف محاذوں پر دادِ شجاعت دیتے ہوئے راہی منزل ہوئے اور پھر اس نے اپنے لئے اسی خواہش کا اظہار کیا اور جلد ہی منزل کو پا لیا۔ چوتھا بھائی منتظر بیٹھا ہے اور اس کے عزائم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بظاہر انتہائی سادہ نظر آنے والے اس خادم نے جو اپنا آخری خط حضرت امیر محترم کے نام تحریر کیا وہ اس کے مقام و منزلت کا حقیقی آئینہ دار ہے۔

ایک مسلمان کا نظریہ جہاد کیسا ہونا چاہیے؟

اللہ تعالیٰ کو قربانیاں کس شان سے پیش کرنی چاہیں؟

والدین اور بھائیوں کو جہاد پر لانے اور قربانیوں والے راستے پر کس طرح چلایا؟

اپنے امیر محترم کے ساتھ کیسی محبت ، کیسی اطاعت ، کیسی وفاداری ، ان کی کیسی قدر و منزلت ایک مجاہد کے دل میں ہونی چاہیے؟

جماعت کے ساتھ خیر خواہی، وفاداری اور اس نعمت کی حفاظت و ترقی کی کیسی فکر؟…

جماعت کی قدر…

اپنے ساتھیوں کی ایمانی تربیت و اصلاح کی فکر…

اُمت مسلمہ کا درد اور تڑپ… امت پر گزرنے والے حالات کا مکمل اِدراک و اِحساس اور اسے درپیش مسائل کا حقیقی حل…

یہ سب باتیں ایک مختصر سے خط سے اس طرح واضح ہو رہیں کہ ایک پوری فاضلانہ تصنیف بھی اتنی خوبصورتی سے اجاگر نہیں کر سکتی۔ لیکن اہل اخلاص کی باتوں کی یہی شان ہوتی ہے۔ آئیے اس خط کے کچھ منتخب حصے آپ بھی پڑھیے اور ان سے روشنی لیجئے!!

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت اقدس عزیزازجان پیارے امیرمحترم حفظہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو دنیا وآخرت کی کامیابیاں،خوشیاں اورسرفرازیاں عطاء فرمائے اور ہر طرح کے مصائب ،آفات اور شروروفتن سے آپ کی حفاظت فرمائے اورغم اور خوف سے آپ کودوررکھے۔ آمین ثم آمین

حضرت جی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوااور آپ حضر ت کی خصوصی شفقت بھی ہوئی الحمدللہ بندہ منزل مقصودپر پہنچا۔۔الحمدللہ تعالیٰ حضرت امیرصاحب آپ حضرت کے بندہ پربہت احسانات ہیں۔اللہ آپ کو ان سب احسانات کااپنی شایان شان اجرعظیم عطاء فرمائے (آمین) بندہ آپ کے لئے ہر وقت دعاء گورہاالحمدللہ۔ دنیامیں کسی سے محبت کی کوئی حد ہوتی توبندہ آپ کی محبت میں وہ حدتوڑ ہوچکاہوتا۔آپ حضرت سے بندہ کودلی محبت کی انتہاء ہوگئی اللہ جانتاہے۔۔دنیامیں حسرت رہی،تمنارہی کہ آپ کی خدمت کرسکوں مگریہ تمناہی رہی۔۔کاش ایسا ہوسکتا!دعاء ہے اللہ پاک جنت میں آپ کا قرب نصیب فرمائے آمین۔۔شکرہے مالک کاکہ اس نے احسان فرمایاآپ حضرت کی ہم دیوانوں کوزیارت کرادی اور پہلے اجلاس میں مجھ ناچیز کوجگہ مل گئی اور برسوں کی تمناپوری ہوئی الحمدللہ۔۔وہ محفل میں کبھی نہیں بھول سکتااس محفل کے روح رواں توہر وقت محبت نچھاور کرتے رہتے ہیں مگر اس دن تو اللہ اکبر…وہ محفل یادکرتاہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں کتنے شہداء  اس دن دھاڑیں مارکر رو رہے تھے عجیب سماں تھا…اس کے بعد ہراجلاس پرامید کے چراغ روشن کی حضرت تشریف لائیں گے مگر تقدیرکے فیصلے جیت جایاکرتے ہیں حسرتیں ٹوٹ جایاکرتی ہیں اور شاید یہی دنیاکی حقیقت ہے…الحمدللہ جماعت اور امیرجماعت کے موقف پردل وجان سے فدا ہوں اللہ پاک اس حسین شہداء کے گلشن کوآبادرکھے اور ہر حاسدکے شر سے اس شہداء کی پیاری جماعت اورشہداء کے دلوں کی دھڑکن حضرت امیرصاحب کی حفاظت فرمائے (آمین)…اللہ پاک جلدشہداء کے خون کا انقلاب دکھائے اوربڑی فتوحات امت مسلمہ کونصیب فرمائے (آمین) ہم سے جوہوسکااللہ کے فضل وکرم سے وہ کردیااورہمارے حیاتی بھائی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اور ان شاء اللہ تعالیٰ کافروں اور منافقوں کے ناپاک وجود کے پرخچے اسی طرح اڑاتے رہیں گے۔ ہم پر بحیثیت مسلمان بہت بھاری قرض ہیں۔کافروں نے حد کردی ،بہت ظلم کرلئے، بہت زیادتیاں کرلیں ہم نے بدلہ توضرورلیناہے کیونکہ ہم غیرت مند نبی ﷺ کے امتی ہیں اپناحصہ ضرورشامل کرتے رہیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔اے کاش اس امت کے نوجوانوں کوخواب غفلت سے بیداری نصیب ہواور وہ خود کوفیس بک کے منحوس حصار سے باہرنکال لیں اورانٹرنیٹ کے تباہ کن حملے سے خودکوبچالیں توان کوامت مسلمہ پرہونے والے مظالم کادرد نصیب ہو۔اوران کو محسوس ہو کہ کشمیری بہن کی عزت صرف اس کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ میرا مسئلہ ہے۔اسی طرح پوری دنیاکے مسلمان ممالک کی ماں بہن اور بیٹی پرہونے والے مظالم صرف ان کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارابھی ہے۔ جتنی توجہ آج کے نوجون انڈیااور پاکستان کے کرکٹ میچ کودیتے ہیں کاش اتنی توجہ فریضہ جہاد پردیتے توآج دنیاکانقشہ بدل چکاہوتا۔۔اللہ کرے ہمارے جسم کے ہزاروں ٹکڑے ہوں اور ہم اپنے مسلمان نوجوان بھائیوں کوپیغام دیں کہ ہم سے اور کچھ نہ ہوسکاتوہم اللہ کے کلمے کی سربلندی کیلئے ٹکڑوںمیں تقسیم توہوسکتے ہیں۔ کیا معلوم ہمارے ہر ٹکڑے کے بدلے کسی مسلمان کومسئلہ جہادسمجھ آجائے اور وہ بھی کافروں پر بجلی بن کر گرے …اللہ کے حکموں کوماننے میں ہی خیر ہے بس جوحکم جس وقت سب سے اہم ہواس پر دل وجان سے فداہوجاناچاہیے اوراس وقت کاسب سے اہم حکم جہاد فی سبیل اللہ ہے اللہ پاک پوری امت کوجہاد پر کھڑا فرما دے اور اللہ کرے اس دور کے علماء کوبھی اللہ جہاد پرکھڑافرمادے اور یہ جہاد کے داعی بن کر نکلیں گے اور ایک وقت آئے گاجہاد کا مسئلہ مائیں بچوں کو بطور گھٹی  و گھڑتی کے دیں گی اور وہ ہوش سنبھالتے ہی جہاد کی حقیقت جان چکا ہوگا…الحمدللہ میرے امیر سے اللہ پاک نے جہاد کی وہ خدمت لی کہ جس کی مثال نہیں ملتی اللھم زدفزد…اللہ راضی ہو جائے۔ہم پرحضرت آپ کے بہت احسان ہیں۔چشمہ جیش محمدﷺسے میرے بھائیوں نے پانی پیا اور امر ہوگئے اب مجھ پر بھی مالک کااحسان ہوا۔ایک چوتھا بھائی بھی منتظر ہے … اللہ اس کی بھی جلد مراد پوری کرے پانچواں بھائی تشکیل میں ہے اوراگروہ بھی قبول ہوجائے توپھرآپ ماں باپ کی مخلص دعائیں میری پیاری جماعت اور میرے امیرصاحب کے شانہ بشانہ رہیں۔ میری خواہش تویہ تھی کہ ہم سات بھائی تھے سب اس عظیم راہ پرباری باری قربان ہوجاتے حتیٰ کہ میں نے اباجی کوبابافضل شہیدکاقصہ سنارہاتھااورکہاابا بابافضل بالکل آپ کی طرح سفیدریش بزرگ تھا اور بڑے ٹھاٹھ سے شہادت پائی اس نے گویاکہ ہم نوجوانوں کوشرمندہ کرگیا… اباجی آپ بھی ہمت کرو میں امیرصاحب سے التجاء کروں گااور میراابابھی اپنے بیٹوں کے ساتھ حشر کے دن شہداء کی صف میں کھڑا ہو …اباجی مسکرائے کہ ٹھیک ہے بیٹاامیرصاحب کو کہو میں حاضرہوں جب حکم ہو۔۔میرے گھرانے سے یکے بعددیگرے شہید ہونے کی وجہ سے آس پاس کے جہادمخالف اور ہمارے خوش نصیبی سے جلنے والے لوگوںنے شور مچایاکہ ان کو پیسے ملتے ہیں اوریہ ظالم اپنے بھائیوں کوخودکش کرادیتے ہیں اور اس کے پیسے ملنے پر مکان وغیرہ بنواتے ہیں اور عیش کررہے ہیں استغفراللہ ربی۔۔۔جب چھوٹابھائی سعید شہیدہوا تو اتفاقاًان دنوں بھائی نے کمیٹی ڈال رکھی تھی وہ نکل آئی اوردوکنال زمین اباجی کی پڑی تھی وہ بیچ کرضرورت کے مکان بنائے اور لوگوں نے کہاکہ بھائیوں کوبیچ ڈالا اماں ابااور بھائی یہ لوگوں کی باتیںسن کرپریشان ہوئے مجھے بتایا۔میں نے کہااماں اللہ کیلئے قربانی دی ہے اوراللہ پرچھوڑ دوان لوگوں کو۔۔آپ خاموش رہیں …مگراماں کے دل پرجوگزری میں جانتاہوں جس نے اپنے تین بیٹے راہ خدامیں کٹوادئیے اور دو بیٹے مزید بھی وقف کردیئے اس کویہ باتیں تکلیف تودیتی ہیں ۔۔۔ ایک تو شعبہ دعوت والے ساتھی جب عبدالمعید اور سعید کی شہادت کی خبردینے آئے توساتھ علاقہ کے پرانے مجاہد کو ساتھ لائے اوران کے سامنے ابتدائی تعاون دیا بس پھر ان لوگوں نے بہت بدنام کیاکسی نے اس کو بیس لاکھ بنایا توکسی نے پچاس لاکھ بناکربتایا۔۔بس یہ ماجرہ ہوا۔۔اس لئے مجھے اماں نے تاکیدکی ہے کہ امیر صاحب کو کہہ دینااس بار تعاون نہ کریں اللہ آپ کو خوش رکھے آپ کے بہت احسان ہیں ہم پر۔

آپ نے میرے بچوں کودنیاکی غلاظتوں سے نکال کرجنت کاراہی بنایاکیااتنا تعاون کم ہے ؟یہ اتنابڑااحسان ہے کہ ہم ساری زندگی جماعت کی غلامی کریں گے بس اماں کا پیغام تھااس لئے لکھ دیاورنہ کبھی نہ لکھتا۔اورہوسکے ایک بار سب کوزادمجاہدکتاب مطالعہ کی تاکید کی جائے یہ عجیب پر تاثیر اور مفیدکتاب ہے جو جتنے درددل کے ساتھ لکھی گئی۔صرف اس زاد مجاہد کوایک بار صدق دل کے ساتھ عمل کی نیت سے پڑھاجائے توان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگامرکزشریف میں اس کی تعلیم دورہ تربیہ میں ہوتی ہے کیا ہی اچھاہوکہ محاسبہ شروع ہواور زادمجاہد کی تعلیم بھی ہو۔۔۔حضرت جی ایصال ثواب تواکثر ساتھی شہداء کوکرتے رہتے ہیں اور آپ حضرت بھی کرتے ہیں مگر ہوسکے توہم پرکچھ زیادہ شفقت فرمائیں خصوصا ہمارے لئے 30 منٹ استغفار آدھاپارہ تلاوت اور درودشریف20منٹ اگر جماعت کاہرساتھی ہدیہ بھیج دے توہماری ایڈوانس عیدی ہوجائے گی اور یہی سب سے قیمتی تحفہ ہوگااور اس طرح سے ہر ماہ میں سے کوئی ایک دن کچھ وقت شہداء کرام کیلئے ایصال ثواب کے لئے خاص کردیں جس طرح جمعرات والاعمل ہوتا ہے وغیرہ اس طرح کوئی ترتیب بن جائے تو شہداء پر جماعت کااحسان ہوگا۔۔حضرت جی مجھے اماں نے تاکیدا کہا تھا آپ خود بھی دعاء کرنااور اپنے دوستوں سے بھی کرانا اور حضرت امیرصاحب سے بھی کہناکہ ہمارے لئے دعاء فرمادیں اللہ پاک ہم دونوں میاں بیوی کوحج کی سعادت نصیب فرمادے بہت دل تڑپتاہے زندگی میں اللہ کے گھر کی حاضری نصیب ہوجائے میں تو دعاء کرتاہوں آپ حضرت بھی شفقت فرمادیں اللہ کرے وہ دن بھی آجائے کہ میرے والدین حج کرلیں اسباب تو نہیں ہیں مگر میرے اللہ تو اسباب سے بے نیاز ہیں جب چاہے جس کو چاہے اپنا گھر دکھا دے۔خط کافی لمبا ہوگیاحضرت معاف کرنا آخری خط تھااس لئے سوچاحضرت جی سے دل بھر کے باتیں کرلوں دل سے معذرت خواہ ہوں آپ کاکافی قیمتی ٹائم لے لیا۔۔اللہ تعالیٰ جانتاہے ہمارے پاس جماعت اللہ کی بڑی نعمت تھی اور ہم ناشکرے اس کی قدر نہ کرسکے ہمارے پاس حضرت امیر صاحب بڑی نعمت تھے ہم سے قدرنہ ہوسکی اللہ معاف فرمادے اے اللہ معاف کردے ہم گنہ گار ہیں حضرت آپ کی اطاعت میں بندہ سے ضرورکوتاہی ہوئی ہوگی اللہ کی رضاکے لئے بندہ معافی مانگتا ہے بندہ کو معاف کردیں جس طرح اطاعت کاحق تھا ہم سے نہ ہوسکی آپ کا دل دکھایااللہ کے لئے معاف کردیں حضرت امیر صاحب آپ کے توسط سے پوری جماعت کے ساتھیوں سے قول وفعل کی معافی کاطلب گار ہوں مجھے معاف کردیں میں نے سب کو معاف کردیااور جماعت کے ہم مشن ساتھیوں کویہی آخری پیغام دوں گا کہ جماعت کی اور حضرت امیر صاحب کی دل سے قدر کریں اور استغفار مہم کافائدہ جن ساتھیوں نے حاصل کیا وہ اس نعمت کولازم پکڑلیں اور استغفارکواپنی غذابنالیں ہاں رب کعبہ کی قسم گناہ گار صرف ہم ہیں باقی سب ٹھیک ہے۔۔بس سارے شکوے چھوڑدیں بس اپنے مالک کوراضی کرلیں آپ کامیاب ہوجائیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ حضرت امیر صاحب سے پھر آخری بار دعاء کی درخواست کہ اللہ پاک ہماری شہادت قبول فرمالے اللہ پاک جماعت کوتمام شرور سے اپنی پناہ میں رکھے۔۔یااللہ میرے امیر صاحب اور میری بلکہ تمام شہداء کی اس پیاری جماعت کااللہ حامی و ناصر ہو…

اللہ حافظ

والسلام

آپ کا بیٹا

شاہ جی

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor