Bismillah

602

۲۵شوال المکرم تا۱ذیقعدہ ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۱تا۲۷جولائی۲۰۱۷ء

فیصلہ کیجئے (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 567 (Talha-us-Saif) - Faisla Kijiye

 فیصلہ کیجئے

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 567)

اُف کتنی بُری زندگی ہے ان لوگوں کی جن کا پیشہ ہی مروّجہ سیاست ہے، خواہ کسی بھی شکل میں ہے۔ کتنا جھوٹ، کتنا دھوکہ، کتنا فریب اور کتنی قلابازیاں…

کل تک ایک شخص کتا ہے، چور ہے، ڈاکو ہے، لٹیرا ہے، کرپٹ ہے، قابل سزا ہے ، اس کی مخالفت کارِ ثواب ہے، وہ خود بھی ملک دشمن ہے اور اس کے حامی بھی، جو اس کے بارے میں کلمہ خیر کہتا یا لکھتا ہے وہ بکاؤ مال ہے، بھاڑے کا ٹٹو ہے، ایجنٹ ہے…

آج وہی شخص بھائی ہے، دوست ہے، ہمدرد ہے ، محب وطن ہے، ملک و ملت کا خیر خواہ ہے، ایماندار ہے، شفاف و اُجلا ہے وغیرہ وغیرہ…

کبھی ہڑتال عینِ عبادت، دھرنا کارِ لازم، احتجاج ملک کی اہم ترین ضرورت اور جلوس ملکی حالات کا تقاضا ہیں اور پھر یہی سب وطن کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ اور ملک دشمنی ہیں…

آپ کا ناپسندیدہ حکمران جس کام پر مطعون و ملعون ہے، پسندیدہ حکمران اُسی کام پر سزاوارِ مدح و ستائش، آپ کا قلم ایک وقت میں جس پالیسی کی مذمت میں شعلے برساتا ہے دوسرے وقت اسی پالیسی کے لئے حیلے اور جواز گھڑتا ہے…

آج آپ جس عمل پر مرثیے لکھتے ہیں کل آپ اُسی پر قصیدے نچھاور کرتے ہیں…

ایک وقت جن لوگوں کی کردار کُشی آپ کی ڈیوٹی ہے، اگلے وقت اُن لوگوں کی مدح سرائی کی ذمہ داری آپ کو نبھانا ہو گی اور پیشانی کا پسینہ بھی چھپانا ہو گا۔

آج آپ جن لوگوں سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتے، کل انہیں گلے لگانا ہو گا اور آج جن کی بغل میں دبے ہیں کل ان کے خلاف تقریریں کرنا ہوں گی۔

کیا ہمارے ملک کی سیاست میں اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟…

کتنی ذلت کی بات ہے کہ ایک انسان اپنے لئے ایسے کام کو زندگی کا وظیفہ بنائے جس کی وجہ سے نہ اس کی زبان کا اعتبار باقی رہے نہ معاہدے کا۔ نہ قول کی کوئی وقعت رہے اور نہ قرار کی کوئی قیمت۔ لوگ اپنی زبان نبھانے پر مرمٹا کرتے تھے اور اس عالی صفت کو ’’مروت ‘‘ کہا جاتا تھا۔ آج مروت کا مطلب ہی الٹ دیا گیا۔ اب وہی انسان سب سے زیادہ با مروت کہلاتا ہے جو سب سے زیادہ قلابازیاں لگاتا اور وفاداریاں بدلتا ہے…

کتنی زبانیں جو لوگوں کی زندگیوں کا رُخ بدل سکتی تھیں صرف وفاداریاں اور خیمے بدلوانے کے کام میں تھک رہی ہیں۔ ان پر حکمرانوں کی مدح ہے یا مذمت، ان پر جھوٹ ہے یا غیبت، ان پر دھوکہ ہے یا خیانت…

کتنے قلم جن کے لکھے ہوئے الفاظ نشتر کی طرح سینوں میں ترازو ہو جایا کرتے تھے۔ ان کی تحریر حواس کو یوں قابو کر لیا کرتی تھی کہ جب چاہیں رُلا دیں اور جب چاہیں مسکرانے پر مجبور کر دیں۔ وہ دلوں میں آگ لگا دیا کرتے تھے، ایمان کی شمعیں جلایا کرتے تھے، مظلوموں کا درد بانٹ کرتے تھے، ظالموں کے سینوں پر گھاؤ لگایا کرتے تھے، ایمان و عزیمت کا راستہ دکھایا کرتے تھے۔

مدینہ والوں کا مشکبو تذکرہ مہکایا کرتے تھے، رویا کرتے تھے، رُلایا کرتے تھے مگر وہ کیا ہوئے؟

آج وہ کیا کرتے ہیں؟

کسے نفع پہنچاتے ہیں؟

کون سے چراغ جلاتے ہیں اور کن ظلمتوں کو بجھاتے ہیں؟…

وہ کن مجرموں کے کیسے کیسے جرائم کی وکالت کرتے ہیں اور کن مظلوموں کے خون اور آہوں پر پردے ڈالتے ہیں…

افسوس! افسوس!…

انہوں نے کیا بیچ دیا اورکتنی اَرزاں قیمت پر بیچ دیا…

’’ کیا آپ نے نہیں دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا بدلہ دیا نا شکری سے۔‘‘ ( ابراہیم )

٭…٭…٭

کتنی مبارک ہیں وہ زبانیں اور وہ قلم جنہیں ’’دعوت الی اللہ‘‘ کی توفیق بخشی گئی…

کلمہ کا نور عام کرنے والے…کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی طرف بلانے والے، اس کی حقیقت سے روشناس کرانے والے، لوگوں کی زندگیوں کو کلمہ سے جوڑنے والے، مغرب کی طرف پھرے رُخوں کو اللہ کی طرف پھیرنے والے… یہ نماز کی طرف بلانے والے، حقیقی کامیابی اور فلاح سے روشناس و ہمکنار کرنے والے…

یہ فرائض کا اِحیاء کرنے والے، سنتوں کی طرف بلانے والے، نوافل سے جوڑنے والے، یہ حرام سے بچانے والے، برائیوں سے روکنے والے، اللہ و رسول کے منہیات سے منع کرنے والے،یہ ایمان و عزیمت کے داعی، یہ اُمت کا درد بانٹنے والے، یہ شام و کشمیر ، فلسطین و افغانستان، برما و عراق اور افریقہ کے مسلمانوں کا ایمانی پیغام عام کرنے والے، یہ اُمت کی خاطر جینے مرنے کا درس دینے والے، یہ اللہ و رسول کے نام پر مر مٹنے کا سبق پڑھانے والے، یہ سختیوں ، تکلیفوں اور ایذاؤں کے علیٰ الرغم پورے دین کی طرف بلانے والے، پورے دین کا پیغام سنانے اور عام کرنے والے ، یہ اُمت کے غمخوار اور ناصح، یہ اُمت کی خاطر رونے رُلانے والے، یہ قرآن و سنت کا نور عام کرنے والے…

کتنے مبارک لوگ ہیں، کتنے مبارک ہیں ان کے زبان و قلم جو اس عظیم کام کے لئے منتخب کر لئے گئے، نہ یہ غیبتوں سے آلودہ ہیں ، نہ بہتانوں سے، یہ کردار کشی والے نہیں، کردار سازی والے ہیں، یہ دوسرے مسلمانوں کا بغض بانٹنے والے نہیں اُمت کو ایک لڑی میں جوڑنے والے ہیں۔ اور یہ اتنے خوش نصیب ہیں کہ دوسروں کے اعمال کا ثواب بھی مفت میں لوٹتے ہیں۔ ان کے تو موبائل فون اور کمپیوٹر بھی ان کے لئے قبر کا وبال نہیں، آخرت کا ذخیرہ بن رہے ہیں کہ یہ ان کے ذریعے ایمان کا نور اور اعمال کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ جہاد کا پیغام اور عزیمت کا درس دیتے ہیں۔ ان کی خوش قسمتی پر تو فرشتے ناز کرتے ہیں اور ان کے لئے خاص دعائیں کرتے ہیں۔

آئیے ! ہم اپنے لئے فیصلہ کریں کہ ہمیں اِس گروہ میں شامل ہونا ہے یا اُس میں؟…

٭…٭…٭

سیاست اپنی اصل کے اعتبار سے کوئی بُرا کام نہیں ، بلکہ ضروری کام ہے۔ جو لوگ حسنِ نیت کے ساتھ خلقِ خدا کو نفع پہنچانے کے لئے اس میدان میں ہیں اُن کا اجر عند اللہ ہے۔ بات ہم لوگوں کے لئے سوچنے کی ہے کہ ہم اپنی سیاسی وابستگیوں کی بناء پر اپنی نجی مجالس میں، سوشل میڈیا پر اور اپنے زبان و قلم کے ذریعے کیا کرتے ہیں؟…

کہیں وہی سب کچھ تو نہیں جو قبر کو تاریک اور آخرت کے معاملے کو خراب کرنے والا ہے؟…

عالَم کیا ہے؟…

سیاسی وابستگان کی تقاریر، تحریریں اور نجی مجالس تو یہی دِکھا رہی ہیں کہ سوائے غیبت کے، بہتان بازی کے، ناجائز مدح اور حرام مذمت کے، جھوٹ اور فریب کے کچھ نہیں۔

پھر کون اپنے لئے اپنے اختیار سے یہ راستہ چننا چاہے گا؟…

مومن کا ہر وہ کام اس کے لئے وبالِ جان ہے جو اصولِ شرع سے ہٹ کر ہو۔ سیاست ہی ہو تو شریعت کو پامال کر کے نہ کی جائے بلکہ اس کی حدود اور تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کی جائے…

کس سے جڑنا ہے اور کس سے کٹنا ہے…

کس سے ملنا ہے اور کس سے بھڑنا ہے…

کیا کام کرنا ہے اور کس سے بچنا ہے…

یہ سب اگر صرف حالات کے تقاضوں کے پیش نظر کیا جاتا ہے اور اس میں حدودِ شرع کی رعایت نہیں رکھی جاتی، اسلامی اصولوں کی پاسداری نہیں کی جاتی تو غلط ہے سراسر غلط…

اور اگر یہ سارے فیصلے اور کام شریعت کو سامنے رکھ کر کئے جاتے ہیں تو انتہائی مبارک…

میرا سوال پھر بھی اپنے جیسے عوام سے ہے کہ کیا ہمارا کسی سے وابستہ ہونا اور کسی کا مخالف ہونا اللہ کے لئے اور شریعت کے اصولوں کی روشنی میں ہے یا اپنی ذات کے لئے؟…

فیصلہ کر کے اگلا قدم اُٹھائیے کیونکہ مرنے کے بعد اس کا حساب بھی پیش کرنا ہے …

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online