Bismillah

582

 ۲۶جمادی الاولیٰ تا ۲جمادی الثانی۱۴۳۸ھ    ۲۴فروری تا ۲ مارچ۲۰۱۷ء

ٹرمپ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 568 (Talha-us-Saif) - Trimp

ٹرمپ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 568)

ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر منتخب کر لیا گیا ہے…

یہ خبر باقی دنیا سے زیادہ خود امریکہ کے لئے حیران کن سمجھی جا رہی ہے اور اسے ایک پریشان کن صورتحال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کئی ریاستوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کچھ مقامات پر وہ تشدد کی صورت بھی اختیار کر چکا ہے۔ میڈیا کا تمام جھکاؤ اور تجزیات ہیلری کلنٹن کو کامیاب دِکھا رہے تھے ، مباحثوں کا نتیجہ بھی ٹرمپ کے خلاف تھا، عوامی رائے عامہ کے تمام تر جائزے اس فرق کا بالکل عکس دِکھا رہے تھے جو انتخابی نتیجے کی صورت میں سامنا آیا ہے ۔ یعنی جائزوں میں ٹرمپ جس تناسب سے نیچے دکھایا گیا نتائج میں اسی قدر اس کا پلڑا بھاری نکلا۔

 امریکی عوام کا ایک طبقہ خبروں کے مطابق صدمے کی کیفیت میں ہے اور بالکل بے یقینی کے تاثرات اس پر طاری ہیں۔ انہیں ایسا لگ رہا ہے کہ جو ہوا ہے وہ ایک خواب ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے جبکہ ایک بہت بڑا طبقہ بالکل شادیٔ مرگ کی کیفیت میں ہے اور یہ دونوں طبقے کئی دن سے باہم گتھم گتھا ہیں۔

امریکہ میں ایک ایسے شخص کا صدارتی امیدوار منتخب ہونا جس کا سرے سے پارلیمانی سیاست تو کجا علاقائی اور کونسل سطح کی سیاست سے بھی تعلق نہیں رہا، کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ صدارتی الیکشن سے انٹرا پارٹی نامزدگی کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں اور کتنے حریفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہر پارٹی میں کئی لوگ نامزدگی کے امیدوار ہوتے ہیں۔ ان کا باہم موازنہ ہوتا ہے۔ تجربہ اور پارلیمانی سیاسی خدمات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ آپس میں مباحثے ہوتے ہیں ، سابقہ اور آئندہ حالات کے بارے میں ان کا موقف لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پارٹی کے ارکان فیصلہ سناتے ہیں کہ ان کا مقرر کردہ نمائندہ کون ہے۔ ٹرمپ کا بغیر کسی تجربے کے ایک غیر سیاسی اور بے وقوف شخص کی شہرت کے ساتھ امریکہ کی سب سے بڑی پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد ہو جانا خود اس بات کی واضح علامت تھی کہ یہ الیکشن نہیں سلیکشن کا نتیجہ ہے اور امریکہ کی اصل حکمران قوتیں فیصلہ کر چکی ہیں کہ اب ایک غیر سنجیدہ اور غیر سیاسی شخصیت امریکہ کا اقتدار سنبھالے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی اب تک کی زندگی کا مختصر سا خلاصہ یہ ہے:

متنازع ترین ہونے کے باوجود امریکہ کے صدارتی انتخاب جیتنے والے ڈونلڈ ٹرمپ14 جون 1946ء کو نیویارک میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1968ء میں یونیورسٹی آف پینسلوانیا سے اکنامکس میں گریجویشن کیا۔ ٹرمپ جمائکا اسٹیٹس کے امیر ترین مضافات میں پلے بڑھے، وہ ریئل اسٹیٹ کی تعمیر و ترقی سے وابستہ رہے۔ اُن کا انداز حاکمانہ رہا ہے، جو اُنھوں نے اپنے بیٹے کو بھی منتقل کیا ہے۔اُن کے والد بروکلن اور کوئینز میں تعمیراتی منصوبوں سے منسلک رہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مین ہٹن میں بلند و بالا عمارات کھڑی کیں۔1970ء کی دہائی میں، محکمہ انصاف نے ٹرمپ آرگنائزیشن پر فیئر ہاؤزنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جس کے ذریعے اقلیت کو اُن کی عمارتیں کرائے پر لینے سے روکا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مقدمے کا فیصلہ عدالت سے باہر طے کیا۔بعد میں ایک اہم قدم کے طور پر، ٹرمپ نے گرینڈ سینٹرل اسٹیشن کے ساتھ والا ایک ہوٹل خریدا، جو دیوالیہ قرار دیا جا چکا تھا۔ اُنہوں نے سات کروڑ ڈالر ادھار لیے اور نیو یارک سٹی سے ٹیکس کی مراعات مانگیں اور تعمیر نو کے بعد اُنہوں نے اسے گرینڈ ہائٹ ہوٹل کا نام دیا۔1971ء میں انہوں نے اپنے والد فریڈ ٹرمپ کی رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن کمپنی کا کنٹرول سنبھالا جس کا نام بعد میں بدل کر دی ٹرمپ آرگنائزیشن رکھا۔ڈونلڈ ٹرمپ دی ٹرمپ آرگنائزیشن  کے صدر اور چیئرمین ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی دولت کا اندازہ 4ارب ڈالرز تک لگایا گیا ہے۔دیگر کمپنیوں کے تعمیراتی منصوبوں کی اشتہاری مہم میں اپنا نام بطور فرنچائز استعمال کرنے کا معاوضہ بھی لیتے رہے ہیں۔ٹرمپ ٹاوربھی ان کی پہچا ن بنا جو بیس کروڑ ڈالر مالیت کے اپارٹمنٹ اور آڑھت کے کاروبار پر مشتمل ایک تنصیب ہے، جس کی تعمیر میں گلابی رنگ کا سنگ مرمر استعمال ہوا، جس کی 58 منزلیں ہیں، جبکہ آبشار 18 میٹر بلند ہے۔نیو جرسی میں ایٹلانٹک سٹی میں کیسینوز کی تعمیر کی وجہ سے بھی ٹرمپ کو شہرت ملی۔ پہلے ٹرمپ پلازا، پھر ٹرمپ کیسل اور پھرتاج محل تعمیر کیا جس پر ایک ارب ڈالر خرچ آئے۔ لیکن بعد میں دیوالیہ پن کا شکار ہوئے ،1990 ء میں جب جائداد کی مارکیٹ کریش ہوئی، تو اُن کی ملکیت 1.7 ارب ڈالر سے گِر کر 50 کروڑ ڈالر رہ گئی۔قرقی سے بچنے کے لیے اُنہوں نے رقوم ادھار لیں اور نئے سرمایہ کار تلاش کیے لیکن گھر کے محاذ پرطلاق کے معاملے سے نہ بچ سکے اور ذرائع ابلاغ میں اُنہیں "دی ڈونالڈ" سے پہچانا جانے لگا۔ اُنہوں نے اپنی پہلی بیوی اوانا کو طلاق دی، جن سے اُن کے تین بچے ہیں۔ بعد میں اُنھوں نے مارلہ میپلز سے شادی کی اور طلاق دی۔ ٹرمپ نے سنہ 2005 میں اپنی موجودہ بیوی سلووینا سے تعلق رکھنے والی ماڈل ملانیا سے شادی کی۔ اُن کے ریئلٹی ٹی وی شو دِی اپرنٹس نے ٹرمپ کو ایک اداکار کا درجہ دیا۔ ٹرمپ کی املاک کے منتظم بننے کی خواہش رکھنے والے سخت مقابلے کی دوڑ میں شامل ہوئے۔ ناکام ہونے والوں کی فائل پر ٹرمپ یو آر فائرڈ تحریر کیا کرتے تھے۔اس شو کی وجہ سے ٹرمپ کو 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمائی ہوئی انہوں نے 1988، 2004 اور 2012 میں صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کا عندیہ دیا۔ 2006اور 2014میں نیویارک اسٹیٹ کی گورنر شپ کی دوڑ میں بھی کودتے کودتے رہ گئے۔ ٹرمپ ماڈل مینجمنٹ کے تحت 1995سے مس یونیورس اور مس یو ایس اے مقابلے بھی منعقد کروا رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ خواتین سے متعلق نازیبا گفتگو کی وجہ سے خبروں میں رہے۔ انتخابی مہم میں ٹرمپ اسلام دشمن اور نسل پرست کے روپ میں سامنے آئے۔

اس تعارف میں اس کی شخصیت کے تین پہلو بالکل واضح ہیں:

(۱) بدکرداری

(۲) اسلام دشمنی

(۳) جذباتیت

اور حالیہ صدارتی مہم بھی اس شخص کے ان بیانات سے گونجتی رہی جن سے اس کی شخصیت کے یہی تین پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔

ٹرمپ کی شخصیت صدارتی دوڑ میں شامل ہونے سے پہلے امریکی معاشرے میں کس تعارف کی حامل تھی اس کا اندازہ بی بی سی پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج سے پندرہ سال قبل جب ٹرمپ کو امریکہ صرف ایک اُبھرتی ہوئی کاروباری شخصیت ، ایک موٹیویشنل سپیکر، عورتوں کے رسیا عیاش شخص کے حوالے سے جانتی تھی اس وقت بھی وہ امریکی معاشرے میں نحوست اور بدعملی کی ایک بڑی مثال سمجھا جاتا تھا۔

اس زمانے میں امریکہ میں ایک کارٹون سیریل بنائی گئی جس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ امریکی معاشرہ شدید ابتری ، معاشی بدحالی اور داخلی انتشار کا شکار ہے، ایسے میں ایک خاتون امریکہ کی صدر منتخب ہوتی ہے اور حالات کو سنبھالا دیتی ہے۔ اسی سیریل میں ایک دلچسپ موڑ یہ تھا کہ نو منتخب خاتون صدر جب اپنی کابینہ سے یہ پوچھتی ہے کہ امریکہ کے حالات اس قدر خراب کیوں ہوئے؟ تو اسے جواب ملتا ہے کہ سابقہ حکومت کی غلط پالیسیاں اس کا سبب ہیں۔ اس پر وہ پوچھتی ہے کہ وہ حکمران کون تھا جس کے ہاتھوں اس قدر تباہی ہوئی؟ تو جواب دیا جاتا ہے کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘

یعنی کہ آج سے پندرہ سال قبل ایک امریکی یہ سوچتا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا کوئی شخص حکمران بن گیا تو امریکی معاشرہ اس طرح زوال پذیر ہو جائے گا حالانکہ ٹرمپ کا اس وقت نہ سیاست میں کوئی مقام تھا اور نہ اس کے کبھی امریکی صدر بننے کا کوئی امکان واضح تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر ایسا شخص کیونکر آناً فاناً سیاسی افق پر چھا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے صدارت کی کرسی لے اُڑا؟ کیا امریکی اتنی جلدی یہ بات بھول گئے ہیں یا ٹرمپ نے اپنا رویہ اس قدر سدھار لیا کہ امریکی اس کے بارے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو گئے؟

جواب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں…

ٹرمپ کے جس مزاج کی شہرت تھی اپنے بام عروج پر ہے البتہ جو زوال ایک فطری قاعدے کے مطابق امریکہ کے دروازے پر کھڑا دستک دے رہا ہے اس کی ترتیب کا تقاضا یہ تھا کہ امریکہ ایسے شخص کو یہ سب جانتے ہوئے منتخب کرنے پر مجبور ہوئے ۔ بڑی اور اہم وجوہات یہ ہیں:

(۱) امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جو اسلام مخالف جہاد دشمن مہمات چھیڑی ہیں، ان کے اہداف حاصل کرنے میں وہ بُری طرح ناکام رہا ہے۔ اس جنگ کا جو واحد ایجنڈہ تھا کہ دنیا سے جہاد اور جہادی قوتوں کو بالکل مٹا دیا جائے معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوا اور جہاد اس وقت دنیا کی ہر حد اور ہر سرحد کو توڑ رہا ہے۔ بش کے دور اور پھر ابامہ کے دو صدارتی ٹرم اس جنگ سے امریکی عوام کو کوئی خوشخبری نہیں دلا سکے اور آگے بھی اس کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ انگلیوں پر شمار کی جا سکنے والی چند کامیاب کارروائیاں ضرور وہ اپنے کریڈٹ پر درج کرا سکے لیکن ان کا بھی کوئی بہتر نتیجہ نہ نکلا بلکہ اس جنگ میں مزید شدت ہی آئی اور امریکہ کی منزل دور ہوئی۔ ایسے میں اب ایک امریکی سوچ رہا ہے کہ اس جنگ کو فیصلہ کن بنانے کے لئے انہیں ایک غیر سیاسی اور جنگجو آدمی کی ضرورت ہے۔ ان کی نظر میں امریکہ کی فوجی مہمات میں ناکامی کی وجہ حکمرانوں کی سیاسی مجبوریاں اور پالیسیاں ہیں۔ لہٰذا اب وہ ایک ایسے شخص کو برسراقتدار لے آئے ہیں جس کا سیاست سے نہ کوئی واسطہ ہے اور نہ اس کا مزاج سیاسی ہے۔ بلکہ وہ ایک حد درجہ جذباتی اور بے وقوف انسان کی شہرت رکھتا ہے تاکہ وہ اس جنگ کو آر یا پار کی بنیاد پر لڑے لیکن امریکی عوام اس حقیقت کو فراموش کر رہے ہیں کہ ایک شدت پسند حکمران دنیا بھر کے ان حکمرانوں کے لئے بھی سخت قسم کا امتحان ہو گا جو اب تک امریکہ کے ساتھ سیاسی انداز میں چل رہے تھے۔ ان کے لئے اب آر یا پار کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہ رکھا جائے گا۔ یقیناً یہ روش بہت سے غلاموں کو سوچنے پر مجبور کرے گی اور اگر انہیں بھی نہ کر سکی تو بہرحال ان ملکوں کی رعایا میں ضرور تحریک بیدار کرنے کا باعث بنے گی۔امریکہ میں شدت پسندوں کا حکومت کی گدی تک پہنچنا دنیا بھر میں شدت پسندوں کے خاتمے کا نہیں ان شاء اللہ اس کے پھیلاؤ کا سبب بنے گا اور منافق حکمرانوں کے زور تلے دبے طبقات امریکہ کے خلاف کھل کر سامنے آئیں گے اور ملکوں کا نظام بدلے گا۔

(۲) جنگی اخراجات نے امریکی معیشت کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ امریکہ میں بے روزگاری، بے گھری اور آمدن کی کمی نے معاشرے کو شدید ترین ابتری کا شکار کر دیا ہے اور یہ مسائل عفریت کی طرح پھیلتے اور معاشرے کو تیزی سے جکڑتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں امریکی یہ سوچ رہا ہے کہ فی الحال نہ تو جنگوں سے چھٹکارہ پایا جا سکتا ہے اور نہ جنگی اخراجات سے تو اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے افراد کو کم کیا جائے تاکہ دستیاب وسائل کی تقسیم میں توازن قائم ہو ۔ ٹرمپ نے اس مقصد کے لئے اپنے ایجنڈے میں پناہ گزینوں کے دیس نکالے کی اس تجویز کو جو اب تک صرف امریکیوں کے دلوں یا تھنک ٹینکس کی میزوں تک محدود تھی سرفہرست ترجیحات میں شامل کر لیا۔ یہ کام کسی بھی سیاسی اور جمہوری لبرل شخصیت کے  لیے ممکن نہیں تھا، اس کے لئے ٹرمپ جیسا شخص ہی موزوں تھا لہٰذا اس کے اس نعرے نے ان تمام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ ٹرمپ جیت چکا ہے اور اسکی کامیابی کے پیچھے اس ایجنڈے کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔صدارت کو عملی طور پر سنبھالنے سے پہلے ہی وہ تسلسل کے ساتھ اپنا یہ عزم دہرا چکاہے کہ وہ ایسا ضرور کرے گا۔ اور وہ یقیناً ایسا کرے گا لیکن امریکی عوام یہاں بھی اس حقیقت کو فراموش کر رہی ہے کہ اس پالیسی کا سب سے بڑا شکار جنوبی امریکیائی ممالک کے وہ باشندے بنیں گے جو جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور قتل و غارت کے انتہائی رسیا ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ مافیاز اور خفیہ تنظیمیں انہی کی ہیں۔ سمگلنگ کے عالمی نیٹ ورک یہی لوگ چلاتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ ہر طرف سے ان لوگوں کے گھیرے میں ہے۔ اس پالیسی کے جو نتائج امریکی معاشرے کے لئے نکلنے والے ہیں ہم بڑی شدت سے ان کے منتظر ہیں۔

(۳) اسلام دشمنی… جو ہر امریکی کے دل میں پل رہا سب سے مضبوط اور غالب جذبہ ہے، البتہ جمہوریت، لبرل ازم اور انسانیت کے جھوٹے نقاب اسے پوری طرح ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ اب یہ جذبہ اس قدر پک چکا ہے کہ اسے دلوں میں چھپائے رکھنا امریکیوں کے لئے ناممکنات میں سے ہو چلا تھا اور انہوں نے ٹرمپ کی شکل میں اس کا اظہار کر دیا ہے، اس قوم کی طرف سے کھلا اعلان ہے کہ وہ اس جذبے کو لے کر ٹرمپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس کے عملی اظہار کے لیے بے تاب ہے۔

امریکی یہاں بھی صدیوں سے اسلام کی تاریخ میں انمٹ حروف سے نقش اس حقیقت کو فراموش کر رہے ہیں کہ درحقیقت یہی زمانہ اسلام کے عروج اور مسلمانوں کی بیداری کا ہوتا ہے۔ اسلام کی یہ فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ نامساعد حالات میں پھلتا پھولتا ہے، سخت دشمنوں کے مقابل طاقت سے اٹھتا اور غالب ہوتا ہے۔ یہ بات اتنی بدیہی ہے کہ اسے سمجھانے کے لئے مثالوں اور دلائل کی حاجت بھی نہیں۔

اب امریکی ان مقاصد کے حصول کے لئے اپنا مہرہ میدان میں لے آئے ہیں، دیکھیں نتائج کیا نکلتے ہیں۔ ایک اہم وجہ اس انتخاب کی روس کی تازہ صورت حال بھی ہے اس کا جائزہ ان شاء اللہ آئندہ کبھی…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online