Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

ٹرمپ۔۲ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 569 (Talha-us-Saif) - Trimp

ٹرمپ۔۲

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 569)

روس جو ایک زمانے تک امریکہ اور یورپ کی متوازن سپرپاور کے طور پر دنیا کے ایک بڑے خطے پر راج کرتا رہا اور امریکہ و یورپ کی شہنشاہی کے لئے چیلنج بنا رہا اور پھر جہادِافغانستان کے نتیجے میں شکست و ریخت سے دوچار ہوا ،وہ سرد جنگ کے اس طویل دورانیے کے واقعات بھولا ہے اور نہ اپنی شکست کا زخم۔

گریٹ رشیا کا خواب آج بھی ہر روسی کے دل میں ہے اور وہ اسے ہر حال میں شرمندۂ تعبیر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ افغانستان سے پسپائی کے بعد رشین فیڈریشن کے ٹوٹنے ، وسط ایشیائی ریاستوں کے آزاد ہونے اور مشرقی یورپ کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد روس ایک طویل عرصہ اقتصادی بدحالی سے دوچار رہا اور داخلی طور پر شدید اَبتری کا شکار بھی۔ تاقتیکہ اقتدار ولادی میرپیوٹن کے ہاتھ میں آیا۔ جوڈو کے بہترین کھلاڑی، شکار کے رسیا، شاہی عمارتوں کے شوقین اور انتہائی جنگجو مزاج پیوٹن کو جدید دور کے زار کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ پیوٹن کے دور حکومت میں روس پھر ایک طاقت کے طور پر ابھرنا شروع ہوا۔ داخلی مسائل بھی شاہانہ اور فوجی انداز سے حل کئے جانے لگے۔ خارجی معاملات میں بھی ہر جگہ دخل اندازی کو وطیرہ بنایا گیا۔ آزاد شدہ ریاستوں اور ان سے ملحقہ مشرقی یورپی ممالک میں بھی لابنگ اور سیاسی و اقتصادی معاملات میں من مانی کے نئے دور کا آغاز کیا گیا۔ فوجی و عسکری قوت میں اضافہ کیا گیا، اقتصاد کو بہتر پوزیشن میں لایا گیا، عالمی سطح پر نئے دوست بنا کر ایک نئے عالمی بلاک کی تیاری کا آغاز کیا گیا اور ان سب کے ساتھ ساتھ آئینی ترامیم اور بنیادی نظام حکومت میں تبدیلی کے ذریعے اپنے اقتدار کو دوام اور اختیارات کے اِرتکاز کا مرحلہ بھی طے کر لیا گیا۔ روسی عوام کو اپنے گریٹ رشیا کے خواب کی تعبیر پیوٹن میں دکھائی دی اور اب اس کی حیثیت اپنے ملک میں صرف ایک حکمران کی نہیں بلکہ قومی لیڈر کی ہو چکی ہے۔

ولادیمیر پیوٹن نے ویسے تو کئی عالمی معاملات میں امریکہ اور یورپ کی مرضی کو چیلنج کیا اور عالمی سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچائی لیکن بالکل کھلا اعلان جنگ یوکرین اورکرائمیا کے تنازع کے موقع پر کیا، جب اس نے یورپ اور امریکہ کی مرضی کے برعکس اس مسئلے میں فوجی مداخلت کر دی۔ یہ وہ اقدام تھا جس نے یورپ اور امریکہ کے سیاسی ایوانوں میں  خطرے کی گھنٹی بجادی کہ اب ان حکومتوں کو آئندہ اپنی پالیسیاں روس کو ایک حریف طاقت کے طور پر سامنے رکھ کر بنانا ہوں گی۔ اس کے بعد بشار الاسد کا اقتدار بچانے کے لئے اندھا دھند فوجی قوت کا استعمال روس کی طرف سے دنیا کو ایک پیغام تھا کہ یہ سانپ ایک بار پھر سر اُٹھا چکا ہے۔ اس طرح اس نے جہادی قوتوں کے خلاف اقدام کر کے افغانستان میں اپنی ذلت آمیز شکست کا غصہ اتارا۔ مسلمانوں کو انتقام کا پیغام دیا اور واضح کیا کہ زار روس اور سوشلسٹ روس کے بعد اب متعصب آرتھوڈکس عیسائی روس مسلمانوں کے خلاف اور اسلام کے خلاف میدان میں اُتر رہا ہے۔دوسری طرف اس نے امریکہ اور یورپ کواپنی عسکری موجودگی اور مداخلت کی قوت سے خبردار کیا۔ امریکہ میں خاص طور پراس صورتحال کو ایک الارمنگ سچویشن کے طور پر لیا گیا اور صدارتی انتخاب کی مہم میں روس کے تئیں ڈیموکریٹکس کے سیاسی رویے کے برخلاف ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کے روس کے بارے میں خدشات سے بہتر طور پر سیاسی فائدہ اٹھایا اور روس کے ان اقدامات کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا، سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور اس مسئلے کو ترجیحی طور پر حل کرنے کی بات کر کے انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہا۔

امریکی اب یہ سوچ رہے ہیں کہ شاہانہ مزاج کے حامل جنگجو اورضدی روسی صدر کی پیش قدمی روکنے کے لئے انہیں اسی کی صفات کا حامل حکمران درکار ہو گا اس لئے انہوں نے خارجہ امور و سیاست کا طویل تجربہ رکھنے والی ہیلری کلنٹن پر ناتجربہ کار ٹرمپ کو ترجیح دی۔

ایک اہم پہلو ٹرمپ کی فتح کا یہ بھی ہے کہ مغرب مسلمانوں کے لئے جس ’’مذہبیت ‘‘ اور دینی عصبیت کو شدت پسندی اور بنیاد پرستی کہہ کر رد کرتا ہے اور میڈیا کی شیطانی قوت کو استعمال کر کے جس جذبے کو ہمارے ممالک اور معاشرے میں ایک گالی بنا چکا ہے خود بڑی تیزی سے اس کی طرف جا رہا ہے۔ یورپ کے ممالک جو لبرل ازم کے اصل نمائندوں کے طور پر جانے جاتے ہیں ان میں آنے والے الیکشنز کئی ممالک میں ریڈیکل اور شدت پسند مذہبی قوتوں کے اقتدار میں آنے کے واضح اشارے دے رہے ہیں۔ لبرل سیاست کمزور ہو رہی ہے۔ دم توڑ رہی ہے جبکہ انتہا پسند قوتیں تیزی سے ترقی پذیر ہیں۔  لبرل سیاست مذہبی ہم آہنگی اور برداشت کا گہرا میک اپ مغرب نے اپنے مکروہ چہرے پر مل کر اس کی اصلیت چھپا رکھی تھی جواب بڑی تیزی سے اتر رہا ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کی جیت کوا سی حوالے سے بارش کا پہلا قطرہ کہا جا سکتا ہے۔ لبرل ازم کی نمائندہ مناد ہیلری کا مسترد کیا جانا اور ٹرمپ جیسے شدت پسند، متعصب اور جنگجویانہ سوچ کے علمبردار کا انتخاب دراصل امریکی قوم کی اسی اصلیت کا سامنے آنا ہے۔ واضح مطلب اس کا یہی ہے کہ امریکی معاشرہ دراصل ٹرمپ جیسے افراد کی اکثریت والا معاشرہ ہے۔ وہ شدت پسند ہیں، اور دوسری اقوام کے دشمن ہیں، ان میں برابری ، مساوات ، عدل نام کی کوئی چیز نہیں، وہ جنگ پسند لوگ ہیں اور وہ انہی صفات کے حامل شخص کو اپنے ووٹ سے اقتدار تک لے آئے ہیں تاکہ آزادی سے اپنی سوچ پر عمل کر سکیں۔

مغرب کو اپنے نظام کی شفافیت پر بڑا ناز ہے۔ وہ کرپشن فری معاشرے کے دعویدار ہیں، ان کے ہاں ان کے خیال کے مطابق جزاء و سزا کا نظام اس قدر کڑا ہے کہ کوئی شخص جرم کر کے بچا نہیں رہ سکتا اور سب سے بڑا دعوی ان کا یہ ہے کہ ان کا معاشرہ تعلیم یافتہ ، مہذب اور اس قدر باشعور ہے کہ وہاں کوئی کرپٹ انسان منصب حکومت تک نہیں پہنچ سکتا۔ ان دعووں اور ان کی مثالوں کی بنیاد پر مغرب اور مغرب نواز لوگ مسلمانوں اور دیگر معاشروں پر ہمہ وقت تنقید و تذلیل میں مصروف رہتے ہیں۔ ٹرمپ کا انتخاب اس غرور کے پردے پر بھی پہلا پتھر ثابت ہوا ہے۔ ٹرمپ پر ٹیکس چوری، بنکرپٹی، دھوکہ دہی اور کاروباری بددیانتی کے سینکڑوں الزامات ہیں۔ وہ اپنی شہرت کے اعتبار سے ایک کرپٹ آدمی ہے۔ دنیا کی سب سے مہذب اور باشعور کہلانے والی قوم نے اس شخص کو اکثریت سے منتخب کر کے اپنے اس دعوے کا پول خود ہی کھول دیا ہے۔

ٹرمپ اقتدار سنبھالنے کی تیاریوں میں ہے۔ ملک میں اس کے خلاف ہونے والا احتجاج دم توڑ رہا ہے۔ وہ عالمی لیڈروں سے مل رہا ہے اور اپنی آئندہ کی پالیسیوں کا اعلان کر رہا ہے۔ وہ اپنی ٹیم کے انتخاب میں مصروف ہے اور اس حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ اس نے ’’ میڈ ڈوگ ‘‘ یعنی پاگل کتے کے لقب سے معروف عراق و افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کے قاتل اور امریکی فوج میں اپنی اسلام دشمن اور انتہا پسندانہ سوچ کے حوالے سے مشہور ترین شخصیت جنرل جیمز میٹس کو وزیر دفاع کا قلمدان سونپنے کا عندیہ دیا ہے۔ جنرل میٹس امریکی سینٹرل کمانڈ کا سربراہ رہ چکا ہے۔اسی عہدے پر اس نے افغانستان اور عراق میں امریکی مہم کو لیڈ کیا۔ وہ سب سے خونخوار امریکی فورس ’’ میرین ‘‘ کا کمانڈر انچیف بھی رہ چکا ہے۔ وہ اپنی ذہنی اپروچ میں کس سطح کا آدمی ہے اس کی تفصیلات کی بجائے اس کا وہ لقب ہی اس امر کا بہترین غماز ہے جو اس کے نام سے زیادہ معروف اور جانا پہچانا ہے یعنی پاگل کتا۔ اور ٹرمپ جو خود بھی اس لقب کا حقدار ہے ملک کے اہم ترین عہدے پر اس شخص کو لا رہا ہے جو نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ اپنے ملک اور اپنے ادارے میں ہی حد درجہ بری شہرت کا حامل ہے۔ اس سے ٹرمپ کے مستقبل کے ارادوں پر واضح روشنی پڑتی ہے۔

اب یہ مسلمانوں کے لئے  لمحہ فکریہ ہے۔ کیا وہ اس حد تک بے شعور ہو چکے ہیں کہ امریکی نشئی قوم جتنا بھی نہیں سوچ سکتے؟ امریکہ اور پورا مغرب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ اس وقت انہیں درپیش چیلنجز سے انہیں سیاستدان نہیں انتہا پسند لیڈر نکال سکتے ہیں۔ وہ اگر یہ سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ پیوٹن جیسے سخت گیر شخص کا مقابلہ بھی سخت گیر لیڈر ہی کر سکتا ہے تو مسلمان یہ کیوں نہیں سوچتے کہ کیا ہمارے ہر قسم کے نظرئیے ، سوچ، قوت فیصلہ اور پالیسیوں سے عاری تاجر مزاج غلام خو حکمران ان عالمی درندوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ یقینی جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔

اب جب مغرب اپنی اصل سوچ پر آ گیا ہے تو ہماری اقوام کب تک ان کے پھیلائے ہوئے ایک جھوٹ کے جال میں پھنسی رہے گی؟…

مغرب کا یہ بدلتا رُخ ان شاء اللہ مسلمانوں میں بھی بیداری پیدا کرے گا۔ وہ بھی اپنے شعور کو کام میں لائیں گے اور ان خونخوار درندوں کے مقابل ایسے لیڈر منتخب کریں گے جو ان کی یلغار کے آگے بند باندھ سکیں۔ مسلمانوں کو غفلت سے بیداری ہمیشہ کفر کی یلغار سے ہی نصیب ہوتی ہے اور اب کفر کی صف بندی بتا رہی ہے کہ وہ فیصلہ کن یلغار پر کمر باندھ چکا ہے۔شام کا وہ میدان دنیا بھر کی کفریہ طاقتوں کی جولانگاہ بن رہا ہے جہاں اس دنیا کی سب سے فیصلہ کن لڑائیاں لڑی جانی ہیں۔ اس لئے مسلمان نہ خوفزدہ ہوں نہ مایوس بلکہ اب شعوری طور پر کفر کو اپنا دشمن سمجھ کر تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں۔ اپنے شوق اور کوشش سے نہ بھی اُترے تو وقت اب بہرحال اُتار کر ہی رہے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online