Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

زخم زخم امت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 570 (Talha-us-Saif) - Zakhm Zakhm  Ummat

زخم زخم امت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 570)

برما میں روہنگیا نسل کے اصلاً عرب مسلمانوں پر جو تاریخ انسانیت کا بدترین ظلم و تشدد جاری ہے وہ امت مسلمہ کے سینے کے زخموں میں ایک نمایاں زخم ہے۔

یوں تو ان مسلمانوں پر عرصہ حیات تقریباً 63 سال سے تنگ ہے اور وہ جن حالات میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ان کے پیش نظر انہیں بجا طور پر دنیا کی مظلوم ترین اقلیت گردانا جاتا ہے۔ ان پر بدھ حکومت اور عوام کی طرف سے کئی بار منظم انداز میں چڑھائی کی گئی اور ان کا قتل عام ہوا لیکن 2013؁ء سے ان کی منظم اور سوچے سمجھے طریقے سے نسل کشی کی جس مہم کا آغاز کیا گیا وہ تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے۔ اپنے آپ کو دنیا کے سب سے پُر امن اور عدم تشدد کو اپنا بنیادی اصول کہنے والے مذہب ’’بدھ ازم‘‘ کے پیرو کاروں نے ظلم و تشدد کے جو ابواب رقم کئے ہیں وہ قتل و غارت کو اپنا مذہب کہنے والے چنگیز و ہلاکو کو بھی شرما دیں۔ سوشل میڈیا پر جو کچھ دیکھنے میں آیا وہ انتہائی شرمناک اور انسانیت سوز تھا۔ اجتماعی قتل عام، معصوم بچوں کو طویل رسیوں میں قطاروں کی شکل میں باندھ کر گولیوں کی بوچھاڑ، ذبح کئے جانے کے درد ناک مناظر اور سب سے ہولناک وہ تصویریں اور ویڈیوز جن میں زندہ جلائے جانے والے انسانوں کو تڑپتے اور مذہبی لبادوں میں ملبوس بدھوں کے قہقہے اور اس نظارے سے لطف اَندوز ہونے کی منظر کشی کی گئی۔ اِس وقت درد دل رکھنے والے اہل ایمان نے اس پر آواز اٹھائی تو ہمارے اپنے مسلمان کہلانے والے اہل صحافت نے ان کا مذاق اڑایا، ان تصاویر کو جعلی قرار دیا اور ظلم و ستم کی اس پوری داستان کو فرضی قرار دے دیا۔ روزنامہ جنگ میں یاسر پیرزادہ کا افسوسناک کالم آج بھی مجھے یاد ہے جس میں ان واقعات کی کلی نفی کی گئی اور اسے سوشل میڈیا پر مشہوری کا ایک سٹنٹ قرار دیا گیا جبکہ دوسری طرف انہی لبرل بے ضمیروں کے روحانی قبلہ مغرب کے ادارے اور میڈیا اس کی تصدیق کر رہے تھے کہ برما میں واقعی یہ انسانیت سوز جرائم جاری ہیں اور لاکھوں مسلمان بالواسطہ یا بلا واسطہ ان سے متاثر ہیں۔ برما کے مظلوم مسلمانوں نے تنگ آ کر ہجرت کی راہ اختیار کرنی چاہی تو ہر طرف راستے بند پائے۔ قریب ترین اسلامی ملک بنگلہ دیش نے اپنی سرحدیں مکمل بند کر کے اپنی سرحدی افواج کو ان مہاجرین پر کھلے عام گولی چلانے کا اختیار دے دیا، تھائی لینڈ کی بدھ حکومت نے اپنی سرحدوں کے قریب آنے والی کشتیاں ڈبو کر سینکڑوں مسلمان شہید کر دئیے۔ ذرا دور نکل کر ملائیشیا میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو بھی مایوس لوٹنا پڑا اور انہوں نے برما واپسی پر سمندر کی موت کو ترجیح دی۔ صرف ایک ترکی ایسا مسلمان ملک ثابت ہوا جس نے سفارتی دباؤ استعمال کر کے ظلم کے اس سلسلے کو رکوایا اور ان مسلمانوں کی عملی مدد کی۔ رجب طیب اردگان جو اس وقت ترکی کے وزیر اعظم تھے انہوں نے اپنی اہلیہ کی قیادت میں وفد بھیج کر ظلم میں پسے ہوئے ان مسلمانوں کی اشک شوئی کی اور ان کے زخموں پر مرہم رکھا۔ اس کے بعد بھی مظالم کا یہ سلسلہ بالکل نہیں تھما بلکہ مختلف چھوٹے بڑے واقعات کی خبریں مسلسل آتی رہیں مگر یہ تسلسل بہرحال نہیں رہا۔ اب دو ہزار سولہ کے آخر میں یہ سلسلہ پھر شروع ہوا اور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہوا ہے۔ اس بار فوج اپنے خوفناک آتشیں اسلحہ کے ساتھ مسلمان آبادی پر ٹوٹ پڑی ہے۔ گن شپ ہیلی کاپٹروں سے آگ برسا کر ہزاروں کی آبادی بالکل ملیا میٹ کر دی گئی ہے۔

فوج کسی بھی مسلمان کو دیکھ کر فوراً گولی چلا دیتی ہے اور پھر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ مسلمان چھری یا لاٹھی سے مسلح تھا اور فوج نے اپنے دفاع میں یہ کارروائی کی ہے۔ کتنا بے غیرت اور بے انصاف ہے وہ عالمی ضمیر جو اس دلیل سے مطمئن ہو جاتا ہے اور برمی حکومت اور فوج کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں آتی۔ برما کی وہ سیاہ دل لیڈر جو ہمارے سابق صدر آصف علی زرداری کی فیورٹ سیاستدان ہے اور دنیا سے امن نوبیل ایوارڈ لے چکی ہے آج تک ان مسلمانوں کے حق میں ایک کلمہ نہیں کہہ سکی۔ اقوام متحدہ نے آج بھی رپورٹ جاری کی ہے کہ برما میں مسلمانوں کو زندہ درگور کیا گیا اور سینکڑوں اُن مسلمانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جو زندہ زمین میں گاڑ کر شہید کئے گئے لیکن وہ یہ رپورٹ جاری کرنے سے آگے کچھ نہیں کر رہے۔

بحیثیت مسلمان ہم یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں اور فلسطین و کشمیر کے پرانے مسائل سے لے کر شام و عراق کی تازہ تحریکوں تک مسلسل یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ مغربی ادارے کبھی بھی مسلمانوں کے لئے کوئی کارخیر انجام نہیں دے سکتے۔ یہ اگر کبھی بظاہر مسلمانوں کے حق میں نکلتے بھی ہیں تو اچھی طرح نسل کشی ہو جانے کے بعد۔جیسے یہ بوسنیا اور کسووا میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل ہونے کے بعد جنگ بندی کرانے میدان میں اتر آئے اور ان مواقع پر بھی ان کا آنا مسلمانوں کی حمایت یا نصرت کے لئے نہیں ہوتا بلکہ ان مظالم کے رد عمل میں اٹھنے والی جہادی تحریکوں کو دبانے کے لئے ہوتا ہے تاکہ وہ ظالموں کو مجاہدین کے ہاتھوں انتقام کا نشانہ بننے سے بچا سکیں۔ بوسنیا اور کسووا میں بالکل یہی صورتحال ہوئی۔ جب تک مسلمان قتل ہوتے رہے یہ ادارے لمبی تان کر سوئے رہے۔ جونہی جوابی کارروائی کا آغاز ہوا، یہ فوراً اپنا لاؤ لشکر لے کر بحالی امن کے نام پر ان علاقوں میں گھس آئے ۔ برما میں تاحال مسلمان ہی پس رہے ہیں کٹ رہے ہیں اس لئے ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ان شاء اللہ جلد وہ دن آئے گا کہ اس خاکستر سے کوئی چنگاری اٹھے گی اور خونِ مسلم سے رنگین یہ سرزمین جس نے اب تک مسلمانوں کی درد بھری آہیں اور چیخیں ہی سنی ہیں جہاد ا ورانتقام کے نعروں سے گونجے گی تب دیکھ لیجئے گا اقوام متحدہ پر چھایا بھنگ کا نشہ ایک دم سے اُترے گا اور یہ اپنی افواج لے کر برمی حکومت کی مدد کو آ پہنچیں گے۔

یہ تو ان کی ڈیوٹی اور ذمہ داری ہے جسے وہ ہر جگہ پوری ایمانداری سے نبھا رہے ہیں اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ، بحیثیت امت محمدیہ کے فرد ہونے کے ہم پر ان مسلمانوں کے حوالے سے کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

اور کیا ہم وہ ذمہ داری کسی ادنیٰ درجے میں بھی پوری کر رہے ہیں؟

انتہائی افسوس کے ساتھ اس کا جواب ’’ناں‘‘ میں ہے اور ہماری اس روش نے قرآن مجید کی سخت وعید کے مطابق پورے عالم کو فتنہ اور فساد کبیر کا گڑھ بنا دیا ہے۔ کیا خون مسلم کی اس ارزانی، امت مسلمہ کی اس رسوائی اور مسلمانوں کی عزت وحرمت کی یوں نیلامی سے بڑھ کر کوئی فتنہ ہو سکتا ہے؟ کیا کفر کی ایسی بے لگام طاقت سے بڑھ کر بھی فساد کبیر کی کوئی تاویل ہو سکتی ہے کہ وہ آج جس مسلمان کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے آزاد ہے اور کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں۔

مسلمان اس وقت بھی یہ سوچنے کی بجائے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان مسلمانوں سے متعلق کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کوشش میں لگے ہیں کہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبا کر ان واقعات سے ہی چشم پوشی کر لیں۔ اگر اور کوئی نصرت نہیں ہو سکتی تھی تو کم از کم جہاں تک ممکن تھا ان مظلوموں کے لئے آواز تو اُٹھائی جاتی، الٹا ان کے زخموں پر نمک پاشی کے لئے ان واقعات کے پیچھے مسلمانوں کی غلطیاں تلاش کی جا رہی ہیں۔ یہ طرز عمل کسی طور پر بھی اسلامی اور ایمانی کہلائے جانے کا مستحق نہیں ہے۔

الحمد للہ امت کی فکر اور سوچ رکھنے والے حضرات اس طرف سے غافل نہیں۔ وہ اپنا فرض بخوبی سمجھ بھی رہے ہیں اور نباہ بھی رہے ہیں۔ میڈیا پر ان کی کاوشیں آئیں نہ آئیں، برمی مسلمان اور ان کے نمائندے خوب واقف ہیں کہ کون ان کے درد کا صحیح طریقے سے مداوا کر رہا ہے اور کس حد تک جا کر ان کی نصرت کر رہا ہے لیکن عمومی ماحول میں بہرحال اس فکر کی شدید کمی ہے اوربہت افسوسناک فقدان ہے۔ برما کے مسلمانوں کو اس وقت اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہر طرح کی اور ہر سطح پر مدد کی ضرورت ہے۔ ان کے ساتھ تعاون کیا جائے، ان کے لئے آواز اٹھائی جائے، ان کی عملی نصرت کی جائے، ان کے دشمنوں کا ہاتھ روکنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں اور ان کے لئے ہر وقت والہانہ دعائیں کی جائیں۔ جو مسلمان جس حد تک کچھ کر سکتا ہو غافل نہ رہے اور امتی کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کرنے کی اپنی سی کوشش کرے تاکہ روز محشر اس کے پلے ٹوٹی پھوٹی ہی سہی کوئی حجت موجود تو ہو۔

شام کے مسلمان خصوصاً اہل حلب اہل عزیمت اس وقت عرصہ محشر میں ہیں۔ دنیا بھر کا کفر و نفاق انہیں ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے اور یہ حصار مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ زار روس سے لے کر فرعون مصر اور کسریٰ فارس سب ان کے خلاف صف آراء ہیں اور وہ ان سب کے مقابل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے آسرے پر لڑ رہے ہیں سرنگوں نہیں ہو رہے۔ ہم ان تک نہیں پہنچ سکتے لیکن ہماری دعائیں اور درد مندی کے آنسو تو پہنچ سکتے ہیں۔ ہم اپنی اس بے بسی کو عذر بنا کر نصرت کے فرض سے غافل ہو جانے کی بجائے اسی بے بسی کو ان کی مدد کا ہتھیار بنا لیتے ہیں ان کے لئے لشکرِ دعاء بن جاتے ہیں۔

اللھم ارحم امۃ حبیبک محمد ﷺ

اللھم ارحم امۃ حبیبک محمد ﷺ

اللھم ارحم امۃ حبیبک محمد ﷺ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online