Bismillah

591

۳۰رجب تا۶شعبان ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۸اپریل تا۴مئی۲۰۱۷ء

ناسور (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 571 (Talha-us-Saif) - Nasoor

ناسور

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 571)

انسان کو جس سے سچی محبت اور قلبی نسبت ہو اس کے طریقے کو مٹانے کی نہیں پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ’’ یا علی ‘‘ کا نعرہ لگانے والے اپنی محبت اور نسبت میں پکے جھوٹے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے مشتبہ الجنس چیئرمین نے کچھ عرصہ قبل ہندوؤں کو اپنا بھائی، سندھ دھرتی کا اصل وارث اور پسندیدہ کمیونٹی کے خطابات دئیے اور صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنی پارٹی کے ایک نمائندہ وفد کے ساتھ ایک مندر میں حاضری دے کر دیوالی کی مذہبی رسومات میں شرکت بھی کی۔ بتوں پر چڑھاوے چڑھائے، ہندو عقیدے کے مطابق شیولنگ پر دودھ بہایا اور دیوالی کے کڑے بھی پہنے۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ ساری کارروائی محض رسمی ہے اور حکمران پارٹی اپنے صوبے کی ایک اقلیت سے اِظہار محبت کر رہی ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ یہ تو پیپلز پارٹی کی طرف اُس بل کی طرف پہلا عملی اقدام تھا جس نے اسلام کے اہم اور بنیادی فریضہ ’’دعوت اسلام‘‘ پر وار کیا ہے۔

اس پوجا پاٹھ کے چند دن بعد ہی سندھ حکومت کے ایوانوں میں وہ بل پیش کر دیا گیا جس کی رو سے ۱۸ سال سے کم عمر شخص اپنا مذہب ترک کر کے اسلام قبول نہیں کر سکتا۔ جبکہ اٹھارہ سال کے بعد قبول کرنے پر بھی اسے دو ماہ حبس میں رکھا جائے گا۔ سندھ جو اس خطے میں باب الاسلام کہلاتا ہے اس میں ایسے بل کا پیش کیا جانا ایک افسوسناک بات تھی مگر اس بل کا اکثریت رائے سے منظور ہو جانا تو اس سرزمین کے لئے ایک شرمناک دھبہ بن گیا ہے۔

جس سرزمین نے سب سے پہلے اسلام کے غازیوں کا استقبال کیا، ایمانی لشکروں کے قدم چومے، سب سے اول نور اسلام سے جگمگائی، جہاں کے باسیوں کو خطۂ ہند میں اسلام میں داخلے میں شرف اولیت نصیب ہوا وہاں اب اسلام میں داخلے پرروک لگا دی گئی۔ ٹھٹہ کے قدیم قبرستان میں درجنوں حضرات تابعین کی قبور ہیں۔ سرزمین سندھ پر کئی مقامات پر حضرات صحابہ کرام کی قبور کے بارے میں مستند روایات موجود ہیں خصوصاً حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ جو جہادی تاریخ کا ایک روشن کردار ہیں اور حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی طرح سو سال سے زائد عمر میں اسلامی جہادی لشکروں کی کمان کرنے والے عظیم مجاہد اورصحابی رسول ﷺ ہیں ان کی قبر شکار پور کے علاقے میں معروف ہے۔ مستند تاریخی روایات کے مطابق سندھ اور بلوچستان کو ملانے والے علاقوں میں اسلام حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں پہنچا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود اسلام اٹھارہ سال کی عمر سے بہت پہلے قبول کیا۔ آپ کی عمر اس وقت محض بارہ سال تھی اور آپ اسلام قبول کرنے والے سب سے پہلے چار خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں۔

سندھ کو ’’باب الاسلام ‘‘ کا اعزاز بخشنے اور یہاں آنے والے سب سے بڑے اسلامی لشکر کی قیادت کرنے والے ’’محمد بن قاسم ‘‘ رحمۃ اللہ علیہ جب یہاں اسلام کی روشنی لائے تھے ان کی عمر بھی اٹھارہ سال سے کم تھی۔ آج اسی محمد بن قاسم کے سندھ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف اپنی نسبت کرنے والی حکومت نے اٹھارہ سال سے کم عمر لوگوں کے اسلام قبول کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

کذّاب ہیں یہ لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف نسبت میں۔

اگر ان کی یہ نسبت تھوڑی سی بھی سچی ہوتی تو یہ غیر مسلموں پر سنت ِعلی کرم اللہ وجہہ کے اتباع کا دروازہ بند نہ کرتے بلکہ اسلام کی دعوت کو اس قدر ترقی اور قوت دیتے اور کوشش کرتے کہ زیادہ سے زیادہ مشرکین حضرت علی کرم اللہ وجہہ والی عمر میں حلقہ بگوش ِاسلام ہوتے۔

انسان کو جس سے سچی محبت ہو وہ اس کے طریقے کو مٹانے کی نہیں، زندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے اتباع کا راستہ بند نہیں، ہموار کرتا ہے۔ سندھ پر جس پارٹی کی حکومت ہے اس کا چیئر مین اور کئی وزراء ’’ یا علی‘‘ کے نعرے لگانے والے ہیں۔ چہلم اور عاشور کے پروگراموں میں کالے کپڑے پہن کر شریک ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اتباع کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ بد عمل اس پورے مذہب کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ نسبت کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پکڑ ہو ان لوگوں پر جنہوں نے دین اسلام کے اس اہم رکن پر وار کیا اور انسانوں کے فلاح کے راستے پر آنے میں رکاوٹ بنے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو توفیق دے کہ وہ اس کفر پہ بل کا راستہ روکنے کے لئے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور پاکستان کو لبرل ازم کی تجربہ گاہ بننے سے بچائیں۔

ادھر ہمارے وزیر اعظم صاحب نے بھی اقتدار میں آنے کے بعد مرتد گروہ قادیانیوں کو اپنا بھائی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد تسلسل سے ہر کچھ عرصہ بعد ان کی طرف سے قادیانیت نوازی کا کوئی نہ کوئی واقعہ سامنے آتا رہتا ہے۔ حالیہ اقدام پاکستان کو ناقابل رہائش ملک قرار دے کر یہاں سے فرار اختیار کر کے زندگی بھر اسلام اور پاکستان کے خلاف برسر مخالفت رہنے والے سائنسدان عبد السلام مرزائی کی نامعلوم خدمات کے اعتراف کے طور پر اسلام آباد میں واقع قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کو اس کے نام سے موسوم کرنا ہے۔ ڈاکٹر عبد السلام اسلام کا باغی اور مرتد تو تھا ہی اس کے ساتھ آئین پاکستان سے بھی اس نے کھلی بغاوت کا اظہار کیا اور قومی اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور ہونے والے تکفیر قادیانیت کے فیصلے پر اس نے پاکستان سے اپنے تعلقات کی مکمل نفی کر دی۔ ایک ایسا آدمی جس نے اس ملک کے ساتھ اپنے تعلق کو ہی واجبی قرار دے دیا اسے اس ملک میں اس طرح کے اعزازات سے نوازے جانے کی کیا وجہ ہے؟ ختم نبوت کے آرگن میں شائع میں والا اس کا بیان ملاحظہ فرمائیں:

’’10ستمبر 1974ء ڈاکٹر عبدالسلام نے وزیراعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اس کی وجہ انھوں نے اس طرح بیان کی:

’’آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیہ (قادیانی) فرقے کا ایک رکن ہوں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کے متعلق جو آئینی ترمیم منظور کی ہے، مجھے اس سے زبردست اختلاف ہے۔ کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ کوئی شخص خالق اور مخلوق کے تعلق میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا لیکن اب جبکہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے تو میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں اس حکومت سے قطع تعلق کر لوں جس نے ایسا قانون منظور کیا ہے۔ اب میرا ایسے ملک کے ساتھ تعلق واجبی سا ہوگا جہاں میرے فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو۔‘‘

پھر اگر کافر و مرتد ہونے کے باوجود اس کی ملک کے لئے کوئی خدمات ہوتیں، اس نے اس وطن کے لئے کچھ کارنامہ سرانجام دیا ہوتا تو بھی حکومت کے اس احمقانہ اقدام کی کوئی لولی لنگڑی وجہ ہی بن پاتی لیکن یہاں تو معاملہ بالکل ہی برعکس ہے۔ اس مرتد نے پاکستان کے خلاف عالمی قوتوں کی لابنگ کی کوشش کی اور ان کے ذریعے حکومت اور آئین پر اثر انداز ہونا چاہا۔

’’فروری 1987ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔ ‘‘

وہ جب اپنی ان کوششوں میں ناکام ہوا تو پاکستان کے دشمنوں سے جا ملا اور ان کی نظروں میں ہمیشہ محبوب رہا۔ وہ اسرائیل اور ہندوستان کی آنکھوں کا تارا بنا رہا۔ ان دونوں ممالک کے ایٹمی پروگرام میں اس نے عملی معاونت کی۔ ہندوستان سے کئی ایوارڈ بٹورے، کئی یونیورسٹیوں سے اعزازی ڈگریوں سے نوازا گیا۔ اسرائیلی ایٹمی سائنسدانوں سے اس کے دوستانہ مراسم رہے، کیا ایسا صرف اس کے علم و فن کے اعزاز کے لیے کیا جاتا رہا؟ …

ہرگز نہیں…

بلکہ یہ سب اس کے لئے پاکستان دشمنی کا انعام تھا جو اسے پاکستان دشمنوں کی طرف سے ملتا رہا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے انہی دو ملکوںانڈیا و اسرائیل کو سب سے زیادہ پَرخاش رہی ہے اور انہوں نے ہر موقع پر اس پروگرام کو نشانہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

ان کی طرف سے ایک پاکستانی ایٹمی سائنسدان کو اس طرح سراہا جانا معمولی بات نہیں۔

’’ یہ بات اہل علم سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل کے معروف یہودی سائنس دان یوول نیمان کے ڈاکٹر عبدالسلام سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ یہ وہی یوول نیمان ہیں جن کی سفارش پر تل ابیب کے میئر نے وہاں کے نیشنل میوزیم میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مجسمہ یادگار کے طور پر رکھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے اسی یہودی سائنس دان کے مشورے سے کیے جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یوول نیمان امریکہ میں بیٹھ کر براہ راست اسرائیل کی مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔ ‘‘

اسرائیل کے لیے پہلا اٹیم بم بنانے کا اعزاز بھی اسی شخص کو حاصل ہے۔ پاکستان اس کی ہٹ لسٹ پر ہے اور اس سلسلے میں وہ بھارت کے کئی خفیہ دورے بھی کر چکا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی بہت بڑی لابی اس وقت یوول نیمان کے لیے نوبیل پرائز کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد امت مسلمہ کو نقصان پہنچانا ہے اور وہ اپنے نصب العین کے حصول کے لیے ہر وقت مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی سازش میں مصروف رہتا ہے۔ دنیا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تل ابیب یونیورسٹی اسرائیل کے شعبہ فزکس کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے پہلے یہ شخص اسرائیل کا وزیر تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہا۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر اس کی خاص نظر ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان ان کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر عبد السلام کے پاکستان دشمن بھارتی لیڈر نہرو کے ساتھ بڑے دوستانہ مراسم تھے۔ ایک دفعہ نہرو نے ڈاکٹر عبدالسلام کو آفر کی تھی کہ آپ انڈیا آ جائیں، ہم آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق ادارہ بنا کر دیں گے۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں اٹلی کی حکومت سے وعدہ کر چکے ہیں لہٰذا میں معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے وہاں کے سائنس دانوں سے تعاون کروں گا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی بھارتی خدمات کے عوض ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ برائے بنیادی تحقیق بمبئی، انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی نئی دہلی اور انڈیا اکیڈمی آف سائنس بنگلور کے منتخب رکن رہے۔ گورونانک یونیورسٹی امرتسر (بھارت)، نہرو یورنیورسٹی بنارس (بھارت)، پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ (بھارت) نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگریاں دیں۔ کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں سر دیو پرشاد سردادھیکاری گولڈ میڈل اور انڈیشن فزکس ایسوسی ایشن نے شری آرڈی برلا ایوارڈ دیا۔‘‘

لیکن جن کی عقلیں صرف ملکی دولت لوٹنے ، ناجائز اثاثے بنانے اور پھر انہیں محفوظ کرنے پر صرف ہو چکی ہیں انہیں نہ تو ان حقائق سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ قادیانی فتنے سے عوامی جذبات کی کوئی پرواہ ۔ وہ غیر ملکی آقاؤں اور قرض کی بھیک کمیشن کی خیرات دینے والے سودی اداروں کے بے دام غلام ہیں اور جو ایجنڈا انہیں ہڈی منہ میں ڈالتے ہوئے ازبر کرا دیا گیا ہے اس پر عمل پیرا ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان باری باری کے حکمران ناسوروں سے قوم کو نجات عطاء فرمائے جو پہلے اس قوم کا مال اچھی طرح کھسوٹ چکے اب ایمان اور غیرت پر حملہ آور ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online