Bismillah

586

۲۴تا۳۰جمادی الثانی۱۴۳۸ھ       بمطابق  ۲۴تا۳۰مارچ۲۰۱۷ء

حقوق مصطفیﷺ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 572 (Talha-us-Saif) - Huqooq e Mustafa

حقوق مصطفیﷺ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 572)

نبی کریمﷺ فداہ روحی واَبی واُمی کے کچھ لازمی حقوق ہر اُمتی پر ہیں…

یہ حقوق قرآن مجید میں بھی بیان ہوئے اور احادیث مبارکہ میں بھی…

نبی کریم ﷺ ہمارے سب سے بڑے محسن ہیں … محسن اعظم ﷺ…

آپ نہ ہوتے تو ہمیں خالق و مالک کی پہچان نصیب نہ ہوتی…

ایمان نصیب نہ ہوتا…

انسانوں والی زندگی نصیب نہ ہوتی…

ہم اندھیروں میں گِھرے اور پستیوں میں گِرے ہوتے …

آپ تشریف لائے تو روشنی آئی …

ہدایت آئی … نور آیا … قرآن عظیم الشان کی دولت نصیب ہوئی …

انسانوں کو انسانیت ملی…

تو کیا ایسے عظیم محسن کے ہم پر کچھ حقوق نہ ہوںگے؟

لازماً ہیں … اور ہم تب تک مومن کہلانے کے مستحق نہیں ہو سکتے جب تک ان حقوق کی ادائیگی نہ کر دیں…

امام زمانہ قاضی ابو الفضل عیاض بن موسیٰ اندلسی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس موضوع پر مستقل اور عجیب شان والی کتاب تصنیف فرمائی ہے…

’’ الشفاء فی التعریف بحقوق المصطفیٰ ﷺ ‘‘

کتاب کا موضوع اس کے نام سے ہی ظاہر ہے…

ہر مسلمان کو بتایا گیا کہ محسن اعظم ﷺ کے اس پر کیا کیا حقوق ہیں…

ان حقوق کی ادائیگی کس قدر ضروری ہے…

اور ان میں کوتاہی کس قدر مضر…

کتاب طویل ہے … اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے تو ہر مسلمان ایک بار ضرور پڑھ لے…

اصل کتاب عربی میں ہے مگر اردو ترجمہ بھی بازار میں ملتا ہے…

آئیے!اس کتاب سے کچھ روشنی حاصل کرتے ہیں اور چند حقوق واجبہ کا مختصر بیان کرتے ہیں…

قاضی عیاض ؒ فرماتے ہیں …

’’ پہلی چیز ( پہلا حق ) نبی کریم ﷺ پر ایمان لانا اور آپ کی تصدیق کرنا ہے ‘‘

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’ بس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے اتارا ‘‘ ( التغابن )

اور فرمایا :

’’( اے نبی!) ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ تم لوگ ایمان لے آؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر ‘‘ ( الفتح )

اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :

’’ مجھے حکم کیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور مجھ پر ایمان لائیں اور اس دین پر جو میں لایا ہوں‘‘ ( الحدیث )

قاضی عیاض ؒ فرماتے ہیں :

’’ اور نبی کریم ﷺپر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی نبوت کی تصدیق کرے اور یہ مانے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور آپ نے جو کچھ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرمایا ہے اور جو دین لائے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں۔ جس شخص نے زبان سے اس بات کا اقرار کیا اور دل سے اس کی گواہی دی اس کا ذات نبی کریم ﷺ پر ایمان مکمل ہو گیا‘‘ … ( الشفاء جز ۲ص ۳۔۴ ملخص)

’’ دوسرا حق واجب آپ ﷺ کی طاعت کا لزوم ہے… یعنی آپ ﷺ نے جن چیزوں کا حکم فرمایا یا جن کاموں سے روکا ان تمام معاملات میں امتی پر آپ ﷺ کی اطاعت لازم ہے …

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو ‘‘ ( الانفال )

اور فرمایا:

اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا لو گے ( النور )

اور فرمایا:

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ( النساء )

اور فرمایا:

’’ اور جس بات کا رسول تمہیں حکم کریں اسے لازم پکڑ لو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جاؤ ‘‘ ( الحشر )

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ‘‘

اور فرمایا:

’’ میری اور میری بات کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایک قوم کے پاس آ کر اعلان کرے کہ میں نے دشمن کے لشکر کو اپنی آنکھوں سے تمہاری طرف آتے دیکھا ہے اور میں تمہیں اس سے واضح طور پر ڈرا رہا ہوں اپنے بچاؤ کی فکر کرو۔ پس لوگوں میں کچھ نے اس کی بات مان لی اور فوراً وہاں سے چل دیے اور بچ گئے اور بعض لوگوں نے بات جھٹلا دی تو لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور انہیں مکمل برباد کر ڈالا۔ یہی مثال ہے میری بات ماننے والوں اور جھٹلانے والوں کی ‘‘ ( الحدیث )

اور فرمایا:

’’ میری پوری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے انکار کرنے والوں کے … صحابہ کرام نے پوچھا انکار کرنے والے کون لوگ ہیں؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی جنت میں داخل ہو گا اور جس نے نافرمانی کی وہ انکار کر نے والا ہے ‘‘ ( الشفاء جز۲  ص ۶۔۷ ملخصا)

تیسرا حق واجب آپ ﷺ کی پیروی کرنا ہے … یعنی امتی ہر کام کو اسی انداز میں کرنے کی کوشش کرے جیسا اسے نبی کریم ﷺ کے بارے میں معلوم ہو کہ آپ نے فلاں کام اس طرح کیا …

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’ بے شک تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے‘‘ ( الاحزاب )

اور ’’اسوۂ حسنہ ‘‘ سے مراد نبی کریم ﷺکا طریق ہے …

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :

’’ لازم پکڑو میرے طریقے کو اور خلفاء راشدین کے طریقے کو ‘‘ (الحدیث )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کام کیا اور اس میں رخصت کے پہلو کو اختیار فرمایا۔ کچھ لوگوں نے ایسا کرنے کو ناپسند جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! لوگوں کو کیا ہوا کہ ایسے کام کو ناپسند کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں۔ خدا کی قسم میں ان سب لوگوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوں …

اور نبی کریم ﷺکا ارشاد گرامی ہے:

’’ میری امت کو حکم دیا گیا ہے وہ میری بات پر عمل کریں اور میرا حکم مانیں اور میرے طریقے پر چلیں۔ (الحدیث)

اور فرمایا:

’’ جس نے میرے طریق کی پیروی کی وہ مجھ سے ہے اور جس نے میرے طریق سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ‘‘…

حضرات صحابہ کرام اور اسلاف امت سے منقول ہے کہ سنت کے مطابق تھوڑا عمل خلاف سنت کثیر عمل سے بہتر ہے…

سنت کے مطابق رخصت پر عمل خلاف سنت عزیمت سے افضل ہے۔ نجات سنت رسول اللہ ﷺ میں ہے اور خلاف سنت گمراہی ہے ( الشفاء جز ۲ ص ۰۱۔۱۱ملخصا)

رہی بات نبی کریمﷺ کی محبت کے لازم اور تقاضائے ایمان ہونے کی۔ تو اس پر مستقل سبق چند شمارے قبل گزر چکا ہے …

’’کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ‘‘ کا اختتام حضرت قاضی عیاض ؒنے اس بحث پر کیا ہے کہ گستاخ رسول کی شرعی سزا کیا ہے؟

طویل بحث ہے … کئی صفحات پر مشتمل ہے … تفصیل مطلوب ہو تو کتاب میں دیکھ لی جائے خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے …

’’ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچانے والوں کو ملعون قرار دیا ہے…

’’ بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اسکے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لعنت کر دی ہے ان پر دنیا اور آخرت میں ( الاحزاب ۷۵)

اور کچھ آگے چل کر فرمایا:

’’ یہ لعنت زدہ لوگ ہیں جہاں پائے جائیں پکڑے جائیں اور قتل کر دئیے جائیں ( الاحزاب ۱۶)

کتاب اللہ سے ثابت ہوا کہ لعنتی گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔ پچھلے صفحات میں ہم نے اس مسئلے پر امت کا اجماع بھی نقل کر دیا… رہی بات احادیث کی تو ان میں بھی یہی حکم آیا ہے…

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جس نے نبی کو گالی دی اسے قتل کردو اور جس نے میرے اصحاب کو گالی دی اسے مارو…

اور صحیح احادیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا ان الفاظ میں حکم فرمایا:

’’ کون ہے جو کعب بن اشرف کو قتل کرے۔ بے شک یہ شخص اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتا ہے

اور آپ ﷺ نے خود اس کی طرف ان صحابہ کرام کو روانہ فرمایا جنہوں نے اسے جنگی تدبیر سے قتل کر ڈالا… اورآپ ﷺ نے اس کے قتل کی وجہ کفر و شرک نہیں بلکہ ایذاء رسول ارشاد فرمائی۔اسی طرح ابو رافع، ابن خطل، اور اس کی باندیوں کے قتل کابھی آپ ﷺ نے خود حکم فرمایا…

اور روایات میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ میرے دشمن کو کون قتل کرے گا ‘‘

خالد بن ولید نے کہا میں کروں گا… اور پھر جا کر اسے قتل کر ڈالا…

عقبہ بن ابی معیط کو جب نبی کریم ﷺ نے قتل کا حکم فرمایا تواس نے چلا کر اپنی قوم سے کہا۔ اے قریش ! میں اکیلا کیوں باندھ کر قتل کیا جا رہا ہوں؟

تو نبی کریم ﷺ نے جواب میں فرمایا:

’’ کفر اور اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ باندھنے کی وجہ سے ‘‘…

اسی طرح نبی کریم ﷺ کا حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت خالد بن ولید، رضی اللہ عنہم کو گستاخان کے قتل کے لئے بھیجنا روایات سے ثابت ہے۔ اسی طرح ایک شخص نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس نے اپنے باپ کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے پر قتل کر ڈالا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر انہیں کچھ نہ فرمایا ( گویا ان کے عمل کی تصویب فرمائی )

ان تمام آثار و روایات سے بھی یہ معلوم ہوا کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے ‘‘ ( الشفاء جز ۲ ص ۶۳۱۔۸۳۱ ملخصا)

حضرت قاضی عیاض ؒ نے آگے بھی کئی آثار اور اسلاف کے اقوال سے اس مسئلہ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے …

گستاخان رسول پر شدت ایمان کا تقاضا ہے اور مسلمانوں کی نبی کریم ﷺکی ناموس کے حوالے سے جذباتی سوچ ان کے ایمان کا مظہر ہے …

ہر گستاخ رسول یاد رکھے! جب تک دنیا میں ایک بھی اہل ایمان موجود ہے ان کا تعاقب جاری رہے گا اور انہیں نشانِ عبرت بنایا جائے گا…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online