Bismillah

602

۲۵شوال المکرم تا۱ذیقعدہ ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۱تا۲۷جولائی۲۰۱۷ء

کامیابی۔۱ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 573 (Talha-us-Saif) - Kamyaabi

کامیابی ( ۱)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 573)

ہم سب کو کامیابی چاہئے…

کامیابی تین امتحانوں کو پار کر لینے سے ملی گی، ہم اسے کہیں اور ڈھونڈتے پِھر رہے ہیں…

کامیابی کیا ہے…

کون طے کر سکتا ہے؟

انسان یا خالقِ انسان؟

امتحان دینے والا یا ممتحن؟

یقینی جواب ہے کہ ممتحن طے کرتا ہے، کامیابی کیا ہے؟

اور جس ذات نے امتحان گاہ سجائی ہے، امتحان کے لئے پیدا فرمایا ہے، عرصۂ امتحان اتارا ہے، امتحان کا نصاب بنایا ہے اسی نے کامیابی کا فلسفہ بھی ایک سطر میں ہی بیان فرما دیا ہے:

’’ پس جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا بالتحقیق وہ کامیاب ہو گیا ۔‘‘ ( آل عمران 185)

اور کامیابی ناکامی کا امتحان کیا ہے؟

وہ بھی اگلی آیت میں واضح کر دیا گیا۔

’’ اور تم اپنے اموال اور اپنی جانوں میں آزمائے جاؤ گے اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے سخت ایذاء رساں باتیں سنو گے۔‘‘ ( آل عمران 186)

مال کی آزمائش

جان کی آزمائش

ایذاء رسانی کا سامنا

یہ ہے کل امتحان

ان امتحانات میں جو کامیاب نکلا وہ جہنم سے بچا لیا جائے گا اور جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے۔ انسان کی طبیعت میں مال کے حوالے سے محبت، بخل اور حرص کے مادے بھی پیدا فرمائے ہیں۔ انسان کو مال کا محتاج بنایا اور اس کی کئی لازمی ضروریات بھی مال سے وابستہ فرما دی ہیں۔ اب انسان کا امتحان شروع ہے۔ مال کے بارے میں اپنی طبعی کمزوریوں سے نبرد آزما بھی ہونا ہے کیونکہ ان میں پڑ جانا ناکامی لکھ دیا گیا ہے۔ محبت بھی ناکامی، حرص بھی ناکامی اور بخل بھی ناکامی۔ ’’اور جو نفس کے حرص سے بچا لیا گیا بس وہی لوگ کامیاب ہیں…‘‘

مال کو اپنی ان لازمی ضروریات کے پورا کرنے کے لیے حاصل بھی کرنا ہے مگر اس کے ذرائع میں پھر شدید قسم کا امتحان درپیش ہے۔ کسب کے کئی طریقے مکمل ناکامی و بربادی ہیں اور کئی جزوی۔ کسب میں ان تمام طریقوں سے بچ کر حلال پر انحصار ایک کڑا امتحان ہے اور کسب کے ہر ہر لمحے میں درپیش ہے۔

ظلم کے طریقے سے نہ کماؤ ورنہ ناکام ہو جاؤ گے۔ سود کو ذریعہ کسب نہ بناؤ، ورنہ سخت درجے کی ناکامی مقدر بنے گی۔ جھوٹ سے بچو۔ ناپ تول میں کمی سے احتراز کرو۔ یہ سارے امتحانی مراحل ہیں اور ایک ایک لمحہ جانچ اور نگرانی جاری ہے۔

پھر اس مال کو خرچ کرنے میں امتحان

اسراف و تبذیر سے بچو۔

ریاء و شہرت کے خیالات سے بچو۔

لغو و فضول پر اسے صرف نہ کرو۔

اس مال کے خرچ میں بھی سوال ہے اور حساب کتاب

اس لئے اس طرح صرف کرو کہ حساب دینے میں مشکل پیش نہ آئے۔

’’ اور تم قیامت کے دن نعمتوں سے متعلق بھی پوچھے جاؤ گے‘‘۔ ( التکاثر)

فرمایا:

بندے کے قدم قیامت کے دن اپنی جگہ سے ہل نہ سکیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے۔

(۱) عمر ( زندگی ) کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا؟

(۲) جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا؟

(۳)مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟…

(۴) علم کے بارے میں کہ اس پر کس حد تک عمل کیا؟( الترغیب و الترہیب)

مال کے بارے میں سوال کے دو پہلو ہیں۔ اس کے کسب کا بھی جواب دینا ہو گا کہ حلال تھا یا حرام ۔ اور خرچ کے بارے میں بھی کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، مخلوق کے حقوق اور اپنی ذات کے حقوق اس میں کسی حد تک اداء کئے اور خرچ کرنے میں اللہ و رسول کے احکام کی کس حد تک پاسداری کی؟

یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ شریعت میں نہ تو مال کمانا ممنوع ہے اور نہ محدود۔

نہ اسے حاصل کرنے سے روکا گیا اور نہ کوئی حد بندی کر کے اس سے آگے بڑھنے کی کوئی ممانعت وارد ہوئی جبکہ انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا گیا اس میں اس کی کئی لازمی ضروریات مال کے ساتھ باندھ دی گئی ہیں ۔ کئی حقوق ایسے واجب کر دئیے گئے ہیں جن کا تعلق مال سے ہے۔ اسی طرح کئی بڑی بڑی نیکیاں ایسی ہیں جن کا تعلق مال سے ہے۔ وہ نیکیاں بغیر مال اداء نہیں ہو سکتیں اور بغیر مال اداء کی جانے والی نیکیاں ان کا نہ بدل بن سکتی ہیں اور نہ ان کا اجر دِلا سکتی ہیں۔

قرآن مجید میں تو مال کو دیگر ناموں کے ساتھ ساتھ ’’خیر ‘‘ کا نام بھی دیا گیا کیونکہ خیر کے بہت سے کام اسی پر موقوف ہیں۔ ایسے میں ممکن ہی نہیں کہ انسان کو مال کمانے اور حاصل کرنے سے ہی روک دیا جائے۔ البتہ یہ بھی ایک اٹل اور ناقابل تردید حقیقت ہے کہ فتنوں میں بھی مال سرفہرست ہے۔ انسان کو راہِ حق سے ہٹانے والی، حقائق بھلانے والی، ظلم پر آمادہ کرنے والی، حقوق غصب کرنے پر ابھارنے والی مال سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ ہلاکت اور ناکامی کے جتنے راستے مال میں مضمر ہیں اتنے اورکسی مرغوب میں نہیں۔ اس کی کمی بھی ہلاکت اور زیادتی بھی بربادی اور اس کی محبت ہر برائی اور خرابی کی جڑ ہے۔

فرمایا:

میں تم پر فخر کا خوف نہیں رکھتا۔ بلکہ مجھے خطرہ ہے کہ دنیا تم پر کشادہ کر دی جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش میں لگ جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ لگے اور پھر یہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے اس نے انہیں ہلاک کیا۔( متفق علیہ)

اس لئے مال کی مضرت اور منفعت میں توازن قائم کرنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ عموما اس کی مذمت کی گئی۔ اسے فتنہ قرار دیا گیا۔ دھوکہ بتایا گیا۔ کم مال والے لوگوں کو آخرت میں آسانی کی بشارت دی گئی اور مالداروں کو حساب کتاب کی شدت سے ڈرایا گیا۔ حتی کہ قوت لا یموت کی حد تک بھی فائدہ حاصل کی گئی نعمتوں میں حساب سے ڈرا دیا گیا۔

مشہور واقعہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضرت شیخین رضی اللہ عنہما کو کئی دن کے فاقہ کے بعد چند نیم کچی پکی کھجوریں ٹھنڈے پانی کے ساتھ میسر آئیں تو انہیں تناول فرمانے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جس کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر یہ سن کر اس قدر خوف طاری ہوا کہ ہاتھ میں پکڑا ہوا کھجور کا خوشہ زمین پر رکھ دیا۔

یہ مال کے معاملے میں وہ اسلوب ہے جو قرآن و حدیث میں عموماً اختیار کیا گیا۔

البتہ ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ انسان چاہے تو اس عفریت کو قابو کر کے اسے اپنے لئے، کامیابی کی منزل کو پانے کیلئے ’’خیر مطیۃ الرجل ‘‘ ( بندے کی بہترین سواری) بھی بنا سکتا ہے۔ اب جو انسان ان دونوں حقیقتوں کو مد نظر رکھ کر اسے حاصل کرے اور خرچ کرے کہ اس کا حرام وبال ہی وبال ہے اور اس کا حلال سوال ہی سوال ہے۔ اور اس وبال و سوال سے کامیاب نکل جانے کا طریقہ اس مال کو حلال طریقے سے حاصل کرنا اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق خرچ کرنا ہے، جو ایسا کرے گا وہ کامیاب ہوجائے گا۔ یہ ہوا امتحان نمبر ایک اور اس میں کامیابی کا منہج۔

اگلا امتحان ہے جان میں آزمائش…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online