Bismillah

586

۲۴تا۳۰جمادی الثانی۱۴۳۸ھ       بمطابق  ۲۴تا۳۰مارچ۲۰۱۷ء

کامیابی۔۲ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 574 (Talha-us-Saif) - Kamyaabi

کامیابی ( ۲)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 574)

مال کے اِمتحان کا ایک دوسرا پہلو اس کے اِنفاق کا حکم ہے…

ایسا عمل جس کے اجرو ثواب کا کوئی حساب نہیں اور اس پر ملنے والے انعامات ایسے کہ ہر ایک دنیا و مافیہا سے بڑھ کر اور اس کے ترک پر وعیدیں بھی ایسی خوفناک کہ الامان والحفیظ…

مال میں حق لازم زکوۃ اور عیال کے نفقہ وغیرہ کے حقوق ہیں ۔ ان کے علاوہ قرآن مجید میں ایک تاکیدی حکم ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ کا ہے اور یہ بھی اسی امتحان و آزمائش کا حصہ ہے جس کے بارے میں قسم کھا کر فرمایا کہ مال و جان کی آزمائش سے گذرے بغیر کامیابی کا ملنا ناممکن ہے۔

’’انفاق فی سبیل اللہ‘ ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لئے اس کی راہ میں مال خرچ کرنا۔

دین کے کئی کام ایسے ہیں جو خرچ پر موقوف ہیں اور ان میں سب سے اہم ترین جہاد ہے۔اس لئے قرآن مجید میں سینکڑوں مقامات پر جان کے ساتھ مالی جہاد کا حکم آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو لازم قرار دیا۔ وہ تمام آیات جن میں جہاد کی فرضیت کا ذکر ہے ان میں سے بیشتر میں مال کے جہاد کا بھی حکم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بہت فضیلت والا عمل قرار دیا ہے حتی کہ اس کے اجر وثواب کا پیمانہ وزن اعمال کے عام اصول و ضابطے سے ہٹ کر مقرر فرمایا۔

’’ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ جو سات بالیں اگائے ہر بال میں سو سو دانے، اور اللہ جس کے واسطے چاہے بڑھاتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا، جاننے والا ہے۔‘‘( آیت 261سورۃ البقرۃ)

فرمایا:

بندے کاہر عمل دس گنا بڑھایا جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا ( اس سے جدا ہے) کہ اس کا اجر ( کم از کم) سات سو گنا بڑھایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہیں اس سے بھی بڑھا دیتے ہیں ۔ ( ابو داؤد)

مزید فضائل کی درجنوں آیات و احادیث موجود ہیں۔

یہ امتحان تہہ دار ہے۔ انفاق کا لازم ہونا بھی بتا دیا گیا اور اس کی فضیلت بھی جبکہ اس کے ترک پر شدید وعیدیں بھی۔ لیکن زکوۃ اور دیگر حقوق مالیہ کی طرح اس کی کوئی مقدار متعین نہیں کی گئی۔ سوال کیا گیا تو ایک مختصر سا جواب ارشاد فرما دیا گیا۔ ’’العفو‘‘ جو زائد مال ہے وہ انفاق کرو…

قرآن مجید بتا رہا ہے کہ سب سے بڑا عذاب اس عمل کے ترک کا یہ ہے کہ ایسے شخص کا مال اس کے لئے دنیا میں عذاب اور سوئِ خاتمہ کا باعث بن جاتا ہے جو جہاد کے موقع پر انفاق سے اعراض کرے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جن لوگوں نے اپنے اموال جہاد کے لئے پیش کر دئیے انہوں نے دنیا آخرت کے بڑے بڑے انعامات کی بشارتیں اور وعدے لے لئے۔ اللہ و رسول کی خوشنودی پالی اور جنہوں نے اس موقع پر اپنا مال بچا لیا ان کے لئے کیا حکم آیا؟

’’سو تو ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کر، اللہ یہی چاہتا ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے دنیا کی زندگی میں انہیں عذاب دے اور کفر کی حالت میں ان کی جانیں نکلیں۔‘‘ (آیت 55 سورۃ التوبہ)

یہ مال ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے طور پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ اب یہ انہیں ہدایت سے محروم کرے گا۔ نیکی سے دور رکھے گا، وہ اس کی محبت میں جلیں گے اور حرص میں مریں گے۔ وہ اس کی خاطر تھکیں گے۔ یہ انہیں مزید تھکائے گا۔ وہ اس کے پیچھے دوڑیں گے یہ انہیں دوڑا دوڑا کر بے حال کرے گا، یہ انہیں اللہ کی یاد سے غافل رکھے گا، یہ ان پر فکریں اور غم مسلط کر دے گا۔ یہ انہیں صلہ رحمی اور حقوق سے غافل کر دے گا۔ اور اس سے بھی بڑی وعید یہ کہ یہ مال ان کے لئے سوء خاتمہ کا سبب بن جائے گا۔ اس نے ان کی دنیا تو برباد کر ہی دی موت کے وقت بھی اپنے سوا ہر فکر سے غافل رکھے گا نہ یہ توبہ کر سکیں گے اور نہ دم آخر اس سے کوئی بھلائی کما کر اپنے لئے آخرت کی کوئی خیر حاصل کر سکیں گے۔ حتی کہ اسی حالت میں ان کی موت واقع ہو جائے گی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

فرمایا:

جس شخص نے نہ تو ( جان سے ) جہاد کیا اور نہ ( مال سے ) کسی مجاہد کو سامان جہاد فراہم کیا نہ کسی غازی( یا شہید) کے گھر کی دیکھ بھال کی اللہ تعالیٰ اسے قیامت ( موت ) سے پہلے دردناک آفت و مصیبت میں مبتلا کر دیا گا۔ ( ابو داؤد)

اسی طرح جہاد کے علاوہ دیگر امور خیر پر مال صرف کرنا بھی بہت سے فضائل اور بشارتیں رکھتا ہے۔ غرضیکہ مال کے باب میں امتحان سے خلاصی اور کامیابی کا مدار اب دو چیزیں ہوئیں:

(۱) مال کمانے اور صَرف کرنے میں حلال و حرام کا خیال رکھنا اور شرعی حدود و امور کی پاسداری کرنا۔

(۲) آخرت کی کامیابی کے لئے مال کا زائد حصہ اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنا۔

اس کی تحدید نہ کرنے میں یہ حکمت بھی کارفرما ہو سکتی ہے کہ آزاد رکھ کر دیکھا جا رہا ہے کہ کسے کامیابی کی لگن اور دھن ہے اور کس کی نظر میں آخرت کی کامیابی ہی اصل مقصد ہے۔ جو اپنے دل میں جس قدر لگن کامیابی کی رکھتا ہو گا اسی قدر حصہ آخرت کا اپنے مال میں وافر رکھے گا اور دنیا پر اسی قدر خرچ کرے گا اور جس کے ہاں دنیا کے مقاصد کی کثرت ہو گی اور آخرت کو معاذ اللہ ثانوی حیثیت دے بیٹھا ہو گا وہ اپنے مال کو دنیا میں ہی بچائے رکھے گا اور آخرت پر کم خرچ کرے گا۔

’’ اور جسے نفس کی لالچ سے بچا لیا گیا بس وہی لوگ کامیابی پانے والے ہیں۔‘‘ (الحشر)

لیجئے ان لوگوں کی کامیابی کی ضمانت دے دی گئی جن کا نفس کمانے، زیادہ بچانے، زیادہ جمع کرنے اور اپنی ذاتی ضروریات پر زیادہ خرچ کرنے سے بچا لیا گیا۔ انہوں نے آخرت کو اپنا مطمع نظر بنا کو دنیا کو آخرت کی کھیتی بنا لیا۔ مال کو سفر آخرت کی سواری بنا لیا اور جو اسباب ملے انہیں تعمیر آخرت پر صرف کر دیا وہ بلاشبہ کامیاب ہو گئے اور انہیں دنیا بھی دنیا طالبوں سے زیادہ ملی۔

فرمایا:

جس نے آخرت کو اپنی فکر و غم بنا لیا اللہ تعالیٰ اس کے دل کو توانگری سے بھر دے گا،اس کی حالت کو سنوار دے گا اور دنیا اس کے پاس ناک رگڑ کر آئے گی اور جس نے دنیا کو اپنی فکر بنا لیا اللہ تعالیٰ اس کی آنکھوں کے درمیان فقر کو رکھ دے گا۔ اس کی حالت کو بگاڑ دے گا اور دنیا اس کے پاس محض اتنی ہی آئے گی جس قدر اس کے نصیب میں مقرر کر دی گئی ہے‘‘ ( ترمذی)

ترجمہ:

جو آخرت کی کھیتی کا طلبگار ہو گا ہم اس کی کھیتی کو بڑھا دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا طلبگار ہو اہم اسے دنیا سے دیدیں گے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا۔ ‘‘ ( الشوریٰ)

ترجمہ:

جو شخص دنیا کا ارادہ رکھتا ہے ہم اسی دنیا میں جس قدر چاہیں گے جس کے لئے چاہیں گے اسے جلددے دیں گے پھر اس کے لئے ( آخرت میں) جہنم مقرر کر دیں گے جس میںذلیل و خوار ہو کر داخل ہو گااور جس نے آخرت ( کی بھلائی) کا ارادہ کیا اور اس کے لئے محنت کی پس ایسوں کی محنت بار آور ہو گی۔ (بنی اسرائیل)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online