Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

ویٹو (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 575 (Talha-us-Saif) - Veto

ویٹو

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 575)

ایک اللہ والے دریا کے کنارے ذکر و فکر میں مشغول تھے۔ دیکھا کہ ایک کچھوا پانی کی سطح پر تیرتا جا رہا ہے اور اس کی پشت پر ایک بڑا سا بچھو سوار ہے۔ ان کے دل میں خیال آیا کہ ہو نا ہو کوئی اہم بات ہے۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر پانی میں اُتر گئے اور تیرتے ہوئے دریا پار کر کے دوسرے کنارے پر پہنچے۔ دیکھا کہ کچھوا بھی کنارے پر پہنچا اور بچھو اس کی پشت سے اُتر کر تیزی سے ایک بڑی چٹان کی طرف دوڑا۔ بزرگ بھی پیچھے چلے آئے۔ وہاں پہنچ کر ایک ایمان افروز منظر دیکھا۔ ایک نوجوان سجدے کی حالت میں تھا اور انتہائی زہریلا سانپ چٹان سے نکل کر بالکل اس کی پشت تک آن پہنچا تھا۔ جونہی سانپ نے اس نوجوان کو ڈسنا چاہا وہ بچھو اچھل کر اس سانپ کی گردن سے لپٹ گیا اور اسے ڈس لیا۔ سانپ تکلیف سے بے تاب ہر کر بھاگا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ وہ بچھو اسی طرح واپس پلٹا اور دریا کے کنارے منتظر بیٹھے کچھوے کی پشت پر سوار ہو گیا اور واپس اسی کنارے کی طرف لوٹ گیا۔ نوجوان اس ساری صورتحال سے بے خبر طویل سجدے کی لذت میں محو تھا۔ جب اس نے اپنی نماز مکمل کر لی تو بزرگ نے اسے سلام کیا اور سارا ماجرا سنایا۔ اس نوجوان نے کہا:

’’ جب میں اپنے مالک سے کبھی غافل نہیں ہوا تو وہ مجھے کیونکر بھول سکتا ہے؟ ‘‘…

چین کی طرف سے امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں بار بار ویٹو پاور استعمال کرنے سے یہ واقعہ یاد آ گیا۔ ہندوستان کی قرارداد منظور ہو جائے تو کیا ہو گا؟…

(۱) اکاؤنٹ سیز ہو جائیں گے…

وہ تو پہلے سے ہی نہیں ہیں…

(۲) اثاثے ضبط ہو جائیں گے…

ہوں گے تو ضبط ہوں گے…

اللہ کے فقیر کا اثاثہ علم ہے جسے ضبط کرنا ممکن نہیں…

روحانیت کی خوشبو ہے جسے قید کیا نہیں جا سکتا…

فقر کی دولت ہے جو ناقابل ضبطی ہے…

’’ جہاد‘‘ کی مضبوط کڑی ہے جو ویسے ہی ناقابل تسخیر ہے…

فدائیوں کی جماعت ہے اسے ضبط کرنا تو کجا ایسا سوچنا بھی دنیا کی قدرت سے باہر ہے۔

اس کے علاوہ کوئی دولت کوئی اثاثہ ہے تو خوشی سے ضبط کر لیا جائے۔ فقیر کو کوئی اعتراض نہیں…

(۳) بیرون ملک سفر کرنا ممکن نہ رہے گا…

انہوں نے جب سفر کئے انہیں دنیا کی کوئی طاقت نہ روک سکی۔ بی بی سی گھنٹوں پر مشتمل ڈاکومنٹری نشر کرتا ہے۔ ’’ ھو برنگ دی جہاد ان برٹن‘‘ … وہ جہاد کو افغانستان سے برطانیہ لے گئے۔ افریقہ کے کئی ممالک کو نغمہ جہاد سنایا۔ امارات و سعودیہ میں جہاد کی اذانیں دیں۔ صومالیہ کے گرم محاذ سے جہاد کا پیغام لائے اور اہل پاکستان کو سنایا۔ پھر انہوں نے ہندوستان جانے کا عزم کیا اور اسے پورا بھی کر دیا۔ وہ بابری مسجد کی طرف لپکے اور اس کے ملبے پر کھڑے ہوکر ایک عزم کر ڈالا۔ انہیںکون روک سکا؟ … ہندوستان نے واپسی کا راستہ چھین لیا اور پاسپورٹ ضبط کر لیا مگر پھر اسے طیارہ بک کر کے انہیں واپس پہنچانا پڑا۔ اب انہیں کیا خواہش ہو گی کہ وہ باہر کا سفر کریں۔ ان پر جب کوئی پابندی نہ تھی وہ پھر بھی کہیں سفر پر نہیں گئے تھے ۔ یہ پابندی لگ جانے سے انہیں کیا فرق پڑے گا؟…

پھر چائنا آخر بار بار ویٹو کا حق استعمال کر کے ہندوستان کی قرارداد کی منظوری میں رکاوٹ کیوں ڈال رہا ہے؟ اس کا جواب بس یہی ہے کہ اللہ کا ایک بندہ اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنی جان ہتھیلی پر لئے اس کی راہ میں پھر رہا ہے اور ہر طرح کے حالات میں الجہاد الجہاد کی آواز لگا رہا ہے اور اس کی طرف آنے والے سانپوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر بچھو روک رہے ہیں۔ وہ ہر کفر اور ہر کافر سے بری ہے ۔ وہ اللہ کے دین کے ہر دشمن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتے ہیں اور بری طرح کھٹکتے ہیں۔ہندوستان وہ سانپ ہے جس نے ان کے ہاتھوں ہزیمت پر ہزیمت اٹھائی ہے۔ اَن گنت زخم کھائے ہیں اور اس کا پھن بارہا ان کے قدموں تلے کچلا گیا ہے۔ اسے اپنی تسلی کے لئے اور اپنی عوام کا غضب ٹھنڈا کرنے کے لئے اللہ کے اس بندے پر ایک فتح چاہیے خواہ وہ اقوام متحدہ جیسے ادارے سے دہشت گرد قرار دلوانے جیسی چھوٹی اور بے فائدہ فتح ہی کیوں نہ ہو مگر قربان جائیے رب المجاہدین کی قدرت پر اور مجاہدین کے ساتھ اس کی محبت پر کہ اس نے اس پر ایک دوسرے دشمن کو مسلط فرما کر اسے اس خوشی سے بھی محروم رکھا ہے۔ سبحان تیری قدرت…سبحان تیری قدرت… سبحان تیری قدرت…

٭…٭…٭

انڈیا یوں تو انہیں کبھی نہیں بھلا پاتا۔ اسے وقتاً فوقتاً ان کی یاد ستاتی رہتی ہے اور ان کا نام انڈیا کے میڈیا سے لے کر حکمرانوںکے حواس تک ہر جگہ چھایا نظر آتا ہے مگر عیسوی سال کا اختتامی دن ان کے حوالے سے ہندوستان کو بھلائے نہیں بھولتا اور یہ انڈیا کے سینے پر لگا وہ زخم ہے جو مندمل ہونے نہیں دیتا۔31 دسمبر 1999ء وہ دن تھا جب پانچ مجاہدین کے سامنے سرنگوں ہو کر ہندوستان کو انہیں پورے پروٹوکول کے ساتھ قندھار پہنچانا پڑا تھا۔ یہ وہ دن تھا جو بقول لال کرشن ایڈوانی ہندوستان کی ہزاروں سالہ تاریخ میں اس کی سب سے بڑی شکست کے طور پر رقم ہوا۔ دنیا اس دن نئے سال کے ہی نہیں نئی صدی کے استقبال کی بھرپور تیاریوں میں مشغول تھی تاکہ شایان شان جشن منا سکے مگر انڈیا کے لئے یہ دن ایک ماتم کا پیغام لے کر آیا اور منی سپرپاور کا ترنگا سرنگوں ہوا۔

اب یہ دن ہر سال انڈیا کے لئے وہی سلگتی یادیں واپس لے آتا ہے خصوصاً بی جے پی کی حکومت کے لئے تو یہ ایک ایسا طعنہ بن چکا ہے جو اس کی کبھی جان نہیں چھوڑتا۔ اس سال بھی یہی ہوا اور 31دسمبر کے دن انڈیا کے میڈیا پر بس ایک ہی نام اور ایک ہی واقعے کا تسلط رہا۔ مولانا محمد مسعود ازہر اور آئی سی ایٹ ون فور طیارے کا اغواء۔ کھٹمنڈو ، دبئی ، لاہور اور قندھار اور پھر مجاہدین کی رہائی اور اس رہائی کے بعد لگنے والے پے درپے زخم۔ گویا شام غریباں کا سماں رہا اور مرثیہ خوانی ہوتی رہی۔ ایک چینل پر اینکر رونی صورت بنا کر اعتراف کر رہا تھا کہ امیر المجاہدین حفظہ اللہ تعالیٰ کی رہائی کی راہ ہموار کرنے میں میڈیا کا بہت بڑا کردار رہا۔ اغوا شدہ طیارے کے مسافروں کے اہل خانہ جب احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے تو اس وقت میڈیا نے ایسا جذباتی ماحول بنایا جس کے دباؤ میں آ کر حکومت کو بادل نخواستہ مجاہدین کو رہا کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔میڈیا اپنے اس کردار پر شرمندہ ہو۔ اپنی غلطی تسلیم کرے اور قوم سے معافی مانگے۔ خود اس نے اپنے چینل کی طرف سے معافی بھی مانگی۔ انڈین میڈیا کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اس نے مجاہدین کا کام صرف اسی موقع پر آسان نہیں کیا بلکہ وہ اوربھی کئی اہم مواقع پر مجاہدین کے کام آیا ہے۔ اس نے کئی عظیم الشان کارروائیوں کی کامیابی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے ۔تفصیل نہیں بتائی جا سکتی کیونکہ اس کردار کی ضرورت باقی ہے۔

ان شاء اللہ حسب ضرورت انڈین میڈیا سے وہ کام لیا جاتا رہے گا اور امید ہے کہ میڈیا بھی وہ کردار بخوشی ادا کرتا رہے گا۔ اس کے علاوہ انڈین میڈیا دعوتِ جہاد کے فروغ میں بہت اچھا کردار وقتاً فوقتاً ادا کرتا رہتا ہے امید ہے آئندہ بھی اس کی یہ روش جاری رہے گی۔ اب میڈیا قوم سے معافیاں مانگے یا بی جے پی۔ ہندوستان کے لئے یہ دن بہرحال ایک بھیانک خواب کی حیثیت اختیار کئے ہوئے ہے اور اس کی حیثیت اسی طرح برقرار رہے گی۔اس حقیقت کو اب کس طرح بدلا جا سکتا ہے کہ ہندوستان نے اسی دن سرنگوں ہو کر مجاہدین کے مطالبات تسلیم کئے تھے اور بدترین شکست کھائی تھی۔ انڈیا کی حکومت اور میڈیا اگر چاہتے ہیں کہ انہیں اس کیفیت سے نجات ملے اور انہیں مولانا مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کا خواب یوں نہ ڈرایا کرے تو یہ کام معذرتیں کرنے اور شرمندگیاں جتانے سے نہیں ہو گا۔ اس کے لئے انہیں مسئلہ کشمیر کو اہل کشمیر کی امنگوں کے مطابق حل کرنا ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہو گا تو یہ سلسلہ رُکنے کا نہیں بلکہ ہر سال انڈیا کے ماتم میں ان شاء اللہ اضافہ ہی ہو گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online