Bismillah

595

۲۹شعبان تا۵رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۶مئیتا۱جون۲۰۱۷ء

مزاحمت جاری ہے (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 576 (Talha-us-Saif) - Mazahmat Jari hay

مزاحمت جاری ہے

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 576)

امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ سے متعلق انڈیا کی قرارداد کو چائنا کی طرف سے ویٹو کئے جانے پر ہندوستان کی حکومت اور میڈیا کو تکلیف ہونا بالکل فطری بات ہے اور ان کی مسلسل چیاؤں چیاؤں کے اَسباب سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔سبب بھی کوئی ایک آدھ نہیں درجنوں ہیں۔ البتہ پاکستان کے میڈیا کے ایک بڑے حصے کو جو تکلیف ہوئی اور اُس نے مجاہدین سے متعلق جس زبان کا استعمال کیا اور چین کو اس اِقدام پر جس طرح لتاڑا، اس کے اسباب تہہ درتہہ ہیں۔ ایک سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یہ میڈیا کا وہ طبقہ ہے جو موجودہ حکومت کا حامی اور حاشیہ بَردار ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ چین کے اس اقدام سے شاید ہماری سرکار کو بھی تکلیف ہوئی ہے اور چین کا پاؤں اس بار صرف اپنے دشمن اور مخالف ہندوستان کی ہی نہیں اپنے جگری اور انڈیا کے لنگوٹی دوست کی دُم پر بھی آ گیا ہے۔ ہمارا میڈیا تو چین کے اس اِقدام پر یوں شامِ غریباں منعقد کئے ہوئے تھا کہ گویا اس نے ہندوستان کے نہیں پاکستان کے کسی دشمن کی حمایت کر دی ہے یا انڈیا کی بجائے پاکستان کی قرار داد کو ویٹو کیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے کھلے دشمن ہندوستان کی ہر معاملے میں مداخلت اور ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے ہر معاملے میں اس کا ملوث ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ یہ بات بھی ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر آ چکی ہے کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی تحریکوں کے پس پشت انڈیا کا سرمایہ اور ترغیب کارفرما ہے۔ہندوستان سے کھلے عام پاکستان توڑنے کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہندوستان نے پچھلے کئی ماہ سے کشمیر کے سرحدی علاقوں کے عوام کو خون سے رنگین کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے میڈیا کا یہ طبقہ اور ان سے بڑھ کر ہمارے حکمران ہندوستان کو سخت جواب دینا تو دور کی بات، اس کے جرائم کا تذکرہ کرنا بھی خلاف مصلحت قرار دیتے ہیں جبکہ یہاں چین کا معاملہ تھا جس کی دوستی پر فخر کیا جاتا ہے اور سمندر سے گہرا قرار دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے حق میں تھا جن کی پاکستان سے کمٹمنٹ ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ جن پر اس ملک میں ایک بلب توڑنے کا الزام بھی نہیں ۔ جن کے خلاف ملک کے طول و عرض میں ایک بھی مقدمہ نہیں اور نہ ہی کسی ایسی سرگرمی میں شرکت کا اِلزام ہے جو ملک دشمنی کے زُمرے میں آتی ہو۔ ہاں اگر کوئی ثبوت ہے تو صرف یہ کہ وہ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کے دشمن ہیں اور اس دشمنی میں مخلص ہیں ، پکے ہیں اور اَٹل ہیں۔ لہٰذا ایسے معاملے پر ہمارے میڈیا کا یہ رویہ سوائے اسلام دشمنی اور دشمنوں سے ہمدردی کے کچھ نہیں۔ یہ تو بھلا ہو اُس انڈین اداکار کا جس کی موت اس موقع پر واقع ہو گئی اور انڈین نواز میڈیا کو ماتم کا ایک دوسرا موضوع ہاتھ آ گیا۔ یتیمی کے داغ نے میڈیا کو رونے کا ایک اور میدان دے دیا۔ یوں مولانا کی بھی جان چھوٹی اور چین کا ویٹو بھی خبروں سے غائب ہوا۔ اللہ کرے میڈیا کے ان انڈین انڈوں بچوں کو ہندوستان کی طرف سے ایسی بُری خبریں تواتر سے آتی رہیں اور ان کی شامِ غریباں و یتیماں یونہی برپا رہے۔

٭…٭…٭

شام اور برما سے آنے والی مسلسل دردناک خبروں اور تصویروں کے بیچ کبھی کبھار کوئی تصویر ایسی بھی آ جاتی ہے جو جانفزا ثابت ہوتی ہے۔ ایسی ہی ایک تصویر ایک فلسطینی مجاہد نے کل دکھائی اور اس نے بغیر کوئی گولی چلائے اور اسلحہ استعمال کیے چار اسرائیلی فوجی ہلاک اور بیس سے زائد زخمی کر دئیے اور جشن میں مشغول یہودیوں کے ہاں ماتم برپا ہو گیا۔ فلسطینی قوم بلاشبہ دورِ حاضر کی وہ عظیم ترین قوم ہے جس کے صبر، اِستقامت ، جہاد اور عزیمت کی مثال گزشتہ کئی صدیوں میں نہ مل سکے گی۔ فلسطینیوں کی یہ نسل غلامی اور اِستبداد کے سائے میں پیدا ہوئی اور پروان چڑھی ہے لیکن اس نے غلامی کو دل سے قبول نہیں کیا اور نہ ہی کوئی غلامانہ روش اپنائی۔ اس نے نہ اپنا مقصد بھلایا اور نہ دشمن۔ نہ اس کے عزم میں کوئی فرق آیا نہ جوش و ولولہ سرد پڑا، بلکہ ان کی ہرآنے والی پود پچھلی سے زیادہ پُرعزم ثابت ہو رہی ہے۔ جن حالات اور صورتحال میں فلسطینی قوم اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور عَلمِ جہاد بلند رکھے ہوئے ہے ایسے حالات میں مزاحمت کا تصور کرنا بھی مشکل بات ہے۔ لیکن اس قوم نے اپنی نسلوں کو ایسی زبردست ذہنی اپروچ اور مزاحمت کا نظریہ فراہم کیا ہے کہ یہ لوگ اب لڑنے اور لڑائی جاری رکھنے کے لئے روایتی ہتھیاروں کے بھی محتاج نہیں رہے۔ فلسطین کی تحریک جہاد نے فدائی حملوں کی بنیاد رکھی اور معاصر جہاد کو وہ ہتھیار فراہم کیا جس کا توڑ کرنے سے دنیا کی ہر سپرپاور عاجز آ چکی ہے۔ مہندس الموت یحییٰ عیاش شہید کا یہ صدقہ جاریہ تل ابیب سے کابل و سرینگر تک تسلسل کے ساتھ دشمنانِ اسلام کی صفوں میں ماتم برپا کر رہا ہے۔فلسطین کے جہاد نے غزہ کی صورت میں غزوہ ٔاحزاب کی یاد تازہ کر رکھی ہے اور مسلمانوں کو محاصروں کا سامنا کرنے کا حوصلہ فراہم کیا ہے۔اسی جہاد فلسطین کی اب تک کی آخری پیشکش گاڑی کا بطور ہتھیار استعمال ہے۔ آپ گن نہیں حاصل کر سکتے حتیٰ کہ آپ کے لئے چھری اور پیچ کس لے کر گھر سے باہر آنا بھی محال کر دیا گیا ہے تو بھی آپ کا جہاد اور آپ کی مزاحمت نہ رکنے چاہئیں اور نہ کمزور پڑنے چاہئیں۔ آپ ایک گاڑی لیجئے اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اسے سڑکوں پر گھماتے ہوئے شکار تلاش کیجئے۔ جہاں مناسب ہدف نظر آ جائے اسی گاڑی کو ہتھیار بنا لیجئے اور حسب توفیق جتنے ہو سکیں کچل ڈالئے۔ فلسطینیوں نے اس کارروائی کو اِیجاد کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے اسرائیل کے لئے دہشت کی علامت بنا ڈالا۔ اور پھر ان کا یہ طریقہ عام ہوا اور فرانس سے جرمنی تک اس کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ یوں اس ایجاد نے صرف اسرائیل کو ہی نہیں اس کے سرپرستوں کو بھی خون کے آنسو رُلائے۔ خصوصاً فرانس میں ٹرک کے ذریعے کی جانے والی کارروائی تو دنیا شاید طویل عرصے تک نہ بھلا پائے۔ کافی عرصے کے تعطل کے بعد دو دن قبل پھر یہ کارروائی واپس اپنے اصل مرکز کو لوٹی اور زیرتربیت اسرائیلی سپاہیوں کی ایک ٹکڑی اِس کی زَد میں آئی۔ چار فوجی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ ویڈیو سے حملہ آور کا اطمینان اور کنڑول صاف نظر آ رہا ہے۔ اس نے پہلے گاڑی چڑھائی پھر کچھ آگے جا کر اسے واپس موڑ کر لایا اور بچے ہوئے سپاہیوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف ان سپاہیوں کی بدحواسی کے مناظر بھی بہت دلچسپ تھے۔ درجنوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود کوئی بھی اس ٹرک پر فائر نہ کر سکا بلکہ سب فرار کی راہ اختیار کرتے نظر آئے۔ بدحواس گدھوں کی طرح بھاگتے فوجیوں کو سنبھالنے اور حملہ آور مجاہد پر فائرنگ کرنے قریبی چھاؤنی سے ریسکیو کے لئے آنے والے اہلکاروں کو آنا پڑا۔ اسرائیلی یہودی جو مشرق و سطی کی صورتحال پر حالت جشن میں تھے اب ان گھروں میں ماتم برپا ہے۔ الحمد للہ۔ اور اہل ایمان کے سینے اس کارروائی سے ٹھنڈے ہوئے۔ فلسطین کے مجاہدوں نے اس طرح لڑائی جاری رکھ کر ایک طرف تو عالم کفر کو پیغام دیا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور قبلہ اول کے اِستخلاص کا یہ جہاد روکنا ان کے بس سے باہر ہے اور فلسطین کے مجاہدین کا ایک ہی فیصلہ ہے کہ وہ ہر حال میں اس جنگ کو جاری رکھے گا۔ دوسری طرف اُمت مسلمہ کے لئے بھی ان کا یہ واضح پیغام ہے کہ اگر مسلمان خود ذہنی طور پر پست نہ ہوں ، کم ہمت نہ بنیں اور اسباب کی کمی کو بہانہ نہ بنائیں تو کفر کبھی بھی ان کی یلغار کو نہیں روک سکتا۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا دستیاب وسیلہ کفر کے لئے مہلک ہتھیار بن سکتا ہے بس شرط یہ ہے کہ مسلمان خود شکست قبول نہ کرے اور مزاحمت کا عَلَم نہ گرائے۔

ہمارے دلوں کو خوشی پہنچانے والے اس مجاہد پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں اور اسے اعلی ترین شہداء کا مقام نصیب ہو۔ آمین یا ارحم الراحمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online