Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دوچراغ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 577 (Talha-us-Saif) - Do Chiragh

دوچراغ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 577)

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

ان للّٰہ ما اخذ ولہ ما اعطی کل شیء عندہ بأجل مسمی

اللھم لا تحرمنااجرھماولا تفتنا بعدہما

شیخ المشائخ اِمام المحدثین حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب قدس سرہ کے بارے میں چند کلمات تحریر کرنے کی غرض سے کاغذ قلم سنبھالا اور ابھی کچھ لکھا ہی تھا کہ ساؤتھ افریقہ سے ایک بزرگ عالمِ دین کا روح فرسا میسج فون پر نمودار ہوا۔ مجاہدین کے سرپرست بزرگ ، شیخ طریقت اور سلسلہ حضرت شیخ زکریا قدس سرہ کے روح رواں حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی نے بھی رختِ سفر باندھا۔

حضرت مولاناسیلم اللہ خان صاحب قدس سرہ کا نام گرامی ہندو پاک میں تعلیم و تعلّم سے وابستہ کسی بھی شخص کے لئے اجنبی نہیں۔ وہ علم کی دنیامیں اس وقت شہنشاہ کے مقام پر فائز تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں راسخ علم عطاء فرمایا اور ان کے لئے اس کے ذریعے دین کی خدمت کا دروازہ کھولا۔ ان کا اول و آخر تعارف ایک علمی شخصیت کا تھا۔ ان کی زندگی کا تمام تر محور علم اور مدرسہ رہا اور ان کی خدمات کی جولانگاہ بھی۔ دارالعلوم دیوبند سے طلب علم کا رشتہ، حضرت شیخ العرب والعجم سید حسین احمد مدنی قدس سرہ اور دیگر اساطین علم سے تلمذ، مسیح الامت مولانا مسیح اللہ خان صاحب قدس سرہ سے گہرا تعلق اور پھر انہی کے مدرسہ سے ہندوستان سے پاکستان آمد۔ یہاں سب سے پہلے ٹنڈو الہٰیار آپ کی خدمت کا مرکز بنا۔ وہاں سے کراچی تشریف لائے تو دارالعلوم کراچی میں ایک طویل عرصہ تدریس سے منسلک رہے۔ اسی زمانے میں ایک سال جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں بھی خدمات سر انجام دیں اور پھر جامعہ فاروقیہ بنا جو آپ کی زندگی کے آخری سانس تک آپ کا مسکن رہا۔ حضرت کی یہ تدریسی خدمات ستر سال سے زائد عرصے پر محیط ہیں۔ اس عرصے میں ہزاروں علماء ومشائخ نے آپ سے کسب فیض کیا۔ مشائخ حدیث میں اس وقت شاید آپ سے طویل تدریسی عمر رکھنے والا شاید ہی کوئی موجود ہو۔ تدریس حدیث میں صحیح بخاری اور مشکوٰۃ شریف سے خصوصی شغف رہا اور ان دونوں کتابوں پر ان کی تقریر مرجع خلائق ہے اور ہزاروں مدرسین ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ تدریس کے علاوہ آپ کی زندگی کا دوسرا بڑا میدان وفاق المدارس کا وقیع ادارہ رہا۔ حضرت نے اپنے علمی ذوق اور تدریسی تجربے کی روشنی میں اس ادارے کو پہلے ناظم اعلیٰ اور بعد ازاں صدر نشین کی حیثیت سے بام عروج تک پہنچایا۔ وفاق المدارس جو آج ہزاروں مدارس کا ایک مضبوط سلسلہ اور خوبصورت گلدستہ ہے اس کو مضبوط و مربوط بنانے میں حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب کی خدمات ہمیشہ جلی حروف سے لکھی جائیں گی۔ اکابر کے قائم فرمودہ اس ادارے کو انہوں نے اکابر کی امانت کے طور پر سنبھالااور سنبھالنے کا حق ادا کر دیا۔ آخر وقت تک وہ اس ادارے کو فتنوں سے پاک کرنے اور اکابر کے طرز پر قائم رکھنے کی بھرپورجدوجہد فرماتے رہے۔ یوں تو حضرت قدس سرہ کی رحلت سے پیدا ہونے والے خلاء کو کئی جہات سے پُر کرنانا ممکن نظر آتا ہے لیکن اس وقت وہ مدارس میں پیدا ہونے والی تجدد کی تحریکوں اور طرز اکابر سے انحراف کے رویوں کے مقابل سب سے مضبوط اور مؤثر آواز تھے اور اس حوالے سے ان کی جگہ کو پُر کرنے والی کوئی شخصیت اب بظاہر نظر نہیں آ رہی۔حضرت جدیدیت کے اس سیلاب کے آگے سدّ سکندری تھے۔ وہ اکابر کے رنگ میں پوری طرح رنگے ہوئے تھے اوراسی طریق کو اپنی بصیرت کی بنیاد پر راہِ نجات سمجھتے تھے اس لئے نہ صرف سختی سے اس پر کاربند تھے بلکہ اپنے زیر اختیار ادارے اور اس سے متعلق مدارس کو بھی اسی رنگ میں دیکھنے کے خواہاں تھے۔ طریق اکابر دیوبند میں مختلف ناموں سے اٹھنے والے انحرافی فتنوں سے ان کی بے زاری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے کافی عرصہ سے اجازت حدیث بھی مشروط کر دی تھی اور مجمع میں یہ اجازت عمومی نہیں بلکہ ا س شرط کے ذکر کے ساتھ مرحمت فرماتے تھے کہ جو لوگ عقائد میں ہمارے اکابر سے ہم آہنگ ہیں انہیں اجازت ہے۔

آخر زمانہ میں ان کا دو معاملات پر زیادہ زور تھا:

(۱) علماء اور خصوصاً جدید فضلاء میں تیزی سے وائرس کی طرح فروغ پاتے شوقِ تصویر کی روک تھام ۔

آخر زمانہ میں وفاق المدارس کے زیر اہتمام صوبائی سطح پر جو بڑے اجتماعات منعقد کرنے کا سلسلہ جاری ہواان میں جہاں جہاں بھی حضرت کی شرکت ہوئی انہوں نے اپنے بیان میں سب سے زیادہ زور اسی پر دیا، علماء سے عہد لئے اور وفاق کے لئے بطور پالیسی اس امر کا اعلان فرمایا کہ وفاق کے اجتماعات کی ویڈیو سازی نہیں کی جائے گی۔ ختم بخاری شریف کے اجتماع پر جہاں بھی تشریف لے گئے اس امر پر ضرور تنبیہ فرمائی اور جو مضامین و مقالات جریدہ وفاق المدارس اور دیگر جرائد کے لیے تحریر فرمائے ان میں بھی تاکید کے ساتھ تصویر کے بارے میں اکابر اور اپنے موقف کو دہرایا۔ تصویر کے بارے میں ان کا موقف ہر نوع کے عدم جواز کا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اس کا برملا اظہار فرمایا اور اسی کو درست قرار دیا۔ یہ درست ہے کہ اس معاملے میں اختلاف ہے اور بہت سے اہل علم اب کئی انواع کے جواز کے قائل ہیں ، لیکن حضرت کا اپنا موقف چونکہ شد ومد کے ساتھ قدیم فتویٰ پر قائم تھا، اس لئے یہ امربہر حال ضرور افسوسناک ہے کہ حضرت کے انتقال پر ان کی اپنی لاعلمی میں لی گئی تصاویر کو ان کے اہل محبت نے خوب پھیلایا اور اسے اظہار محبت سمجھا۔ کم از کم حضرت کی ذات کے حوالے سے ان کے ہی موقف کی رعایت رکھی جاتی تو زیادہ حق محبت اداء ہوتا۔ بہر حال اس وقت حضرت اس حوالے سے وہ آخری توانا آواز تھے جو ہر مجمع میں اپنے اکابر کے اس موقف کا اعلان بھی فرمایا کرتے اور اس پر عمل کی دعوت بھی مؤثر انداز میں دیا کرتے تھے۔

(۲) مدارس میں سرکار اور این جی اوز کی مداخلت اور ان کے زیر اثر مدارس کے نظام ونصاب میں تبدیلی کی کوششوں کی مزاحمت اور روک تھام۔ حضرت نے اپنی زندگی میں جو آخری طویل مضمون تحریر فرمایا وہ اسی موضوع پر تھا۔ انہوں نے اہل مدارس کو اسی خطرے سے آگاہ کیا۔پُرزور انداز میں اس کی مزاحمت کی دعوت دی،مدارس کو اپنے قدیم طرز پر باقی رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، این جی اوز کی تباہ کاریوں کا وقیع تجزیہ کیا اور بعض مدارس کے اس سلسلے میں کمزور رویئے پر تنقید فرمائی۔یہ مبسوط مقالہ ماہنامہ وفاق المدارس کے اداریے کے طور شائع ہوا۔ حضرت کی آخری فکر یہی تھی کہ مدارس اپنی اصل روش پر قائم رہیں اور زمانے کے بدلنے کو بہانہ بنا کر ان کا انداز فکر و عمل نہ بدلا جائے۔ عرصہ دراز سے شدید بیماری، معذوریوں اور جسمانی مشکلات کے باوجود وہ اس میدان میں ڈٹے رہے اور اس کے لئے سفر کی صعوبتوں کو برداشت فرماتے اور جگہ جگہ تشریف لے جا کر یہ درد سناتے۔

بالآخر ان کا یہ مشقت بھرا سفر اختتام پذیر ہوا اور دین کے یہ انتھک خادم، علم کے شیدائی ، تدریس کے بادشاہ اور مدارس کے محسن اپنی ساری تگ و دو کا اجر پانے احکم الحاکمین کے دربار میں جا پہنچے۔ ان سے محبت، نسبت اور ان کی قدردانی دل میں رکھنے والوں کے لئے لازم ہے کہ ان کی اس فکر کو مٹنے نہ دیں بلکہ پروان چڑھائیں اور ان کا پیغام روکنے کی بجائے پھیلائیں اور اس سے انحراف کی بجائے اس پر ثبات اختیار کریں اسی میں فتنوں سے بچاؤ ہے اور اسی میں کامیابی ہے۔

حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی دور حاضر کے ممتاز شیوخ طریقت میں سے تھے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہ سے تلمذ کی نسبت، خلافت کی نسبت اور خادم خاص و معتمد خاص کی نسبتوں کے امین تھے۔ حضرت شیخ کی انہی امانتوں کی انجام دہی میں زندگی صرف کی اور انجام بھی اسی امانت کی ادائیگی میں ہوا۔ جنوبی افریقہ میں اپنے شیخ کے متوسلین کے پاس دعوت دین کے لئے تشریف لے گئے اوراسی سفر کے دوران داعی اجل کو لبیک کہا۔ ختم نبوت کے محاذ کے انتھک سپاہی تھے اور سفیر اسلام حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حضرت مولانا ضیاء القاسمی رحمہم اللہ جیسے اکابر کی امانت انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے صدر نشین تھے۔اسی فورم سے دنیا بھر میں قادیانیت کا تعاقب اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ قادیانیت کے بنیادی اہداف میں سے ایک بڑا ہدف اِنکارِ جہاد تھا۔ حضرت ان کے اس نظرئیے کے صرف علمی نہیں عملی رد میں مشغول رہے اور زندگی بھر مجاہدین اسلام کی سرپرستی فرمائی۔ حضرت امیر محترم مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مکی قدس سرہ کا باہمی تعلق محبت کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جماعت کے ساتھ حضرت کا ہمیشہ بزرگانہ تعلق رہا۔ جماعت کے اجتماعات میں شرکت فرمائی خصوصاً فتح الجواد کی دونوں جلدوں کی تقریب تشکر کی صدارت حضرت نے فرمائی اور دونوں بار خصوصیت کے ساتھ حرمین سے سفر کر کے تشریف لائے۔ گذشتہ کئی سالوں سے حضرت کا اپنے سلسلہ طریقت کے حوالے سے تین روزہ اجتماع بہاولپور میں ہوا کرتا ہے۔ حضرت جب بھی تشریف لاتے اپنے رفیق سفر مفتی محمد شاہد صاحب کے ذریعے یاد فرماتے۔ حاضری میں انتہائی شفقت و محبت کا معاملہ فرماتے۔ آخری ملاقات میں مجاہدین کے لئے کافی بڑی رقم عنایت فرمائی۔ فرمایا کہ جہاد کے لئے جو بھی کچھ دیتا ہے اس کے لئے آپ حضرات پر ہی سب سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں۔ یہ جماعت اور حضرت امیر محترم کے ساتھ ان کا اعتماد و محبت کا رشتہ ہی تھا جس کا ان الفاظ میں اظہار فرمایا۔ حضرت سے ملاقاتیں اور محبت کی یادیں تو اتنی ہیں کہ ایک کالم ان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ابھی اچانک ہی ان کے ارتحال کی خبر ملی تو سمجھ بھی نہیں آ رہا کہ کیا لکھا جائے۔ ان کی صحت اور اسفار کے پیش نظر یہ گمان بھی نہیں گزرتا تھا کہ وہ اچانک یوں سفر آخرت پر چل دیں گے۔ بہرحال قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَاشَائَ فَعَل۔ دو دن میں دو اہل اللہ کا زمین سے اُٹھ جانا بہت خوف کا مقام ہے، ان حضرات کا وجود فتنوں سے امان ہوا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی ہر طرح کے فتنوں سے حفاظت فرمائے۔آمین

حضرت شیخ سلیم اللہ خان صاحب اور حضرت مکی قدس سرہما کے درجات بلند فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرما کر شایان شان اجر سے نوازے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor