Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دو تحفے (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف) (2)

Assalam-o-Alaikum 578 (Talha-us-Saif) - Do Tohfe

دو تحفے

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 578)

جماعت کی طرف سے ان ایام میں دو نئے تحفے اُمت کو پیش کئے گئے ہیں۔ آج کچھ ان کا تعارف ہو جائے۔

’’زاد طلبہ کا سیرت نمبر‘‘

پہلا دلنواز اِیمان اَفروز تحفہ جماعت کے شعبہ ’’ المرابطون‘‘ کی عصری اِداروں سے متعلق شاخ کے ترجمان سہ ماہی زاد طلبہ کا ’’سیرت النبی ﷺ ‘‘ نمبر ہے۔ آقا مدنی ﷺ کا نام مبارک ہی سراپا حسن ہے۔ آپ کا ذکر جس زبان پر آ جائے وہ شیریں ، حسین ہو جاتی ہے۔ جس مجلس میں آ جائے اس میں حسن دَر آتا ہے، جس وقت کیا جائے وہ وقت حسین ہو جاتا ہے، کائنات میں جو حُسن ہے سب آپ کے حُسن کا پَرتو ہے لیکن ’’المرابطون‘‘ کا شمارہ تو اس باطنی حسن کے ساتھ ساتھ ظاہری حسن سے بھی کچھ اس طرح لبریز ہے کہ نظر پڑتے ہی زبان پر سبحان اللہ اور درود شریف کے زمزمے جاری ہو جاتے ہیں اور ان نوجوانوں کی محنت پر رَشک آتا ہے کہ انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو کیسے بہترین مصرف پر لگایا اور آنکھوں کو کیسی ٹھنڈک پہچائی۔ آپ یقین کیجئے کہ جونہی اس رسالے پر آپ کی نظر پڑے گی آپ کو اس سے پیار ہو جائے گا اور پھر جوں جوں اسے دیکھیں گے، پڑھیں گے آپ کا دل عشقِ رسول ﷺ سے جگمگا اٹھے گا۔ ہر صفحہ نبی کریم ﷺ کے اسماء مبارکہ کے حسین بارڈر سے مزین، انتہائی اعلی درجے کا کاغذ، آثار نبوی کی ایمان افروز تصاویر جو آقا محمد ﷺ کے بچپن سے لے کر غزوات تک ایک ایک یاد کا نقش دل و دماغ پر ثبت کرتی چلی جائیں گی۔ دل میں عشق رسول ﷺ کی آگ بھڑکانے والے عاشقانہ مضامین، اُسوۂ نبوی ﷺ سے روشناس کراتی مفید ترغیبی تحریریں، سیرت مطہرہ کے مختلف پہلوؤں پر وقیع علمی نکات و تجزیات۔ دور حاضر کے لئے سیرت نبوی کا پیغام اور پھر ہر نظر کے ساتھ بار بار درود شریف کی بہاریں۔ غرضیکہ رنگ و نور کی ایسی حسین محفل ہے جس کا لطف رسالے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس تعارف میں اتنی سکت نہیں کہ اس کا احاطہ کر سکے۔ بہرحال جب سے یہ رسالہ دیکھا ہے دل و دماغ معطر ہیں اور مطالعے کے بعد اب بھی اس کے اَنفاس کی خوشبو کے جھونکے محسوس ہو رہے ہیں۔ ’’قارئین القلم‘‘ اسے ضرور حاصل کریں، آپ کو ابھی شائد یہ سطور کچھ مبالغے پر مشتمل محسوس ہو رہی ہوں لیکن مشاہدے کے بعدآپ انہیں رسالے کے حق سے کمزور باور کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ المرابطون کے دردمند نوجوانوں کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول سے نوازیں اور انہیں ان محنتوں کا شایان شان اجر عطاء فرمائیں۔ امت کے یہ درد مند نوجوان جس نظرئیے کی دعوت لے کر نکلے ہیں۔ عشق رسول ﷺ کی یہ ایمانی اور پُر نور محفل ان کے پیغام کو امت تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو گی اور ان کی دعوت کو مزید تقویت بخشے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں ثبات کی دولت سے نوازے اور ان کے کام میں برکت و ترقی عطاء فرمائے۔ قارئین القلم خود بھی اس سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے احباب کو تحفے کے طور پر دیں ۔یقین کریں آپ کی طرف سے اپنے پیاروں کے لئے ایک بہترین تحفہ ہو گا۔ جو انہیں خوشی کے ساتھ ساتھ ایمانی کیفیات سے بھی سرشار کرے گا اور ان کے لئے آخرت کے نفع کا بھی ذریعہ بنے گا۔

٭…٭…٭

دوسرا تحفہ برادر مکرم مولانا مدثر جمال تونسوی زید مجدہ کی تالیف ’’ جہاد فی سبیل اللہ…احکام و مسائل ‘‘ ہے۔ یہ کتابچہ دراصل سلطان العلماء شیخ عبد العزیز عز الدین بن عبد السلام قدس سرہ کے رسالے ’’اَحْکَامُ الْجِہَاد وَفَضَائِلُہ‘‘ کا ترجمہ ہے جس پر مولانا تونسوی نے مفید اضافات بھی کئے ہیں۔ شیخ عز الدین جو ’’العز بن عبد السلام ‘‘ کے نام اور سلطان العلماء کے لقب سے مشہور ہیں ۔ وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں تاریخ ایک عظیم مجدّد اور امت مسلمہ کے ایک بڑے محسن کے طور پر جانتی ہے۔ ان کا علمی مقام مسلّم ہے اور وہ حدیث و فقہ کے ماہر عالم دین کے طور پر مانے گئے ہیں اور درجہ امامت پا فائز شمار کئے جاتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ مشہور ان کے عملی کارنامے ہیں۔ ان کے حالات زندگی ایک مستقل تصنیف کا بہترین موضوع ہو سکتے ہیں مختصر تحریر میں ان کا احاطہ ناممکنات میں سے ہے۔ ایک ایسی جلیل القدر شخصیت جن کا وجود رُعب و دبدبے کا مرقع تھااور ان کا ایک ایک لفظ اسلامی ریاست میں ایسے قانون کی حیثیت اختیار کر لیتا تھا جسے چیلنج کرنا حکمرانوں کے بس میں بھی نہیں تھا۔ ان کی حق گوئی اور راست بازی کے ایسے محیر العقول واقعات تاریخ کا انمٹ نقوش ہیں جنہیں پڑھ کر عقل ورطۂ حیرت میں رہ جاتی ہے اور پھر امت پر ان کا یہ احسان کس طرح فراموش کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے فتنۂ تاتار کے خاتمے اور اسلامی مقبوضات کی واگذاری میں وہ قائدانہ اور ناقابل فراموش کردار ادا کیا کہ پورے عالم اسلام کو تاراج کرنے والا یہ فتنہ محض دو سال کے عرصے میں اپنا وجود ہی کھو بیٹھا۔ یہ شیخ العزّ ہی تھے جن کے نعرہ مستانہ نے نو مسلم ممالیک کے قلوب جذبہ جہاد سے لبریز کر دیئے اور انہوں نے عراق وشام کی طرح ہلاکو کے سامنے سپر اندازی اور ذلت کی موت پر عزت کے ساتھ مقابلے کو ترجیح دی۔ یہ شیخ کا وجود مسعود تھا جسے اپنے درمیان میدان میں پا کر غازیوں کے جسموں میں وہ قوت پیدا ہوئی کہ ان کے مختصر سے لشکر نے ’’تاتار‘‘ کے ٹڈی دل کو بکھیر دیا۔ اور پھر یہ یلغار اس وقت تھمی جب تاتاری پہلے اپنے پہاڑی دَرّے اور پھر اسلام کی آغوش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یہ شیخ کی دعوت جہاد کا اعجاز تھا کہ سرزمین عرب پر بچے کھچے صلیبی لشکر اور ریاستیں اسلامی لشکروں کے گھوڑوں تلے روندی گئیں اور تمام صلیبیوں کو سمندروں کے پار دھکیل دیا گیا۔ گویا جو کام نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی نے شروع کیا وہ شیخ کے ہاتھوں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ ایسی عظیم جہادی شخصیت کی ایک علمی اور جہادی یادگار کو عوام الناس تک پہنچانا بلاشبہ ایک بڑی دینی خدمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے رفیق مکرم مولانا تونسوی کے مقدّر میں لکھی تھی اور وہ پایہ تکمیل کو پہنچی۔ مولانا خود ایک جذبہ جہاد سے سرشار بلند پایہ علمی ذوق کے حامل عامل دین ہیں، خصوصاً اکابر علماء دیوبند کے علمی مآثر سے خوشہ چینی کا خاص ذوق و شوق رکھتے ہیں۔ بلاشبہ وہ اس سعادت کے بہترین حقدار تھے۔ یہ کتاب شائع ہو کر جماعتی مکتبوں میں آ چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں اور اس کا نفع عام فرمائیں۔ آمین

قارئین القلم اس کو حاصل کریں اور ایک عظیم الشان علمی، جہادی شخصیت کی والہانہ دعوت جہاد کا لطف اُٹھائیں ۔ باقی اس کتاب میں جو کچھ ہے وہ کتاب کے مطالعہ سے سامنے آ جائے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor