Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تم مغلوب ہو گے (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف) (3)

Assalam-o-Alaikum 579 (Talha-us-Saif) - Tum Maghloob hoge

تم مغلوب ہو گے

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 579)

ہمیں قرآن مجید میں ایسے موقع پر کرنے کا کام سکھایا گیا اور دینے کے لئے جواب سمجھایا گیا ہے۔ آئیے اس پر عمل کرتے ہیں…

غزوہ بدر کے فورا بعد کا تذکرہ ہے۔

نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام فاتحانہ شان کے ساتھ مدینہ منورہ لوٹ کر آئے۔ غنیمت کا مال بھی ہمراہ تھا اور قیدی بھی۔ فتح کی خوشی اور سرشاری تھی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان پختہ تر ہو چکا تھا۔ میدان جنگ میں مدد کے لئے آنے والی بارش سے نہائے تھے، فرشتوں کو اپنی صفوں میں لڑتے ہوئے دیکھا تھا، ابو جہل جیسے موذی کا سر مٹی میں ملا کر اسے گھسیٹ کر گندے کنویں میں پھینک آئے تھے۔ آئندہ کے لئے بڑی بڑی فتوحات کے وعدے ملے تھے اور ان سب سے بڑھ کر اس راستے میں قربان ہونے والوں کے لئے جو فضائل ، مناقب اور انعامات اُترے تھے انہوں نے عزائم میں ایک عجیب سی بجلی بھر دی تھی۔ غرضیکہ بہت سے ایسے اسباب غزوہ بدر میں جمع ہو گئے کہ اس غزوہ سے لوٹنے والے مسلمان کافی بدلے بدلے دِکھائی دے رہے تھے۔ ایسے میں یہود کو خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے اس خطرے کا سدّباب خوفزدہ کرکے کرنا چاہا۔

 یہود نے مسلمانوں کو اور سب سے بڑھ کر نبی کریم ﷺ کو کافی ستایا تھا۔ ان کی ایذائیں جسمانی نہیں تھیں مگر جسمانی سے بڑھ کر تھیں۔ قرآن مجید ان کی شرارتوں کا تفصیل سے تذکرہ کرتا ہے۔ اب انہوں نے دیکھ لیا کہ مسلمانوں نے مشرکین مکہ سے ستم رسانیوں کا کیسا کڑا اِنتقام لیا، اب ان کے حوصلے بلند ہیں، ایسا نہ ہو کہ ہم سے بھی یہی سلوک کر گذریں، انہوں نے اس خطرے کے سدّباب کی ترکیب یہ سوچی کہ مسلمانو ںکو خوفزدہ کیا جائے تاکہ وہ کوئی اِقدام نہ کریں۔

انہوں نے کہا:

آپ کو بدر کی فتح دھوکہ میں نہ ڈال دے، مشرکین آپ کی قوم کے لوگ تھے، آپ ان کے طریق جنگ سے واقف تھے اور وہ بھی قرابتوں کے ہاتھوں مجبور۔ اس لئے آپ ان پر غالب آ گئے۔ اور ہاں ان کا کوئی مددگار بھی تو نہ تھا۔ ہم سے جنگ کرنے کا نہ سوچئے گا۔ ہم بہت جنگ آزمودہ لوگ ہیں اور آپ کو علم نہیں کہ ہم کیسا لڑتے ہیں۔ ہم لاوارث بھی نہیں۔ قریب میں جنگی قلعوں سے بھری خیبر کی آبادی ہماری ہے اور ہماری پشت پر دنیا کی ایک بہت بڑی طاقت ’’شام ‘‘ موجود ہے۔ ایک اشارہ کر دیں گے تو وہاں سے لشکر دوڑے چلے آئیں گے۔ اس لئے ’’الحذر الحذر‘‘ ۔ ہم سے جنگ کا خیال بھی دل میں نہ لائیے گا۔ یوں اپنے خوف کو تخویف کے ذریعے کم کرنے کی چانکیائی کوشش بروئے کار لائی گئی اور سیاست میں طاق مانے جانی والی قوم کو گمان تھا کہ تیر نشانے پر لگے گا اور نتیجہ حسب توقع آئے گا مگر …

ہوا یوں کہ ایک آیت نازل ہوئی اور اس نے مسلمانوں کو قیامت تک ایسی تخویف اور دھمکی سے نمٹنے کا طریقہ اور دھمکی دینے والوں کو جواب دینے کا سلیقہ سکھا دیا۔

’’ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب ہو گے اور جہنم کی طرف ہانک دئیے جاؤ گے، جو بُرا ٹھکانہ ہے۔‘‘ ( آل عمران)

ساری دھمکیوں اور گیدڑ بھبھکیوں کا دو لفظی جواب:

تم مغلوب کئے جاؤ گے

تم جہنم رسید کئے جاؤ گے

بس دھمکیوں کی مشین گن کے ٹریگر پر انگلی دبائے ٹرمپ کے لئے قرآن پڑھنے والوں کا یہی جواب :

تم مغلوب کئے جاؤ گے

تم جہنم رسید کئے جاؤ گے

کسی کو ہنسنا ہو زور سے ہنس لے کیونکہ اس وقت بھی اس بات پر ہنسا گیا تھا۔

لیکن یہ اِسلام کا اعلان ہے۔ اسلام سیکولرز اور لبرلز کی طرح ہوائی بات نہیں کرتا۔ اس کا ہر دعویٰ دلیل پر قائم ہوتا ہے اور عملی مثال بھی رکھتا ہے۔ شک کرنے والوں اور ہنسنے والوں کو بھی اس نے اگلی ہی آیت میں جواب دید یا اور جنہیں جواب سکھایا گیا تھا انہیں بھی مثال سمجھائی کہ اگلے سوال کا جواب دے سکیں۔ سن دو ہجری کے جواب ۱۴۳۸؁ھ کے جواب تک سب کی ایک ہی دلیل ہے۔ ایک ہی حجت ہے اور ایک ہی مثال۔ یعنی ’’بدر‘‘

بدر کو یاد کرو۔ دھمکی دینے والے بھی بدر کو ذہن میں رکھیں اور یاد رکھیں ’’بدر‘‘ ایک معرکے اور ایک نصاب کا نام ہے اور ایک سبق ہے۔ جواب دینے والے بھی پورے یقین اور ایقان کے ساتھ جواب دیں کیونکہ وہ بدر والے اور بدر والے رب کے حکم پر ، اس کے بھروسے پر یہ جواب دیں۔

اس لئے ایک بار پھر سن لیجئے!

بنوقینقاع کے بڈھے سیاستدان سردار سے لے کر ٹرمپ تک سب کے لئے سدا بہار جواب ہے:

تم مغلوب ہو گے

تم جہنم رسید کئے جاؤ گے

ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے۔

دھمکی دینے والوں نے مغلوب بھی ہونا ہے اور جہنم رسید بھی لیکن اس کا کوئی وقت، دورانیہ اور ڈیڈ لائن نہ پہلے دی گئی تھی نہ اب دی جا سکتی ہے۔ بس جو دھمکی آمیز لہجہ سنے، فرعون کے انداز میں بات کرتا دیکھے ، طاغوت کو اپنی طاقت کے نشے میں ’’مٹا دوں گا‘‘ کی صدائیں لگاتا پائے، اس پر لازم ہے کہ قرآن کی زبان میں جواب دے دے۔ پھر اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ یہ مرحلہ کب مکمل ہو۔ بدر والوں میں سے کئی یہ جواب دینے سے پہلے دنیا سے چلے گئے تھے۔ جواب دینے والے کئی یہ مرحلہ آنے سے پہلے قربان ہو گئے اور اپنی آنکھوں سے وہ وقت نہ دیکھ سکے مگر یہ سب کامیاب رہے۔ اعلیٰ درجے کے کامیاب۔ بس مسلمان کا کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر فوری عمل کرے۔ یقین کے ساتھ عمل کرے اور پھر نتیجے کے دن نہ گنے۔ پے درپے شکستوں سے چور کافر پھر دھکمیوں پر اُتر آئے ہیں انہیں اسی لہجے میں جواب دے دیا جائے۔ جو شک کرے اسے ’’بدر ‘‘ یاد دِلا دیا جائے اور پھر نتیجہ رب الاسباب کے علم اور مصلحت پر چھوڑ دیا جائے۔ بس…

ٹرمپ اپنی دھکمیوں کے ساتھ ایک عدد’’ پاگل کتے‘‘ کو میدان میں لایا اور اس نے فخریہ لہجے میں اعلان کیا ہے کہ وہ اس جنگ کی کمان جنرل جیمس میٹ عرف میڈ ڈوگ کے حوالے کر رہا ہے۔ عقلمند کتے فیل ہو گئے۔ اسلام کے دیوانوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اب اس کام کے لئے ایک پاگل کتا میدان میں اُتارا گیا ہے۔ ٹرمپ کو خبر ہو کہ ایسے کئی پاگل کتے جہاد کو مٹانے نکلے تھے، تاریخ میں صرف ان کے نام اور ٹوٹے ہوئے دانت محفوظ رہ گئے ہیں۔ یہ کتا تو ویسے ہی عراق اور افغانستان میں اچھی طرح آزمایا ہوا ہے۔ نہ ٹھیک سے کاٹ سکتا ہے اور نہ اچھا بھونک سکتا ہے۔ بہتر ہو گا اس کے لئے دودھ پلانے والے فیڈر کا ابھی سے انتظام کر لیا جائے۔ جب بیچارے کے دانت نہ رہیں گے، اس وقت کام آئے گا۔

اسلام اور جہاد کو آنے والی ہر دھمکی کا قرآنی جواب سن لیا جائے، اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے۔ آج یہ جواب دینے والے نہ بھی رہے تب بھی ہونا یہی ہے۔

تم مغلوب ہو گے

تم جہنم رسید کئے جاؤ گے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor