Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

یکجہتی کشمیر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 580 (Talha-us-Saif) - Tum Maghloob hoge

یکجہتی کشمیر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 580)

ایک اور یومِ یکجہتی کشمیر گزر گیا…

مجاہدین نے یکجہتی کا اظہار کیا تجدید عہد کے ذریعے… اعلان کیا گیا کہ کشمیر کا جہاد اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکام کی روشنی میں کیا جا رہا ہے۔ ہمیں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے اِعراض کرنے اور سستی دِکھانے پر ’’ومالکم‘‘ کہہ کر جھنجھوڑا گیا ہے۔ اس کے ترک پر وعید سنائی گئی ہے۔ ’’ فعلیکم النصر‘‘ کا امر وجوبی دیا گیا ہے اور غفلت کرنے پر ’’فساد کبیر‘‘ اور ’’فتنہ‘‘ کے وقوع سے ڈرایا گیا ہے…

کشمیر کے مسلمان نے اپنی امیدیں ہم سے وابستہ کر کے ہم پر اِتمام حجت کیا ہے۔ وہ آج بھی پاکستان کے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں، پاکستان کے نعرے لگاتے ہیں اور اپنی مدد کے لئے پاکستانیوں کو ہی پکارتے ہیں۔ جنہوں نے کشمیر کا جہاد کسی کے کہنے پر، کسی کی پالیسی پر شروع کیا ہو گا وہ راستہ بدل لیں، بڑے شوق  سے بدل لیں بلکہ اکثر نے بدل بھی لیا۔ کل تک تیس بتیس ناموں کی گونج سنائی دیا کرتی تھی آج صرف ہاتھ کی انگلیوں جتنے رہ گئے۔ کچھ حکمرانوں کی سوچ میں بہہ گئے ، کوئی بدلنے والوں کے اشارۂ ابرو پر بدل گئے، کسی سے باڑ کی سختی نہ جھیلی جا سکی، چند دور ابتلاء سے اُبھر پائے اور بعض نے دوسرے جھنڈے تھام لئے۔ اب وہ کشمیر کو چھوڑ کر ان کا تحفظ کرتے ہیں جن کے تحفظ کے لئے پہلے ہی لاکھوں کے لشکر موجود ہیں۔ خیر نصیب اپنا اپنا، قسمت اپنی اپنی۔ جن کا جہاد اللہ و رسول کے حکم کی تعمیل اور کشمیری مسلمان کی آرزوؤں کی تکمیل کے لئے تھا وہ تو پابندی اور تبدیلیوں کے اس موسم میں اور زور سے گرجے اور ان کے قدم کشمیر کی حدوں کو پار کر کے بہت دور دور تک جا پہنچے۔ اور آج بھی کبھی پٹھان کوٹ ، کبھی نگروٹہ اور کبھی اوڑی، کبھی ٹنگڈھار۔ کشمیری مسلمان آج بھی گھر سے انہی کی تصویریں ہاتھوں میں تھامے نکلتاہے اور پیلٹ گنوں کے سامنے انہی کے جھنڈے لہراتا ہے۔ بدگوئی کرنے والوں کی الزام تراشی کی عادی زبانیں کوئی نہیں روک سکتا۔ شکوک پھیلا کر اپنے لئے بہانے تراشنے والوں کو پابند نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ کام غزوہ بدر کے دن سے آج تک برابر جاری ہے۔ وہ کسی بھی تحریک کو کچھ بھی کہہ کر مشکوک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن اللہ نے سننے کے لئے محض کان نہیں دئیے۔ بات کا جھوٹ سچ، غلط ٹھیک پرکھنے کو عقل بھی دی ہے۔ اَعداد و شمار بھی تو سامنے ہیں۔ حقائق بھی تو چلا چلا کر کچھ کہہ رہے ہیں۔ حکمرانوں کی پالیسیوں، اداروں کی سوچ اور قوم کا عمومی نظریہ بدلنے پر اگر سب بدل گئے ہوتے تو یہ اِلزام روا ہوتا مگر جنہوں نے جفاء کے اس موسم میں وفا کو شعار بنایا۔ رکاوٹوں کے اس سفر میں رُکنے کی بجائے قافلے کو تیز تر کیا اور

نوارا تلخ تر می زن چوں ذوقِ نغمہ کم یابی

حدی را تیز تر می خواں چوں محمل راگراں بینی

کو اپنا شعاروعمل کیا اور نیشنل ایکشن پلان سے خونی باڑ تک ہر پابندی کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھا۔ انہیں اس بات کی بھی کوئی پراوہ نہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں اور تجزیہ نگار ان کے لئے کیا الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس دن پھر اعلان کیا ہے کہ وہ ’’نصرۃ المستضعفین‘‘ کے عظیم مقصد پر مبنی اپنا یہ جہاد ہر حال میں جاری رکھیں گے، اسے نہ کسی عادل کا عدل روک سکے گا اور نہ کسی جابر کا جبر۔ اگر حالات موافق ہوں گے اور پالیسیاں ہم آہنگ تب بھی اور اگر مزاج شاہی برہم ہوا تب بھی۔ جب تک کشمیر سے پکارا جاتا رہے گا ’’فعلیکم النصر‘‘ کا واجب نبھایا جاتا رہے گا۔

لاکھوں فوج کھڑی کر کے ، پورے کشمیر کو فوجی چھاؤنی اور کیمپ جیل بنا کر، ناقابل عبور باڑ لگا کر اور اب اقوام متحدہ کے در پر دُہائیاں دے دے کے روکنے کی کوشش کرنے والے ہندوستان کے لئے بھی یہی اعلان ہے اور یہاں ایکشن پلان کی دھمکیاں دینے والے حکمرانوں اور ایجنٹی کے طعنوں کے ذریعے ٹانگیں کھینچنے والے ’’ معوقین ‘‘ کے لئے بھی۔ اور ہاں! آج بھی امید بھری نظروں سے بارڈر کے اُس پار دیکھنے والی کشمیری قوم سے بھی اس عہد کی تجدید ہے کہ افضل گورو شہید کے وارث کشمیر کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

٭…٭…٭

ہمارے حکمرانوں نے تو اس بار یوم یکجہتی کشمیر خوب زور شور سے منایا بلکہ انہوںنے تو یوم کی بجائے پورا مہینہ ہی منا ڈالا۔ تقریباً ایک ماہ پہلے سے ایسے اقدامات کا آغاز کر دیا جن سے کشمیری قوم کو یکجہتی کا پیغام جائے۔ آخر حکمران خود بھی کشمیری النسل ہیں، یہ اہتمام ان کا فرض بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے انڈین فلموں سے پابندی اُٹھا لی گئی اور پاکستان میں ان کی نمائش جاری ہوئی۔ عوام چونکہ حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں اس لئے انہوں نے بھی مثالی ہم آہنگی دکھائی اور یکجہتی کے اس عمل کو کھڑکی توڑ رَش سے نوازا۔ دوسرا اہم اقدام یہ کیا گیا کہ کشمیر قوم کی امیدیں جن سے وابستہ ہیں ان پر شکنجہ مزید کسا گیا۔ نئی پابندیاں ، گرفتاریاں اور نظر بندیاں عمل میں لائی گئیں۔ اس طرح کشمیری قوم کو پیغام دیا گیا کہ جہاد کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور ہندوستان بالکل ایک پیج پر ہیں۔ کشمیری عوام فکر نہ کریں۔ ہندوستان اکیلا جس کام کو کرنے سے عاجز ہو گیا اب پاکستان کے حکمران اس میں اس کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ تاکہ تحریک مزاحمت ختم ہو، پھر کشمیر میں وہی ہو جو مزاحمت نہ کرنے والی اقوام کے ساتھ ہوا کرتا ہے تاکہ پاکستان کی حکومت ان روتی چیختی تصاویر پر ماتم کر سکے اور دنیا بھر میں جا کر ان کی بناء پر کشمیریوں کی ہمدردی بٹور سکے اور معزز اراکین اسمبلی کو دنیا کے دورے کرنے کا ایک معقول جواز میسر آ سکے۔ مزاحمت ہی وہ رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے کشمیر نہ برما بن سکا اور نہ شام۔ کشمیری قوم چونکہ فی الحال انڈیا کے زیر قبضہ ہے اس لئے قابض کے ساتھ یکجہتی اور اشتراک عمل کو مقبوض کے ساتھ یکجہتی سمجھا جائے۔ تیسرا اہم اقدام یہ اٹھایا گیا کہ اس سال پانچ فروری کی رات ہنگامی حکمنامہ جاری کر دیا گیا کہ کشمیری عوام سے یکجہتی کے لئے صرف وہی نکل سکے گا جو سرکار سے اجازت نامہ حاصل کرے گا۔ چونکہ صبح اتوار بھی تھا اور یکجہتی کی چھٹی بھی تھی اس لئے سرکار کسی کی رسائی میں نہ تھی یوں بہت سی ریلیاں اور اجتماعات دھمکی کے بوجھ تلے دبا لیے گئے۔ آخری اور بڑا اقدام یہ کیا گیا کہ سرکاری سطح پر خاموشی اختیار کی گئی۔ سرکاری خزانے پر کسی بڑی تقریب کا بوجھ نہیں ڈالا گیا اور بچ جانے والی رقم بھی ایوان وزیر اعظم کی تزئین و آرائش کے اہم مصرف میں ڈال دی گئی۔ مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا ایک عالمی انداز منہ سی لینا بھی ہے ۔ سو اس بار سرکاری یکجہتی اسی انداز میں دِکھائی گئی۔

٭…٭…٭

رہی عوام تو ان کے لئے یہ چھٹی کا ایک دن تھا سو گذر گیا۔ جو لوگ چھٹی کے عام دن 12 بجے تک سوتے تھے وہ شائد دو بجے تک سوئے ہوں کیونکہ بازار اور سڑکیں بھی بند تھیں اور باہر نکل کر کرنے کا کوئی کام نہ تھا۔ قوم میں کتنا شعور ہے اور کتنی یکجہتی۔ اس کا موٹا سا اندازہ اس واقعے سے ہوا جو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا۔ راولپنڈی میں ریلی سے پہلے میں گلی میں کھڑا فون پر بات کر رہا تھا۔ قریب میں پختہ عمر کے دو شخص کھڑے اس امر پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے کہ پانچ فروری نے بروز اتوار واقع ہو کر ان کی ایک چھٹی ضائع کر دی ہے۔ اگر یہ ہفتے یا پیر کا ہو جاتا تو چھٹیاں دو ہو جاتیں اور وہ ذرا بچوں کو لے کر کہیں آوٹنگ پر نکل جاتے۔

٭…٭…٭

ڈونلڈ ٹرمپ نے آتے ہی جو ڈراوا مہم شروع کی تھی، شائد اس کا خیال تھا کہ ساری دنیا خوف سے تھر تھر کانپنے لگے گی اور پھر وہ جسے جو کرنے کو کہے وہ عالم خوف میں اس کے احکامات مانتا چلا جائے گا لیکن… امریکہ کے اندر اور باہر ہر جگہ سے اسے کرارے جواب ہی ملے اور اب وہ اپنی حکومت کے پہلے ہی مہینے وہ کام کرنے لگا ہے جو دیگر امریکی صدر صدارت کے آخری مہینے میں کرتے ہیں یعنی کھسیانی بلی والی پھیکی جگتیں۔ خیال تھا کہ ڈرانے میں ناکام ہو کر یہ ڈریکولا مایوس کر سدھر جائے گا اور ڈرانے کی کوشش ترک کر دے گا مگر اسے یہ امید افزاء خبر سنا دی گئی ہے:

’’سر! دو بھائی ڈر گئے ہیں اور انہوں نے ڈر کر کام بھی شروع کر دیا ہے‘‘ …

اب چاہے وہ ساری دنیا کو ڈرانے سے باز آ جائے ہمیں ڈراتا ہی رہے گا۔ لہٰذا اب ایک جج کے ہاتھوں بے عزت بے لباس بے وقار ہو جاتے ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے لئے ڈو مور ڈومور کے مطالبات کا انتظار کیجئے۔ اور اگلے کئی سال یہ جملہ سنتے رہیے۔ کاش ایوان اقتدار کے کھانے پینے اور آرائش کے اربوں روپے کے بجٹ میں مثانہ مضبوط کرنے والی گولیوں کی فراہمی کا بھی اضافہ کر لیا جاتا۔

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor