Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

تحریک کشمیر کے مختلف اَدوار (۱) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 581 (Talha-us-Saif) - Tum Maghloob hoge

تحریک کشمیر کے مختلف اَدوار (۱)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 581)

پاکستان میں جب بھی کشمیر میں جہاد کرنے والی جماعتوں اور شخصیات پر پابندیوں اور سختیوں کا دور آتا ہے، تحریک آزادیٔ کشمیر مضبوط ہوتی ہے یا کمزور؟

سرینگر یونیورسٹی کے چند طلبہ اور چند سیکولر لیڈروں کے بیانات سنا کر بی بی سی اور دیگر نشریاتی اِدارے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کشمیر کی عوام مسلح جہاد سے بے زار ہے، مجاہدین کو تحریک آزادی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے اور اس کے خیال میں مجاہدین کی وجہ سے ان کا کیس کمزور ہو رہا ہے لیکن بارڈر سے لے کر سرینگر تک کوئی ایک جھڑپ اور کسی ایک مجاہد کا جنازہ ان کے اس پروپیگنڈے کو غلط ثابت کر دیتا ہے۔

ہمارے ملک میں سیکولر اور لبرل تو چھوڑئیے کئی رائٹسٹ تجزیہ نگاروں کا بھی یہی خیال ہے اور وہ خصوصاً ان ایام میں اپنے نظرئیے کا تیزی سے پرچار کرنے لگتے ہیں جب حکومت کو بیرونی اشاروں پر مجاہدین کے خلاف سرگرم پائیں۔ شاید حکومت اپنے اقدامات کو سند جواز فراہم کرانے اور انہیں ہر طبقے میں قابل قبول بنانے کے لئے خود انہیں متحرک کرتی ہے۔ لیکن ایسا ضروری بھی نہیں ہے، ہو سکتا ہے یہ ان کا مخلصانہ نظریہ ہو مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس بات میں کوئی حقیقت بھی ہے؟…

تحریک کشمیر کے تین ادوار ہیں بلکہ اگر چار کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ ایک دور پہلی مسلح تحریک کا ہے جو ۱۹۴۸؁ء میں برپا ہوئی۔ اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ آج ریاست جموں و کشمیر کا جو حصہ آزاد کشمیر کے نام سے ہمارے پاس ہے وہ اسی مسلح تحریک کا رہینِ منت ہے۔ اس جہاد میں جموں و کشمیر کے عوام کے علاوہ آزاد قبائل کے لشکروں نے بھی حصہ لیا اور یہ بات تاریخ کا انمٹ نقش ہے کہ ڈوگرہ سرکار بھارتی حکومت کی مدد کے باوجود ان مجاہدین کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گئی تھی اور اگر ہماری فوج اس وقت حکومت کے احکامات کو نظر انداز نہ کرتی اور عالمی طاقتوں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر حق خود ارادیت مہیا کرنے کے جھوٹے دعوے کے جھانسے میں آ کر اس لشکر کو واپس نہ بلا لیا جاتا تو پورا کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بن جاتا۔ لیکن ہندوستان عالمی طاقتوں کو ساتھ لے کر اپنی اس کوشش میں کامیاب رہا اور مسئلہ کشمیر کی فائل آج تک ایوانوں میں خوار ہو رہی ہے اور حق خود ارادیت دِلانے کا وعدہ ابھی تک تشنۂ تکمیل ہے۔ کیا کوئی ایک بھی ذی ہوش شخص ایسا ہے جو یہ کہہ سکتا ہو کہ کشمیر کا یہ آزاد حصہ سیاسی تحریک سے آزاد ہوا یا آزاد ہو سکتاتھا؟ اگر اس وقت لشکر کشی کرنے کی بجائے ان دانش وروں کی سوچ کے مطابق یہ باور کر لیا جاتا کہ سیاسی تحریک ہی آزادی کے حصول کا واحد ذریعہ ہے اور عسکریت سے تحریک مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہو گی تو کیا یہ حصہ آج آزاد کہلا رہا ہوتا؟ اس کے برعکس یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس عسکریت سے قبل کی سیاسی تحریک کشمیر کی زمین کے ایک چپے کوبھی آزاد کرانے میں مکمل ناکام رہی تھی۔

دوسرا دور جنگ بندی کے بعد سے اَسّی کی دہائی کے آخری سالوں تک کا ہے جس میں یہ تحریک مکمل سیاسی طریقے سے چلائی گئی اور اس میں عسکریت اور مسلح جہاد کا عنصر بالکل بھی شامل نہیں ہوا۔اس پورے دور کا نتیجہ بھی کھلے الفاظ میں اعلان کر رہا ہے کہ عسکریت کے بغیر چلنے والی اس تحریک کو بھی کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اس پورے عرصے میں نہ کبھی ہندوستان مذاکرات پر آمادہ ہوا۔ نہ اس نے کبھی کشمیر کو کور ایشو کے طور پر تسلیم کیا، نہ کسی عالمی فورم پر کشمیر کا مسئلہ اہمیت کے ساتھ گونجا۔ بس پاکستان کی طرف سے عالمی فورمز پر مریل سی آواز زندہ رہی۔ ہر سال میمورنڈم پیش کئے جانے کی رسوم ادا کی جاتی رہیں۔ چھوٹے چھوٹے سرکاری اجتماعات میں مسئلہ کشمیر اجاگر کیا جاتا رہا اور اقوام متحدہ کے کان میں گاہے بگاہے حق خود ارادیت کے وعدے کی یاد دہانی ڈالی جاتی رہی۔ اس رسمی دوڑ کے علاوہ اس سلسلے میں کچھ ہوا ہو تو ریکارڈ پر لایا جائے لیکن کچھ ہو گا تو لایا جائے گا۔ کتنے بڑے سیاسی نام اس جدوجہد میں تاریخ کی گرد بن گئے لیکن کشمیر اور اہل کشمیر کو کچھ حاصل نہ ہو سکا۔

اس کے بعد آغاز ہوتا ہے تیسرے دور کا۔ یہ دور دہلی کی تہاڑ جیل میں مقبول بٹ شہید کو پھانسی دئے جانے سے شروع ہوا اور پرویز مشرف کے ستمبر دو ہزار ایک کے یوٹرن تک پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہا۔ اس دور میں تحریک آزادی کشمیر نے جہاد کشمیر کا روپ دھارا اور اس کی گونج کشمیر کی ہر گلی، ہر جنگل، ہر وادی سے ہوتی ہوئی ہندوستان کے ایوانوں تک پہنچی اور دنیا کے رہنماؤں ، ملکوں اور اداروں کو کشمیر کی اچھی طرح یاد دہانی کرائی۔ کشمیر سے ہر روز کئی کئی تابوت ہندوستان کے ہر کونے میں پہنچنا شروع ہوئے تو انڈین عوام کو بھی یاد آیا کہ ان کے ملک میں کشمیر نامی ایک مسئلہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے۔ اس دور کے نتائج بھی دنیا کے سامنے ہیں۔ ہندوستان کتنی بار خود دعوت دے کر مذاکرات کی میز پر آیا۔ اس نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا۔ پاکستان کے موقف میں بھی مضبوطی آئی اور اس نے بھارت کے ساتھ کئی مواقع پر سختی سے بات کی اور بھارت بات سننے پر مجبور ہوا۔ کشمیر کے ہمت ہار چکے عوام کو نیا حوصلہ اور ان کے عزائم کو نئی زندگی ملی اور وہ قوم جس تیزی سے جذبہ حریت سے دستبردار ہو کر انڈیا کی غلامی کو دل سے یا مجبوری سے تسلیم کرنے چلے جا رہی تھی، اس قوت سے آزادی کا نعرہ لے کر اٹھی کہ دنیا بھر کو اس کا نوٹس لینا پڑا۔ سیاسی تحریک کو اصل قرار دینے والے دانش ور حضرات صرف اسی بات پر غور کر لیں کہ عسکری تحریک سے پہلے سیاسی تحریک کس حال کو پہنچ چکی تھی اور عسکری تحریک نے اس سیاسی تحریک کو بھی کس قدر قوت اور توانائی مہیا کی۔ کیا اس نکتے پر ایمان داری سے غور کرنے کے بعد بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عسکری تحریک نے کشمیر کاز کو کمزور کیا؟ہاں ضد اور عناد کا کوئی علاج نہیں۔

کشمیر کی سیاسی قیادت کو عسکریت کے اس ہنگامہ خیز دور میں کیا مقام حاصل ہوا، انہیں سے پوچھا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کتنی بار ان لیڈروں سے بات چیت کرنے پر مجبور ہوا۔ انہیں سفری آزادیاں مہیا کیں، ان کی شرائط پر بات پر آمادگی ظاہر کی اور انہیں ہندوستان کے مختلف فورمز پر آ کر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ان لیڈروں کی پشت پر جب عسکری قوت پورے قد سے کھڑی تھی تو ان کا بات چیت کا لب ولہجہ کیا تھا، وہ بھی زیادہ پرانی بات نہیں سب کو اچھی طرح یاد ہی ہو گا۔

اور اب ہم جبکہ تحریک کے چوتھے دور سے گذر رہے ہیں ان سابقہ تمام ادوار کے نتائج و عواقب سامنے رکھ کر بہت اچھی طرح یہ تجزیہ کرنے کے قابل ہیں کہ ان میں سے کون سا دور کتنا مؤثر رہا اور کتنا غیر مؤثر۔ یہ وہ دور ہے جو پرویز مشرف کے عالمی قوتوں کے سامنے دب کر کئی قومی پالیسیوں سے یوٹرن لینے پر شروع ہوا۔ اس دور میں کشمیر کی داخلی عسکریت کو کمزور کرنے اور کمک سے محروم کرنے کے لئے انڈیا کو لائن آف کنڑول پر غیر قانونی باڑ لگانے کی مکمل آزادی دی گئی اور کشمیر میں جہاد کرنے والی تنظیموں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں سرکاری طور پر کالعدم قرار دیا گیا اور سرکاری سرپرستی میں جہادِ کشمیر کے خلاف ہر سطح پر پروپیگنڈا کر کے اسے عوام الناس کے ذہنوں سے نکالنے کی سعی کی گئی اور ایسے دانش وروں کی پوری فصل ہنگامی طور پر اُگائی گئی جن کا کام اب دن رات یہی ہے کہ لوگوں کو باور کرائیں کہ مسلح جہاد نے تحریک کشمیر کو کیا نقصان پہنچا ئے ہیں۔ اس دور اور اس پالیسی کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے۔ آئندہ کالم میں عرض کروںگا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

 

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online