Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تحریک کشمیر کے مختلف اَدوار (۲) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 582 (Talha-us-Saif) - Tum Maghloob hoge

تحریک کشمیر کے مختلف اَدوار (۲)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 582)

تحریک کے اس دور میں پرویز مشرف نے ہندوستان کے لئے جو کارنامہ سر انجام دیا امید ہے آئندہ کسی زمانے میں اسے اس پر ہندوستان کے کسی بہت بڑے ایوارڈ سے نوازا جائے۔ یہ کارنامہ تھا لائن آف کنٹرول پر باڑ کی تعمیر کی اجازت بلکہ حفاظت کا ۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایسی باڑ انٹرنیشنل بارڈر پر لگائی جا سکتی ہے متنازعہ سرحدی پٹی پر نہیں، جبکہ انڈیا کو اسی متنازعہ پٹی پر ایسی باڑ لگانے کی اجازت مع مکمل تحفظ کی گارنٹی دی گئی جو اس نے آج تک تسلیم شدہ سرحد پر بھی نہیں لگائی۔ یہ ایک ایسا مجرمانہ فعل تھا جس نے تحریک کو گذشتہ بارہ سال کی محنت اور تگ و دو کے نتائج سے کافی دور دھکیل دیا۔ یہ باڑ لگا کر انڈیا کشمیر میں موجود مجاہدین کی سپلائی لائن کاٹنے میں کامیاب ہو گیا ۔ اندر موجود مجاہدین وسائل کی قلت سے دوچار ہوئے اور انڈیا کو ان کے خلاف کریک ڈاؤن کی آزادانہ چھوٹ ملی۔ مزید کام سرحد کے اِس پار مجاہدین پر پابندیوں نے کر دیا اور یوں کشمیر میں جاری مسلح تحریک کے مکمل خاتمے کا خواب دیکھا جانے لگا۔ پرویز مشرف کی سوچ بھی یہی تھی جو آج کے دانش ور کی ہے کہ اس تحریک کو اگر مکمل غیر مسلح کر دیا جائے تو اسے سیاسی فائدہ ہو گا۔یہ تحریک کمزور ہونے کی بجائے مضبوط ہو گی اور اس کا نتیجہ قریب تر ہو جائے گا۔ اس کا خیال تھا کہ اسے مکمل سیاسی تحریک بنا کر عالمی برادری کو اس کی طرف متوجہ کیا جا سکے گا اور اقوام متحدہ کو اپنی بھولی بسری قرارداد پر عمل کی طرف لایا جا سکے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے عسکریت کو کمزور کرنے کے ساتھ اس نے کشمیر کی سیاسی قیادت پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ عسکریت پسندی سے مکمل براء ت کا اعلان کر دے، مجاہدین سے لا تعلق ہو جائے، ان سے ہر ناطہ توڑ لے۔ اس کے بدلے میں وہ انہیں انڈیا سے کشمیر کے حل پر سمجھوتہ کرا دے گا۔

بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے اس سوچ کو پروان چڑھایا گیا اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو اس مقصد کے لیے پہلے دہلی اور پھر پاکستان کا دورہ کرایا گیا ۔ پاکسان میں ’’پگواش‘‘ کے عنوان سے جو کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس کا ایجنڈہ یہی تھا۔ انہی دنوں مقبوضہ کشمیر سے آنے والے ایک ایک سرکردہ سیاسی لیڈر سے ہماری ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے یہی سوال کیا کہ اس کانفرنس کے خفیہ مگر حقیقی ایجنڈے کے متعلق آپ کا قلبی خیال کیا ہے۔ یہ وہ لیڈر تھے جن کے بارے میں باور کیا جا رہا تھا کہ وہ شاید اس ایجنڈے کے حق میں ہیں اور پرویز مشرف کو بھی سب سے زیادہ امیدیں انہی کے ساتھ وابستہ تھیں۔ انہوں نے بالکل کھلے الفاظ میں کہا کہ جو بھی ایسا سوچ رہا ہے کہ کشمیر میں جاری مسلح جہاد کو ختم کر کے وہ مسئلہ کشمیر کو حل کے قریب لے جائے گا وہ انتہائی بے وقوف اور بے خبر شخص ہو گا۔ کشمیر کی سیاسی قیادت باشعور ہے اور وہ صرف تجزیاتی نہیں مشاہداتی طور پر یقین رکھتی ہے کہ ان کا قد کاٹھ اور وزن اسی عسکری تحریک کا مرہونِ منت ہے۔ اگر ہم نے آج انڈیا کے ساتھ عسکریت کو ختم کرنے پر اتفاق کر لیا اور وہ اقدامات اٹھا لئے تو انڈیا اپنا مقصد نکالنے کے بعد مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال دے گا اور پھر نہ پاکستان کی بات سنے گا اور نہ ہماری۔ پرویز مشرف خود پسندی کا مارا ہوا شخص ہے اس کا مقصد صرف اس خطے میں لیڈری کمانا اور عالمی برادری کے ہاں مقبولیت پانا ہے، وہ اسی مقصد کے لئے امارت اسلامیہ کو تباہ کرنے کے بعد جہادِ کشمیر کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے۔ ہم اس معاملے میں ہرگز اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اس کے بدلے میں اسے تو ممکن ہے نوبیل ایوارڈ مل جائے مگر ہماری قوم کی اتنی طویل جدوجہد اپنے مقاصد سے محروم رہ جائے گی۔

یہ تھی اس فارمولے سے متعلق ایک تعلیم یافتہ اور باشعور کشمیری لیڈر کی سوچ۔

لیکن پرویز مشرف نے کشمیری قیادت کی مزاحمت کے باوجود اپنے اسی ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ اس کے نتیجے میں انڈیا نے مجاہدین کو سختی سے کچل کر جونہی یہ محسوس کیا کہ کشمیر میں تحریک جہاد ختم ہوئی، اُس  نے پوری کشمیری قیادت کو نظربند اور قید کر لیا ۔ ہندوستان آنے جانے پر پابندیاں عائد کر دیں حتی کہ پاکستانی سفارت خانے کی تقریبات میں شرکت پر بھی قدغن عائد کر دی۔ کشمیری عوام پر ہندوستان کے تعلیمی اداروں کے دروازے بند کر دئے۔ ان پر جابجا حملے ہونے لگے۔کشمیر میں ہندو پنڈتوں کی منظم واپسی شروع کر دی۔ غیر کشمیری ہندوؤں کی آبادکاری کے اسرائیلی طرز کے منصوبے روبہ عمل ہوئے۔ انہیں مکمل تحفظ کا یقین دِلا کر کشمیر میں کاروبار کرنے پر آمادہ کیا گیا اور اس کے لئے سرکاری قرضے فراہم کئے گئے۔ جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں سے مسلمانوں کا مکمل اِنخلاء کیا جانے لگا۔ کشمیر میں ہندوؤں کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ ہونے لگا اور بی جے پی ، آر ایس ایس اور دیگر کٹر ہندو تنظیموں کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آنے لگا۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو برما اور گجرات جیسے حالات سے دوچا کرنے کی مکمل تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں۔ یقینی بات ہے جہاں مسلمان مزاحمت سے دستبردار ہو جائیں وہاں ایسی صورتحال ضرور وجود میں آیا کرتی ہے۔ ہندوستان میں کروڑوں مسلمان آباد ہیں لیکن مزاحمت نہیں کرتے اس وجہ سے بہار، بھاگل پور اور مظفر نگر جیسے واقعات آنا ًفاناً رونما ہو جاتے ہیں۔ ہندو کا خواب ہے کہ کشمیر میں بھی مزاحمت ختم ہو کشمیری مسلمان مزاحمت ترک کرنے کا اعلان کریں تاکہ انہیں ایسے حالات سے دوچار کیا جا سکے۔ انہیں سالوں میں آر ایس ایس کے سالانہ اجتماع میں مشہور شدت پسند ہندو لیڈر پراوین توگڑیا نے کشمیر کے بارے میں پالیسی بیان دیا کہ آر ایس ایس اور اس کے نظریے کی حامل سیاسی جماعتیں کشمیر میں اپنا اثرو رسوخ بڑھائیں۔ اپنی سرگرمیاں تیز کریں اور یہ بات کبھی نہ بھولیں کہ کشمیر سے ہندوستان کے ہر ضلع اور ہر تحصیل میں ہمارے جوانوں کے تابوت آئے ہیں۔ یہ کھلے الفاظ میں اہل کشمیر کے لئے دھمکی تھی کہ سیاسی طور پر مضبوط قدم جما لینے کے بعد وہ کشمیری مسلمانوں سے ان تابوتوں کا انتقام لیں گے۔ ادھر ان کی محنت عروج پر تھی اور ادھر پاکستانی حکومت کی پابندیوں اور بارڈر کی سختیوں کے پیش نظر جہاد کشمیر میں سرگرم جماعتیں بھی منظر عام سے غائب ہونے لگیں۔ کہاں تیس سے زائد جماعتیں اور کہاں یہ صورتحال کہ اب تین سے اوپر نام بھی کسی کو یاد نہیں رہے۔ ایسے میں دونوں طرف کے اہل عزیمت نے حالات کی سنگینی کا اِدراک کیا اورشہدائِ کرام کی امانت تحریک کشمیر کو ڈوبنے سے بچانے کی ٹھانی۔ یہ اب صرف نام بچانے کی تگ و دو نہیں پوری ایک قوم کے مستقبل اور صدی سے زائد کی جدوجہد کو بچانے کا مرحلہ تھا۔ دیوانے اُٹھے اور ناقابل عبور باڑ کو قدموں تلے روندتے ہوئے کشمیر کی طرف چل دئیے۔ یہ چومکھی لڑائی تھی۔ حکومت مخالف ہو چکی ، ادارے پالیسیاں بدل چکے، غیروں کے ساتھ اپنوں سے چھپنا بھی ایک مشکل مرحلہ اور ساتھ یہ بھاری مشقت اپنی جگہ کہ جہاد کشمیرکو ایجنسیوں کی آلہ کاری قرار دے کر ایک طعنہ اور بدنامی بنا دیا گیا تھا۔ ایسے میں ان ساری رکاوٹوں کو پھلانگنے کا عزم یقیناً عزیمت کا ایک بہت اونچا کام تھا جو کر لیا گیا۔ چین کی بانسری بجاتے انڈیا کو ایک دم دھماکوں کی آواز نے اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے چونکا دیا۔ تحریک کشمیر کے خاتمے کے اعلانیے جاری کر چکے انڈیا کو اس بار جس جہادی دور کا سامنا ہے وہ پچھلے دور سے سخت ترین ہے کیونکہ یہ جہادِ کشمیر کا خالص فدائی دور ہے اور فدائی یلغار کا مقابلہ کفر کے بس سے ہمیشہ باہر رہا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جہاد کشمیر جنگلوں اور وادیوں سے نکل کر ہائی ویلیو ٹارگٹس تک جا پہنچا ہے۔ ان جگہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انڈیا کے وہم و گمان میں بھی کبھی نہیں تھیں کہ مجاہدین ان تک پہنچ پائیں گے اور مجاہدین نہ صرف پہنچ پائے بلکہ جرأت و عزیمت کی داستانیں یوں رقم کر دیں کہ یہ مقامات اب جہادی کارروائیوں کے نام سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ جہاد کشمیر کا یہ مرحلہ کتنا دشوار اور اَعصاب شکن ہے یہ تو صرف وہی لوگ ہی جان سکتے ہیں جنہوں نے اس کا بیڑا اٹھا رکھا ہے البتہ کس قدر تباہ کن اور مؤثر ہے اس کا اندازہ انڈین میڈیا کو دیکھ کر بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ جہاد کشمیر کو کسی کی ایجنٹی یا کسی کے مفادات کی جنگ کہہ کر گذر جانے والے دانشور اور اہل علم اگر ایک بار صرف وہ باڑ اور اسے پار کرنے والوں کی عزیمت کو دیکھ لیں تو شاید اس ظالمانہ بات کو زبان پر لاتے ہوئے ہزار بار سوچیں لیکن جو عظیم لوگ یہ کام کر رہے ہیں وہ اس کے مقاصد کو بھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں، فوائد کو بھی، نتائج و اثرات کو بھی اور ضرورت کو بھی۔ اس لئے انہیں نہ تو کسی طعنے کی پرواہ ہے نہ کسی الزام کی۔جہاد کشمیر جس قدر سخت، کٹھن اور دشوار ہے اور اسے چھوڑ دینے پر کیسے کیسے دنیوی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں اس کے پیش نظر کوئی بھی کسی دنیوی مقصد کی خاطر اپنی اور اپنے پیارے ساتھیوں کی جانیں اس جوکھم میں ڈالے رکھنے کی بجائے اسے چھوڑ دینا ہی اچھا سمجھے گا۔ لیکن جن عظیم مقاصد کی خاطر یہ کام کیا جا رہا ہے ان کے سامنے یہ رکاوٹیں ہیچ در ہیچ ہیں اس لئے انہیں درخور اعتناء ہی نہیں سمجھا جاتا۔

رہی یہ بات کہ کشمیر کو کمزور کرنے میں اپنا حصہ ڈال کر پاکستان نے خود اپنا کس قدر نقصان کیا ہے اس کا تذکرہ آئندہ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اور ہاں یہ بھی بتانا باقی ہے کہ اس مرحلے پر کشمیر کے عوام کیا سوچ رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟…

لہٰذا ہمارے ساتھ رہیے ملتے ہیں ایک بریک کے بعد

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor