Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تحریک کشمیر کے مختلف اَدوار (۳) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 583 (Talha-us-Saif) - Tehrik e Kashmir k Adwar

تحریک کشمیر کے مختلف اَدوار (۳)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 583)

تحریک جہاد کشمیر سے پاکستان کو کیا فوائد تھے اور ہیں؟… یہ ایک اہم سوال ہے خصوصاً اس وقت اسے سامنے لانا بہت ہی زیادہ اہم ہے…

آپ کو ۱۹۷۱؁ء کا دلدوز سانحہ تو یاد ہو گا…

پاکستان کا ایک حصہ فوج کشی کر کے ہم سے کاٹ دیا گیا اور ایک ایسی ریاست وجود میں لائی گئی جو انڈیا سے الگ مگر اسی کی ایک کالونی کی حیثیت رکھتی ہے۔

ایک منٹ کے لئے فرض کیجئے اگر اس وقت کشمیر میں جاری تحریک سیاسی کی بجائے، عسکری ہوتی۔

ہندوستان کی لاکھوں آرمی نوّے کی دہائی کی طرح وہاں پھنسی ہوئی ہوتی۔

کشمیر سے فوج نکالے بغیر ہندوستان کے لئے ممکن ہو تاکہ وہ بنگال میں اتنی فوج داخل کر سکے جبکہ اسے باقی سرحد کا دفاع بھی درپیش ہوتا؟…

اس وقت پاکستان جس صورتحال سے دوچار ہوا اگر کشمیر میں جاری تحریک مسلح جہاد کا روپ اختیار کر چکی ہوتی تو بعینہ یہی صورتحال بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہندوستان کو کشمیر میں پیش آتی۔

اس کے بعد ۸۰ء کی دہائی کا وقت یاد کیجئے۔

ہندوستانی ایجنٹوں اور تربیت یافتہ تخریب کاروں کا پاکستان آنا۔ یہاں بم دھماکے کرنا اور دیگر تخریبی کارروائیاں عمل میں لانا اُن لوگوںکو اچھی طرح یاد ہو گا جو اُس زمانے میں شعور کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ جبکہ ان کارروائیوں کا پاکستان کے پاس کوئی ویسا موثر جواب نہیں تھا جو ان پر روک لگا سکے۔ کشمیر میں تحریک جہاد کے عروج کا زمانہ تو زیادہ پرانا نہیں، کیا اس عرصے میں بھی کوئی سربجیت سنگھ پاکستان میں بم لگاتا پکڑا گیا؟…

وجہ کیا تھی؟

بالکل واضح بات ہے کہ کشمیر میں جاری جہاد کی پہنچ ہندوستان میں ہر جگہ تک تھی۔ مجاہدین نے بارہا کئی انتہائی ہائی ویلیو ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر اس کا عملی ثبوت بھی دیا کہ وہ اگر انڈیا کے اندر وار کرنے پر آئیں تو ان کا وار انڈیا کی طرح سائیکل بموں کے دھماکوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کی نوعیت مختلف ہو گی۔ یہ وہ چیز تھی جس نے ہندوستان کے ہاتھ باندھ دئیے اور اس کے بُرے عزائم پر مکمل روک لگا دی۔ وہ اس خوف سے پاکستان کے اندر کوئی کارروائی نہیں کرتا تھا کہ اسے اس کا بہت بھاری جواب انڈیا کے اندر کہیں بھی مل سکتا ہے۔

بھارت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے کچھ علاقوں میں کشمیر جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ کراچی اور بلوچستان کو بطور خاص نشانہ بنایا۔ کچھ طبقوں کو محرومی کے اِحساس میں مبتلا کر کے لسانیت اور قومیت کے نام پر مسلح تحریکیں کھڑی کیں۔ انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کی۔ اربوں کی فنڈنگ ہوئی، انہیں خوفناک اسلحہ سے لیس کیا، ان کی عسکری ٹریننگ کا نظام مہیا کیا اور انہیں اپنے خیال کے مطابق اس قدر باوسائل اور طاقتور بنایا کہ جب حکم ملے وہ ان علاقوں کو پاکستان سے کاٹ دیں اور اس وقت تک حالات کو خراب در خراب کئے رکھیں۔ اس پوری کارروائی کا سبب بھارت کی کشمیر میں مکمل بے بسی اور لاچارگی تھی۔ وہ اس عسکری تحریک کے بوجھ تلے اس طرح دَب گیا تھا کہ اسے نجات کا صرف یہی ایک راستہ نظر آیا۔

لیکن یہ منصوبہ اس کی سوچ کے مطابق کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ تحریکیں ضرور پروان چڑھیں، حالات بھی خراب ہوئے لیکن چونکہ ان علاقوں کی عوام دل سے پاکستان کے ساتھ تھی اس لئے یہاں کشمیر والی صورتحال کبھی نہ بن سکی اور چند منظم آپریشنز سے ہی ان تحریکوں کا زور ٹوٹ گیا اور یہ علیحدگی کے نعرے کو پروان نہ چڑھا سکے۔

یہاں ایک نکتہ پھر اس شخص کے لئے غور طلب ہے جو پاکستان میں دہشت گردی اور حالات کی خرابی کے اَسباب پر سنجیدگی اور حقیقت پسند سے تجزیہ کرنا چاہتا ہو۔ اسے ہم چند مختصر سوالات کی صورت دے دیتے ہیں۔

(۱) پاکستان میں کراچی اور بلوچستان میں حالات کی باردیگر خرابی کے آغاز کا زمانہ بعینہ وہی کیوں ہے جو تحریک کشمیر کے کمزور ہونے کا ہے؟ ذرا پرویز مشرف کے دور کو یاد کیجئے۔ 92 کے آپریشن کے بعد دم توڑ چکی کراچی کی لسانی تحریک کے غبارے میں ایک دم ہوا بھرنا شروع ہو گئی۔ مرا ہوا عفریت زندہ ہونے لگا۔ نیٹو کے کنٹینرز سے اسلحہ چوری ہونے کی خبریں، کراچی میں قتل و غارت اور بدترین ٹارگٹ کلنگ کا آغاز، بلوچستان میں بالکل دَم توڑچکی تحریک میں زندگی کی سانسیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف اس کا غلغلہ اور دوسری طرف کشمیر کے بارڈر پر غیر قانونی باڑ کی چوکیداری ، مجاہدین پر پابندیاں، ان کی سپلائی لائن کا کاٹا جانا، تحریک کشمیر سے علانیہ روگردانی اور اِعراض۔

یہ سب کچھ ساتھ ساتھ کیوں چل رہا تھا؟…

کیا یہ سب محض اتفاق کہہ کر اس سے اِغماض ممکن ہے؟

کسی ایک دھماکے اور کچھ ہلاکتوں کے بعد یکسو ہو کر میڈیا ، سول سوسائٹی اور عالمی طاقتوں کی ہاں میں ہاں ملا کر ذہن کو ایک طرف کر لینا الگ بات ہے، حقیقت پسندی کے ساتھ جائزہ اور تجزیہ الگ چیز ہے۔ کیا اعدادو شمار کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل بات ہے؟…

صرف کراچی میں قتل ہونے والے لوگوں کی گنتی ہفتوں عشروں تک پچاس افراد یومیہ سے اوپر چلتی رہی مگر یوں شور شرابہ برپا کیوں نہیں ہوا تھا؟

(۲) پاکستان میں ہندوستان کی کھلم کھلا بدمعاشی، ہر خودکش دھماکے کے پیچھے اس کا ہاتھ ہونے کے مکمل ثبوت، پاکستان میں چلنے والی علیحدگی اور شدّت پسندی کی تحریکوں کے ساتھ انڈیا کے روابط کے سرکاری اِعتراف کب شروع ہوئے؟…

اور اب تمام تر آپریشنز اور ہر اچھے برے طریقے کو بروئے کار لانے کے باوجود ان چیزوں کا خاتمہ کیونکر نہیں ہو پا رہا؟…

اب اِنصاف کے ساتھ سوچئے!

اگر اس وقت جہاد کشمیر جیسا انڈیا کو اس کی سرزمین پر ہی منہ توڑ جواب دینے کی استطاعت رکھنے والا ہتھیار آپ کے پاس موجود ہوتا تو یہ صورتحال اسی طرح جاری ہوتی؟…

یقیناً ہرگز نہیں …

اس حقیقت کا شتر مرغ کی طرح سرزمین میں دبا کر یا ضد اختیار کر کے تو انکار کیا جا سکتا ہے۔اعداد و شمار اور حالات کا منصفانہ جائزہ لینے کے بعد نہیں۔

انڈیا نے پرویز مشرف کے ذریعے دُہرا وار کیا۔

اس نے کشمیر کی تحریک کی رگوں میں پاکستان کی طرف سے پہنچنے والا خون منجمد کرانے میں بھی کامیابی حاصل کر لی، اپنے خونی پنجے بھی پاکستان میں اچھی طرح گاڑ لئے اور پاکستان کی مضبوط ردعمل کی قوت سے بھی اپنا بچاؤ کر لیا۔ اب ہم بجائے اس کے کہ اپنے ازلی دشمن کی اس چال کو سمجھتے اور اس کا راست علاج کرتے، ہر آنے والا اسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھال لیتا ہے جس میں سراسر ہمارا اپنا نقصان اور ہمارے دشمن کی فتح ہے۔ اگر ملک سے جہادی قوتوں کا خاتمہ ہی اس مسئلہ کا حل ہوتا تو ان قوتوں کے کمزور ہونے سے حالات میں ابتری بڑھنے کی بجائے کم ہوتی۔ مگر کھلی آنکھوں سے یہ سب دیکھنے کے بعد اسی راہ پر چلتے رہنے کو سوائے حماقت اور ضد کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اور ان سب سے بڑھ کر بنیادی اور جوہری سوال یہ ہے کہ اگر کشمیر کا جہاد اور مجاہدین ان حالات کے ذمہ دار ہیں تو یہ حالات آج کی نسبت اس وقت زیادہ خراب ہونے چاہیے تھے جب یہ تحریک اپنے مکمل عروج پر تھی لیکن کیا اس وقت پاکستان میں خود کش حملوں کا نام بھی کوئی جانتا تھا؟…

میڈیا کے اس ساختہ ماحول میں اگرچہ غور و فکر کی عادت شجر ممنوعہ بن چکی ہے لیکن پھر بھی یہ سوالات سامنے رکھے گئے ہیں ممکن ہے موجودہ نسل کے نوجوان یکطرفہ بات سن کر رائے قائم کرنے کی بجائے ان سوالات پر بھی غور کریں۔

بات حماقتوں کی آہی گئی تو ایک سوال مزید بھی کرتے چلیں۔

اس وقت پاکستان میں حالات کی خرابی میں انڈیا کا سب سے بڑا اتحادی افغانستان ہے۔ اور اس کا حل بھی ہمیں میڈیا یہ بتا رہا ہے کہ افغانستان میں جہاد کرنے والے طبقے کو کمزور بلکہ ختم کر دیا جائے تو یہ صورتحال بھی ختم ہو جائے گی۔ کیا یہ بات درست ہے؟

کیا آج کا نوجوان یہ بات جانتا ہے کہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی جس پڑوسی نے مخالفت اور دشمنی کا سب سے پہلے اظہار کیا تھا وہ افغانستان تھا اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ افغانستان کا رویہ بھی پاکستان کے لئے ہمیشہ سے ہی جارحانہ رہا۔ انڈیا کی طرح افغانستان نے بھی یہاں علیحدگی پسند تحریکوں کی سرپرستی کی۔ ایک بڑا طبقہ ایسا کھڑا کیا اور اسے مضبوط کیا جو پاکستان اور افغانستان کی سرحدی لکیر کو ہی نہیں مانتا تھا۔ افغانستان کی طرف سے پاکستان کے ساتھ اچھے معاملات صرف کس زمانے میں رہے؟ اور یہ حالات کن کے مرہون منت تھے؟…

افغانستان میں جہادی طبقے کے عروج کا زمانہ اور پھر سب سے بڑھ کر امارت اسلامیہ افغانستان کا سنہری دور وہ واحد تاریخی دورانیہ ہے جس میں پاکستان افغانستان کی طرف سے مامون و محفوظ رہا۔ اس سے پہلے کی تاریخ بھی دستیاب اور دسترس میں ہے اور اس کے بعد کے حالات بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔لیکن ہم نے خود مجاہدین اور امارت اسلامیہ کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا؟…

کیا کوئی منصفانہ تجزئیے کی زحمت کرے گا؟…

ایک حماقت افغانستان میں قائم پاکستان کی سرحدوں کی محافظ حکومت کے خاتمے کے لئے اپنے کندھے پیش کرنا اور اس مہم کا ہر اول دستہ بننا تھی ہی، دوسری حماقت اب زور و شور سے یہ کی جا رہی ہے کہ اس وقت افغانستان میں پاکستان کی سرحدوں پر بیٹھا وہ جہادی طبقہ جو امریکی استعمار سے بھی برسرپیکار ہے اور ان علاقوں سے پاکستان کو جہنم بنانے کے افغان حکومت کے منصوبے کے راستے میں بھی واحد رکاوٹ ہے، اسے اپنا دشمن بنایا جا رہا ہے اور کمزور کیا جا رہا ہے۔ کیا جہاد کشمیر کے بعد اس دوسری قدرتی حفاظتی زرہ کو اپنے ہاتھوں سے چا ک کر کے پاکستان صرف سفارت کاری کے ذریعے انڈیا اور افغانستان جیسے دشمنوں سے اپنا بچاؤ کر لے گا؟

وہ لوگ پاکستان کے خیر خواہ نہیں بدخواہ ہیں جو اس راستے پر لگا رہے ہیں۔ کیا ہزاروں کلومیٹر کے بارڈرز کی حفاظت اور دونوں طرف سے ہونے والی ریشہ دوانیوں کو مورچوں اور باڑ کے ذریعے روکا جا سکے گا؟… جبکہ تیسری طرف ان دونوں سے زیادہ چالاک اور مکار دشمن ایران بھی براجمان ہے۔

بات کشمیر سے افغانستان کی طرف نکل گئی اس لئے واپس آتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان کے ان بگڑے ہوئے حالات کو اگر تحریک کشمیر کے ان اَدوار کے تناظر میں دیکھا جائے تو حقائق کی کئی گرہیں کھلتی ہیں اور فکر کے نئے زاویے سامنے آتے ہیں۔ مضمون کے آخری حصے میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ان بدلتے حالات میں کشمیر کی عوام کا اپنا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت تک ان سوالات پر غور کیجئے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor