Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

مسجد (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 584 (Talha-us-Saif) - Masjid

مسجد

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 584)

اسلام کی ایمان کے بعد اگلی دعوت اِصلاح فرد کی ہے اور اصلاحِ فرد کے لئے جو ذرائع اسلام نے مقرر کئے ان میں اہم ترین ذریعہ ’’ نماز‘‘ ہے…

’’ بے شک نماز فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔( القرآن)

’’فحشاء اور منکر‘‘ وہ دو جامع الفاظ ہیں جن میں فرد کی تمام خرابیوں کا ذکر آ گیا اور ان خرابیوں سے نجات کا راستہ اور روکنے والی ڈھال نماز کو بتایا گیا۔

’’ کیا خیال ہے تمہاراکہ اگر کسی شخص کے گھر کے عین سامنے ایک صاف شفاف پانی کی نہر ہوا اور وہ اس نہر میں روزانہ پانچ بار نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر میل کچیل کا کوئی اثر باقی رہ سکتا ہے؟‘‘ ( الحدیث)

اور ’’مسجد‘‘ ہی وہ جاری نہر ہے جہاں روح کو روزانہ پانچ بار نماز کے غسلِ نورانی کے ذریعے تمام نجاسات اور اَدناس سے پاک کر لیا جاتا ہے۔ سبحان اللہ! کیا پیاری مثال دے کر آقا محمد ﷺ نے قرآن مجید کے اس جملے کو مکمل کھول کر رکھ دیا۔

نماز کی کیا اہمیت ہے، کیا فضائل ہیں ، کتنی تاکید ہے اور کیسی ضرورت؟… یہ سب آپ القلم کے صفحات پر پڑھتے رہتے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی پڑھتے رہیں گے کیونکہ القلم جن کی آواز ہے ان کی دعوت کا تو دوسرا بنیادی جزو اور ان کے منشور کا دوسرا بنیادی ستون ہی نماز ہے۔ آج بات ہے اس ’’نہر‘‘ کی جہاں اس غسلِ صحت اور پاکی کے لئے حاضر ہوا جاتا ہے۔ یعنی مسجد شریف۔

سوچئے!

جب نماز کا یہ مقام ہے تو نماز کی نہر جاری کرنے کا مقام بھی کیا ہو گا اور کتنا بلند ہو گا؟… یوں تو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے پوری زمین کو مسجد بنا دیا۔ جہاںچاہیں نماز قائم کر سکتے ہیں لیکن اس عمل کو جس مقام کے ساتھ خصوصیت عطاء فرمائی۔ جہاں حاضر ہو کر اسے سر انجام دینے کی تاکید حضرت آقا مدنی ﷺ کی زبانی بار بار دِلائی ، جس مقام کی حاضری کو ایمان کی اور محبت کو ایمان کے کمال کی علامت قرار دیا، جس کی تعمیر کا بدلہ اپنی رضاء والا جنت کا گھر مقرر فرمایا، اُسے ’’مسجد‘‘ کہتے ہیں۔ اور ہاں! سب سے بڑھ کر یہ کہ نماز کا کامل ہونا اس جگہ کے ساتھ معلق فرمادیا کہ اس سے دور رِہ کر جو نماز( بلاعذر) اَدا کر لی جائے گی اگرچہ نماز تو ہوگی مگر کامل نہ گی۔ یوں اس نہر مبارک سے دور ہو کر کیا جانے والا غسل روح کی غلاظتوں کو مکمل صاف نہ کر پائے گا۔

یہ تو ہوئی فرد کے لئے مسجد کی اہمیت اور ضرورت…

فرد جب اس مسجد سے جڑتا ہے تو ہر ہر قدم پر کیا کیا انعام پاتا ہے اور ہر ہر سانس کے ساتھ کیا کیا نعمتیں لوٹتا ہے؟ اس اشاعت کے ہر صفحے پر ان کا تذکرہ آپ کو محسن اعظم ﷺ کی زبانی مل جائے گا۔

اس کے بعد آتا ہے مرحلہ اِصلاحِ معاشرہ کا۔ اس میں پہلی بات تو یہی سمجھ لیجئے کہ صالح معاشرہ، صالح افراد کے اجتماع کے نام ہے اور جب فرد کی صلاح نماز اور مسجد پر موقوف ٹھہری تو یہ چیزیں معاشرے کی اصلاح میں بھی شرط لازم کا درجہ پائیں گی۔ جس طرح ایک فرد نماز اور مسجد کے بغیر ’’صالح‘‘ کا لقب نہیں پا سکتا اسی طرح نماز اور مسجد سے دور معاشرہ بھی کبھی صالح اور صاف معاشرہ نہیں بن سکتا۔ اور کیا موجودہ حالات سے بڑھ کر اس بات کے لئے کوئی اور دلیل ہو سکتی ہے؟…

آج کا مسجد سے کٹا ہوا، نماز سے دور معاشرہ ، سینما اور سٹیڈیم سے جڑا ہوا معاشرہ کس طرح ’’ فحشاء ‘‘ اور ’’ منکر‘‘ کی عملی تصویر بن چکا ہے ،یہ بات کس سے مخفی ہے؟…

فحشاء نے زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ گھر سے بازار تک ، تعلیم گاہوں سے تفریح گاہوں تک سب بُری طرح اس بیماری کی لپیٹ میں ہیں۔ اور منکرات نے پورے ماحول کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ایسے میں نجات کا راستہ تو قرآن دو ٹوک اور کھلے الفاظ میں بتا رہا ہے مگر اسکی طرف کون کان لگا رہا ہے؟ معاشرے کی اصلاح انہی اعمال میں ڈھونڈی جا رہی ہے جو خود خرابی کی جڑ ہیں اور بیماری کا علاج ان سے دریافت کیا جا رہا ہے جو خود مریض ہیں۔ آخر کوئی تو بات تھی کہ اسلام آتے ہی مسجد سے جڑا اور جہاں بھی گیا سب سے پہلے مسجد بنا ڈالی۔

اسلام نے جب اوّلین معاشرہ تشکیل دیا تو اس کے ساتھ ہی مساجد کی آبادی شروع ہو گئی۔ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد نے جب ایک معاشرہ کی شکل اختیار کر لی تو آپ کا سب سے پہلا کام بیت اللہ کی تعمیر تھا۔ پھر جب آپ کی اولاد اَقطارِ دنیا میں پھیلی تو آپ ہی کے ایک صاحبزادے نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد ملّتِ اسلامیہ کے بانی حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں بیت اللہ کی از سرِ نو تعمیر تو قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔ اسی طرح حضرت رسول اکرم ﷺنے جب دعوت الیٰ الحق کا بیڑا اُٹھایا تو آپ ﷺ نے اپنا مرکز خانہ کعبہ یا مسجد الحرام کو بنایا اور جب کفار کی طرف سے اعلانیہ مخالفت ہوئی تو آپ ﷺ نے بامرِ مجبوری دارِ ارقم کو اس کام کے لئے منتخب فرمایا۔ لیکن حضرت عمرؓ کے اسلام لاتے ہی پھر سے خانہ کعبہ اور مسجد الحرام کی دیواریں تکبیر کے نعروں اور توحید کے کلمات سے گونجنے لگیں۔ اور پھر جب کفار کی مخالفت انتہا کو پہنچ گئی اور آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ شریف تشریف لے گئے تو یہاں کی فضا کو مسلم معاشرہ کے لئے سازگار سمجھتے ہوئے آپ ﷺ نے سب سے پہلا کام جو کیا وہ اولاً مسجد قباء اور پھر مسجدِ نبوی کی تعمیر تھی۔ اس کے بعد جوں جوں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ ہر قبیلہ اور ہر محلہ میں الگ الگ مسجدیں تعمیر ہوتی چلی گئیں۔ اگرچہ عام غربت اور سادگی کی وجہ سے اس دور میں جو عام مساجد تعمیر ہوئیں وہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکیں اور مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت سوں کا نام و نشان بھی مٹ گیا تاہم تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ اسلام کی روشنی نے جب عرب کے گوشے گوشے کو منور کر دیا تو عرب کا کوئی گاؤں، شہر اور محلہ مساجد سے خالی نہ تھا۔

پھر اسلام نے سر زمینِ عرب سے قدم باہر نکال کر جب اپنے قدومِ میمنت لزوم سے بیرونِ دنیا کو نوازنا شروع کیا تو جہاں جہاں اسلام کی روشنی پہنچی اور مسلم معاشرہ کا قیام عمل میں آیا، مساجد تعمیر ہوتی چلی گئیں۔ جن میں سے بعض آج بھی اپنی روایتی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہیں۔ موجودہ دور کے غیر مسلم ممالک بھی جہاں کچھ بھی مسلمان موجود ہیں، مساجد سے خالی نہیں اور مسلمان ممالک کا تو ذکر ہی کیا، ہر گاؤں، ہر محلہ اور ہر شہر میں مساجد کے شاندار مینار اپنی عظمت و رفعت کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔

یہ اسلام کا مسجد سے وہ رشتہ ہے جسے اٹوٹ رشتہ کہا جا سکتا ہے اور اس کی نشانیاں جیسا کہ عرض کیا عالم کے ہر کونے میں بکھری پڑی ہیں۔

اور پھر دیکھئے!

اسلام کی سربلندی اور نشر عام کے لئے جہاد کا حکم نازل ہوا۔ مسلم فرد کی جان و مال و عزت کا تحفظ ہو یا اسلامی معاشرے کی بقاء اور نفوذ۔ سب اسی پر موقوف ٹھہرا۔ اس حقیقت کو قرآن مجید کی سینکڑوں آیات بطور دلیل میسر آئی ہیں کہ جہاد نہ ہو گا تو نہ فرد مامون رہے گا نہ معاشرہ۔ نہ دعوت کے مقاصد کی تکمیل ہو گی اور نہ ہی نظام عبادت محفوظ رہ سکے گا۔ یہ عمل بھی مسجد سے کس طرح جڑا کہ دونوں باہم لازم و ملزوم ہو گئے۔

جہاد کا دارالمشورہ بھی مسجد، دارالترتیب بھی مسجد، جہاد کی چھاؤنی بھی مسجد، مرکز بھی مسجد، لشکروں کی تنظیم گاہ بھی مسجد، لشکروں کے روانہ ہونے کا مقام بھی مسجد اور واپسی کا مقام بھی مسجد، جہاد کی معاونت کا مرکز بھی مسجد اورترغیب کا مقام بھی مسجد۔پھر جہاد جہاں بھی کامیابی کا جھنڈا گاڑ دے تو سب سے پہلی ذمہ داری بھی مسجد…

سبحان اللہ!

یہی ترتیب رہی اور جہاد مسجدوں سے روانہ ہوتا گیا ، دنیا کو مساجد سے سجاتا گیا اور مہکاتا گیا۔ جہاد نے روئے زمین کو مسجدوں کی خوبصورتی عطا کی اور پھر ان مساجد کی حفاظتی ڈھال بن کر ان کی طرف اٹھنے والی بُری نظروں کو روکتا رہا۔ کبھی کوئی مسجد چھنی تو جہاد نے صلاح الدین ایوبی کا روپ دھار کر وہ واپس دلا دی۔ کبھی کوئی مسجد گری جو جہاد نے پھر اسے پورے قد سے کھڑا کر دیا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنے تلازم کے باوجود جو لوگ مجاہدین کو مسجدیں بنانے اور آباد کرنے پر طعنے دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں مسجد کی محنت مجاہد کا اصل کام نہیں ان پر ہنسا جائے یا رویا جائے؟…

نماز اور مسجد سے کٹا ہوا جہاد تو لمحوں میں فساد بن جاتا ہے اور عالم میں روشنی لانے کی بجائے اندھیرا اور ظلمتیں پھیلاتا ہے ۔ نماز سے دور مجاہد تو اللہ سے دور ہو جاتا ہے۔ وہ عالم کو اللہ سے کس طرح جوڑ سکتا ہے؟ مسجد سے کٹا ہوا جہاد تو اپنے حقیقی مرکز سے کٹی ہوئی اور بھٹکی ہوئی جنگ بن جاتا ہے۔ اس لئے جیسے بھی اپنے اس مقدس کام کو سیدھے راستے پر رکھنا ہے اور عالم کو کفر سے اندھیرے سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لانا ہے تو اسے اپنی اسی مرکز سے جڑ کر رہنا ہو گا اور مسجد بنانا ہو گی، مسجد کی طرف بلانا ہو گا۔

اس لئے پھر وہ وقت آ گیا ہے کہ اپنے کام کا نتیجہ مساجد کی شکل میں اور نماز کی دعوت کی شکل میں دِکھایا جائے ۔ رہے اعتراضات تو کیا انبیائِ کرام علیہم السلام کی جان ان سے چھوٹ گئی تھی کہ ان کے راستے پر چلنے والے بھی اس کی تمنا کریں؟…

سبو اپنا اپنا ہے ، جام اپنا اپنا

کئے جاؤ گے مے خوارو ، کام اپنا اپنا

ایک ماہ کی جان توڑ محنت…

اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر دَس مسجدوں کا نور…اللہ تعالیٰ کے دس گھروں کی تعمیر اور ان کے بدلے میں جنت میں بے شمار گھر…

زمین سینماؤں، کیبل کے میدانوں، لہو و لعب کے مراکز، پلازوں اور غفلت کی آماجگاہوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہے۔ روزانہ اس کے سینے پر گناہوں کے مراکز تعمیر ہو کر اسے جلا رہے ہیں اس کی حدّت اور تپش میں اضافہ کر رہے ہیں۔ آئیے کیوں نہ ہم اللہ تعالیٰ کی زمین کو راحت دیں۔ اسے ٹھنڈک پہنچائیں اور اسے نور سے بھر دیں۔ آخر ہم اسی زمین پر سانس لے رہے ہیں اور اس سے مالک کا رزق پا رہے ہیں۔ اس بیچاری کا بھی کچھ حق ہے کہ نہیں؟…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online