Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

تحریک کشمیر کے اَدوار ( آخری حصہ) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 585 (Talha-us-Saif) - Tehrik Kashmir k Adwar

تحریک کشمیر کے اَدوار ( آخری حصہ)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 585)

آج ان شاء اللہ اِس موضوع کا اِختتام کرتے ہیں۔

ان بدلتے حالات اور خیالات میں کشمیر کی عوام کا کیا فیصلہ ہے اور ہندوستان کا کیا رُخ ہے؟…

اہل کشمیر جس قدر جذباتی قوم ہیں، اُسی قدر تعلیم یافتہ اور باشعور قوم بھی ہیں۔ ان کے شعور کی پختگی اور سوچ کی گہرائی کا کچھ اندازہ لگانا ہو تو افضل گورو شہیدؒ کی کتاب ’’ آئینہ‘‘ کا مطالعہ کر لیا جائے۔ کشمیری اپنی تحریک کے ان تمام اَدوارکی جدوجہد اور اس کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں، اس لئے بدلتے حالات کے ساتھ ان کی سوچ نہیں بدلی۔ وہ جانتے ہیں اور اپنے شعور کی بناء پر ناقابل تنسیخ یقین اور غیر متزلزل ایمان کے ساتھ جانتے ہیں کہ عسکریت نے ان کی تحریک کو کمزور نہیں، توانا کیا۔ اور جب جب عسکریت کمزور ہوئی ان کی تحریک بھی کمزور ہوئی۔ اس لئے ان کا واضح جھکاؤ عسکریت کی طرف ہے اور سوائے ایک قلیل سی قوت کے، باقی ساری قوم اس پیج پر متفق ہے۔ وہ عسکری کارروائیوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ عسکریت پسندوں کی ہر ممکن مدد ہر خطرے اور دھمکی کے علیٰ الرغم کرتے ہیں۔ ایک ایک مجاہد کے جنازے پر وہ لاکھوں کی تعداد میں نکل آتے ہیں۔ مجاہدین کو گھیرے سے نکالنے کے لئے آج بھی دیوانہ وار ہزاروں کے جلوسوں کی صورت میں نکل آتے ہیں۔ مجاہدین کو بچانے کے لئے گولیوں کا دیوانہ وار سامنا کرتے ہیں۔ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر مجاہدین کو ہائیڈ فراہم کرتے ہیں۔ آج بھی کشمیر کا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان روشن خیالی ، سیکولر ازم ، سیاسی جدوجہد وغیرہ تمام مراحل سے گزر کر آخر میں عسکریت اختیار کر لیتا ہے۔ گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر اور انجینئر گن اُٹھا کر گھروں سے نکل رہے ہیں۔ یہ کشمیری قوم کی طرف سے واضح اعلان ہے کہ ان کی غالب اکثریت اب بھی کس نہج پر سوچ رہی ہے۔ کشمیر میں ہمارے حکمرانوں اور جرنیلوں کو شاید ہی کوئی اچھے الفاظ میں یاد کرتا ہو مگر ہمارے جہادی رہنماؤں کے جھنڈے ، بینر اور تصاویر ہاتھوں میں لئے آپ اس قوم کو پیلٹ گنوں کا مقابلہ کرتے آج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اسوقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں میرے موبائل کی سکرین پر آج کی تازہ رپورٹس آ رہی ہیں، انڈین میڈیا پر نشر ہونے والے ان کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو مجاہدین کی شہادت پر آج پھر پورا کشمیر سڑکوں پر ہے۔ ان کی زبانوں پر لا الہ الا اللہ… ہم کیا چاہتے ہیں… آزادی… کے نعرے ہیں، ان پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں،پیلٹ گنیں ان پرقہر برسا رہی ہیں لیکن وہ ڈٹے کھڑے ہیں۔ یہ ان کا کوئی وقتی اِشتعال کے تحت کیا ہوا فیصلہ نہیں، بلکہ ایک شعوری فیصلہ ہے۔

جب کوئی قوم حالت جنگ میں ہو یا آزادی کی تحریک چلا رہی ہو تو یقیناً اس کی نظر معاصر اور ماضی کی تحریکوں پر دور سے بیٹھ کر تجزیہ کرنے والوں کی نسبت گہری ہوتی ہے۔کشمیری عرصہ دراز سے حالت جنگ اور غلامی میں ہیں۔ وہ پوری بصیرت کے ساتھ یہ بات جانتے ہیں کہ موجودہ اور قریبی زمانوں میں آزادی کی جو تحریکیں کامیاب ہوئی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں۔

(۱) عالمی طاقتوں کے نو آبادیاتی مقبوضات کی آزادی

ان علاقوں کے قابض چونکہ اجنبی تھے اور دوردراز سے آ کر قبضہ کئے ہوئے تھے تو دنیا میں ایسے مقبوضات کی آزادی کا ایک تسلسل چلا اور یہ تمام قابضین اپنی اپنی مقبوضات کو چھوڑ کر اپنے ملکوں کو لوٹ گئے۔ افریقہ اور عرب کے اکثر ممالک اور برصغیر کی آزادی اس تسلسل کا حصہ ہے۔ ان میں سے اکثر ممالک نے اگرچہ آخر میں سیاسی تحریکوں کے ہاتھوں آزادی حاصل کی لیکن ان تمام ممالک میں بھی ایک طویل زمانہ عسکری تحریکوں کا گذرا۔ ان ممالک کی آزادی میں سیاسی تحریکوں سے زیادہ دخل قابضین کے اپنے اندرونی مسائل کا تھا۔ خصوصاً دو عالمی جنگوں نے ان طاقتوں کو داخلی اور معاشی طور پر اس قدر کمزور کر دیا تھا کہ ان کے لئے ان مقبوضات کو آزاد کر کے اپنے علاقوں پر توجہ دینا ہی واحد حل رہ گیا تھا۔

(۲) وہ تحریکیں جو کسی ملک کے حصے میں اس کی علیحدگی کے لئے چل رہی ہوں۔

ایسی کسی بھی جگہ میں محض سیاسی تحریک کسی علاقے کی آزادی کا سبب نہیں بن سکی۔ ایسی تحریکیں بے شمار ہیں۔ چین ، یورپ، ہندوستان اور افریقہ و مشرق بعید کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔ کیا کوئی ایک مثال دی جا سکتی ہے جو یہ ثابت کرے کہ ایسی کوئی تحریک سیاسی عمل کے ذریعے کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہو؟… بالکل قریبی زمانے میں ایسی جن دو تحریکوں کی کامیابی کی مثال دی جا سکتی ہے وہ انڈونیشیا سے مشرقی تیمور اور سوڈان سے جنوبی سوڈان کی علیحدگی کی ہیں۔ یہ دونوں تحریکیں عرصہ دراز سے جاری تھیں اور بالآخر شدید ترین عسکری جدوجہد نے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا اور چونکہ دونوں مقامات پر یہ تحریکیں اسلامی ممالک کے خلاف تھیں اور انہیں چلانے والے غیر مسلم تھے اس لئے عالمی ادارے بھی جلد ہی میدان میں کود پڑے لیکن جب تک انہوں نے سخت عسکری شکل اختیار نہیں کی عالمی ادارے ان کے لئے بھی مداخلت پر آمادہ نہیں ہوئے تو خود سوچ لیجئے کہ جہاں معاملہ مسلمانوں کا ہو وہاں ان سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟… اگر مظالم برداشت کرنے سے اور لاشیں بکھرنے سے ہی یہ مسائل حل ہو سکتے تو برما میں ضرور ہو جاتے مگر وہاں کیا نتیجہ نکلا؟ اب یہ کتنی کم عقلی کی بات ہے کہ دوسری قسم کی تحریکوں کے لئے پہلی قسم کی تحریکوں اور ان کی کامیابی کو مثال بنایا جائے۔ دور نہیں انڈیا میں ہی دیکھ لیا جائے کہ وہاں کشمیر کے علاوہ کتنی تحریکیں ہیں۔ ان میں سیاسی بھی ہیں اور عسکری بھی۔ سیاسی تحریکوں کا کامیابی سے ہمکنار ہونا تو دور کی بات ہے اکثر تو اپنا وجود ہی کھو بیٹھی ہیں۔وجود اگر باقی ہے تو عسکری تحریکوں کا ہی ہے۔ کشمیری چونکہ ان حقائق سے اچھی طرح آشنا ہیں اور ان کی سوچ ہماری سوچ کی طرح ناپختہ نہیں کہ چند سیاستدانوں یا تجزیہ نگاروں کے بدل جانے سے بدل جائے بلکہ ان کی یہ فکر مشاہداتی اور تجرباتی ہے اس لئے وہ غیر متزلزل ہے۔

عسکریت اور مزاحمت سے کشمیریوں کے دستبردار نہ ہونے کی ایک واضح اور مضبوط وجہ ایسے تمام علاقوں کے عوام کا انجام بھی ہے جہاں ایسی تحریکوں کو عسکریت اور مزاحمت کی سپورٹ حاصل نہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بغیر مسلح مزاحمت کے علیحدگی ، آزادی یا صرف حقوق کی بات کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ دنیا بھر میں کیا ہوتا رہا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔حیدر آباد دکن، بہار اور گجرات کی مثالیں تو خود بھارت کے اندر موجود ہیں۔ جبکہ بوسینیا ، کسووا، برما اور شام کے حالات بھی اس امر کے شاہد عدل ہیں۔ جبکہ اس کے برخلاف فلسطین کی تحریک اس کی روشن مثال ہے کہ اپنی مزاحمت کی وجہ سے وہ اگرچہ ایک بدترین دشمن کے حصار میں ستر سال کے لگ بھگ عرصہ گذار چکے ہیں مگر ان حالات سے دوچار نہیں ہوئے۔ کشمیری اپنے دشمن بھارت کے عزام سے بھی آگاہ ہیں اور عادات سے بھی واقف ہیں اور اب خصوصاً ایسے وقت میں جب اسلام دشمن بی جے پی ہندوستان پر حاکم ہے وہ کبھی یہ غلطی نہیں کرنا چاہیں گے۔ ان کے سامنے اس وقت دو ہی آپشن ہیں۔

یا تو مزاحمت ترک کر کے گجرات کے مسلمانوں والا انجام قبول کر لیں، بھاگل پور اور مظفر نگر جیسے واقعات سہنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ برما کی دوسری تصویر بننا گوارہ کر لیں یا پھر مزاحمت اور جہاد کے مضبوط حصار میں پناہ پکڑے رکھیں۔ کشمیری قوم نے واضح الفاظ میں دوسرے آپشن کو اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آخر عسکریت اور مزاحمت کے علاوہ  کون سی دوسری طاقت ہے جو کشمیری مسلمانوں کو سڑکوں پر کھلے عام گائے ذبح کرنے کا حوصلہ فراہم کرتی ہے جبکہ ہندوستان کے کروڑوں مسلمان باوجود سیاسی قوت کے صرف گوشت کے شک میں مارکھاتے پھر رہے ہیں۔

باشعور اور قربانی شعار کشمیری قوم کو ان اٹل حقائق سے کس طرح گمراہ کیا جا سکتا ہے؟…

القلم کے انہی صفحات پر کچھ عرصہ قبل بہت واضح اور محکم دلائل کے ساتھ یہ بات مفصل لکھ چکا ہوں کہ مزاحمت کرنے اور مزاحمت ترک کرنے والی قوموں کے انجام میں کیا فرق ہوا کرتا ہے۔ اس موضوع کو دوبارہ دہرانانہیں چاہتا۔ اس لئے مختصر اشارات پر اکتفاء کیا۔

اب اس موضوع کا خلاصہ اور اختتام:

٭ تحریک کشمیر نے کئی اَدوار گذارے ہیں ۔ محض سیاسی اور عسکری سیاسی… مضبوط عسکری اور کمزور عسکری…

٭ تحریک کشمیر محض سیاسی اَدوار میں نہ مقامی طور پر رُسوخ حاصل کر سکی ، نہ ضمیرِ عالَم کو متوجہ کر سکی اور نہ اپنے دشمن کو حل سوچنے پر مجبور کر سکی…

٭ عسکریت اور مسلح جہاد ہی تحریک کشمیر کا وہ عنصر تھا جس نے ہر سطح پر اس تحریک کو منوایا، اسے باعزت مقام دلوایا اور بھارت کو حل کی بات کرنے پر مجبور کیا…

٭ عسکریت کو ختم کر کے سیاسی طریقے سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا منظم منصوبہ نہ صرف بُری طرح ناکام ہوا بلکہ اس نے منزل کے قریب پہنچ چکی اس تحریک کو ایک بار پھر دور جاگرایا اور مضبوط کرنے کی بجائے کمزور تر کر دیا…

٭ تحریک کشمیر کو بارِدِگر زندہ کرنے کا کام تباہ کن عسکری کارروائیوں کے ذریعے ہوا، ورنہ بھارت بزعم خود اس کے خاتمے کا اعلان کر کے کشمیر پر قبضہ مکمل اور مستحکم کرنے کے منصوبوں کا عملی آغاز کر چکا تھا…

٭ کشمیری عوام نے کھلے الفاظ میں بتا دیا ہے کہ وہ مجاہدین کے ساتھ ہیں۔ وہ نہ تو عسکری تحریک کی مدد سے دستبردار ہو رہے ہیں، نہ اپنا راستہ بدل رہے ہیں۔ ان کے دل آج بھی مجاہدین کے ساتھ دھڑکتے ہیں…

٭ کشمیری عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ بدلتے دور اور سخت حالات میں ان کا جذبہ حریت سرد اور کمزور پڑنے کی بجائے توانا اور محکم ہوا ہے۔ وہ قربانیاں دے کر تھکے نہیں بلکہ پہلے سے بڑھ کر پیش کرنے پر آمادہ ہیں۔

٭ بھارت نے اپنے ظالمانہ اِقدامات سے بالکل صاف کر دیا ہے کہ وہ کشمیر کے کسی پُر امن حل کا نہیں سوچ رہا، وہ مسئلہ کشمیر کو اہمیت دینے پر ہی آمادہ نہیں، وہ کشمیریوں کی اس جدوجہد کو ناجائز سمجھتا ہے اور اسے ختم کرنے کے لئے طاقت کا اندھا استعمال روا جانتا ہے…

 ٭ زمانہ قریب اور بعید میں کشمیر جیسی کوئی تحریک محض سیاسی عمل کے ذریعے کامیابی سے ہمکنار ہونے کی کوئی مثال موجود نہیں، عسکریت ہی وہ واحد عنصر ہے جو ایسی تحریکوں کی کامیابی کا ضامن بن سکتا ہے…

٭ کشمیر میں جاری عسکری تحریک اہل کشمیر کی بقاء کی بھی ضامن ہے، ورنہ ان کا قتل عام کرنے سے ہندو کو کوئی نہیں روک سکے گا اور جب تک عالمی اداروں نے حسب عادت نوٹس لیا بہت بڑا نقصان پیش آ چکا ہو گا۔

٭ ان تمام حقائق کے پیش نظر کشمیری قوم نے ان بدلتے حالات میں اپنا موقف بدلنے اور راستہ تبدیل کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے اسی موقف کو پوری قوت اور بلند آہنگی کے ساتھ دُہرا دیا ہے جس پر ان کی دو نسلیں آزادی کا خواب آنکھوں میں سجائے دنیا سے جا چکی ہیں۔

٭ ایسے میں ہمارے بعض بکاؤ میڈیا گروپس کے نعروں، تجزیہ نگاروں کے خریدے ہوئے تجزیوں اور عارضی حکمرانوں کے بدلتے خیالات کے ساتھ اپنے متفقہ موقف کو بدلنے کا کیا جواز ہے؟

کیا ہمارا طرز عمل ہمیں تاریخ میں ایک بے وفا اور عاقبت نااندیش قوم کے طور پر نہ لکھوا دے گا…؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online