Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دانائے راز (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 586 (Talha-us-Saif) - Dana-e-Raaz

دانائے راز

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 586)

اللہ تعالیٰ کا شکر کس طرح سے ادا ہو سکتا ہے کہ جس مہم کے لئے ایک ماہ کا وقت مختص کیا گیا تھا، وہ دس دن میں اپنے تمام اَہداف حاصل کر کے مکمل ہوئی اور بند کر دی گئی۔ جن حالات میں کچھ لوگوں کا نام تک خطرے میں ہو، ایسے میں ان کا کام یوں چلنا، پھلنا پھولنا اور بڑھنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی اور نصرت کی یاد دِہانی نہیں تو اور کیا ہے؟…

اللہ تعالیٰ ہی دلوں میں خیر کا اِلہام فرماتے ہیں…

وہیں ہیں جو نیکی کے راستے کھولتے ہیں…

انہی کی توفیق سے کام کا اِعلان ہوتا ہے…

وہی کام کو تھام لینے والوں کو آگے بڑھاتے ہیں اور ان کے دِلوں کو مضبوط کرتے ہیں…

پھر وہی دلوں کو متوجہ فرماتے ہیں اور اہل توفیق آگے بڑھ کر کام مکمل کر دیتے ہیں…

ہر طرف خوف کا عالَم، مٹا دو ماردو کی باتیں، پکڑ دھکڑ کا ماحول… ایسے میں نہ جان بچانے کی فکر، نہ کام سے دور ہو جانے کا خیال…

بلکہ مسجد کی فکر اور کام کو بڑھانے کا عزم…

اللہ اگر توفیق نہ دے، انسان کے بس کی بات نہیں

دس مساجد کے لئے مہم کا اعلان ہوا۔ وقت مختص کر دیا گیا اور کام بانٹ دیے گئے۔

صلوۃ الحاجہ اور دعاء کا وسیلہ ساتھ لئے دیوانے آواز لگانے نکل پڑے۔ کام کا جس طرح آغاز ہوا اسی وقت اندازہ ہو رہا تھا کہ اس بار رحمت کا کچھ خاص معاملہ ہے۔ بعض مقبول بندوں نے خود کو دعاء پر باندھ لیا اور کچھ نے ترغیب پر اور یوں ایک تہائی وقت میں کام پورا ہو گیا۔ الحمد للہ رب العالمین

مجاہدین اور تعمیر مساجد کی محنت کا آپس میں کیا جوڑ ہے؟ آئیے ایک بات سمجھتے ہیں۔

زمین کے جتنے بھی مصارف ہیں اور جتنی بھی حیثیتیں ہیں ان کو بقاء نہیں، سوائے صرف ایک حیثیت اور صورت کے۔ جہاں آج کھیت ہے کل کو یہ مکان ہو سکتا ہے۔ جہاں آج مکان ہے کل کو دوکان یا پلازہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے حتی کہ مندر، چرچ امام باڑہ بھی کل کو کوئی دوسری شکل اختیار کر سکتے ہیں، نہ شرعاً کوئی قدغن اور نہ قانوناً کوئی ممانعت۔ لیکن زمین کی ایک حیثیت کو دائمی بقاء ہے۔ وہ حیثیت ہے’’ مسجد‘‘ کی۔ زمین کے جس ٹکڑے نے مسجد کا نام پا لیا، اب یہ ’’ باقی ‘‘ ہو گیا۔ دنیا میں بھی اس کی یہ حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی، یہ جگہ اب کوئی اور شکل اختیار نہیں کر سکتی، ہمیشہ مسجد ہی رہے گی۔ اسے گرا کر، مسمار کر کے یا اس پر کوئی اورتعمیر کر کے اس کی حیثیت نہیں بدلی جا سکتی۔ نام کچھ بھی رکھ دیا جائے مسلمان پر اس کا حق، اس کا احترام، اس کی آبادی اور حفاظت کا وجوب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ثابت ہو جاتا ہے اور جب یہ زمین یہ کائنات فنا کر دی جائے گی زمین کا یہ مسجد والا حصہ مسجد الحرام سے ملحق کر کے جنت کا حصہ بنا دیا جائے گا۔

فانی چیز کو ’’ باقی ‘‘ بنا دینے والی دوسری چیز ہے ’’ جہاد فی سبیل اللہ‘‘ … جو انسان کی بے قیمت فانی جان کو بقائِ دوام سے سرفراز کر دیتا ہے۔ سب لوگ مر جائیں گے بلکہ بہت سے جیتے جی بھی زندہ کہلانے کے لائق نہیں ہوتے۔ مردہ دل ، مردہ روح لوگ۔ ہاں کوئی بالکل زندہ جیتا ہے تو وہ ہے مجاہد، جہادی بندہ۔ آزاد ، خود مختار ، صرف ایک کا بندہ، صرف ایک کا غلام۔ اور جب دنیا سے چلا جاتا ہے تو بھی دوامِ حیات پالیتا ہے ، اسے نہ مردہ کہا جا سکتا ہے نہ مردہ گمان کیا جا سکتا ہے۔ یوں مسجد اور جہاد کی ایک خاصیت ہوئی اور ایک ہی جنس…

یہ ہوئی پہلی بات…

دوسری بات یہ ہے کہ مسجد چونکہ خود بقاء والی چیز ہے لہٰذا جو چیز اس کے ساتھ جڑ جائے اسے بھی بقاء اور امان مل جاتی ہے اسے مٹانا ناممکن نہیں رہتا اور جو عمل مسجد سے جڑا رہے اس کی برکات اور اس کے اثرات کامل رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر علم ِدین کا پہلا مدرسہ مسجد کے ساتھ بنا۔ آج تک مسجد مدرسے کی محافظ بنی ہوئی ہے۔ مدرسہ ہر طرح کی کوشش کر کے ختم نہیں کیا جا سکا اور یہ بات بھی مشاہدے کے بعد اب کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ دنیا پر اثرات اسی علم کے مرتب ہوتے ہیں جو مسجد کے ساتھ قائم ہو۔ ٹی وی، میڈیا اور اونچے ناموں والے اداروں میں بھی کئی لوگ بڑے بڑے ناموں کے ساتھ بھاری بھاری ڈگریاں اُٹھائے علم دین پڑھاتے اور بانٹتے ہیں لیکن کیا ان کا علم مسجد کی چٹائی پر بیٹھے ایک اوسط درجے کی استعداد رکھنے والے ’’ مولوی‘‘ جیسی برکت اور اَثر رکھتا ہے؟…

دعوت دین سادہ زبان والا سادہ سا انسان مسجد کے منبر پر بیٹھ کر دے وہ دعوت دِلوں کی دُنیا بدل دیتی ہے۔ عمل کی راہیں کھول دیتی ہے۔ عقیدہ سنوار دیتی ہے اور صراط مستقیم واضح کرتی ہے جبکہ یہی کام آڈیٹوریم میں بھی ہوتا ہے، سکرین پر بھی، ہوٹلوں کے مہنگے ہالوں میں بھی لیکن کیا وہ یہ اثرات مرتب کرتا ہے؟…

حفظ قرآن کی ہی مثال لے لیجئے۔ جہاں یہ نظام مسجد کے ساتھ جڑا ہے وہ ہر سال حفاظ کرام کی تعداد لاکھوں کا آنکڑا چھو رہی ہے جبکہ اس نظام کو مسجد سے ہٹا کر جدید اور مزین بنانے والے ممالک حفاظ کی کمی پر رو رہے ہیں اور اس کی طرف راغب کرنے کے لئے بڑے بڑے انعامات کے لالچ دینے پر مجبور ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی ملاتے جائیں کہ جب جہاد کا حکم آیا تو مسجد ہی جہاد کا سب سے پہلا مرکز بنی۔ سب سے پہلی چھاؤنی بھی مسجد ہی ٹھہری جہاں وہ مجاہد قیام کیا کرتے تھے جن کا اوڑھنا بچھونا جہاد تھا اور وہ گھر بار نہیں رکھتے تھے۔ جہاد کا اعلان بھی اسی مسجد سے ہوتا۔ جہاد کے لئے تعاون جمع کرنے کے لئے چادر بھی اسی مسجد میں پھیلائی جاتی۔ جہاد کی تدابیر بھی مسجد میں طے ہوتیں۔ مشورے بھی مسجد میں ہی ہوتے اور جہاد کی تربیت گاہ بھی مسجد ہی بنی، جہاں نیزہ بازی کے جوہر دِکھائے جاتے اور آقا ﷺ اپنی عفت مآب زوجہ صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا کو اس کا نظارہ کرایا کرتے۔

یہ ہو گئی دوسری بات…

اب ان دونوں کو ملا کر تیسری بات سنئے!

جہاد اور جہادی کو مٹانے کی یہ حالیہ مہم سولہ سال قبل شروع ہوئی۔ اس میں کیا کچھ ہوتا رہا، دُہرانے کی حاجت نہیں، سب جانتے ہی ہیں۔ ایسے میں یہ خدشہ بھی اگر کسی دل میں آیا کہ یہ مہم جہاد کو مٹانے میں کامیاب ہو جائے گی وہ تو نبی کریم ﷺ کے فرامین مبارکہ کو باردِگر پڑھے اور اپنا ایمان ان کے مطابق بنائے۔ جو لوگ پڑھ چکے اور دل میں اُتار چکے ان کے دلوں میں یہ خیال تو مطلق نہیں آیا کیونکہ یہ انسانوں کی طاقت سے باہر کی بات ہے۔

ہاں اس کام میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جو حصہ میسر آ جائے اُسے بچائے رکھنے کی فکر ہر مجاہد کو ضرور ہوتی ہے اور یہ فکر ایمان کا حصہ ہے۔ کون ہے جو اس بلندی سے گرنا پسند کرتا ہو؟ کون ہے جو اس قیمتی خزانے کو پانے کے بعد کھونا چاہتا ہو اور ان لوگوں میں شامل ہونا چاہتا ہو جنہیں کہا گیا:

’’ اور تم اگر تم ( اس عمل سے) پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے پھر وہ تم جیسے نہیں ہونگے‘‘ ( سورۃ محمد)

اس لئے حل ضرور سوچا گیا۔ پھر ہرکسی کا ذہن الگ نتیجے پر پہنچا۔ کوئی اس کام کو بچانے کے لئے مٹانے کی مہم کا حصہ بن جانے والوں پر ٹوٹ پڑا، یوں نہ خود بچا ،نہ کام بچ سکا۔ کسی نے وقتی پسپائی کو مسئلے کا حل جانا اور بالآخر جہادی کے اِعزاز سے ہی محروم ہوا۔ راز کی بات کو تو دانائے راز ہی پہنچتے ہیں اور دانائے راز کم ہی ہوا کرتے ہیں۔

دور ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات

تا ز بزم رازیک دانائے راز آید بروں

کسی کو تو یہ راز سمجھ آیا کہ بقاء والی دونوں چیزوں کو ایک بار پھر جوڑ دیا جائے، یوں فناء کا امکان ہی فناء ہو جائے۔ یوں مسجد اور جہاد کی محنت باہم جوڑ دی گئی۔ جب مٹانے کی مہم شروع ہوئی جماعت کے پاس پورے ملک میں ایک مسجد پوری اور ایک ادھوری موجود تھی۔ جو پوری تھی وہ کچی تھی اور کھجور کے تنوں کی چھت والی۔ یہ ایک بڑی اونچی نسبت تھی۔ بہر حال اس مہم کے مقابل ایک مہم لانچ کر دی گئی۔ آج جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں دل تشکر کے جذبات سے لبریز ہے کہ 80مساجد مکمل ہیں اور دس مزید پلاٹوں پر کام شروع ہوا ہی چاہتا ہے۔ نتیجہ ہم کیا بتائیں انہی سے ہی پوچھ لیا جائے جو مٹانے نکلے تھے۔ اتنی بات بلاخوف تردید اور بلا کسی مبالغہ کے پورے یقین قلب کے ساتھ لکھ دیتا ہوں۔ دن رات کا آنا جانا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ تمام نشانیوں پچھلے چو دہ سال سے گواہ ہیں کہ مٹانے والوں کی کارگذاری میں ہر دن ناکامیاں لکھی گئیں اور مسجد والوں کی کارگذاری نے ہر دن ترقی کا ایک زینہ طے کیا۔ کوئی دور بیٹھا اِنکار کرے تو کرے، جو ساتھ رہے گواہی دیں گے کہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور اپنا گھر مہم تو اس بات کی سب سے روشن اور سب سے مضبوط دلیل بن گئی ہے۔ سب حصہ لینے والوں کو اللہ تعالیٰ آخرت کے بہترین گھر عطاء فرمائے یہ خوشخبری بھی کیا کم ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر ہمارے دس گھر مزید بننے والے ہیں۔ حسد والے جلیں، آپ مبارک باد قبول کیجئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor