Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

سبق (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 587 (Talha-us-Saif) - Sabaq

سبق

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 587)

اف! کتنا المناک حادثہ ہوا

کیسے انسان پلک جھپکتے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے

آہ موت

کوئی فرق نہ کرنے والی

ہر شئے کو مٹا دینے والی

(القرآن) اور نہیں جانتا کوئی ذی روح کہ کس زمین پر مرے گا

جی ہاں!

موت کی حقیقت پیارے دوست اور عزیز ساتھی مولانا محمد مامون اقبال کی جوانمرگی سے خوب آشکار ہے اگر کوئی سمجھے اور اس کے لئے تیاری کرے_

عمر کے قیمتی حصوں میں توبہ اور اچھے اعمال کو اگلے حصے پر ٹال رکھنے والے بھی اور عمر کے آخری حصے کو غفلت اور حرص میں گذارنے والے بھی

دنیا کی ہر خواہش پر گرنے والے بھی اور دنیا کے پیچھے بھاگنے والے بھی

کہ

موت عمر کے ہر لمحے میں ہر جگہ، ہر مکان میں، ہر وقت انسان کے تعاقب میں ہے

ادھر حکم ملا اور ادھر اچک لے جائے گی

اور ایک لمحہ مہلت بھی نہ دے گی

آگے کیا کام آنے والا ہے؟

نہ قومی شناخت اور نہ مال و دولت

نہ منصب اور نہ حسن

صرف اعمال صرف اعمال

حضور اکرم ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے:

اعمال میں سبقت کر لو سات چیزوں سے پہلے

اور ان میں سے ایک مہلت نہ دینے والی موت ہے

اچانک اللہ تعالیٰ کو پیارے ہونے والے مولانا مامون اقبال صاحب رحمہ اللہ تعالی میرے نوجوانی اور طالب علمی کے زمانے کے سب سے اچھے دوست تھے-وہ جب درمیانی درجات میں تھے میں فراغت کے قریب تھا اس زمانے میں بہت اصرار سے میرے ساتھ مختصرالمعانی اور اصول الشاشی کا درس دہرایا-اب ہماری ملاقات صرف چھٹیوں میں ہوتی اور بھی کبھی کبھار-وہ فراغت کے فورا بعد اپنے تایا جان یعنی حضرت اباجی نوراللہ مرقدہ کے زیر سایہ آگئے مرکز عثمان وعلی کے ساتھ قائم مدرسے میں تدریس شروع کردی حضرت اباجی انکے آنے پر بہت خوش تھے کہ انہیں ایک سعادتمند معاون میسر آیا - مدرسے میں تایا بھتیجا کی رفاقت چھ سال رہی اور خوب رہی چھ سال انہوں نے حضرت ابا جی قدس سرہ کے بعد ان کے جامعہ سے وفانبھائی اور خوب نبھائی اور اور پھر انہی کی طرح ایک دن مختصر سے وقت کیلئے مدرسے ٰسے ہسپتال لے جائے گئے اور واپس آکر مدرسے میں دائمی سکونت پالی اور حضرت اباجی کے قریب ہی مدفون ہوگئے اسی طرح دوپہر کو رحلت عشاء کے بعد جنازہ اور راتوں رات تدفین-وہ ہمارے جامعہ کی شان تھے ایک انتھک خادم اور فکرمند ذمہ دار-اور اب جامعہ کھلی جگہ منتقل ہونے کے بعد تو انکی خدمات بہت بڑھ گئی تھیں آگے کے کیا کیا ارادے اور عزائم تھے وہ تو خواب ہوئے -بہر حال وہ انکا بھی انشاء اللہ بہترین اجر اللہ تعالی کیبہاں پائیں گے- انکا آخری عمل جامعہ کی خدمات ہی مقدر ہوئیں- چند گھنٹے قبل درس گاہ سے اٹھ کر آئے-چند دن قبل حدیث شریف کی مقبول کتاب مشکوۃ شریف کی تکمیل کرائی -نحومیر پڑھنے والے بچوں کی کارگذاری ملاحظہ کرتے ہوئے آنا فانا دور سفر پر نکل گئے-مولانا جامعہ میں بڑی کتب پڑھاتے تھے اور وہ جس پائے کے مدرس تھے انکا حق بھی تھا-ہدایہ کے تمام حصے پڑھائے مشکوۃ کئی سال سے زیر تدریس تھی مختصر المعانی اور اصول تو مانگ کر لیا کرتے تھے لیکن اس سال ہم نے ان سے ایک قربانی لی-وہ نحو کے زبردست ماہر تھے ان سے کہا کہ بچوں کو نحو میر بھی آپ پڑھائیں اور چونکہ نظامت کی ذمہ داری بھی ہے اسلئے کچھ بڑے اسباق چھوڑ دیں یوں ہدایہ اور مختصر کی قربانی دے کر انہوں نے بچوں کی علمی استعداد مضبوط کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا اور اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا- میں نے دوران سال کئی بار کارگذاری لے کر انہیں مبارکباد دی شکریہ ادا کیا تو وہ مسکرا کر اتنا کہتے کہ بھائی جان کام ہے بہت مشکل ۔

جمعرات کو میرا کراچی کا سفر تھا جامعہ سے نکلتے ہوئے آخری ملاقات انہی سے ہوئی کچھ اجتماعی امور پر مشاورت کے بعد معانقہ کرکے رخصت ہونے لگا تو انہوں آخری بات یہ کہی کہ بلڈ پریشر کا معاملہ اب بہت تنگ کرنے لگا ہے سفر میں دعاء کیجئے گا-کیا معلوم تھا کہ یہ سفر اب ان کے لئے دعائوں میں ہی گذرے گا-میرے لئے تو یہ بھی انکی حضرت اباجی کے ساتھ نسبت کی ایک نشانی بن گئی کہ انکا انتقال بھی ایسے وقت میں ہوا جب میں کراچی میں دورہ تفسیر پڑھا رہا ہوں-

دورہ تفسیر کی بات آئی تو اور کتنی یادوں کے دریچے کھل گئے-سن  سے جب حضرت امیر المجاہدین حفظہ اللہ کی طرز پر انکے تلامذہ نے دورات تفسیر پڑھانا شروع کیئے تو مولانا ابتدائی سال اس کام میں بندہ کے رفیق سفر رہے-فیصل آباد ڈسکہ کوہاٹ اور مرکز کے دورات میں وہ ذوق وشوق کے ساتھ شریک ہوئے اس بہانے ہم چھٹیوں کا یہ وقت بھی ساتھ گذار لیتے کیونکہ سال بھر عموما ملاقات کا موقع بھی نہ ملتا تھا یا ملتا تو انتہائی مختصر- پھر انہوں نے خود دورہ پڑھانا شروع کیا اور ماشاء اللہ اس کے ماہر مدرسین میں شمار ہوئے دورات تفسیر کے حوالے سے انکی ایک خدمت تو عظیم صدقہ جاریہ کے طور پر سب نئے مدرسین کے کام آرہی ہے-دورات کے سلسلے کووسیع کرنے کیلئے ہم نے حضرت امیر محترم حفظہ اللہ تعالی کے مردان اور کوہاٹ والے دورات کیسٹوں سے کتابت کروانے کا ارادہ کیا تو اس سعادت کا بھی بڑا حصہ مولانا کے نصیب میں آیا آج ہر مدرس انکی اس محنت سے نفع یاب ہوتا ہے- اس سال کے سالانہ دورات کا مرحلہ بالکل قریب ہے جمعرات کوہی انکی ابتدائی ترتیب بنائی گئی تو اس میں دو اہم دورات مولانا کے نام لکھے گئے مگر...انا للہ وانا الیہ راجعون

تدبیر کند بندہ

تقدیر زند خندہ

موت کے بارے میں ہم سب کے ذہنوں میں عموما وہی ترتیب ہوتی ہے جو دنیا میں آنے کی ہے حالانکہ موت دن رات ہمیں ہزاروں واقعات سے سمجھاتی ہے کہ اسکی آمد کی کوئی ترتیب نہیں پہلے آنے والے بعد میں اور بعد والے پہلے چلے جاتے ہیں- لیکن ہم یہ حقیقت بھولے رہتے ہیں اتوار کے دن اطلاع دینے والے کو اسی کیفیت کے زیر اثر غصے میں ڈانٹ دی پھر خیال آیا کہ یہ موت ہے موت..ایک اٹل حقیقت ایک ناقابل تردید سچائی - ہمارے پیارے بھائی مولانا مامون اقبال بھی ایک عرصے کی دینی خدمات، سینکڑوں تلامذہ اور کمسن بچوں کو رنجیدہ چھوڑ کر اس ترتیب کے بر عکس چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو بڑھا دے اور سیاست کو مٹا دے اور بلند درجات عطاء فرما دے آمین

مومن کو پہنچنے والی ہر تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ اور نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ ہے۔اہل خاندان جس تکلیف دہ گھڑی سے گذررہیہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر جمیل عطاء فرما دے۔بندہ تو تاحال دور بیٹھا ہے نہ اپنے شب زندہ دار چچا جان کے کندھے پر سر رکھ کر اپنا غم ہلکا کر سکا نہ خالہ جان کا دکھ بٹاسکا اور نہ بھائیوں کا ہاتھ بٹاسکا-

ایک پیارے دوست اور مخلص مددگار ساتھی کا بچھڑنا اتنا بڑا غم لگ رہا ہے تو ایک جوانمرد بیٹے اور بھائی کی جدائی کا صدمہ کیا ہوگا لیکن چچا جان محترم سے جو مختصر بات ہوئی ان کی زبان سے الحمدللہ علی کل حال کا جملہ سن کر اپنی حالت پر شرم آئی-

ہمارے مولانا مدرس تھے مربی تھے جاتے ہوئے بھی ایک بہت کارآمد سبق دے گئے کہ موت کی حقیقت کو سب سمجھ لیں-

آئیے ہم سب سبق حاصل کر لیں۔

موت کی تیاری کر لیں ۔

توبہ کر لیں اور اپنے رب کو راضی کر لیں ۔

ہمیں علم نہیں کہ ہماری موت کس وقت، کس جگہ اور کس حال میں لکھ دی گئی ہے۔

اور جب وہ آ جائے گی تو کوئی ذی نفس نہ ایک گھڑی آگے کر پائے گا اور نہ پیچھے۔

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

ان للّٰہ ما اعطی ولہ ما اخذ وکل شئی عندہ باجل مسمی

اللہم اغفرلہم وارحمہم وعافہم واعف عنہم واکرم نزلہم ووسع مدخلہم واغسلہم بالماء والثلج والبرد ونقہم من الذنوب والخطایا کما ینقٰ الثوب الابیض من الدنس آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online