Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مغالطہ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 588 (Talha-us-Saif) - Mughalta

سبق

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 588)

ایک بزرگ نے اسلام کی تاریخ کا بنظر غیر مطالعہ کرنے کے بعد ایک عجیب و غریب بات ارشاد فرمائی ہے’’ بنظر غیر‘‘ کا لفظ عجیب تو لگ رہا ہو گا لیکن حقیقت یہی ہے کیونکہ صحیح محاورے کے مطابق اگر بنظر غائر مطالعہ کیا جاتا تو یہ نتیجہ نکالنا ممکن نہ ہوتا۔ فرمان کچھ یوں تھا کہ:

’’ جتنے لوگ آپ کے زمانے میں جہاد کر رہے ہیں اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے باوجود اسلام ترقی نہیں کر رہا ،اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ جہاد درست نہیں ہو رہا۔ ‘‘ ( اوکما قال)

بات قرض میں رکھی رکھی کچھ پرانی ہو گئی ہے کیونکہ کشمیر کے تحریکی اَدوار سے متعلق مضمون پورا کرنا زیادہ اہم تھا۔ ساتھ ساتھ موقع کی مناسب سے کچھ اہم موضوعات اور بھی آتے رہے، اس لئے وعدہ وَفا ہونے میں تاخیر ہو گئی، لیکن چونکہ ابھی وہ اگلا موقع کچھ دورہے جس پر انہوں نے حسب معمول اسی طرح کی کوئی اور بات فرمانا ہو گی اس لئے ایسا بھی نہیں کہ بات کا موقع نہیں رہا۔

اس بات کا ایک جواب تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ( بالفرض ) یہ تحقیق درست ہے تو اس سے بہت زیادہ درست تحقیق یہ ہے کہ آج روئے زمین پر جتنے مدارس موجود ہیں اسلامی تاریخ میں اتنے مدارس کا تصوربھی کبھی نہ کیا گیا ہو گا۔ اس سال جتنے فضلاء ’’عالم دین‘‘  کا خطاب حاصل کریں گے یقیناً یہ اب تک کی تاریخ کا سب سے بڑا عدد ہو گا اور صرف مردوں میں نہیں خواتین کے باب میں علم دین کے فروغ کے یہ اعداد و شمار بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا ہندسہ ہوں گے اور قوی امید ہے کہ آئندہ سال یہ تاریخ بھی بدل جائے گی۔اس سال جتنے لوگ حج کریں گے وہ بھی شاید ریکارڈ ہو۔ عمرہ کرنے والے بھی اسلامی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوں گے جب کہ انہی حضرت کے بقول جو کام انبیائِ کرام علیہم السلام والا واحد کام ہے اور جس میں جڑنا اُمت کی تمام تر پریشانیوں ، مسائل اور اُلجھنوں کا حل ہے۔ جو اُمت کی مکمل کامیابی کا واحد ضامن ہے، اس وقت میں اس کام سے جڑے لوگوں کی تعداد کی اسلامی تاریخ میں مثال نہ ہونا تو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ اس کے باوجود اسلام کسمپرسی کی حالت میں اور مسلمان ذلت و پستی کی انتہا پر ہے تو نزلہ صرف وہیں کیوں گرایا جاتا ہے جہاں گرانا اَغیار کو پسند ہے؟ نشانہ صرف اسی عمل کو کیوں بنایا جاتا ہے جو کفار کا بھی سب سے بڑا نشانہ ہے اور نفاق زدہ متجدد اور لبرل طبقے کا بھی۔ یہ کس کے ایجنڈے کی تکمیل اور کن کی فکر کا فروغ ہے؟…

لیکن یہ اصل جواب نہیں ہے۔غلط بات کا جواب غلط بات اور ایک غلط فہمی پر مبنی تحقیق کا جواب اسی قسم کی تحقیق نہیں ہو سکتی۔ ان تمام اَعمال میں اللہ تعالیٰ نے جو اَثرات رکھے وہ آج بھی اسی طرح موجود ہیں۔ ان اسباب سے متعلق نتائج آج بھی وہی ہیں، اگر نتیجہ ویسا نہیں نکل رہا ہوتا تو بھی ہم کسی عمل کو نشانہ نہیں بنا سکتے۔ اصل بات یہاں پر یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ کو گواہ بنا کر جو اتنا بڑا دعویٰ کیا گیا وہ سراسر غلط ہے۔ دنیا میں اس وقت جتنی بھی تحریکیں جہاد کے نام پر برپا ہیں، ان کے بارے میں چند بنیادی حقائق کو پیش نظر رکھے بغیر ایسے نتائج نکالنا تحقیق نہیں کہلا سکتا، اس کے پس پردہ کچھ اور مقاصد ہو سکتے ہیں۔ چند مختصر باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہیں:

(۱) یہ بات کہ آج جتنے لوگ جہاد کر رہے ہیں یا جہاد کے ساتھ وابستہ ہیں اتنے تاریخ میں کبھی نہ تھے، تاریخ میں جو کچھ لکھا ہوا ہے اس کے تناظر میں بالکل غلط ہے۔ اسلامی معاشرے کا حکمِ جہاد نازل ہونے اور اس کے فضائل اُترنے کے بعد جو حال تاریخ میں مذکور ہے وہ یہ ہے کہ اس معاشرے میں سوائے اُن چند افراد کے جن کا کام ہر مہم کے وقت بہانہ بازیاں اور حیلہ سازیاں کر کے جان چھڑانا تھا، باقی سب لوگ اس حال کے تھے کہ باپ بیٹے کے درمیان قرعہ اندازیاں ہوا کرتی تھیں، نابالغ بچے جہاد میں نکلنے کے لئے حیلے تراشا کرتے تھے، مائیں اپنے شیر خوار بچے لا کر پیش کیا کرتی تھیں، اسلامی ریاست کو یہ قانون سازی کرنا پڑتی تھی کہ ہر گھرانے میں سے ایک فرد نکلا کرے ایک گھر میں رہا کرے۔ یہ اس معاشرے کی عام تصویر تھی ۔ آپ کو تاریخ کے مطالعے سے ایسے اَدوار بھی مل جائیں گے کہ خلفاء کو باقاعدہ امر نافذ کر کے کچھ لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکنا پڑا تاکہ امور سلطنت بلا خلل جاری رہ سکیں۔ آج کا وہ زمانہ جس میں دنیا بھر میں جہاد کرنے والے مجاہدین کی کل تعداد اسلام کی مشہور فتوحات کے کسی ایک لشکر کے برابر بھی نہیں اور جس زمانے میں جہاد کا صحیح معنیٰ اور مفہوم تک اکثر لوگوں کو درست معلوم نہیں۔ جس زمانے میں جہاد کی صریح آیات و احادیث میں مختلف قسم کی رکیک تاویلات اور تلبیسات کا بازار گرم ہے جس زمانے میں ’’ انفروا ‘‘ ’’ قاتلوا‘‘ جیسے اوامر اور ’’ومالکم‘‘ جیسے جھنجھوڑ دینے والے صیغے اپنا وہ اثر نہیں رکھتے اس کا موازنہ اُن ادوار سے کیا جائے جن میں محض ترک دنیا کی ترغیب کو تحریض علی الجہاد کے لئے کافی سمجھا جاتا تھا اور پھر صرف موازنہ نہیں بلکہ نتیجے میں اس دور کو سب سے بڑا جہادی دور کہہ دیا جائے ایک عالم دین کی شان سے یہ بات بہت بعید ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے کہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ جو عساکر شام کے امیر عام تھے انہوں نے ایک خط اہل مدینہ کے نام تحریر فرمایا اور قاصد کے ذریعے امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ درخواست بھجوائی کہ یہ خط اہل مدینہ کو جمع کر کے کھولا اور پڑھا جائے۔ امیر المومنین نے ان کی خواہش کے مطابق اہل مدینہ کو منادی کرا کے جمع فرمایا اور حضرت ابوعبیدہ ؓ کا خط ان کے سامنے کھولا۔ اس خط میں صرف یہ لکھا تھا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالیٰ کے بندے ابوعبیدہ کی طرف سے اہل مدینہ کے نام

جان لو دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ ہے اور زیبائش اور مال میں ایک دوسرے کی سبقت لے جانے کی فکر ہے۔‘‘ ( الحدید)

سورۂ الحدید کی اس آیت کا یہ ٹکڑا سنانے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کو فرمایا :

ابو عبیدہ ؓ نے آپ لوگوں کو جہاد کی طرف بلایا ہے۔

اس پر مدینہ منورہ سے اتنا بڑا لشکر نکلا جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں تھی حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کو حکماً روکنا پڑا۔

مسلمانوں کے جہادی لشکروں میں ایک ایک کی تعداد دو لاکھ اور اس سے بھی زائد تک شمار کی گئی ہے کیا آج پورے عالم میں جہاد کرنے والے لوگ اس تعداد کو پہنچ رہے ہیں؟۔ نبی کریم ﷺ کی اپنی قیادت میں صحابہ کرام کا بیس ہزار کا لشکر نکلا۔صحابہ کرام کے لشکروں کی تعداد کیا تھی جو بیک وقت دنیا کی دو سب سے بڑی طاقتوں روم و فارس سے نبرد آزما تھے۔ ان کے بعد کے زمانوں میں اسلام کے جن لشکروں نے حجاز سے ایشیائے کوچک، افریقہ اور یورپ کے عظیم شہروں پر حق کے علم لہرائے ان کی تعداد کیا تھی ۔ یہ سب اس اسلامی تاریخ کا حصہ ہے جو ہر ذی شعور شخص کی دسترس میں ہے۔ ایسے میں اس طرح کا دعویٰ ایک مقلد محض اور اندھے عقیدتمند مجمع کو تو متاثر کر سکتا ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔کیا سننے والوں میں کوئی رجل رشید ایسا نہیں جو سوال اٹھانے کی جرأت کرے؟ اس پر مستزاد یہ دعویٰ کہ انہوں نے یہ سوال مجاہدین کے ایک نمائندہ وفد کے سامنے رکھا اور وہ سب اس پر لا جواب رہے، کوئی جواب نہ دے سکا۔ شاید اس زمانے کی بات ہو جب دعوتِ جہاد صرف چند جذباتی نعروں اور باتوں پر کھڑی تھی، قرآن و حدیث سے مدلل و مبرہن نہ تھی۔ شاید یہ حقیقت فراموش کی جا رہی ہے کہ اب ایسا نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی یہ بات تسلیم کرنا بہرحال بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ مجاہدین اس مغالطے کے سامنے لاجواب ہوئے ہوں اور اُن میں سے کوئی حقیقت سامنے نہ لایا ہو۔

(۲) دوسری بات یہ ذہن میں رہنا لازم ہے کہ جہاد کے جن نتائج کا عموماً انتظار ہے مثلاً خلافت کا قیام، اسلام کی سربلندی ، کلمۃ اللہ کا غلبہ ، اسلامی نظام کا نفاذ، اسلامی دعوت کا فروغ، مسلمانوں کی جان و مال اور حرمتوں کی حفاظت ، اسلامی مقدسات کا تحفظ یہ تمام تر نتائج اُس جہاد سے حاصل ہوئے ہیں اور ہمیشہ حاصل ہوتے ہیں جسے اِقدامی جہاد کہا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ شاہد عدل ہے کہ مسلمان جب صرف اپنا دفاع کر رہے ہوں تو یہ نتائج کبھی حاصل نہیں ہوئے، نہ ہو سکتے ہیں۔ یہ سب نعمتیں جب بھی ملی ہیں اقدامی جہاد کی برکات سے ہی ملی ہیں۔ اور آج جب کہ روئے زمین پر کسی ایک جگہ بھی اقدامی جہاد نہیں ہو رہا بلکہ مسلمان جہاں بھی لڑ رہے ہیں اپنے دفاع کے لئے یا اپنی مقبوضات کی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں وہ بھی اس قدر قلت اور بے سروسامانی کے ساتھ، ایسے میں ان کے جہاد سے روم و فارس کی فتوحات جیسی اُمیدیں وابستہ کرنا اور ان کے بارآور نہ ہونے پر جہاد کو طعنہ زنی کا نشانہ بنانا خلط مبحث کی بدترین مثال ہے۔ کیا تاریخ اسلام کے اتنے وسیع ذخیرے سے کوئی ایک مثال ایسی تلاش کر کے دکھائی جا سکتی ہے کہ دفاع پر مجبور لشکر شہر فتح کرتے اور ملکوں پر اپنا نظام نافذ کرتے نظر آ رہے ہوں۔ ایک علاقے کی مدافعانہ جنگ کے اثرات دوسرے علاقوں پر نظر آ رہے ہوں یا کسی ایک خطے کی دفاعی جنگ مسلمانوں کے عمومی حالات بدل رہی ہو؟…

(۲) تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جہاد کے حق و ناحق ہونے کی کسوٹی اس کے نتائج و اثرات کو قرار دینے والے حضرات اسلام کے بدر، احد اور احزاب جیسے ابتدائی غزوات کے بارے میں کیا کہیں گے جن کے غازیوںکے قدموں کی خاک چومنے فرشتے اترے اور شہیدوں کی مدح میں قرآن نازل ہوا، لیکن ظاہر بین جن چیزوں کو ’’نتیجہ‘‘ قرار دے کر ان کی بنیاد پر جہاد کو پرکھتے ہیں ایسا کوئی نتیجہ ان سے حاصل نہ ہوا۔ وہ غزوہ موتہ کو کیا کہیں گے جہاں سے لشکر اسلام بہ مشکل صرف بچ کر آ سکا، مزید کچھ حاصل نہ کر سکا اور وہ غزوہ تبوک کو کیا کہیں گے جو صرف آنے جانے کا ایک سفر تھا۔ کیا بعد میں بڑے بڑے ممالک فتح کرنے والوں کا جہاد ’’احد‘‘ والوں کے جہاد کے برابر ہو سکتا ہے جنہیں زخموں اور کٹی پھٹی لاشوں کے ساتھ لوٹنا پڑا تھا؟…

نبی کریم ﷺ نے تو اس جہاد کو مجاہد کے لئے زیادہ قیمتی اور کار آمد قرار دیا جس میں اسے فتح و غنیمت نہ ملے صرف مشقت ملے اگرچہ فتح و غنیمت والوں کو بھی کامیاب اور عظیم اجروثواب کا مستحق قرار دیا۔

اس لئے گزارش ہے کہ ہر کوئی اپنے مثبت کام کو مثبت انداز میں بڑھانے کی محنت کرے۔اپنی خامیوں پر توجہ رکھ کر انہیں دور کرنے کی کوشش کرے اور اگر بغرضِ اصلاح دوسروں پر تنقید کی ضرورت ہو تو ایسی بات کرے جو حق ہو، سچ ہو اور تاریخ کی شہادت اس کے مطابق ہو۔ اس طرح کے مغالْطوں سے دین کی کوئی خدمت نہیں ہوتی، دین کے کام اور مغالطہ دینے والے کی شخصیت کو ہی نقصان پہنچتا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor