Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

بموں کی ماں (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 590 (Talha-us-Saif) - Bamo ki Maan

بموں کی ماں

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 590)

’’بموں کی ماں‘‘ پھینکنے والوں کو خبر ہو کہ ان کا مقابلہ ’’ ماؤں کے بموں‘‘ سے ہے، وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ربِّ کعبہ کی قسم!…

دُنیا سے جہاد کو مٹانے کے لئے، مزاحمت پیشہ گروہوں کو ختم کرنے کے لئے اور اپنا نظام کلی طور پر نافذ کرنے کے لئے جب ’’ بموں کی ماں‘‘ کی اِیجاد کی جا رہی تھی، تب مسلمان مائیں اپنی گودوں میں وہ ’’بم‘‘ پال رہیں تھیں جنہوں نے فرعونوں کے سر جھکانے اور باطل نظاموں کے جھنڈے اُکھاڑنے تھے۔ دونوں ایک ہی وقت میں میدان میں اُترے ۔ آج پندرہ سال کا عرصہ گذرنے پر نتیجہ کیا بتا رہا ہے؟

 کامیاب کون رہا؟…

وہ جس کا ہدف جہاد کو مٹانا اور اس کی دعوت کو ختم کرنا تھا؟…

یا وہ جو جہاد کو بچانے کے لئے اپنے جسموں کو بم بنا کر میدان میں اُترے تھے؟…

مٹانے والے یوں ناکام ہوئے کہ جسے مٹانے آئے تھے وہ آج دنیا کا سب سے طاقتور مسئلہ بن چکا ہے۔

اور بچانے والے یوں کامیاب ہوئے کہ آج ان کی تعداد پندرہ سال پہلے سے کم از کم دَس گنا زیادہ ہو چکی ، ان کے محاذ کم از کم چار گنا وسیع ہو چکے، ان کی قوت کم از کم پچاس گنا بڑھ چکی اور ان کی رسائی دنیا کے اُ ن خطوں تک بھی ہو چکی جہاں پہنچنے کا خواب خود ان کے ذہنوں میں بھی نہ تھا۔

’’ بموں کی ماں‘‘ تو ایک چھوٹے سے علاقے میں اپنا مقصد پورا نہ کر سکی۔ ’’ ماؤں کے بم ‘‘ جن منزلوں کی طرف روانہ ہیں، جہاں بھی پھٹیں، بہت کچھ ہل جاتا ہے، بہت کچھ درہم برہم ہو جاتا ہے۔ صدیوں کے فاصلے سمٹ جاتے ہیں ۔ سالوں کے پروگرام سیکنڈوں میں ملیامیٹ ہو جاتے ہیں اور اگلے کئی سالوں تک کھرچنے کے لئے زخم رہ جاتے ہیں۔ آپ کا بم تو ان کے ایک دن کے معمولات بھی متاثر نہیں کر سکا ہوگا،  وہ جہاں پہنچتے ہیں زمانے کی نبض ٹھہر جاتی ہے۔

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے فارس کے سالاروں کو کہے ہوئے الفاظ دُہرانے کا دِل کرتا ہے:

’’عرب کی ماؤں نے اپنے جگر کے ٹکڑے تم پر دے مارے ہیں، یاد رکھو! ان کے نزدیک موت اس سے بھی زیادہ پسندیدہ اور مرغوب چیز ہے جتنا تمہارے نزدیک شراب … اسلام کی ماؤں نے اپنے جگر کے ٹکڑے ’’ بموں کی ماں‘‘ بنانے والوں پر دے مارے ہیں اور ان کے نزدیک ٹکڑوں میں بکھر جانا اس سے بدرجہا مرغوب اور پسندیدہ ہے جتنا ان کفار کے نزدیک اپنے جسموں کو سجانا، سنوارنا اور بنانا محبوب ہے۔ اِن کا اور اُن کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ ربِّ کعبہ کی قسم!…

جو بھی ہتھیار بنائے جاتے ہیں ان کا ٹیسٹ اور تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ ان کفار نے آج کل مسلمانوں کو ان تجربات کی تجربہ گاہ سمجھ لیا ہے۔ ڈیزی کٹر بم کا تجربہ افغانستان میں ہوا۔ تجربے سے پہلے اس کی دنیا میں دھوم تھی اور رُعب۔ کتابی مواد کے مطابق وہ ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہتھیار تھا۔ پھر یوں ہوا کہ اسے افغانستان میں عملی طور پر آزمایا گیا ۔ ایک دن ظہر کی نماز ادا کرتا مجاہدین کا ایک قافلہ اس کا نشانہ بنا اور چند سو مجاہدین جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ جس علاقے پر ڈیزی کٹر گرایا گیا تھا وہ آج امارت اسلامیہ کے قبضے میں ہے اور ڈیزی کٹر والے اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکے۔ یوں ڈیزی کٹر کی ناکامی تاریخ کا حصہ بن گئی اور اس کا رُعب دھول بن کر اُڑ گیا۔ بموں کی ماں کا بھی عملی تجربہ کر لیا گیا۔ اس نے جتنی آواز پیدا کی وہ کسی کے دل کو کیا خوفزدہ کرتی سرزمین جہاد کے غیرت مند کہساروں نے اس آواز کو کئی گنا بڑھا کر مارنے والوں کو واپس لوٹا دیا۔ دِل انہی کے ڈرے ہوں گے جو پہلے سے ہی ڈرے ہوئے ہیں، نہ زندہ ہیں نہ مردہ۔ نہ کوئی خوفزدہ ہو کر میدان سے بھاگا، نہ کسی نے صلح کی بھیک مانگی، نہ کوئی اپنے موقف سے دستبردار ہوا، نہ کسی نے اپنا رُخ موڑا اور نہ ہی کسی نے دشمنی چھوڑ کر دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ تو پھر ’’ بموں کی ماں‘‘ نے کیا حاصل کیا؟ ۔ ایک اور ناکامی تاریخ کا حصہ بن گئی اور ایک اور رُعب دھولِ خاک بن کر اُڑ گیا۔

اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ الاعلیٰ واجل ،اللہ الاعظم

٭…٭…٭

جہاد کشمیر کے مٹ جانے ، ختم ہو جانے کی آس لگائے بیٹھے ہوؤں کو خبر ہو … کشمیر میں تحریک کا پرانا دور واپس آیا چاہتا ہے۔ مودی دھماکے سن کر واپس گیا ہے۔اس نے نوجوانوں سے جواب مانگا تھا، اسے دوٹوک اور واضح جواب ملا ہے۔ تحریک کشمیر کا جھنڈا ہاتھ میں تھامے اس نوجوان نے ببانگ دہل بتا دیا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ کشمیر کے درودیوار نعروں سے اور جنگلات نئی جہادی یلغار سے گونج اُٹھے ہیں۔ اِخوانی غداروں کی لاشیں اہل عزیمت کے لوٹ آنے کی نوید سنا رہی ہیں۔ ایوانوں اور خفیہ دفاتر میں تحریک کشمیر کے خاتمے کی خوشخبریاں بانٹنے والے سرنِگوں ہیں اور کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر پورے قد سے ہندوستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہوا ہے۔

خوفناک بموں، گولوں اور گولیوں والے یہاں بھی ہار گئے اور ماؤں کے بم جیت گئے۔

دنیا میں جہاں بھی میدان آباد ہیں وہیں مٹانے والے ہار رہے ہیں، بچانے والے جیت رہے ہیں۔ جسموں پر وار کرنے والے ناکام ہیں او جسموں کے وار کرنے والے سرفراز ہیں۔

یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہوتا رہے گا… ربِّ کعبہ کی قسم!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online