Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

فیصلہ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 591 (Talha-us-Saif) - Faisla

 فیصلہ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 591)

ججز نے کہا تھا ایسا فیصلہ آئے گا جسے صدیوں یاد رکھے جائے گا۔

اول تو دوپہر کی بات شام تک فراموش کر دینے والی قوم سے یہ توقع رکھنا کہ صدیوں کسی بات کو یاد رکھے گی ضرورت سے زیادہ خوش فہمی تھی یا حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی؟ یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستان کا وجود میں آنا ایک تاریخی واقعہ تھا اور اس کے لئے دی دی جانے والی قربانیاں بھی بلاشبہ ایک تاریخی حقیقت۔ لیکن ابھی پون صدی بھی نہیں گذری اور اس قوم کی اکثریت اس بات کو فراموش کر چکی ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا تھا اور اس قدر کیوں قربانیاں دی گئیں تھیں؟

پاکستان بننے سے ہندوستان تقسیم ہوا۔ ہندو اس تقسیم کو ہندوستان ٹوٹنے سے تعبیر کرتا ہے۔ ہندوستان کا انتہا پسند ہندو ہو یا سیکولر ہندو ہر ایک کے دل پر ان کی سرزمین کے ٹوٹنے کا زخم برابر گہرا ہے ان کی ہر بات کی تان شروع بھی بٹوارے کے ذکر سے ہوتی ہے اور ٹوٹتی بھی اسی پر ہے۔ ان میں سے کوئی کبھی نہ تو اس تقسیم کو دل سے قبول کرنے پر آمادہ ہے نہ یہ جرم معاف کرنے پر۔ اس لئے جب موقع ملے جس طرح ملے اپنی بھڑاس اور دشمنی نکالنا فرض سمجھتا ہے جبکہ ہماری تان آج کل اس سے دوستی سے شروع ہوتی ہے اور اسی پرٹوٹ جاتی ہے۔ ہم زبان سے ، عمل سے، ثقافت سے ، ماحول سے مکمل اس کی دوستی میں رنگتے جا رہے ہیں اور قوم کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ ہم نے جس دن دنیا میں وجود پایا تھا اسی دن ایک ازلی دشمن بھی وجود میں آیا تھا۔

کشمیر … ہمارے جسد ملی کا وہ حصہ جو ایک صدی سے سلگ رہا ہے۔ جسے درندے نوچ رہے ہیں، جو زخمی ہے، جو ابتلاء میں ہے۔ جہاں ہر گھڑی ظلم کی ایک داستان وجود میں آتی ہے۔ جہاں لاشیں ہیں، آہیں ہیں، سسکیاں ہیں اور مدد مدد کی پکار ہے۔ جو صرف اس لئے آزمائش میں ہے کہ وہ ہمارا ہونے پر مصر ہے۔ وہ صرف ہم سے وابستگی کی قیمت چکا رہا ہے اور اسکے علاوہ ہر آپشن سے انکاری ہے لیکن قوم کی اکثریت تو اسے بھی بھلا چکی اور فراموش کر بیٹھی ہے۔ آج کشمیر کا مسئلہ جو درحقیقت اس قوم کی عسکری، جغرافیائی ، آبی زرعی اور سب سے بڑھ کر نظریاتی عبادت کا مسئلہ ہے اکثریت کے نزدیک ایک ثانوی مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قوم کے پاس نہ اسے سوچنے کا وقت ہے اور نہ اس کے بارے میں اب کوئی زندہ جذبات دلوں میں باقی رہ گئے ہیں۔

پاکستان بنانے والوں نے اسے ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے طور پر مانگا تھا یا بس سیر و تفریح کے لئے اور خود حکومت کرنے کے لئے ایک خطہ زمین درکار تھا اس لیے اس کے حصول کی تحریک چلائی ؟ کسی بھی قوم کے لئے یہ سب سے اہم بات ہوتی ہے کہ اس کی کوئی نظریاتی اساس ہے یا نہیں؟ کیا قوم کو نظریاتی اساس کا مطلب بھی معلوم رہ گیا ہے؟

ایسے میں یہ دعویٰ بجائے خود ایک لطیفہ ہی تھا کہ ایسا فیصلہ آئے گا جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

تاریخی فیصلے وہ ادارے دیا کرتے ہیں جن کا کردار بے داغ ہوتا ہے۔ جن کی وابستگیاں اصولوں سے ہوا کرتی ہیں افراد سے نہیں۔ جو ضرورت کے تحت نظریات ایجاد نہیں کرتے بلکہ نظریات کو اپنی ضرورت سمجھا کرتے ہیں ۔افسوس کہ یہاں ایسا کچھ نہیں۔ تاریخ ایسی ہے کہ بجائے خود شرمندہ ہے۔نہ کسی کو جتانے کی ہے نہ دکھانے کی۔ رسوخ اتنا ہے کہ چینی بنانے والی ملوں تک پر سب سے اونچے ایوان عدل کا فیصلہ نافذ نہیں ہو سکتا۔ صداقت و امانت کا یہ حال ہے کہ سب سے بڑی عدالت کے ججوں پر انگلیاں اٹھتی ہیں اور عدل کا خون کرنے کے قصے اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ بڑے بڑے معاملات میں اونچی اونچی باتیں محض وقت گذاری اور اخبار میں بڑی خبر لگنے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں۔ نظام یہ ہے کہ بے گناہ اور بری قرار دئے جانے والے فیصلہ آنے سے پہلے پھانسی پر لٹک چکے ہوتے ہیں اور قوم کے مجرموں کو براء ت کے تاج پہنا کر باہر کا راستہ فراہم کر دیا جاتا ہے۔ وہ نظام جو نہ کرپٹ حکمرانوں کو سزا دے سکتا ہے نہ ہر حرام اور ناجائز کام کرنے والے سرمایہ دار کو لگام ڈال سکتا ہے ، نہ قاتلوں اور غداروں کو نمونہ عبرت بنا سکتا ہے، نہ قومی مفادات کا سودا کرنے کرنے والوں کے ہاتھ روک سکتا اور نہ ہی کسی ایک مظلوم کی داد رسی کر سکتا ہے یہ دوسرا لطیفہ ہے کہ اس سے ایسا فیصلہ آنے کی امید دلائی جائے جو صدیوں یاد رکھا جا سکے اور جس کے اثرات نسلوں تک محیط ہوں…

فیصلہ آ گیا… اور خوب آیا… سب خوش بھی ہیں اور سب ہی غمگین بھی… نواز شریف کو بتا دیا گیا کہ آپ اگرچہ وزیر اعظم ہیں لیکن آپ بے ایمان بھی ہیں اور جھوٹے بھی (صادق اور امین نہ ہونے کا یہی مطلب ہوتا ہے) اس لئے آپ کی مرضی ہے وزیراعظم برقرار رہنے پر مٹھائی کھائیں یا بانٹیں ، اپنی فیملی کے ساتھ ہنستی مسکراتی سیلفیاں اپ لوڈ کریں، دوستوں کو جھپیاں ڈالیں اور خوشیاں منائیں یا پھر بے ایمان اور جھوٹا قرار دئیے جانے پر منہ پھلائیں اور احتجاجاً قوم سے خطاب منسوخ کریں۔

عمران خان کو کہا گیا کہ بات آپ کی تقریباً ٹھیک ہے۔ پانامہ کمپنیوں کا کھرا وزیراعظم کے گھر تک پہنچتا ہے۔ لندن فلیٹس کا معاملہ بالکل مشکوک ہے۔ قطری خطوط سے بھی کچھ ثابت نہیں ہو سکا۔ منی ٹریل پیش کرنے میں بھی شاہی خاندان ناکام رہا ہے ، عدالت ان کے دلائل سے بھی کہیں مطمئن نہیں لیکن… حکمران وہی ہیں…

اب آپ چاہیں تو اسے اپنی فتح گردان کر گلاب جامن کھائیں اور کھلائیں۔ بڑے بڑے جلسے کر کے فخریہ انداز میں اعلان فتح کریں۔ اپنی جدوجہد کی کامیابی پر شکر کریں اور حکومت گرانے کی جدوجہد مزید تیز کر دیں یا پھر اسے اپنی ناکامی تصور کر کے برا منہ بنائیں اور بلڈ پریشر چیک کرائیں۔

اخبارات میں آنے والی تصاویر بھی دونوں فریقوں پر دونوں طرح کی کیفیات کی داستان سنا رہی ہیں۔ وزیراعظم کی جو پہلی تصویر آئی اس میں چار افراد ہیں۔ خود وہ اورپرویز رشید چہرے سے خوش جبکہ شہباز شریف اور صدیقی صاحب کافی مایوس اور پریشان نظر آ رہے ہیں۔ اسی طرح عمران خان کے ساتھ کھڑے مٹھائی کھا رہے مشیروں میں کچھ کے چہرے خوشی اور کچھ غم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے شاید اسے تاریخی فیصلہ کہنا درست بھی ہو کہ یہ فیصلہ سب کے حق میں بھی ہے اور سب کے خلاف بھی۔ فریقین میں سے کوئی بھی اس پر نہ پوری خوشی منا رہا ہے نہ پورے غم کا اظہار کر پا رہا ہے…

ایک ساتھی نے اس فیصلے کے حوالے سے ایک لطیفہ بھیجا ہے۔ قارئین بھی اس کا لطف اٹھائیں۔

ایک بوڑھا آدمی اپنے گاؤں سے دوسرے گاؤں آ گیا جہاں اس کی تین بیٹیوں کی شادی ہوئی تھی اور تینوں کے شوہر ایک ہی چوہدری کے خدمت گار تھے۔ پہلی بیٹی نے کہا:بابا! دعاء کرنا جم کر بارش ہو جائے ، چوہدریوں کے گھر میں شادی ہونے والی ہے۔ فصل اچھی ہو گی تو خوشی میں خرچ کی کمی نہیں ہو گی اور ہمیں بھی انعام ملے گا۔

دوسری بیٹی نے کہا :بابا! دعاء کرو اچھی تیز دھوپ نکل آئے اور چند دن مسلسل رہے۔ ہم نے چوہدریوں کے لئے مٹی کے برتن بنائے ہیں ۔ بارش ہو گئی یا دھوپ ہلکی رہی تو وہ خراب ہو جائیں گے اور ہماری روزی متاثر ہو گی۔ تیسری بیٹی نے کہا:بابا! دعاء کرو ، چند دن نہ بارش ہو نہ تیز دھوپ نکلے ہلکی ہلکی ہوا چلتی رہے۔ ہم نے چوہدریوں کی عورتوں کے کپڑے رنگے ہیں بارش ہوئی تو رنگ اُتر جائے گا اور تیز دھوپ پڑی تو پھیکا پڑ جائے گا۔

بابا شدید پریشانی کے عالم میں تھے کہ ان میں سے کس کے لئے دعاء دیں اور کسے نہ دیں۔ ایک سیانا رشتے دار آ گیا اور پریشانی کی وجہ پوچھی۔ بابا نے بتایا تو اس نے کہا:پریشان نہ ہوں پانامہ کیس کا فیصلہ لکھنے والے ججز سے مشورہ کر لیں۔ وہ ایسے الفاظ بتا دیں گے جس سے آپ ان تینوں کو راضی کر سکیں گے۔

بہرحال فیصلہ آ چکا ہے۔صدیاں تو بہت دور کا زمانہ ہے۔ قوم کو اگلے سال آنے والے الیکشن تک ہی یہ فیصلہ یاد رہ گیا اور انہوں نے اس کی روشنی میں کوئی اچھا قدم اُٹھا لیا تو اسے واقعی سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلوں میں شمار کرنا حق بجانب ہو گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online