Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

خودکشی سے بچئے! (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 595 (Talha-us-Saif) - Khudkushi se Bachiye

خودکشی سے بچئے!

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 595)

اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں مت ڈالو۔ (البقرۃ:195)

اس آیت میں دو حکم ہیں:

1)جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرو

2)اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو

پہلا جزء انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید پر مبنی ہے۔

اللہ تعالیٰ کے راستے میں، جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنا کتنا ضروری، موکد اورلازمی کام ہے؟ یہ مسئلہ آپ القلم کے گذشتہ کئی شماروں میں تفصیل سے دیکھ رہے ہونگے۔

قرآن مجید کی آیات مبارکہ

نبی کریم اکے ارشادات گرامی

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اسلاف امت کا طرز عمل

یہ سب کچھ تسلسل کے ساتھ لکھا اور سنایا جارہا ہے

دوسرے جزء میں یہ حکم ہے کہ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

یعنی ایسے اسباب اور اعمال سے بچو جو ہلاکت، تباہی اور بربادی لانے والے ہیں۔

ہر وہ آیت جس میں حکم عمومی ہوتا ہے اس کا کوئی نہ کوئی اولین مصداق ضرور ہوتا ہے۔ جس کے بارے میں وہ آیت اترتی ہے۔ پھر لفظ کے عموم سے دیگر مصداق بھی شامل کرلئے جاتے ہیں۔

اس آیت کا اولین مصداق کیا ہے؟

وہ کون سی ہلاکت خیز چیز ہے جس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے؟

آئیے!مفسرین کرام کے اقوال کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد سے اس آیت کا خلاصہ:

مفسرین کے اقوال کے مطابق وہ دو چیزیں ہیں:

1 )…ترک جہاد

اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال کیلئے نکلنا حیات ہے…دنیوی بھی اور اُخروی بھی

اُخروی تو واضح ہے کہ جو اس قتال میں کام آ جائے گا اسے مردہ کہنا اور مردہ گمان کرنا ممنوع ہے۔ وہ زندہ ہے اور اس کی زندگی دنیوی زندگی سے بھی اعلیٰ ہے۔ اور جہاد دنیوی اعتبار سے بھی مسلمانوں کی حیات ہے کہ اس سے انہیں عزت ملتی ہے۔ وقار حاصل ہوتا ہے، حکومت ملتی ہے، مظلومیت اور محکومیت سے نجات حاصل ہوتی ہے، معیشت مضبوط ہوتی ہے، جان و مال، عزت و حرمت کو تحفظ ملتا ہے،گویا وہ حقیقی معنوں میں زندہ ہوتے ہیں۔

بتایا گیا کہ اس عمل کو ترک نہ کرو ورنہ حیات چھن جائے گی اور ہلاکت ٹوٹ پڑے گی۔ پھر مظلومیت و محکومیت ہوگی۔ جان، مال، عزت، سب خطرے میں ہونگے۔ سب سے بڑی ہلاکت یہ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر مکمل عمل نہیں ہوسکے گا۔ زندگی حیات نہیں رہے گی موت سے بدتر ہوجائے گی۔

اس سے بڑھ کر خود کو ہلاکت میں ڈالنا کیا ہوتا ہے؟

 ترمذی کی روایت ہے کہ اسلم ابی عمران رحمہ اﷲ فرماتے ہیں :ہم روم کے کسی شہر میں تھے کہ رومیوں کا ایک بہت بڑا لشکر ہمارے مقابلہ کے لئے نکلا مسلمانوں کی طرف سے بھی ویسا ہی یا اس سے بھی بڑا لشکر نکلا اس وقت شہر کے گورنر حضرت عقبہ بن عامر تھے۔ جبکہ لشکر کے امیر حضرت فضالہ بن عیاض تھے اسلامی لشکر میں سے ایک شخص نے رومیوں کے لشکر پر اکیلے حملہ کردیا اور ( ان کی صفوں کو اُلٹتا ہو ا) ان کے اندر تک گھس گیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر لوگ چیخ پڑے اورکہنے لگے :سبحا ن اﷲ!اس شخص نے تو خود کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں ڈالا ہے، اس پر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲتعالیٰ عنہ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے: اے لوگو!تم اس آیت کا یہ مطلب بناتے ہو حالا نکہ یہ آیت توہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ( وہ اس طرح کہ ) جب اﷲتعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطاء فرمایا اوراس کے مدد گار خوب زیادہ ہوگئے تو ہم انصار نے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے الگ چھپ کر ایک دوسرے سے کہا ہمارے اموال برباد ہوچکے ہیں اور اب جبکہ اﷲتعالیٰ نے اسلام کو عزت عطا ء فرمادی ہے اور اس کے مدد گار زیادہ ہوچکے ہیں تو ہم لوگ اپنے اموال (وجائداد) میں ٹھہر کر اسکی اصلاح کر لیں اس پراﷲتعالیٰ نے اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرماکر ہماری بات کی تردید فرمادی پس اس آیت میں ہلاکت کا معنیٰ اپنے اموال میں ٹھہر کر انکی دیکھ بھال کرنا اور جہاد چھوڑ بیٹھنا ہے۔ (راوی فرماتے ہیں ) حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ برابر جہاد میں لگے رہے یہا ںتک کہ سرزمین روم میں دفن ہوئے امام ترمذی نے اس روایت کی تحسین و تصحیح فرمائی ہے۔(قرطبی)

جلیل القدر صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے آیت کا مصداق بالکل واضح ہوگیا کہ جس ہلاکت خیز عمل سے بچنے کا حکم ہے وہ ترک جہاد کا عمل ہے اور اصول تفسیر کی رو سے یہ اس آیت کی سب سے راجح تفسیر ہے۔

اس کی روشنی میں دیگر مفسرین کے اقوال ملاحظہ ہوں۔

1) ان الالقاء بالید الی التہلکۃ ہو ترک الجہاد فی سبیل اللّٰہ (القرطبی)

یعنی جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کرنا ہی خود کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں ڈالنا ہے۔

2) یعنی چھوڑ کر جہادنہ بیٹھو اسی میں تمہارا ہلاک ہے۔ (موضح القرآن)

3)انصار نے یہ خیال کیا کہ ہم نے رسول اللہﷺکی معیت میں اسلام کی کافی خدمت کی اور جہاد میں شریک رہے اب آپ ﷺکے پاس مہاجر بکثرت جمع ہو گئے ہیں لہٰذا ہمیں اب جہاد میں شرکت کی ضرورت نہیں ہے اور بہتر ہے کہ اب ہم کھیتی باڑی سنبھال لیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جہاد سے جی چرانا ہلاکت ہے۔(حاشیہ حضرت لاہوری ؒ)

4)جہاد ترک کر دینا تباہی و بربادی ہے ، صرف روپیہ دے کر اپنی جان چھڑا لینا کافی نہیں ہے، بلکہ روپیہ دینے کے ساتھ ساتھ خود جنگ کی تیاری اور جہاد میں شرکت ضروری ہے ایسے موقع پر جبن بزدلی اور بخل سے کام لینا اپنے آپ کو ضعیف و کمزور اور مخالف کو قوی وطاقتور بنانا ہے۔ پس جان و مال دونوں کو حاضر کرو۔ (تفسیر الفرقان)

حضرات مفسرین کرام کے نزدیک وہ دوسری ہلاکت خیز چیز جس سے بچنے کا حکم ہے وہ ترک انفاق ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے سے رکنا اور بخل کرنا ہلاکت ہے۔

اس معنی میں بھی کہ مسلمان اگر جہاد پر مال خرچ نہ کریں گے تو جہاد کمزور ہوگا اور دشمن غالب آجائیں گے۔ مال بچانے والے بھی اور باقی سب لوگ بھی اس وجہ سے ہلاکت میں پڑیں گے۔

اس معنی میں بھی کہ یہ بخل دل میں حبّ مال پیدا کردے گا جو قلب و روح کی ہلاکت ہے۔

اور اس معنی میں بھی کہ انفاق فی سبیل اللہ فرض ہے اور فریضے کا ترک سخت ہلاکت ہے۔

اس طرح آیت کا دوسرا جزء پہلے جزء کے مطابق ہوگا۔

پہلے حصے میں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم ہے اور مراد اس سے جہاد میں خرچ کرنا ہے۔

علامہ قرطبی ؒ نے لکھا ہے اور یہاں سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے۔ (القرطبی)

تفسیر کبیر میں ہے:

یہاں زیادہ اقرب ہے کہ جہاد میں خرچ کرنا مراد لیا جائے کیونکہ پہلے سے جہاد کا تذکرہ چل رہا ہے۔

اب ملاحظہ ہوں اس مناسبت کی روشنی میں تفسیری اقوال:

1)اللہ تعالیٰ کی طاعت یعنی جہاد وغیرہ  میں خرچ کرو ( جلالین)

2) اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالنے کا ایک مطلب مسلمانوں کا جہادی مہمات میں مال خرچ نہ کرنا ہے جس کی وجہ سے دشمن ان پر غالب آ جائے  اور انہیں ہلاک کر دے گویا آیت میں یوں کہاگیا کہ اے مسلمان ! اگر تو دیندار آدمی ہے تو اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے خرچ کر اور اگر تو دنیا دار ہے تو ہلاکت سے بچنے اور اپنے آپ کو ( کافروں کے ) ضرر سے بچانے کے لئے مال خرچ کر۔

3)جو لوگ جہاد کی راہ میں مال خرچ نہیں کرتے وہ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں کیونکہ جہاد سے اعراض کا نتیجہ قومی زندگی کی ہلاکت ہے۔ ( ترجمان القرآن )

4) اور تم لوگ جان کے ساتھ مال بھی خرچ کیا کرو اللہ تعالیٰ کی راہ میں یعنی جہاد میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو کہ ایسے مواقع میں جان و مال خرچ کرنے سے جبن ( بزدلی ) یا بخل ( کنجوسی ) کرنے لگو جس کا نتیجہ تمہارا ضعیف اور مخالف کا قوی ہو جانا ہے جو کہ عین تباہی ہے ( بیان القرآن )

5)مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یعنی جہاد وغیرہ میں اپنے مال کو صرف کرو اور اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو یعنی جہاد کو چھوڑ بیٹھو یا اپنے مال کو جہاد میں صرف نہ کرو اس سے تم ضعیف اور دشمن قوی ہو گا ( تفسیر عثمانی )

6) یہاں اصل مخاطبت امت سے بحیثیت مجموعی ہے اور بیان یہ حقیقت ہو رہی ہے کہ افراد امت نے اگر جہاد و قتال سے جان چرائی اور مجاہدین کو مالی امداد دینے میں بخل کیا تو نتیجہ لازمی طور پر ساری امت کی تباہی ، بربادی، ہلاکت کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ ( تفسیر ماجدی)

7) ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے لوگوں کو جہاد میں نکلنے کا حکم دیا تو مدینہ میں آئے ہوئے کچھ دیہاتی حضرات کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے ہم کس طرح سے سامان جہاد برابر کریں اللہ تعالیٰ کی قسم ہمارے پاس تو زاد سفر ہی نہیں ہے اور نہ اور لوگ ہمیں دیتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا وانفقوا فی سبیل اللّٰہ یعنی اے مالدارو!اللہ تعالیٰ کے راستے یعنی اسکی طاعت میں صدقہ کرو ، ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ یعنی اپنے ہاتھ صدقہ سے نہ روکو ورنہ تم ہلاک ہو جاو گے۔

ای لا تمسکواعن النفقۃ علی الضعفاء فانھم ان تخلفوا عنکم غلبکم العدو فتھلکوا یعنی فقیر لوگوں پر خرچ کرنے سے نہ رکو کیونکہ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ جہاد میں نہ جاسکے تو دشمن غالب آ جائے گا اور تم ہلاک ہو جاوگے ( قرطبی )

مال کی محبت دل سے نکلے گی تو جہاد میں جانا آسان ہو گا اور مال جیب سے نکلے گا تو جہاد لڑنا آسان ہو گا اس کے بر عکس اگر دل میں مال کی محبت بھری رہی تو بزدلی پیدا ہو گی تب دشمن غالب آ جائیں گے اور اگر مسلمان مال جمع کرتے رہے اور جہاد میں لڑنے والے اللہ تعالیٰ کے شیر اسباب کو ترستے رہے تو پوری امت مسلمہ کو نقصان پہنچے گا۔ اس آیت میں مال کے بارے میں پورا نصاب موجود ہے کہ مال کو اسلام کی خاطر جہاد میں خرچ کرو اور اپنے دل بھی مال کی محبت سے پاک کرو اور خود بھی شوق سے جہاد میں نکلو ممکن ہے واحسنوا سے اسی کی طرف اشارہ ہو۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم نے اس حکم پر عمل کیا ، ان کے پاس باقی دنیا کے مقابلے میں بہت تھوڑا مال تھا وہ انہوں نے جہاد میں لٹا دیا اللہ پاک نے روم و فارس کے خزانے ان کے قدموں میں ڈال دیے اور دنیا کے مالدار ان کو جزیہ دینے لگے مگر جب مسلمانوں نے مال بچانے اور مال بنانے کا نعرہ لگایا تو آج انہیں سانس لینے کے لئے بھی کافروں کو ٹیکس دینا پڑتا ہے خود دیکھ لیجیے جہاد میں جان و مال لگانے والے ہلاک ہوئے یا جہاد سے جان چُرانے والے ذلت کے ساتھ ہلاک ہو رہے ہیں۔

معلوم ہوا کہ جہاد میں جان و مال خرچ نہ کرنا خودکشی ہے۔ ہر مسلمان اس سے بچنے کی کوشش کرے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online