Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

امانت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 596 (Talha-us-Saif) - Amanat

امانت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 596)

بے شک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ پہنچاؤ امانتیں امانت والوں کو ( النساء )

 امانت ہمارے عرف میں ایک محدود معنی میں استعمال ہونے والا لفظ…

کہ لوگوں میں سے کسی کی طرف ودیعت رکھے جانے والے مال کی حفاظت کرنا اور اسے لوٹا دینا

شریعت کی اصطلاح میں ایک بہت کثیر المعنی لفظ ہے

اور اس معنی کے اعتبار سے کسی شخص کا امین ہونا شریعت کی اصطلاح میں اس کی سب سے بڑی اور آخری درجے کی تعریف ہے

 امانت کہتے ہیں ہر صاحب معاملہ کے حق کو پورا پورا ادا کر دینا

انسان کے دنیا میں تین طرح کے معاملات ہیں:

(۱) بندہ  اور  عبد  ہونے کے اعتبار سے اپنے خالق و مالک کے ساتھ معاملہ

(۲)دیگر انسانوں کے ساتھ معاملات

(۳)اپنے نفس کے ساتھ معاملات

اور امانت کا مصداق ہے ان تینوں طرح کے معاملات اور حقوق کو مکمل احسن طریقے سے ادا کر دینا

اس تناظر میں دیکھا جائے تو سمجھ میں آئے گا کہ  امانت کتنی بھاری ذمہ داری ہے

امانت داری کتنی مشکل صفت ہے اور امین ہونا اتنی بڑی تعریف کیوں ہے؟

مسند بزاز کی روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور سوال کیا:

مجھے دین میں سب سے نرم اور سب سے سخت چیز کے بارے میں بتائیے

آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:

 سب سے نرم چیز اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺاس کے رسول ہیں اور سب سے سخت چیز امانت ہے۔ جس آدمی کے پاس امانت کی صفت نہیں اس کا کوئی دین نہیں اور نہ ہی اس کی نماز ہے اور نہ زکوٰۃ۔ ( الحدیث)

اور اس کو بیان فرمایا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں:

 دین کے باب میں وہ سب سے پہلی چیز جسے تم کھو دو گے امانت ہے اور آخری چیز نماز ہے۔ ( رواہ البیہقی )

٭…٭…٭

بندے کی اپنے رب کے ساتھ امانت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے تمام حقوق ادا کرے

تمام اوامر و احکام بجا لائے اور تمام ممنوعہ کاموں سے رکے

جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم فرمودہ احکام پر عمل نہ کرتا ہو یا اللہ تعالیٰ کے منع فرمودہ کاموں سے نہ رکتا ہو

وہ  امین نہیں، اپنے رب کے حق میں خائن ہے

 اے ایمان والو!خیانت نہ کرو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ( الانفال)

یعنی اللہ تعالیٰ کے جتنے حقوق تمہارے ذمہ لازم ہیں انہیں ادا کرو

یوں امین وہ شخص ہوا جو پوری شریعت پر عمل کرنے والا ہو

جو اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کو توڑے گا یا چھوڑے گا خائن بن جائے گا

بندے کی بندوں کے ساتھ امانت بھی وسیع مفہوم رکھتی ہے

(۱) بڑا ہونے کی حیثیت سے چھوٹوں کے حقوق ادا کرنا

(۲)چھوٹا ہونے کی حیثیت سے بڑوں کے حقوق بجا لانا

(۳) تاجر ہونے کی حیثیت سے خریدار کے حقوق کی رعایت اور خریدار ہوتے ہوئے تاجر کے حقوق کی ادائیگی

(۴)استاذ پر شاگردوں کے حقوق اور شاگردوں پر اساتذہ کے حقوق کا ادا کرنا

(۵)شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے حقوق کے امین

(۶)کسی عہدے، منصب یا ملازمت پر ہوتے ہوئے اس کام کے جملہ حقوق کی ادائیگی

(۷)مالی معاملات میں امانت

(۸)مسلمانوں کے عیوب کی پردہ داری

(۹)مسلمانوں کے راز چھپانا

(۱۰)ہر طرح کے عہد کی پاسداری

(۱۱)عہدوں اور مناصب پر اہل لوگوں کا تقرر کرنا

(۱۲)امیر کی اطاعت

(۱۳)گواہی میں سچ کا التزام

(۱۴)ہر حال میں مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، مشورہ دیتے ہوئے امانت کا لحاظ رکھنا

(۱۵)حرمات کی پاسداری کرنا یعنی کسی کی حرمت کو پامال نہ کرنا

(۱۶)ہر طرح کے ظلم سے بچنا وغیرہ وغیرہ

یہ چند باتیں لکھ دی ہیں مزید کو قیاس کر لیا جائے

اور اپنے نفس کے ساتھ امانت یہ ہے کہ تمام اعضاء و جوارح کو ایسے کاموں یا ایسی چیزوں سے بچانا جو ان کے لئے دنیا یا آخرت میں نقصان دہ ہوں

انسان کو جتنی بھی صلاحیتیں عطاء ہوئیں سب آخرت کی تیاری کے لئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں

ان میں سے کسی ایک کو بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی یا لایعنی فضول کاموں میں لگانا خیانت ہے

اسی طرح جان بوجھ کر کوئی ایسا کام کرنا جو دنیاوی اعتبار سے جان و مال کے لئے ضرر رساں ہو نفس کے حق میں خیانت کے زمرے میں آتا ہے یوں اس باب میں بھی امانت  کا مفہوم بہت وسیع ہوا

٭…٭…٭

احادیث مبارکہ کے ذخیرے میںامانت کا اطلاق متعدد چیزوں پر وارد ہوا ہے

جن سے یہ اصول اخذ کر لیا گیا کہ ہر حق امانت ہے خالق و مالک کا ہو بندوں کا ہو یا اپنے نفس کا چند احادیث ملاحظہ فرمائیں

(۱)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک بار نبی کریم ﷺ مجلس میں کچھ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی آیا اور پوچھا:

 قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم ﷺنے اپنی گفتگو جاری رکھی ( فوری جواب نہ دیا) اور بات مکمل کرنے کے بعد پوچھا : وہ سائل کہاں ہے؟

اعرابی نے کہا :میں ہوں، آپ ﷺنے فرمایا:

جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو

اعرابی نے پوچھا : امانت کا ضیاع کیا ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا:جب معاملات ( مناصب )غیر اہل لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں (صحیح بخاری )

(۲) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بات بڑی امانت کے طور پر ہو گی کہ مرد و عورت آپس آپس میں ملاپ کریں اور پھر ایک دوسرے کی پوشیدہ باتوں کا افشاء و اظہار کریں۔

(یعنی مردوعورت کے پوشیدہ معاملات بڑی امانت ہیں اور ان کا اظہار خیانت ہے )( صحیح بخاری )

(۳)نبی کریم ﷺنے فرمایا:

جس نے میت کو غسل دیا اور اس میں امانت کو ادا کیا یعنی بوقت غسل مردے کے کسی عیب پر مطلع ہوا اور اسے چھپا لیا ظاہر نہ کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا مردے کو غسل اس کا قریبی ترین رشتہ دار دے یا ایسا شخص جس کے بارے میں تم جانتے ہو کہ تقوی اور امانت کی صفت رکھتا ہے ( المعجم الاوسط)

( ۴)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہے ( یعنی امانت کے ساتھ مشورہ دے )( ابو داؤد)

(۵)نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:

نمازپڑھانے والا(سب کی نمازوں کا )ضامن ہے اور مؤذن امین ہے ( یعنی نمازوں کے اوقات کی بروقت خبر دینے کی امانت اس کے سپرد ہے )( ابو داؤد )

(۶)ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاکت میں ڈالنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے حیاء چھین لیتا ہے اس کی وجہ سے وہ لوگوں میں نفرت و بیزاری کا نشانہ بنتا ہے جب وہ نفرت کا نشانہ بن جاتا ہے تو اس سے امانت چھین لیتے ہیں وہ خائن بن جاتا ہے ا ور جب خائن بن جائے تو اس سے  رحمت  کی صفت چھین لی جاتی ہے جس کے سبب وہ دھتکارا ہوا اور ملعون شخص بن جاتا ہے اور جب ایسا ہو جائے تو اس کے گلے سے اسلام کا ہار نکال لیا جاتا ہے ( ابن ماجہ )

(۷)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

اگر تم وہ باتیں جان لو جو میں جانتا ہوں تو زیادہ رویا کرو اور کم ہنسا کرونفاق ظاہر ہو جائے گا امانت اٹھا لی جائے گی رحم کا مادہ چھین لیا جائے گا امانت دار لوگوں پر الزام لگائے جائیں گے اور خائن کو امین بنایا جائے گا ایسے وقت میں تم پر فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے (ابن حبان )

(۸)لقمان حکیم سے پوچھا گیا کہ آپ کو یہ فضیلت اور مقام کیسے ملا؟

فرمایا:بات کی سچائی ،امانت کی ادائیگی اور فضول کاموں کے ترک کے سبب ۔( مؤطا امام مالک )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online