Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

رمضان کیسے گزاریں (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 597 (Talha-us-Saif) - Ramazan Kese Guzarein

رمضان کیسے گزاریں

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 597)

 الحمد للہ رمضان المبارک کا ایک عشرہ گذر گیا اللہ کرے ہم سب نے اسے خوب کما لیا ہو…

رمضان گناہوں کو جلانے والا مہینہ، شیطانوں کی شامت والا مہینہ، رحمتوں برکتوں اور مغفرتوں کے نزول کا مہینہ، قرآن والا، جہاد والا، بدر والا اور روزوں والا مہینہ…سبحان اللہ

اللہ تعالیٰ اسے ہم سب کے لیے مبارک بنائے اور ہم سب کو خوب برکتیں، رحمتیں اور بخشش عطاء فرمائے۔ رمضان المبارک کو قیمتی بنانے کے لیے اسے کیسے گزارا جائے؟ کن اعمال کی کثرت کی جائے؟ کن چیزوں سے بچا جائے، اس کا مذاکرہ ضروری اور ہم سب کے لیے کام کی چیز ہے اور اس مقصد کے لیے گذشتہ کئی سالوں میں رمضان المبارک کے حوالے سے لکھے گئے ’’رنگ و نور‘‘ اور مکتوبات کا قیمتی مجموعہ "شہر رمضان"  مرتب ہوکر آچکا ہے اُمید ہے آپ اس سے مستفید ہو رہے ہوں گے۔

اصل مزہ اور فائدہ تو اسی میں تھا کہ وہ تمام مضامین مکمل پڑھیں اور بار بار پڑھیں بندہ کو اس کتاب کے مطالعہ کے بعد جو خلاصہ ذہن میں آیا وہ یہ ہے:

ادب، احتیاط اور عاجزی سے رہیں

رمضان المبارک کا پورا مہینہ… عبادت اور رحمت والا ہے… اس مہینے کے دن بھی بابرکت… اور اس کی راتیں بھی پرنور اور اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے… اس لیے اس مہینے کے داخل ہوتے ہی ایمان والوں پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے… ادب، عاجزی اور احتیاط کی کیفیت… ایسا نہیں ہوتا کہ روزہ افطار کرتے ہی نفس کا جن بوتل سے باہر آجائے  اور گناہ کے کام اور شرارتیں شروع ہو جائیں…

اُلٹی چھلانگ سے بچنا چاہئے

انسان کا ’’نفس ِ امارہ‘‘ اور شیطان… اس کو الٹی راہ پر ڈالتا ہے… رمضان المبارک کا اصل مطلب ہے قربانی یعنی کم کھانا، کم پینا، کم سونا، زیادہ مال خرچ کرنا اور خوب جہاد کرنا… اب شیطان نے انسانوں کو سکھا دیا ہے کہ رمضان المبارک کا مطلب ہے خوب کھانا کہ پیٹ پھول جائے، خوب پینا کہ پیٹ پھٹنے لگے، خوب سونا کہ بستر بھی تنگ آجائے اور خوب مال کمانا کہ ہر وقت بازار کے فسادزدہ ماحول میں بیٹھنا پڑے…

کچھ کام بڑھا دیں

رمضان المبارک میں عام دنوں سے زیادہ، عبادات میں محنت کرنی چاہئے اور محنت وہ ہوتی ہے جو انسان کو تھکاتی ہے، رمضان المبارک کے پہلے لمحے سے لے کر آخری دن سورج غروب ہونے تک محنت کا یہ سلسلہ جاری رہے چنانچہ فوری طور پر یہ کام بڑھادینے چاہئیں…

(۱) نماز: یعنی فرائض وواجبات کا خوب اہتمام اور نوافل کی کثرت… رمضان المبارک میں ’’تراویح‘‘ بہت بڑی نعمت ہے… کوئی مسلمان اس نعمت سے محروم نہ ہو… اور تہجد کا بھرپور اہتمام کیا جائے…

(۲) تلاوت: کم از کم تین پارے اور زیادہ جس قدر ممکن ہو…

(۳) صدقات: یعنی خوب سخاوت کی جائے… خوب مال خرچ کیا جائے… ان مسلمانوں تک افطار اور کھانا پہنچایا جائے جو دشمنان اسلام سے ٹکر لے رہے ہیں… یا اپنے گھروں سے محروم ہجرت پر مجبور ہیں…

(۴) جہاد: رمضان المبارک جہاد کا مہینہ ہے… غزوہ بدر اسی مہینے میں پیش آیا… اس لیے غزوہ بدر کی ہر یاد تازہ کرنی چاہئے ،جان کی قربانی، مال کی قربانی… جہاد کی دعوت… مجاہدین کے لئے ضروریات کی فراہمی یا جس کام پر تشکیل ہو جائے

(۵) آخرت کی فکر: ہم نے اس دنیا میں نہیں رہنا اور اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، یہ فکر اور عقیدہ انسان کی اصلاح کے لئے لازمی ہے، اس کا زیادہ سے زیادہ محاسبہ اور مذاکرہ کیا جائے تب فضول کوٹھیاں بنانے، مال جمع کرنے اور اس دنیا کی خاطر ذلیل ہونے کے عذاب سے نجات مل جائے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا ہوگا…

یہ پانچ کام زیادہ کرنے ہیں… مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ… ہر عمل کی جان اخلاص اور ذکر میں ہے… یعنی ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا جائے اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد کا نور بھرا ہوا ہو… تب وہ عمل قبول ہوتا ہے…

کچھ کام بند کردیں

(۱) بدنظری… اپنی آنکھوں کی خوب خوب حفاظت کرنی چاہئے … ورنہ رمضان المبارک کا نور حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا…

(۲) ٹی وی بالکل بند کردیں، نہ خبریں نہ کچھ اور

(۳) گناہ والی مجلسیں… وہ مجالس جن میں بے حیائی کی باتیں… غیبت اور جھوٹ کا چلن ہو… ان مجالس میں بیٹھنا بند کردیں…

چند کام کم کردیں

(۱) کھانا (۲) پینا(۳) سونا(۴) جائز لذت حاصل کرنا(۵) گفتگو کرنا(۶) دنیوی اخبارات و رسائل پڑھنا

 یہ تمام کام عام دنوں سے کم کردینے چاہئیں…

روزانہ کا سوال

روزانہ بلاناغہ… دو رکعت نماز صلوٰۃ حاجت پڑھ کر دعا کیا کریں… یا اللہ اس رمضان المبارک کو ہمارے لیے رحمت، مغفرت، جہنم سے نجات اور عافیت والا مہینہ بنا… ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن پر تیرا فضل ہے اور جن کی بخشش ہوئی ہے اور ہمیں اپنی پناہ عطاء فرما… ان لوگوں میں شامل ہونے سے جو رمضان تو پاتے ہیں مگر ان کی بخشش نہیں ہوتی…

آخری عشرے کی حفاظت

رمضان المبارک کا آخری عشرہ بہت قیمتی ہوتا ہے… عید کے لئے نیا جوڑا بالکل ضروری نہیں ہے… اور نئے جوتے کے بغیر بھی عید کی خوشیاں پوری طرح سے مل جاتی ہیں… رمضان المبارک کا آخری عشرہ بازاروں میں ضائع کرنا افسوسناک ہے… اس لیے جس طرح بھی بن پڑے… آخری عشرے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس عشرے کے دن اور رات قیمتی بنائے جائیں،افسوس کہ عید کی خریداری کے نام پر اپنی اصل خوشیوں کو برباد کرنے کا رواج مسلمانوں میں عام ہوچکا ہے… ممکن ہے یہ رمضان المبارک ہمارا آخری رمضان ہو… اس لیے ہم اسے قیمتی بنالیں… ہم اسے پالیں… یا ارحم الراحمین توفیق عطاء فرما!…

چار اعمال کی کثرت

 بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول نبی کریمﷺ نے رمضان المبارک میں چار کاموں…کی کثرت کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے… آپﷺ نے ارشاد فرمایا:اس ماہ میں چار کاموں کی کثرت کرو ان میں سے دو کام ایسے ہیں کہ ان کے ذریعہ تم اپنے پروردگار کو راضی کرو گے اور دو کام ایسے ہیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے ہو… وہ دو کام جن سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوگی

(۱)’’لا الہ الااللہ کاورد رکھنا ‘‘

 (۲)اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے رہنا… یعنی استغفار کرنا… اور وہ دو چیزیں جن سے تم بے نیاز نہیں رہ سکتے ہو یہ ہیں :

(۱)جنت کا سوال کرنا 

(۲) جہنم سے پناہ مانگنا(الترغیب والترہیب)

رمضان المبارک میںروزانہ اگر پچیس سو مرتبہ ’’لا الہ الااللہ‘‘ کا معمول بنا لیں تو اُنتیس دن میں ستّر ہزار کلمے کا نصاب بھی پورا ہو جائے گا بلکہ کچھ تعداد زیادہ ہو جائے گی… بہت سے اللہ والوں نے ستّر ہزار کلمے کو مغفرت کے لئے بہت مؤثر عمل قرار دیا ہے اور رمضان المبارک میں تو ہر عمل کا اجر ویسے ہی ستّر گنابڑھ جاتا ہے ضروری نہیں کہ آپ باقاعدہ مصلے پر بیٹھ کر پڑھیں چلتے پھرتے، کھانا پکاتے، کپڑے دھوتے ہرو قت زبان پر ذکر اور درودشریف جاری رکھنے کی عادت ڈالنی چاہئے، اسی طرح استغفار روزانہ تین سو کا معمول ہو جائے… حضرت گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ کسی چیز کی کثرت تین سو سے شروع ہوتی ہے… اور جنت کے سوال اور جہنم سے پناہ کی دعاء بھی تین سو بار ہو جائے…

لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ، اَسْتَغْفِرُاللّٰہ، اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ

افادات ہجویریؒ

’’ہر روزے کے لیے صحیح نیت اور سچی شرط ضروری ہے، تاہم نفس کو روکنے کی شرائط بہت سی ہیں، چنانچہ کوئی شخص اسی وقت حقیقی روزہ دار ہوگا جب وہ اپنے پیٹ کو کھانے سے بچائے اور اپنی آنکھ کو شہوت کی نظر سے، کان کو غیبت کے سننے سے، زبان کو بیہودہ اور فضول گفتگو کرنے سے اور جسم کو دنیا کی تابعداری اور شریعت کی مخالفت سے محفوظ رکھے، کیونکہ رسول اللہﷺنے ایک شخص سے فرمایا تھا کہ  ’’جب تو روزہ رکھے تو ضروری ہے کہ تیرا کان، تیری آنکھ، تیری زبان، تیرا ہاتھ اور تیرا ہر عضو روزہ رکھے۔‘‘ اور نیز فرمایا:  ’’بہت  سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے بھوکا اور پیاسا رہنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘

افطار پارٹیوں سے بچیں

رمضان المبارک میں شیطان کا ایک پھندا… غفلت زدہ افطار پارٹیاں ہیں… ان پارٹیوں میں کھانے کی حرص، فضول گپ بازی اور قیمتی وقت کا ضیاع ہوتا ہے… نہ آپ کسی کو پارٹی دیں نہ کسی کی پارٹی میں جائیں… ہاں کوئی دینی اجتماع ہو تو اس میں شرکت کرسکتے ہیں،افطار کی دعوت بہت فضیلت والا عمل ہے  اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے… غریبوں کے گھر، شہداء کرام کے ورثاء کے گھر، علماء اور دین کے خدمتگاروں کے گھر افطاری اور کھانا بھجوا دیں… افطاری کی رقم مجاہدین اور مہاجرین کو بھجوا دیں… اگر کسی کو افطاری پر گھر بلائیں تو فضائل اعمال اور فضائل جہاد کی تعلیم کا اہتمام کریں… ایک دوسرے کے مقابلے پر دعوتیں نہ کریں… بلکہ… اپنے وقت کو قیمتی بنائیں اور افطاری کا کھانا بھجوادیا کریں…

ہم امت محمد ﷺ کے فرد ہیں

جب کسی انسان کو اللہ تعالیٰ… عبادت، خلوت اور ذکر کی توفیق عطاء فرماتا ہے تو… اس انسان کو عجیب مزہ آنے لگتا ہے تب خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوجائے… اس لیے بھرپور عبادت وتلاوت کے ساتھ ساتھ یہ بات یاد رہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے امتی ہیں… ہمارے رسول حضرت محمدﷺ خود میدانوں میں نکل کرتلوار اٹھاتے اور جہاد فرماتے تھے… اس عظیم اور بہترین امت کا فرد ہونے کی وجہ سے ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہیں  اور ہم پرانی امت کے صوفیوں کی طرح… صرف خلوت، عبادت اور تنہائی کے مزے نہیں لوٹ سکتے… اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہمارا دل فلسطین، افغانستان، عراق، کشمیر… اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے درد کو محسوس کرے… ہم ان مجاہدین کے لئے دعاء کریں جو ہمارے سرکا تاج ہیں… اس لیے کہ وہ میدانوں میں لڑ رہے ہیں، ہم ’’دشمنانِ انسانیت‘‘ کی جیلوں میں قید ’’اسیرانِ اسلام‘‘ کے لئے بلک بلک کر دعائیں مانگیں  ہم حضرت امیر المؤمنین اور ان تمام مجاہدین کے لئے دعائیں مانگیں… جن پر دین کی خاطر زمین تنگ کردی گئی ہے… ہم مجاہدین کے غلبے، اور دشمنانِ اسلام کی ناکامی کے لئے رو رو کر دعائیں کریں… اور ہم اپنے دل کو حضرت محمد ﷺ کے سچے امتی کا دل بنائیں…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online