Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

لازوال حقیقت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 598 (Talha-us-Saif) - Lazwal Haqeeqat

لازوال حقیقت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 598)

آج وہ دن ہے جس سے ہمیں بہت پیار ہے اور کیوں نہ ہو…یہ دن ایمان کی عظیم الشان حجت ہے …اس دن کو یاد کرتے ہیں تو رگوں میں ایمان دوڑنے لگتا ہے…اس دن پر غور کرتے ہیں تو ایمان کی حقیقت آشکار ہوتی…اس دن کو پیش نظر رکھتے ہیں تو سمجھ نہ آنے والی کئی باتیں سمجھ آجاتی ہیں…آج وہ دن ہے اور رات سے ایک بات زبان پر ہے باربار دہراتا ہوں دل ایمان سے زبان مٹھاس سے اور دماغ سرشاری سے لبریز ہوجاتا ہے…کیسی اٹل کیسی مزیدار اور کیسی ایمان افروز حقیقت ہے کہ....

بش ....تھا

اوبامہ....تھا

اور جہاد....ہے

پرویز مشرف....تھا

جیش ....ہے،دعوت جہاد... ہے

ایڈوانی ....تھا

امیرمحترم....ہیں

اور

ابوجہل ...تھا

بدر....ہے

ایک دن آئے گا

جہاد کا زور مٹانے کی مہم کا تازہ علمبردار ٹرمپ بھی ...تھا... ہوجائے گا اور پھونکوں سے جہاد کے چراغ کو بجھانے کی کوششوں کا سرغنہ غامدی بھی..

جہاد اسی طرح تروتازہ ہرسو چمک رہا ہوگا مہک رہا ہوگا...سبحن اللّٰہ وبحمدہ سبحن اللّٰہ العظیم

دنیا کے ہر فرعون اور بوجہل صفت کافر کو بہت سی بدگمانیاں اورغلط فہمیاں ہوتی ہیں ،وہ انہی کے زیر اثر لائو لشکر لے کر اونچے دعووں کے ساتھ اس کام کو مٹانے نکل پڑتے ہیں جس کے بارے میں کائنات کی سب سے سچی زبان سے "لاتزال" کا جملہ ارشاد ہوکر اسے لازوال بنا چکا ہے۔بدر والا جہاد ان کی غلط فہمیاں دور کرکے انہیں یا تو انہیں لاش کی صورت کسی گندے کنویں کی غذا بنا دیتا ہے یا بے اختیار کرکے تاریخ کے تاریک قبرستانوں میں دفن کردیتا ہے۔ابوجہل سے بش واوبامہ تک ایک ہی داستان ہے کوئی غور توکرے۔

1400 سال پہلے والے بھی کئی غلط فہمیوں میں تھے۔انہیں یہ گمان تھا کہ وہ حق پر ہیں، حالانکہ وہ بہت سی نشانیاں دیکھ چکے تھے جن سے ان پر واضح ہوگیا تھا کہ وہ حق پر نہیں بلکہ باطل پر ہیں۔ لیکن ضد کا کوئی علاج نہیں سوائے ڈنڈے کے۔ ایک بات وہ بہت بڑھ چڑھ کر کہا کرتے تھے کہ ہم حق پر نہ ہوتے تو ہم غالب نہ ہوتے، ہم پر آسمان سے عذاب آگیا ہوتا اور ہم بیت اﷲکی تولیت اور حج کی خدمت سے محروم کردیئے گئے ہوتے۔ اگر یہ مسلمان حق پر ہیں تو ان پر اﷲ کی نصرت اور ہم پر عذاب کیوں نہیں آجاتا؟

اور پھر فیصلہ کرلیا گیا کہ کافروں کی یہ غلط فہمی بھی دور کردی جائے، انہیں ایسے وقت میں میدان میں لاکھڑا کیا گیا جب وہ لڑنے نہیں صرف اپنے قافلے کا دفاع کرنے آئے تھے لیکن مسلمانوں کی کمزور حالت دیکھ کر ان کے منہ میں پانی بھر آیا۔ آج مسلمان کم ہیں، خالی ہاتھ ہیں، بے سروسامان ہیں، میدان کے دشوار گزار اور بے آب حصے میں ہیں جس میں نقل وحرکت ہی مشکل ہے۔ اعداد وشمار یہی بتاتے ہیں کہ آج اگر جنگ کرلی جائے تو ہمیں کمپلیٹ وکٹری مل جائے گی اور اسلام کا نام ونشان دنیا سے ہی مٹ جائے گا۔ ابوجہل کے دل میں یہ خیال آیا، باقی قوم آج لڑنا نہیں چاہتی تھی لیکن پھر اس کی ضد کی وجہ سے سب کی نیت بن گئی۔ کیوں؟لیقضی اﷲ امراً کان مفعولا

مسلمان بھی لڑنے نہیں آئے تھے، ابوسفیان کا قافلہ پکڑنے آئے تھے، مگر وہ تو نکل گیا تھا، اب کیا کیا جائے؟ واپسی یا ابوجہل کے لشکر سے مقابلہ؟؟ آقا مدنی صلی اﷲعلیہ وسلم کو اﷲتعالیٰ کی طرف سے نصرت، معیت اور امداد کے وعدے آچکے تھے، ان کے ظہور کے موقع کا انتظار تھا۔ آپ کے قلب اطہر میں خیال آیا کیوں نہ آج یہ سب ہوجائے۔ مسلمان اگر تیاری کے ساتھ میدان میں ہوں گے نصرت تو تب بھی اترے گی، طاقت کے ساتھ صف آراء ہوں گے امداد تو تب بھی آئے گی لیکن اس وقت نظر کچھ اپنے اسباب اور اپنی طاقت کی طرف بھی جاسکتی ہے محض نصرت اور معیت کی طرف نہ جائے گی، کیوں نہ آج جنگ ہوجائے اور مسلمانوں پر حجت قائم ہوجائے کہ اسلام کی عزت، مسلمانوں کی فتح، کفر کی شکست اور کافروں کی ذلت کا سبب صرف اور صرف اﷲکی نصرت ہے۔ نہ اسباب، نہ طاقت اور نہ تعداد۔ کیوں نہ آج کافروں پر حجت قائم ہوجائے کہ وہ حق پر نہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔ وہ دیکھ لیں کہ ان کے جھوٹے خدا ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے، وہ بت ہوں خواہ ٹیکنالوجی۔ وہ دیکھ لیں کہ مسلمان سچے ہیں، حق پر ہیں۔ اس لیے کم تعداد میں بھی غالب آتے ہیں۔ کمزوری میں بھی فتح مند ہوتے ہیں۔ بے سروسامانی میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ تاکہ آج کے بعد وہ خود کو حق پر نہ کہہ سکیں۔

صحابہ کرامؓ آقا مدنی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مزاج شناس تھے، انہوںنے بھی لڑنے کی نیت کرلی۔ ابوبکر صدیقؓ بولے، عمر بن الخطابؓ نے بھی جاں نثاری ظاہر کی، مقداد بن اسودؓ نے تو ایسی بات کی جس سے آقا کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ ہمیں بنی اسرائیل کی طرح یہ کہتے ہوئے نہ پائیں گے کہ آپ اور آپ کا رب جاکر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم تو آپ کے آگے پیچھے، دائیں بائیں ہر جانب سے لڑیں گے، عبداﷲبن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم کا چہرہ اقدس چمک اُٹھا۔ انصار کی باری آئی، ان کے سردار سعد بن عبادہؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یارسول اﷲ! اگر آپ ہمیں اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دینے کا حکم کریں تو ہم اس سے بھی دریغ نہ کریں اگر آپ حکم فرمائیں تو ہم عرب کے آخری کنارے تک انہیں دوڑا کر لے جائیں۔

دیکھو!بدر حجت ہے، قیامت تک کے لیے حجت ہے، اس لیے آج بھی ایمان والے کافروں کے بڑے لشکروں اور بے پناہ طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے بلکہ کوئی مقداد رضی اﷲعنہ جیسی بات کرتا ہے کوئی سعد بن عبادۃ رضی اﷲعنہ جیسی۔ اگر بدر کی یہ حجت موجود نہ ہوتی کمزور کبھی طاقتور کے مقابل کھڑے ہوسکتے؟ کبھی کوئی چھوٹا لشکر کثیر تعداد سے بھڑ جانے کی ہمت کرسکتا؟ بدر کی یہی حجت ہی تھی جس نے مسلمانوں کو روم فارس سے لڑایا اور آج روس، امریکہ اور نیٹو کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے۔ جن کے لیے بدر اس وقت حجت نہیں تھا وہ تب بھی حساب کتاب کرتے اور بہانے جوڑتے رہ گئے اور آج بھی اسی میں مشغول ہیں، حجت مان لینے والے تب بھی میدان میں نکل آئے آج بھی میدان میں ہیں۔

جنگ ہوئی۔ طاقت والوں کے ساتھ کیا ہوا؟ انہیں اچانک کمزور اور نہتے اپنے سے دگنے نظر آنے لگے۔ حجت قائم ہوگئی کہ تم تو میدان میں آکر اپنے فطری حواس بھی قابو میں درست نہیں رکھ سکتے، اﷲ تعالیٰ جب چاہیں گے تمہیں اس حالت سے دوچار کردیں گے، تمہارے پاس اس کاکوئی توڑ ہے تو بتاؤ؟ بدر حجت نہ ہوتا تو یہ معاملہ وہیں ختم ہوجاتا لیکن شیخ عبداﷲعزام رحمہ اﷲتعالیٰ کی آیات الرحمن فی جہاد الافغان پڑھ کر دیکھ لیں۔ روسی فوجی گرفتار ہونے کے بعد مجاہدین کو بتاتے کہ تم اتنے زیادہ تھے اس لیے ہم مقابلے کی ہمت نہ کرسکے اور مجاہدین ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر بدر کو یاد کرتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم اتنے نہ تھے کم تھے۔ یہ صرف کفار کو نظر آنے والے کون تھے؟

یقینا وہی جن کے ایڑ لگانے اور کوڑے لگانے کی آوازیں بدر والوں نے سنی تھیں اقبل یا حیزوم۔ افغانستان کے کوہسار ہوں، کشمیر کے مرغزار ہوں، عراق کے ریگزار یا مسجد اقصیٰ کے مینار، بدر والی آوازیں بھی آج تک آتی ہیں اور کافروں کی آنکھیں بھی آج تک دھوکہ کھاتی ہیں بدر کو حجت مان کر ان مقامات کی طرف آکر تو دیکھیں، سب نظر آئے گا، سب سنائی دے گا۔

بدر کو حجت قرآن نے خود کہا، ایمان والوں کے لیے بھی اور کافروں کے لیے بھی،لیہلک من ہلک عن بینۃ ویحییٰ من حی عن بینۃ جو ایمان پر رہے حجت کے قیام کے ساتھ رہے اور جو کفر پر رہے وہ بھی۔

ابوجہل مکہ سے نکلتے وقت عذاب مانگ کر آیا تھا اور کافروں پر عذاب آنا کوئی نئی بات نہیں ہمیشہ کا دستور ہے۔ ہر قوم کے کافروں پر عذاب آیا۔ ابوجہل اور اس کی قوم پر بھی آیا لیکن بانداز دیگر۔ پہلے کبھی ہوا، کبھی پانی، کبھی زلزلہ، کبھی پتھر لیکن اب قیامت تک ابوجہل جیسوں کے لیے عذاب بدر کی شکل میں آیا کرے گا۔ پہلے معاذ ومعوذ کی تلوار خاک وخون میں تڑپائے گی اور پھر بدر کا گندہ کنواں آماجگاہ بنے گا۔ آخرت کا عذاب اس کے سوا ہے۔ آج بھی ان سب کے لیے یہی عذاب جاری ہے روزانہ اخبارات میں تصویریں شائع ہوتی ہیں۔ جلی کٹی، ٹکڑوں میں بکھری لاشیں اور سرنگوں ہوتے ہوئے جھنڈے۔

بدر میں جو عذاب آیا تھا اس کی خبر پہلے دے دی گئی تھی، بخاری شریف کی روایت ہے۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲعنہ فرماتے ہیں کہ یوم نبطش البطشۃ الکبریٰ (جس دن ہم ان کافروں کو بڑی پکڑ میں پکڑیں گے)سے مراد بدر کا دن ہے۔ اس دن کافر بڑی پکڑ میں آئے اور انہوں نے نبی کریمﷺ کو جو ستایا تھا اس کا بدلہ ان سے لے لیا گیا۔ کافروں پر اب بھی رب کی سخت پکڑ جاری ہے اور بدر کے انداز میں جاری ہے۔

بدر کا دن یوم الفرقان ہے۔ فرقان کے ایک معنیٰ امتیازی شان کے آتے ہیں، جہاد امتیازی شان والا عمل ہے۔ جو اس عمل کو اپنا لیتا ہے اسے بھی امتیازی شان مل جاتی ہے بلکہ جس چیز کی بھی نسبت اس کی طرف ہوجائے اسے یہ شان مل جاتی ہے۔ گھوڑا ایک عام سا جانور ہے لیکن مجاہد کا ہوجائے تو قیمتی ہوجاتا ہے، اس کی ٹاپوں کی قسمیں قرآن کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اس کی لید پیشاب حتی کہ زمین پر لگنے والے قدم میزان حسنات کا بوجھ بن جاتے ہیں۔ ایک عام سا انسان جہاد کے ساتھ جڑ جائے تو اسے بھی فرقان مل جاتا ہے، قرآن کا وعدہ ہے۔ اسی طرح جو دن جہاد والا ہو اسے بھی امتیازی شان ملتی ہے۔ بدر کا دن جہاد والا دن ہے، فتح والا دن ہے، نصرت والا دن ہے، فرشتوں کے نزول والا دن ہے، اسلام کی عزت اور کافروں کی رسوائی والا دن ہے، اسے بہت امتیازات حاصل ہیں اور سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ حجت ہے، جب بھی آتا ہے ہمیں جہاد کی حجت ملتی ہے۔ نصرت اور فتح کی حجت ملتی ہے۔ بدر ہرسال آتا ہے اور آتا رہے گا اور ایمان والے اس سے حجت حاصل کرکے اس کی یاد زندہ کرتے رہیں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online