Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

دعاء (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 599 (Talha-us-Saif) - Dua

دعاء

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 599)

’’ اور تمہارے رب نے فرمایا ہے: مجھے پکارو میں تمہاری دعاء قبول کرونگا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں، عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے ذلیل ہو کر‘‘  ( سورۂ غافر: ۶۰)

اِیمان شرک سے براء ت کا نام ہے…

شرک سب سے بڑا اور ناقابل معافی گناہ ہے…

شرک کا جزو اَعظم غیر اللہ سے مانگنا ہے…

مشرک اپنے باطل معبودوں سے حاجات مانگا کرتے تھے اور مانگتے ہیں…

انہوں نے بتوں کو اپنی حاجات منوانے کا کفیل بنا رکھا تھا کہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی بجائے درمیان میں ان کا واسطہ لازم سمجھتے تھے…

یہ ان کے عقیدہ کا بنیادی حصہ اور عبادت کا لازمی جزو تھا…

ان کے رد میں’’ دعاء ‘‘  یعنی اللہ تعالیٰ سے مانگنے کو اِسلام میں اہم اور بنیادی عبادت قرار دے دیا گیا…

الدعاء مُخُّ العبادۃ

دعاء عبادت کا مغز ہے…

الدعاء ھو العبادۃ

دعاء ہی تو اصل عبادت ہے…

دین اسلام کی اہم ترین عبادت ’’ نماز ‘‘ اول تا آخر دعاء ہی دعاء ہے…

سورہ فاتحہ جو اس امت کو بطور خاص انعام کے عطاء کی گئی پوری کی پوری ’’ دعاء ‘‘ ہے…

اس لئے اس کا ایک نام ’’ تعلیم المسائل ‘‘ بتایا گیا ہے…

بس جو انسان دعاء کے جتنا قریب ہے، شرک سے اُسی قدر دور ہے…

جو جس قدر مانگنے والا ہے اُسی قدر عبادت گذار ہے…

٭…٭…٭

’’دعاء ‘‘ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے…

’’ فرمایا تمہارے رب نے مجھے پکارو‘‘ ( غافر )

مگر ’’دعاء ‘‘ ہو صرف اللہ تعالیٰ سے

’’ پکارو اپنے رب کو خالص کرتے ہوئے اس کے لئے دین کو ‘‘ ( الاعراف )

عاجزی اور تضرع کے ساتھ ہو

’’ پکارو اپنے رب کو زاری کے ساتھ ‘‘ ( الاعراف )

ادب کے ساتھ ہو

’’ پکارو اپنے رب کو زاری کے ساتھ اور آہستگی سے‘‘ ( الاعراف )

اسماء الحسنی کے ذریعے سے ہو

’’ اللہ تعالیٰ کے پیارے نام ہیں پس اسے پکارو انہی ناموں سے ‘‘ ( الاعراف )

اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وہ دعاء کو قبول فرمائیں گے

’’ میں تمہاری دعاء قبول کرونگا ‘‘ ( غافر )

’’ قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی پکار جب وہ مجھ سے مانگے ‘‘ ( البقرۃ )

ہاں قبولیت کی شان جدا جدا ہے…

کبھی وہی مطلوب شے نقد عطا فرماتے ہیں ، کبھی معاملہ کچھ مؤخر فرماتے ہیں اور کبھی آخرت کے لئے ذخیرہ فرما دیتے ہیں… مگر قبولیت کا وعدہ بہرحال پورا ہوتا ہے…

’’بے شک اللہ تعالیٰ وعدے کے خلاف نہیں کرتے‘‘ ( آل عمران )

٭…٭…٭

نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

’’جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتا ہے، اسکی دعاء قبول کر لی جاتی ہے یا تو دنیا میں اسے جلدی دے کر یا اس کے لیے وہ چیز آخرت کا ذخیرہ کردی جاتی ہے یا اس چیز کے بقدر اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ (ترمذی)

یعنی قبولیت کی تین صورتیں ہیں اور تینوں ہی بندے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر مفید ہیں:

۱)دنیا میں اس کی مطلوبہ چیز جلد اسے دے دی جائے۔ جو مانگا فوری طور پر مل گیا۔ اس میں بندے کے لیے کئی فوائد ہیں مثلاً حاجات کا پورا ہو جانا، پریشانی سے نجات مل جانا، اللہ رب العزت کے ساتھ محبت اور توکل میں اضافہ، شکر کی توفیق وغیرہ۔

۲) یہ دعاء ذخیرۂ آخرت بنا دی جائے اور بندے کو آخرت میں اسکا اجر عطاء کیا جائے۔

سبحان اللہ! یہ تو بہت بڑی خیر ہے بہت ہی بڑی، کیونکہ دنیا کی ہرچیز کی طرح یہاں کی حاجات بھی عارضی ہیں، کسی نہ کسی طرح گذارہ ہو ہی جاتا ہے، کوئی مطلوبہ چیز نہ ملے تو بھی زندگی گذر ہی جاتی ہے۔ کئی متبادل میسر آجاتے ہیں مگر آخرت میں اجر کی احتیاج دنیا کی ہر ضرورت اور حاجت سے بڑھ کر ہوگی۔ وہاں کی مفلسی ہی اصل اور بھیانک مفلسی ہے اور وہاں کی حاجت ہی اصل حاجت۔ اور وہاں پر کوئی ایسا بھی نہیں ہوگا جو ذرہ برابر مدد کر سکے، تب ایک ایک نیکی بہت وزنی معلوم ہوگی، ایسے میں دنیا میں پوری نہ ہو سکنے والی حاجات اور بظاہر قبول نہ ہونے والی دعائوں کا اجر مل جانا کس قدر بڑی نعمت معلوم ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ انسان اگر حقیقت پر غور کرے تو قبولیت کی اس صورت سے زیادہ مفید اور کوئی صورت نہیں ہے ہاں مگر اپنی کمزوری اور ضعف کے پیشِ نظر پسندیدہ صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی دعائوں کے ثمرات نصیب فرماتے رہیں اور مطلوبہ حاجات پوری فرمائیں۔

۳) اس دعاء کو گناہوں کاکفارہ بنا دیا جائے۔

انسان سے دن رات میں اَن گنت چھوٹے بڑے گناہ ہوتے رہتے ہیں اور بسا اوقات غفلت کی وجہ سے ان کی طرف توجہ بھی نہیں جاتی کہ توبہ استغفار کے ذریعے انہیں معاف کرا لیا جائے، ایسے میں اللہ رب العزت رحمت فرماتے ہیں اور انسان کی دعائوں کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتے ہیں۔ مطلوبہ چیز عطاء نہیں ہوتی مگر اس سے بہتر چیز یعنی گناہوں کی معافی عطاء کر دی جاتی ہے۔ بندے کو اور کیا چاہیے؟ اور مغفرت سے بڑھ کر ضروری چیز کونسی ہے؟

لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌخَیْرٌمِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (آل عمران)

ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کی بخشش اور مہربانی اس چیز سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں‘‘

٭…٭…٭

دعاء اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین اعمال اور عبادات میں سے ہے…

اس لئے کہ یہ جامع عبادت ہے…

یہ بدنی عبادت بھی ہے اور قولی بھی ہے …

اس میں عاجزی ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے…

اس میں بندگی کا اظہار ہے جو اصل مقصد تخلیق ہے…

اس میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی ہے…

اس میں اپنی کمی اور قصور کا اعتراف ہے…

اس میں اپنے محتاج ہونے کا اعلان ہے…

اور یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں …

اس لئے ’’دعاء ‘‘ کا حکم فرمایا… قبولیت کے وعدے کے ساتھ…

اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے مانگتے نہیں ہیں انہیں ’’ متکبرین ‘‘ قرار دیا گیا …

وہ اگر خود کو بندہ سمجھتے… اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت ان کے قلوب میں ہوتی تو ضرور مانگتے…

مگر وہ ایسے نہیں، اس لئے ان کے لئے جہنم کی سخت وعید ہے …

ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے…

گویا بندگی کے اظہار کی بہترین صورت کثرت سے ’’دعاء ‘‘ کرنا ہے…

جو جتنا مقرب بندہ ہو گا اسے دعاء کی توفیق اُسی قدر زیادہ ہو گی …

٭…٭…٭

ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ چونکہ سب سے کامل ’’ بندے ‘‘ تھے اس لئے سب سے زیادہ مانگنے والے تھے…

نبی کریم ﷺ کی نماز سے لے کر روز مرہ کی عام ضروریات کی ادائیگی تک ہر کام دعاؤں سے پُر ہے…

یہ امت کے لئے تعلیم ہے کہ دعاء صرف نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر حاجات مانگنے کا ہی نام نہیں بلکہ بندہ ہر نعمت کے وقت ، ہر مصیبت کے وقت، ہر حاجت کے وقت اور ہر کام کے وقت اپنے مالک کو یاد رکھے اور اس سے استعانت کرے…

کتنی دعائیں ہر موقع پر منقول ہیں کہ بڑی بڑی ضخیم کتب صرف اسی موضوع پر لکھی گئیں مگر پوری بات کسی میں بھی نہ آ سکی…

استفتاح نماز کی دعائیں، رکوع و سجود، قومہ جلسہ کی دعائیں، نماز کے بعد کی دعائیں، گھر آنے جانے کی دعائیں، بازار کی دعائیں، قضا ئے حاجات کی دعائیں، شکر کی دعائیں، استعاذہ کی دعائیں، سفرو حضر کی دعائیں… غرضیکہ مبارک زندگی کا کوئی پہلو دعاء سے خالی نہیں…

مضمون تو مختصر ہے تفصیل کے لئے مناجات صابری کا دوسرا اور تیسرا باب مطالعہ کر لیں کچھ نقشہ سامنے آ جائے گا۔

٭…٭…٭

کچھ لوگوں کی دعائیں قبولیت سے محروم رہ جاتی ہیں …

یہ کون ہیں؟ آئیے احادیث مبارکہ سے چند وہ اسباب پڑھتے ہیں جو دعاء کو واپس لوٹانے والے ہیں، تاکہ ہم ان سے بچ سکیں۔

(۱) شرک کرنا

(۲) نجومیوں کے پاس جانا اور ان کی باتوں کی تصدیق کرنا

(۳) حرام کمانا اور حرام کھانا

(۴) شراب نوشی کی مداومت

( ۵) غفلت اور بے توجہی سے دعاء کرنا

(۶) دعاء کی قبولیت سے مایوس ہونا

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’ تم میں سے ہر شخص کی دعاء قبول کی جاتی ہے جب تک جلدی نہ کرے اور یوں کہنے لگے کہ میں نے دعاء کی مگر قبول نہیں ہوئی ‘‘ ( المؤطا)

٭…٭…٭

دعاء کی قبولیت کے کچھ خاص اَوقات ، اَحوال اور اَسباب ہیں۔

جن اوقات و حا لات میںقبولیت دعاء کی زیادہ امید ہے وہ یہ ہیں۔

 (۱)  شب قدر( ترمذی ، حاکم عن عائشہؓ )

(۲)  عرفہ کا دن( تر مذی عن عمر و بن شعیب ؓ)

 (۳)  رمضان المبارک کا مہینہ( بزار ، عن عبادۃ بن الصامت ؓ)

 (۴) شب جمعہ( ترمذی ، حاکم عن ابن عباس)

(۵) جمعہ کا دن( ابو دائود ، حاکم عن ابی ہریرہ ؓ )

 (۶) آدھی رات ( طبرانی ) او ر بعض روایات میں رات کا نصف آخر مذکو ر ہے( احمد ، ابو یعلیٰ)

 (۷) سحر کا وقت( صحا ح ستہ عن ابی ہریرہ ؓ)

 (۸) جمعہ کے دن خطبہ جمعہ کے لیے امام کے منبر پر بیٹھنے سے لیکر نماز ختم ہونے تک کا وقت۔ (مسلم ، ابو دائود عن ابی موسیٰ  ؓ)

 (۹) اذان کے وقت( ابو دائو د ، حاکم عن سہل بن سعد ؓ)

 (۱۰) اذان اور اقامت کے درمیان کی دعاء  (ابو دائود ،نسائی ، ابن حبان عن انس ؓ)

 (۱۱) مصیبت زدہ شخص کی حی علی الصلاۃ، حی علی الفلا ح کے بعد کی دعاء ( حاکم عن ابی امامہؓ)

 (۱۲) میدان جہاد میں صفِّ قتال باندھتے وقت( طبرانی ، ابن حبان عن سہل بن سعد ؓ)

 (۱۳) جب جنگ شروع ہو جائے(حصن حصین)

 (۱۴) فرض نمازوں کے بعد( ترمذی ، نسائی عن ابی اما مہ ؓ)

 (۱۵) حالت سجدہ میں ( مسلم ، ابو دائود عن ابی ہریرہ ؓ)

 (۱۶) تلاوت قرآن شریف کے بعد( ترمذی عن عمران بن حصین ؓ)

 (۱۷) ختم قرآن کے بعد( طبرانی عن ابن عمر)

 (۱۸) زمزم پیتے وقت( حاکم عن ابن عباس ؓ)

 (۱۹) میت کے پاس حاضر ہونے کے وقت  (مسلم ،سنن اربعہ عن ام سلمہ ؓ) 

 (۲۰) مرغ کی آواز کے وقت(بخاری ، مسلم، ترمذی عن ابی ہریرہ ؓ)

 (۲۱) مسلمانوں کے اجتماع کے وقت( صحاح ستہ عن ام عطیہ الا نصاریہ ؓ)

 (۲۲) مجالس ذکر میں( بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی عن ابی ہریرہ ؓ)

 (۲۳) امام کے وَلاَالضَّالِّین کہنے کے وقت (آمین کہنا چاہیے جو خو د دعاء ہے)( مسلم ، ابو دائو د ، نسائی، ابن ماجہ عن ابی ہریرہ ؓ) 

(۲۴) میت کی آنکھ بند کرتے وقت( مسلم ، ابو دائود ،  نسائی ، ابن ماجہ عن ام سلمہ ؓ)

 (۲۵) نماز کی اقامت کے وقت( طبرانی ، ابن مردویہ عن سھل ؓ)

 (۲۶) بارش ہوتے وقت( طبرانی ، ابن مردویہ عن سھلؓ)

 (۲۷) کعبہ شریف پر نظر پڑتے وقت( ترمذی ، طبرانی عن ابی ہریرہ ؓ)

 (۲۸)افطار کے وقت( ترمذی ،ابن حبان، بحوالہ حصن حصین )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online