Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

جے آئی ٹی (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 601 (Talha-us-Saif) - JIT

جے آئی ٹی

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 601)

ایک تھی جے آئی ٹی…

چند چور وہاں پیشیاں بھگت رہے تھے اور چوریوں کا حساب پیش کر رہے تھے جبکہ باقی چور خوشی سے شادیانے بجا رہے تھے…

پکڑ لو…

جکڑ لو…

کڑا حساب لو…

آنتوں سے حرام مال کھینچ نکالو…

لٹکا دو…

وغیرہ کی صدائیں لگانے والے بھی چور ہی تھے بلکہ بعض ان سے بھی بڑے چور…

جے آئی ٹی سے ان چوروں کو دو باتوں کا یقین تھا…

(۱)یہ متعین چوروں کا تماشہ لگانے کے لئے بنائی گئی ہے، اس لئے باقی چوروں کو کوئی خطرہ نہیں…

(۲) یہ حسب سابق کسی چور کو سزا نہیں دلوا سکے گی بلکہ باقی جے آئی ٹیز کی طرح شاید اس کی مکمل رپورٹ بھی فی الحال منظر عام پر نہ آنے دی جائے۔ جب یہ حکمران مر کھپ جائیں تو صحافیوں کی چاند ماری کے لئے اس کے مندرجات سامنے لائے جائیں اور قبروں پر گولہ باری کی جائے گی۔ذرا سوچئے! اگر جے آئی ٹی سے کچھ ہونے کا معمولی سا شک اور احتمال بھی ہوتا تو آصف زرداری، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور ان جیسے لوگ اس کے حق میں نہیں، اس کے خلاف کھڑے ہوتے… لیکن چونکہ ایسا نہیں تھا۔

اس لئے یہ سب لوگ مطمئن ہو کر شور شرابے میں مشغول رہے۔

کچھ لوگوں کا کام اس انٹرٹینمنٹ پیرئڈ میں یہ رہا کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر جے آئی ٹی کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کیا کریں۔ کس کی گردن شکنجے میں پھنسنے والی ہے؟ کون کون پھانسی لٹکنے والا ہے؟ کس کس سے کیا کیا مال برآمد ہونے والا ہے؟ نئی سزا کی پیشین گوئی، روزانہ ایک نئی صورتحال کا عندیہ۔ یوں انہوں نے اپنی زبان و قلم سے اس خیالی پلاؤ کو مصالحہ دار بریانی بنائے رکھا اور قوم کو جے آئی ٹی کی حقیقت اور روایت سے غافل رکھ کر ایک مصنوعی خوشی اور بے بنیاد خوف میں مبتلا کئے رکھا۔ یہ لوگ آج کے میڈیا کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ انہی کی بدولت اس میڈیا کو چوبیس گھنٹے فعال رہنے کا موقع میسر ہے۔ انہی کے ذریعے جھوٹ کے اس کھیل کا فروغ ہے اور انہی کے دم سے میڈیا کو وہ نشئی مہیا ہو رہے ہیں جن کا جینا مرنا اب یہی روزانہ کی لایعنی اور لاحاصل بحثیں ، پیش گوئیاں اور پیش بندیاں ہیں اور ان کی زندگی اب اسی جال میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ ذرا سوچئے ! اگر یہ لوگ نہ ہوں تو آوارہ کتوں سے زیادہ مقدار میں دستیاب نجی چینلز چوبیس گھنٹے کس طرح آباد رہیں اور کیا بولیں؟ … سینکڑوں اخبارات کے ادارتی صفحات کا پیٹ کون بھرے اور کیونکر بھرے؟…

جے آئی ٹی گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصہ ان سب لوگوں کے سب سے زیادہ کام آئی۔ اور اب جبکہ وہ ایک ناقابل فہم رپورٹ جاری کر کے ختم ہو چکی ہے، اتنا ہی عرصہ ان کے مزید کام آ سکتی ہے۔ اب اس رپورٹ کے پانی میں روزانہ مدھانی گھما گھما کر اس میں سے مکھن برآمد کرنے کی ورزش کی جایا کرے گی اور لوگ ہمہ تن گوش بیٹھ کر شوق سے مکھن نکلنے کا انتظار کیا کریں گے اور میڈیا وہ ماہر فنکار ہے جو اس امید سے ان عقلمندوں کو سامنے بٹھائے بھی رکھے گا۔

جے آئی ٹی نے اقتدار کی ہوس میں لت پت ایک طبقے کی امیدوں کو کچھ عرصہ پانی فراہم کئے رکھا۔ کچھ لوگ اس عرصے میں روزانہ اپنے سر پر اس ظل ہما کے منتظر رہے۔ شیر وانیاں روزانہ استری کی جاتی رہیں ۔ وفاداریاں بدلنے کے عادی پریس کانفرنس لکھوا کر جیب میں لئے پھرتے رہے اور روزانہ کی بنیاد پر باتھ روم میں اس کی پریکٹس بھی کیا کئے۔ امیدوار حضرات اپنی اپنی وزارتیں منتخب کرتے رہے۔ یہ نہیں وہ …اچھا مگر وہ نہیں فلاں…وہ والی تو بالکل بھی نہیں… یہ البتہ مجبوری کا نام شکریہ…

رال بہہ بہہ کر ختم ہو گئی اور آنکھیں امید میں جھپکنا بھول گئیں۔ جے آئی ٹی چند دن اپنی رونق دِکھا کر رخصت ہوئی۔ وہ وہیں کے وہیں رہ گئے… رہے نام اللہ کا… اللہ بس باقی ہوس…

حکمرانوں کا مقصد وحید اور مطلب احید یہ تھا کہ اقتدار نہ جائے۔ رہی بات عزت کی سو سیاست میں آنے کا فیصلہ ہی نہ کرتے اگر اسے پرکاہ کی حیثیت بھی دینی ہوتی۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ اپنے تنخواہ دار ملازموں کے سامنے مجرموں کی طرح بیٹھنا پڑا۔ میڈیا پر وہ بھداُڑائی گئی کہ کوئی عزت دار آدمی ہرگز برداشت نہ کر سکے۔ بچے چوروں کی طرح کے سلوگ سے گزارے گئے۔ بیٹی کو صفائیاں دینے آنا پڑا۔ خاندان کے پوشیدہ راز طشت ازبام ہوئے۔

چھپائے گئے اثاثے منظر عام پر آگئے۔ خاندان میں تفریق پڑی مگر کیا ہوا؟… اقتدار تو بچ گیا۔ مطلوب وہی تھا جو بچ رہا۔ بلکہ ایک تجربہ مزید حاصل ہو گیا کہ اس قدر بے عزت ہو کر بھی حکمران کہلایا جا سکتا ہے اور اتنی رسوائی کے باوجود کرسی اقتدار وہی مزہ دیتی ہے۔ سو اس تجربے کے ساتھ گو آہیڈ…

حکمرانوں کے بے ضمیر ، بد زبان ، اَخلاقیات سے عاری ترجمان اور انہی صفات سے متصف اپوزیشن کے ماہرینِ الزام تراشی اس پورے عرصے میں سب سے زیادہ مصروف کار رہے۔ سیاست نے اپنی گندگی اور غلاظت خوب نمایاں کر کے دکھائی، جمہوریت کا مکروہ چہرہ اور کھل کر سامنے آیا۔ سیاستدانوں نے اپنا سفلہ پن اور رذالت اچھی طرح ثابت کئے اور قوم نے ایک بار پھر اچھی طرح واضح کیا کہ وہ مکمل اندھی، سو فیصد بہری ،اور کامل بے وقوف ہے، اس لئے آئندہ کیلئے بھی انہی کو اپنا نمائندہ نامزد کرتی ہے۔ ہر گالی دینے والے کے پیچھے ایک مجمع تھا۔ ہر بد زبان ایک انبوہ کے ساتھ تھا اور ہر بکواس پر تالیوں کی گونج تھی۔ میراثی اور بھانڈ اپنے خاندانی فن پر شرمندہ ہو رہے ہوں گے کہ انہیں خواہ مخواہ ان برے ناموں سے پکارا جاتا ہے، ان القابات کے اصل مستحق تو خاندانی نسبت سے نہیں، عوام کے ووٹ سے منتخب ہوا کرتے ہیں۔ جے آئی ٹی نے یہ منظر اچھی طرح واضح کئے رکھا کہ یہ نظام جن لوگوں پر مشتمل ہے سوائے گالی اور انارکی کے اور کچھ ڈیلیور نہیں کر سکتا۔ عوام کو اپنا ووٹ استعمال کرنے کے لئے جو نمائندے میسر ہیں ان کا کوئی جے آئی ٹی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ جس طرح کا طبقہ مسائل حل کرنے پر مقرر ہے اس سے مسائل پیدا تو ہو سکتے ختم نہیں ہو سکتے۔ پھر بھی جنہیں اس نظام سے امیدیں وابستہ ہیں ان کی امیدوں کو سلام اور جن کے ہاں یہ نظام باقاعدہ ’’مقدس‘‘ ہے انہیں اکیس سلام… جے آئی ٹی نے سوچنے کا ایک موقع ضرور فراہم کیا اگرچہ یقین ہے کہ قوم اس موقع کو بھی ضرور ضائع کرے گی۔

جے آئی ٹی کا شکریہ اس نے ہمیں کچھ اچھے مناظر دکھائے۔ نہ کوئی امید وابستہ تھی اور نہ کوئی غلط یا خوش فہمی۔ جے آئی ٹیز کی تاریخ، کردار ، دائرہ اختیار اور سب سے بڑھ کر اس نظام کے متعلق جاننے والا کوئی شخص بھی اگر سنجیدہ تھا تو اسے خود پر ہنسنا چاہے۔ بس ہمارے لئے یہ اس قدر تھا کہ فرعون کے کندھے جھکے ہوئے دیکھے، اس کا لہجہ تھکا ہوا پایا۔ چوری کا مال کھا کھا کر بے تحاشہ پھولے ہوئے ایک شخص کا وزن انتہائی تیزی سے کم ہوتے دیکھا، ایک گول گپا گول گپے میں بھری جانے والی ’’بوندی‘‘ بنتے دیکھا۔ مٹانے کی باتیں کرنے والوں کو مٹنے کے خوف سے تھر تھر کانپتے دیکھا اور، اور، اور…

ایک ایسا مہینہ دیکھا جس میں مبینہ پولیس مقابلے نہیں ہوئے…

شکریہ جے آئی ٹی… جو کچھ کیا اتنا ہی بہت ہے۔ جو نہیں کیا اس کی امید بھی نہ تھی…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online