Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

دعاء کریں (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 444 (Talha-us-Saif) - dua karein

دعاء کریں

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 444)

ہندوستان میں انتخابات ہو رہے ہیں اور ان کے متوقع نتیجے کے طور پر موذی ہندو نریندر مودی کو وزیر اعظم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مودی ابھی وزیر اعظم بنا نہیں لیکن اس کا لب و لہجہ وزیر اعظم والا ہو گیا ہے۔وہ مسلسل اس طرح سے بیان بازی کر رہا ہے گویا وہ وزارت عظمی کا حلف اٹھا چکا ہے۔کانگریس میں اس کے مقابلے کا دم نہیں،اس کی حالت لگ بھگ ہماری پیپلز پارٹی والی ہے کہ پرانے پرانے پارلیمنٹیرین بھی ٹکٹوں کے معاملے میں ’’ایثار‘‘ کرتے اور انتخابات سے پہلو بچاتے نظر آ رہے ہیں۔

’’انڈین عمران خان‘‘،مسٹر عام آدمی یعنی اروند کیجروال کی کارکردگی بھی تھپڑ کھانے کے علاوہ کسی میدان میں نظر نہیں آ رہی۔سنا ہے وہ بھی کسی ہندوستانی ’’جہانگیر ترین ‘‘کے ذاتی جہاز میں جھولے لینے کی وجہ سے عوام کی نظروں میں اپنا ’’عام آدمی‘‘ کا امیج کھو بیٹھا ہے اور لوگوں کا اس کی طرف رجحان ویسا نہیں رہا جیسا دہلی کے ریاستی انتخابات کے وقت تھا۔ہندوستان کی سیاست میں مقامی صوبائی پارٹیوں کا کردار ہمیشہ سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے خصوصاً حکومت سازی کے وقت ان چھوٹی علاقائی پارٹیوں کو قومی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے اور ان کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے،تب یہ چار چار سیٹوں والی پارٹیاں بھی سونے کے بھاؤ تلتی ہیں اور بڑی پارٹیوں کو منہ مانگی قیمت پر انہیں خریدنا پڑتا ہے۔اربوں روپے نقد بانٹے جاتے ہیں اور منہ مانگی وزارتیں۔یوں ان کی مدد سے کوئی بڑی پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔اس وقت ان پارٹیوں کی اکثریت حالات کا رخ دیکھ کر بی جے بی کا رخ کر چکی ہے اور ان کا واضح جھکاؤ مودی کی طرف نظر آ رہا ہے۔ایسے میں مودی کو اپنے وزیرا عظم بننے کا یقین کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔یہی یقین اس کے بیانات سے صاف چھلک رہا ہے۔

مودی نے پاکستان کے حوالے سے اپنا موقف صاف طور پر بیان کر دیا ہے۔وہ اقتدار میں آنے سے پہلے ہی پاکستان میں مخصوص اہداف پر حملوں کی بات کر رہا ہے۔وہ پاکستان سے اپنے مطلوب افراد زبردستی لینے کا دعوی کر رہا ہے اور کشمیر کے معاملے پر ہندوستان کے سرکاری موقف کو زیادہ شدت کے ساتھ پیش کر رہا ہے،حالیہ کچھ عرصے سے کشمیر میں ریاستی تشدد اور جبر میں اضافہ اسی پالیسی کا شاخسانہ ہے،ہندوستانی ریاستی ادارے اگلی حکومت آنے سے پہلے ہی نوشتہ دیوار پڑھ کر اس کی پالیسیوں پر گامزن ہو گئے ہیں اور انہوں نے کشمیر پر ظلم کا شکنجہ مزید کس دیا ہے۔نقلی مقابلوں میں کشمیری طالبعلموں کو شہید کیا جا رہا ہے۔تعلیمی اداروں میں سختی بڑھا دی گئی ہے۔پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جا رہا ہے۔آرمی اور نیم فوجی دستوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے ۔گرفتاریاں روز مرہ کا معمول بن گئیں ہیں اور آرمی کیمپوں میں پھر سے تشدد کا بازار گرم ہے۔ہندوستان کے دیگر علاقوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ مسلسل بد سلوکی کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔پہلے میرٹھ اور بنگلور میں کرکٹ میچ میں پاکستان کی جیت پر کشمیری طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کا یونیورسٹی سے اخراج عمل میں لایا گیا اور اب گذشتہ ہفتے ’’پاکستان مردہ باد‘‘ کا نعرہ نہ لگانے پر دہلی اور گجرات کی یونیورسٹیوں میں یہی عمل دہرایا گیا۔ہندو انتہا پسند انہیں اجتماعی طور پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر انتظامیہ نقص امن کا بہانہ بنا کر کارروائی بھی کشمیری طلبہ کے خلاف کرتی ہے نہ کہ اصل مجرموں کے خلاف۔یہ سارے حالات واضح اشارہ ہیں کہ ہندوستان کے لوگ کن قوتوں کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں اور ان کی پالیسیاں کیا ہیں۔

مودی نے بابری مسجد اور رام مندر کے معاملے میں بھی اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔بی جے پی کی انتخابی پالیسی یہ تھی کہ الیکشن کمپین میں ایسے موضوعات کو نہ چھیڑا جائے جن سے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی ہو۔اس لئے بابری مسجد کے معاملے کو نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔لیکن آر ایس ایس کے سیاسی بازو سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ اس موضوع کو بالکل نظر انداز کر دے گا۔سب جانتے ہیں کہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا معاملہ بی جے پی کی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔یہ ان کی متفقہ پالیسی ہے اور ان سب کا خواب ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔لہذا آر ایس ایس کے نظریاتی ووٹ بنک کو متحرک کرنے کے لئے نریندر مودی نے اس حوالے سے بھی اپنا موقف صاف کر دیا ہے۔انتخابات کے ساتویں مرحلے کی کمپین کے دوران لکھنو کے جلسے میں اس نے پورے اتر پردیش کو  رام کی سر زمین کہا اور یو پی کے ہندوؤں سے رام کے نام پر ووٹ کرنے کی اپیل کی۔اس کے بین السطور اس نے ہندوؤں کو جو پیغام دیا وہ بالکل واضح ہے۔ہندو عقیدے کے مطابق اترپردیش کا علاقہ ایودھیا رام کی مزعومہ جائے پیدائش ہے۔اگرچہ تاریخی حوالے تمام تر ان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں لیکن ان کی ضد ہے کہ نہ صرف ایودھیا بلکہ خاص بابری مسجد والا مقام ہی ان کے رام کی جائے پیدائش ہے اس لئے وہ اس جگہ وہ مندر تعمیر کریں گے۔مودی کا پوری یو پی کو رام کی سرزمین کہنا اور پھر اسی کے نام کا ووٹ مانگنا انتہا پسند ہندوؤں کے نام واضح پیغام ہے کہ وہ اور اس کی جماعت اپنے موقف پر قائم ہیں اور اپنے مکروہ ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ہندوستان کے مسلمان اور سیکولر ہندو سیاسی تجزیہ نگاروں کا اتفاق ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی کی طرف سے ایڈوانی ،سشما سوراج، جسونت سنگھ جیسے پرانے اور قومی سطح کے لیڈروں کو سائیڈ لائن کر کے ایک علاقائی لیڈر نریندر مودی کو کپتان کے طور پر سامنے لانا دراصل اسی رام مندر کے ایشو پر ہندوؤں کو یقین دہانی کرانے کے لئے تھا۔ایڈوانی اور اس کی پرانی ٹیم اس معاملے کو ہوا دے کر اقتدار میں آئے مگر وہ یہ کام نہ کر سکے۔اگرچہ انہوں نے دوبار اس کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا لیکن مجاہدین کی بروقت کارروائیوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے سخت ردعمل کے خدشے نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا،جس پر ہندو ووٹر برافروختہ ہوئے اور انہوں نے بی جے پی سے اپنی حمایت واپس لے کر اسے اقتدار سے ہٹا دیا۔کانگریس کو اقتدار میں لایا گیا تاکہ اپنی شاطرانہ چانکیائی سیاست کے ذریعے خاموشی سے یہ کام کرا دے لیکن وہ بھی ناکام رہی۔لہذا اس بار ایسے شخص کو سامنے لایا گیا ہے جو ریاستی مشینری کو اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کا ماہر ہے،سفاک ہے،خونی درندہ ہے اور اس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں۔اس کا اقتدار میں آنا اس مقصد کی تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اس لئے باوجود سینئر لیڈروں کی ناراضگی اور استعفوں کے سب کو پس پشت ڈال کر بی جے  پی کی کمان اسی کے ہاتھ میں تھما دی گئی۔پورے ہندوستان میں آر ایس ایس کے کچھا پوش ڈنڈا بردار کارکن گھروں میں جا جا کر ہندو مذہب کے نام اور رام مندر کی تعمیر کے نام پر لوگوںکو ووٹ دینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔اسی کے پیش نظر مودی نے بھی الیکشن کے آخری مرحلے سے قبل اپنی نیت کھل کر واضح کر دی ہے اور اپنی پارٹی کا موقف بھی کھول کر سامنے رکھ دیا ہے کہ بی جے پی بظاہر کچھ بھی کہتی رہے اور کوئی لبادہ بھی اوڑھ لے اسکی سیاست کا بنیادی عنصر رام بھگتی ہے اور وہ اسی کے نام پر اقتدار میں آنا چاہتی ہے۔

نریندر مودی نے ہندوستانی مسلمانوں کے حوالے سے بھی اپنی پالیسی واضح کر دی ہے۔ہندوستان میں مسلمان چالیس کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔یہ انڈونیشیا کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔لیکن بد قسمتی سے یہ چالیس کروڑ لوگ ’’اقلیت‘‘ کہلاتے ہیں۔کوٹے پر ملازمتیں پاتے ہیں۔کوٹے پر ہی تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرتے ہیں۔کوٹے پر ترقیاتی فنڈ کی بھیک لیتے ہیں اور کوٹے پر ہی سیاسی جماعتوں میں نمائندگی کے مستحق سمجھے جاتے ہیں۔ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادیاں اپنی پسماندگی،گندگی اور بنیادی سہولیات سے محرومی سے پہچانی جاتی ہیں۔مسلمان کا تعارف یا تو ایک دہشت گرد قوم کے طور پر ہے یا مظلوم قوم کے عنوان سے۔موجودہ ہندوستان کی اب تک کی چونسٹھ سالہ تاریخ میں صرف دنگوں میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہے۔اس میں تقسیم ہند کے وقت کے فسادات ،حیدر آباد دکن پر فوج کشی، آسام میں 1982کے فسادات،گجرات میں 2002کے فسادات،بہار میں بھاگل پور کے فسادات،یوپی مظفر نگر کے فسادات بابری مسجد کی شہادت کے وقت ممبئی میں ہونے والا قتل عام اور ایسے کئی واقعات شامل ہیں۔ہندوستان میں ہر بڑی چھوٹی پارٹی مسلمانوں کی اس مظلومیت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔اور انہی واقعات کو بنیاد بنا کر اچھے مستقبل کی نویدپر ہر ایک مسلمانوں کو الیکشن کے وقت اپنی طرف کھینچتا ہے اور پھر اقتدار میں آنے کے بعد فراموش کر دیتا ہے۔حکومت کسی کی بھی رہی ہو ہندوستانی مسلمان پر عرصہ حیات تنگ ہی رہا ہے اور وہ ہر دور میں مارا گیا ہے۔نریندر مودی بذات خود ہزاروں گجراتی مسلمانوں کا قاتل ہے اور اس نے اپنے جرم پر معذرت کرنے سے صاف انکار کر کے اپنے عزائم کا اظہار بھی کر دیا ہے۔اس نے حالیہ الیکشن کمپین میں بنگال جا کر متنازعہ موضوع کو چھیڑا اور بنگالی رفیوجی مسئلے کو ہوا دے کر مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کیں۔آسام ریلی کے دوران اس نے آسامی بنگالی اختلاف کا ذکر کر کے مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات کو ابھارا اور اسکے فوری رد عمل کے طور پر دو سو سے زائد مسلمان ایک دن میں شہید کر دئیے گئے۔آسام کے بوڈو قبائل عرصہ دراز سے مسلمانوں کی جانوں کے درپے ہیں۔1982میں انہوں نے ایک ہفتے میں تیس ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کر ڈالا تھا۔اس کے بعد بھی کئی بار انہوں نے مسلمانوں پر جان لیوا حملے کئے اور انہیں نشانہ بنایا۔مودی نے ایک بار پھر اس لڑائی کو بھڑکایا اور مسلمانوں کی جانیں خطرے میں ڈالیں۔ان ساری حرکتوں سے اس کا ایجنڈہ واضح ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر کس طرح مسلمانوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے۔

ہمارے ہندوستانی مسلمان بھائی اس وقت ایک خونی بھیڑئیے کے نرغے میں ہیں۔ہم ان کے لئے کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم دعاء میں تو بخل نہ کریں اور اسی کے ذریعے ہی اسلامی اخوت کا کسی حد تک مظاہرہ تو کریں۔باقی اس بات کا کوئی مودی گمان نہ رکھے کہ وہ ہندوستان سے مسلمانوں کو ختم کر دے گا۔ہمارے آقا مدنی ﷺ کی بشارت کے مطابق ہند مسلمانوں کا ہے اور مسلمان ہی ہند کے اصل فاتحین تھے اور ایک بار پھر بنیں گے۔وقت اور خون تو اس راستے میں ہمیشہ لگتا آیا ہے اب بھی لگ رہا ہے لیکن نتیجے کا ہمیں یقین ہے مودی کو نہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online