Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

اَقصیٰ کے آنسو (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 602 (Talha-us-Saif) - Aqsa k Ansu

اَقصیٰ کے آنسو

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 602)

مسجد اَقصیٰ کے صحن کے اندر جمعہ کے دن صبح کے وقت تین نوجوان، صیہونی غاصب اَفواج کی گولیوں کا نشانہ بن کر جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ کتنے مبارک اور عظیم شہداء ہیں جنہیں ایسا مقامِ شہادت اور ایسا مکانِ شہادت نصیب ہوا۔

اللہ تعالیٰ کا تیسرا حرم! مہبطِ انبیائِ کرام علیہم السلام ،روئے زمین کا وہ مبارک مقام جہاں ہزاروں انبیائِ کرام کے سجدے ثبت ہوئے، جسے حضرت آقا مدنیﷺ نے اپنے قدوم کا شرف بخشا، جہاں آپﷺ نے اِمامت فرمائی، وہ مقام جس نے صحابہ کرام کے لشکرِ جرّار کی تکبیریں سنیں اور پھر ان کے وَالہانہ سجدوں کا لطف لیا، جسے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اَمانت کے طور پر اُمت کو سونپا، جس نے سلطان صلاح الدین اَیّوبی کے لشکر کا استقبال کیا۔

 جمعہ کے دن وہاں نماز ادا نہ ہو سکی اور اس کے بند دروازے عرب، قطر تنازعہ میں مصروف اور جے آئی ٹی کے قصوں میں مست اُمتِ مسلمہ کی طرف دیکھتے رہ گئے۔

مسجد اقصیٰ کے ایک پہریدار فلسطینی مجاہد نے بند دروازے سے باہر کھڑے ہو کر جمعہ کی اَذان دی۔ اس کی آواز اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھی اور سینے میں سلگتے غم سے بار بار ہار جاتی تھی۔ شاید وہ کوشش کر رہا تھا کہ اس اذان کے ذریعے مردہ ضمیروں کو جگائے اور سوئے ہوئے جذبوں کو بیدار کرے لیکن…

عرب میں ایک مثال ہے’’ مااشبہ اللیلۃ بالبارحۃ ‘‘ ( آج کی رات گزشتہ رات سے کتنی مماثل ہے) فلسطین پر اس آخری قبضے کے زمانے کے حالات پڑھے جائیں کہ کس طرح پیش بندی کی گئی۔ پہلے امت مسلمہ کے بازوئے شمشیر زن کو کاٹا گیا۔ وہ عثمانی خلفاء جو فلسطین کے سودے کے علاوہ ہر بات گوارہ کر سکتے تھے اس خلافت کو کس طرح ختم کیا گیا۔ پہلے اسے بدنام کیا گیا پھر اس کے خلاف قومیت اور وطنیت کی آگ بھڑکائی گئی۔ عرب قومیت، عرب شناخت اور عرب تعصب کو اس’’ عجمی ‘‘ خلافت سے متنفر کر کے اس سے کاٹا گیا۔ عربوں کو اپنی آزادی اور اپنی ترقی کا جھانسہ دے کر ذات پات کا پجاری بنا کر ’’اُمت‘‘ کے نظرئیے سے ہٹایا گیا۔ اس طرح امت مسلمہ کی وہ قوت جو امت کی بنیاد پر ایک تھی، بانٹ دی گئی۔ اس طرح خلافت کا شیرازہ بکھیر دیا گیا۔ عثمانی باوفا زندگی کی آخری سانس تک مسجد اقصیٰ کا دفاع کرتے رہے اور جب تک ان سے بن پڑا، انہوں نے اپنے جسموں کے بند باندھ کر یہود کی یلغار کو روکا مگر تابکے؟ … آخر کار وہ ختم ہو گئے اور اتنے عرب ممالک کی موجودگی میں قبلہ اول مسلمانوں کے ہاتھوں سے چِھن گیا۔ عربوں نے قومیت کی بنیاد پر ترکوں کو تنہا کیا اور یہود کے ہاتھ مضبوط کئے، انہیں تھوڑے ہی عرصے میں اس کی سزا ملی اور اسی قومیت نے جب آگے بڑھ کر وطنیت کا لبادہ اوڑھا تو عرب اسرائیل جنگ میں مصری اور اردنی عرب دیگر عرب ممالک کی مدد کا انتظار ہی کرتے رہ گئے اور بدترین شکست سے دوچار ہوئے مگر ان کا کوئی قومی بھائی ان کی مدد کو نہ آیا۔ عرب کی اس عاقبت نااندیشی اور افتراق نے امت مسلمہ کو وہ زخم اور وہ عیب لگایا جس کا داغ شاید کبھی نہ دھل سکے۔ہزاروں صحابہ کرام اور بعد کی صلیبی جنگوں کے لاکھوں شہداء کی امانت ’’مسجد اقصیٰ‘‘ اور ’’بقاعِ مقدسہ‘‘ امت کے ہاتھ سے جاتے رہے اور ایک بار پھر وہاں صلیبی اور صیہونی بدمعاشوں نے ظلم کا بدترین کھیل کھیلا اور اپنی قدیم بری عادت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے اس مقدس گھر کو برباد و ویران کیا۔ مسجد اقصیٰ اگرچہ یہود کے زیر تسلط آ گئی اور فلسطین کی سرزمین پر ایک ناجائز ریاست قائم ہو گئی لیکن مسلمانوں نے ایک دن بھی نہ مزاحمت ترک کی اور نہ اس قبضے کو تسلیم کیا۔ کتنی ناقابل یقین مشکلات میں گھری جدوجہد اور عظیم قربانیوں سے اہل ایمان مسجد اقصیٰ پر نماز کا حق واپس لینے میں کامیاب ہوئے یہ ایک لازوال داستان ہے۔

ارضِ فلسطین پر حماس کی صورت میں ایمانی مزاحمت اور عزیمت کا ایک نشان نہ صرف باقی رہا بلکہ پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگاتا رہا۔ شیخ عز الدین بن القسام سے احمد یاسین اور رنتیسی تک قربانیوں کے ایک لازوال سلسلے نے مزاحمت اور جہاد کا علم کبھی گرنے نہیں دیا اور مسئلہ فلسطین کو عالَم کے سامنے زندہ رکھا۔

مگر اب بالکل وہی صورتحال ایک بار پھر سامنے آ کھڑی ہوئی ہے جو فلسطین پر قبضے کے وقت پیدا کی گئی تھی۔ عالمی قوتیں اس بات پر پورا گٹھ جوڑ کر چکی ہیں کہ اقصیٰ کی مزاحمت کے اس آخری نشان ’’حماس‘‘ کو مٹا دیا جائے اور جہاد فلسطین کے اس آخری مورچے کو مسمار کر دیا جائے۔ اب تک کی تمام کارروائیوں کے وقت عالَم عرب کی کسی نہ کسی حد تک معاونت اور حمایت ’’غزہ‘‘ کے مسلمانوں کو حاصل رہی اور بعض عرب ممالک کی طرف سے کسی حد تک ایمانی جذبات کا بھی مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال میں غزہ اور حماس پر آخری وار نہیں کیا جا سکتا اس لئے انہوں نے اب وہی پرانا کھیل کھیلا ہے اور لارنس آف عربیہ کی تاریخ ایک بار پھر دُہرائی جا رہی ہے۔ عرب ممالک کو باور کرایا جا رہا ہے کہ مسئلہ فلسطین سے متعلق ان کا سابقہ موقف نہ صرف یہ کہ ان کی ترقی اور عالمی برادری سے ان کے ضروری تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ عرب ممالک میں حکومتوں کے لئے خطرہ بن کر ابھر رہی ’’شدت پسندی‘‘ کی جڑ بھی یہی مسئلہ ہے۔ اس لئے عرب ممالک اگر اپنے اس موقف سے دستبردار ہو جائیں اور غزہ سے متعلق اپنا رویہ بدل لیں اور حماس کی ہر طرح کی حمایت ترک کر دیں تو نہ صرف ان کے تعلقات عالمی برادری سے خوشگوار ہو جائیں گے بلکہ عرب میں جاری خانہ جنگیاں بھی ختم ہو جائیں گی اور عرب حکومتیں درپیش خطرات سے محفوظ ہو جائیں گی۔ رہا مسئلہ فلسطین تو اس کا کوئی ایسا حل پیش کر دیا جائے گا جس پر تمام فریقوں کو رضا مند کر لیا جائے اور جو اس حل کی مزاحمت کرے اس کے خلاف مل کر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عرب ممالک میں عسکری اہمیت کا حامل ملک ’’مصر‘‘ پہلے سے ہی اس منصوبے پر عمل پیرا ہے اور اس نے اسرائیل سے مل کر غزہ کی ناکہ بندی کر کے وہاں کے مکینوں کی زندگی مشکل بنا رکھی ہے اب دیگر اہمیت کے حامل ممالک کو بھی ’’وطنیت‘‘ کے جذبے کے تحت اس پر آمادہ کر لیا گیا ہے اور اس کا واضح ثبوت ان عرب ممالک کے میڈیا اور سرکاری اِبلاغیات میں حماس کے لئے مجاہد تنظیم کی بجائے دہشت گرد تنظیم کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اقدامات کھل کر یہ بتا رہے ہیں عرب ایک بار پھر ماضی جیسی غلطی پر آمادگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ عرب ممالک کی وحدت کو توڑا جانا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے اور اسکے لئے وہی مہرہ استعمال کیا گیا ہے جو آج تک مسلمانوں کی اور خصوصاً عرب کی وحدت کو توڑنے کے لئے صدیوں سے استعمال کیا جاتا آ رہا ہے یعنی ایران، فلسطین اور حماس کے تئیں اپنے جھوٹے منافقانہ موقف کے بل بوتے پر وہ ہمیشہ اس تحریک کو عظیم نقصانات پہنچاتا چلا آیا ہے اور اب فیصلہ کن وار کے لئے بھی اس کے اسی کردار کو ایک بار پھر آزمایا گیا ہے۔ اب بظاہر عالمی قوتوں کے لئے میدان صاف ہے۔ امریکہ اور اسرائیل میں شدت پسند حکمران مسند اقتدار پر ہیں، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس معاملے پر امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کوئی کردار ادا نہیں کر سکے، عالم عرب ٹوٹ پھوٹ اور ایرانی دہشت گردی کا شکار ہے اور حماس کے خلاف تقریبا متحد ہو چکا ہے۔ عرب خطے کی شرعی جہادی تحریکات داعش کی عاقبت نا اندیشی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ حماس اور غزہ پہلے کی نسبت شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ حماس کے نظریاتی حامی ’’اخوان‘‘ بھی ہر جگہ زیرِ عتاب ہیں ایسے میں بظاہر امریکہ اور اسرائیل کے لئے میدان صاف ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ موجود ہے، وہ اہل عزیمت کا حامی و مددگار ہے، حماس اور غزہ ڈٹ کر تن کر میدان میں کھڑے ہیں، بوڑھے فلسطینی کی مزاحمتی اذان پیغام دے رہی ہے کہ کفر کے لئے نہ میدان صاف ہے اور نہ کام آسان۔ شام کے جہاد نے پورے عرب میں بیداری کی جو لہر پیدا کر رکھی ہے وہ ابھی جوش میں نہیں آئی، فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی طرف اٹھنے والے ناپاک قدم اس لہر کو موج بنا کر اُبھار لائیں گے اور دنیا جہادِ فلسطین کا وہ رنگ دیکھے گی جو اب تک نہ دیکھا ہو گا، اس بار حماس اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ عالم عرب کا گرم جوان خون ان کے شانہ بشانہ ہو گا۔ وطنیت کے جذبات اُبھار کر خود کو کامیاب سمجھ لینے والے امریکی ، صیہونی اور مجوسی نہیں جانتے کہ جہادی جذبات کا نقطہ اشتعال کس قدر خوفناک ہوا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم عرب کو غیرت مند مسلمان حکمران عطا فرمائے جو ماضی میں فلسطین پر قبضے کی راہ ہموار کرنے والوں کی راہ چلنے والوں کی بجائے اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلیں اور مسجد اقصیٰ کو آزاد کرانے کے جہاد میں اپنی صلاحیتیں اور وسائل خرچ کریں۔ یہ وقت کفر کے پھیلائے جال میں پھنس کر اپنے بھائیوں کو تنہا کرنے کا نہیں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے ورنہ دنیا آخرت کا عبرتناک انجام ہی مقدر ہو گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online