Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

اصلی ’’عبد‘‘ (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 603 (Talha-us-Saif) - Asli Abd

اصلی ’’عبد‘‘

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 603)

وہ اس امت میں اکیلا نہیں تھا، اس امت کی گود ایسے جوانوں سے بھری ہوئی ہے۔

یہ زندہ امت ہے۔ زندہ دین والی امت، زندہ قرآن والی امت، زندہ جذبات و نظریات والی امت، سخت سے سخت اور مشکل سے مشکل حالات میں زندہ رہنے والی امت۔ اس امت کی اصلیت اور حقیقت کا اندازہ کفار شاید نواز شریفوں، اشرف غنیوں اور عرب کے مخنثین کے لباس میں قید بادشاہوں کو دیکھ کر لگاتے ہیں، اس لئے غلط اندازے قائم کرتے ہیں۔ یہ امت ان سے نہیں ’’عمر العبد‘‘ جیسے آزاد بندوں سے آباد ہے جو ہر اندازہ غلط ثابت کر دیتے ہیں۔ یہ امت اس کشمیری چھ سالہ بچے کے دم سے سرفراز ہے جو اپنے والد کی لاش کے سامنے کھڑے ہو کر ہزاروں کے مجمع کو نعرے لگواتا ہے۔ یہ امت اس فلسطینی بزرگ کے دم سے زندہ ہے جو اکیلا درجنوں فوجیوں کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہے اور ہر سیدھی ہونے والی بندوق کے سامنے دوڑ کر آ جاتا ہے کہ پہلی گولی اس کے سینے میں اتاری جائے۔ مسجد اقصیٰ کی بندش کے نویں دن او آئی سی کو ہوش آ گیا اور ایک ’’ ہنگامی‘‘ اجلاس بلا لیا گیا، اسے ہنگامی کا نام دیتے ہوئے ڈوب کر نہیں مر گئے یہ لوگ۔ مگر کیسے؟ شرم ہوتی تو ڈوبتے۔ ڈوبتے تو کس پانی میں ڈوبتے؟ کیا کوئی پانی ایسی مردار لاشیں قبول کرنے پر آمادہ ہے؟…

’’عمر العبد‘‘ نام کا ’’ عبد‘‘ لیکن اللہ کا سچا عبد اور حقیقی مرد حر۔ اس نے مسجد اقصیٰ کے لئے نہ کسی ’’جلالۃ الملک‘‘ کے جاگنے کا انتظار کیا نہ ’’السید الرئیس‘‘ کی بیداری کا…

نہ اس نے اقوام متحدہ کو پکارا نہ او آئی سی کے مردہ ضمیر پر دستک دی۔ نہ اس نے عالمی برادری کو جھنجھوڑنے کی سعی کی اور نہ اس نے احتجاج و مظاہرے کی راہ اپنائی۔ اس نے اپنے جیسے ’’امتیوں‘‘ کو جگانے یا جھنجھوڑنے اور بیدار کرنے کی عملی سعی کی۔ جو میسر تھا اسے موثر بنایا اور خود کو مثال بنا کر سبق دیا۔ کمزوری کا رونا روتا تو کمزوروں کی راہ اپناتا۔ کم ہمتی اور مایوسی کا شکار ہوتا تو ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کا طرز عمل اپناتا اور جان بچانے کے لئے ایمان کو داؤ پر لگانے کی پالیسی اختیار کرتا۔ دانشور ہوتا تو بس آواز پہنچانے کی فکر کرتا اور اس کے بعد خود کو بری الذمہ قرار دے دیتا لیکن وہ ’’عبد‘‘ تھا اس نے سچے اور محبوب ’’عباد‘‘ والی راہ اپنائی۔ ’’عمر‘‘ تھا اس لئے عمری راستے کو اختیار کیا اس کے پاس ایک چھری تھی صرف ایک چھری۔ اس نے اسے ناکافی نہیں سمجھا اور اس کی موجودگی میں خود کو نہتا نہیں گردانا۔ اس نے اس چھری کو کام میں لایا اور لاکھوں فلسطینی نوجوانوں تک بھی اپنا پیغام کامیابی سے پہنچا دیا اور اسرائیل کے ایوانوں تک بھی۔ مسجد اقصیٰ کی آزادی اور آبادی کا طریقہ تو ’’عمر‘‘ ہی بہتر جانتے ہیں اور ہر زمانے میں جانتے ہیں۔ اسرائیلی پہلے بھی ان تیز دھار عمری چھریوں کو اچھی طرح بھگت چکے اور اب ’’عمر العبد‘‘ نے ’’حرب السکاکین‘‘ کے دوسرے دور کا آغاز کر دیا جو پہلے دور سے یقیناً زیادہ تباہ کن ہو گا۔ عمر نے مسجد اقصیٰ کی بندش پر اپنا عملی احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ اس نے اپنی چھری سے تین اسرائیلی فوجی ذبح کئے اور جام شہادت نوش کر لیا۔ اس نے اسرائیل کو سبق دیا کہ فلسطین کا مرد مجاہد اقصیٰ سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ اس نے فلسطینی نوجوانوں کو پیغام دیا کہ محاصرے اور عرب کی بدلتی نظروں سے مایوس نہ ہوں چھریاں کام میں لائیں اور یوں اندھی گولیوں کا نشانہ بن کر مرنے سے بہتر ہے اپنی قیمت وصول کر کے دنیا سے جائیں۔ ایک فلسطینی اگر تین یہودیوں کو قتل کر کے شہید ہو تو یہود کا بیج بہت جلد دنیا سے ہی ختم ہو جائے گا۔ اس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ مسلمان نہتا نہیں ہوتا۔ جہاد جدید اسلحہ کا محتاج نہیں ہوتا۔ مزاحمت بھاری ہتھیاروں کی مرہون منت نہیں ہوتی اور عزت کی موت یہی ہے کہ مرتے دم تک ہاتھ پاؤں مزاحمت کرتے رہیں۔ مسلمان چھریوں سے کام لینے پر آ جائیں تو کون ہے پھر جو کسی کی داڑھی ہاتھ میں پکڑ کر اسے جے شری رام کے منحوس نعرے لگانے پر مجبور کر سکے۔ اس نے بھاری اسلحہ، بڑی بڑی فوجیں اور تباہ کن عسکری قوت کے ڈھیر پر بیٹھ کر ملت فروشی کرتے عرب و عجم کے حکمرانوں کو بھی واضح پیغام دیا ہے کہ اقصیٰ کے محافظ بھوسے کے ان ڈھیروں کے محتاج نہیں ہیں۔ عمر الفاروق رضی اللہ عنہ سے لے کر عمر العبد شہید تک یہود کو اپنی تلواروں اور چھریوں سے خوفزدہ کرنے والے اسلام کے حقیقی محسنوں کو سلام…

آئیے اس مرد جری کی آخری وصیت اور پیغام پڑھتے ہیں شاید ہمارے دلوں کے تالے بھی کھل جائیں اور ہمیں بھی عزت و سرفرازی کا حقیقی راستہ سمجھ آ جائے۔ ہمارے ذہنوں پر چھائے مایوسی اور بزدلی کے اندھیرے چھٹ جائیں اور ہمیں محبوب بندوں والا راستہ نصیب ہو جائے۔

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

والصلاۃ والسلام علی اشرف الخلق والمرسلین سیدنا محمد "صلی اللّٰہ علیہ وسلم " فلتقرؤا وصیتی بل اخر کلام لی لکم انا شاب لم یتجاوز عمری العشرین لی احلاما وطموحات کثیرۃ ..کنت اعلم انہ بعون اللّٰہ ستتحقق احلامی کنت أعشق الحیاۃ لرسم البسمۃ علی وجہ الناس لکن ای حیاۃ ہذہ التی یقتل فیہاا نساء نا وشبابنا ظلما ویدنس اقصانا مسری حبیبنا ونحن نائمون ألیس من العار علینا الجلوس؟ انتم یا من سلاحکم صدأ..انتم یامن تخرجون سلاحکم فی المناسبات ..ألا تخجلون من انفسکم أعلنو حربا علی اللہ ألیس للہ حقا علیکم؟ ہاہم اغلقو اقصانا  فلم یلبی سلاحکم ....انا کل ما املک سکین مسنون.ہا ہو یلبی نداء اقصانا.عار علیکم عار یامن تشعلون الفتن بینناا سینتقم اللہ منکم وستحاسبون أمام اللّٰہ وستسئلون فیکفی کلنا أبناء فلسطین…وأبناء ألاقصی.....یاابناء القردۃ والخنازیر ان لم تفتحوا ابوب الاقصی انا واثق انہ سیخرج بعدی رجال یضربون بیدآ من حدید احذرکم انا اعلم انی ذاہبا الی ہناک فلن اعود ہنا

بل ساعود الی الجنۃ برحمۃ اللّٰہ.... یامحلی الموت والشہادۃ فدی اللّٰہ ورسولہ ومسری رسولہ ارجوکم سامحونی ف انفاسی باتت معدودۃ ..امی ابی ..اخوتی ..یامن ستشقون من بعدی سامحونی فأنا ذاہب الی الجنۃ بیتی ہناک سأشرب من نہر الکوثر من یدی الہادی.. لا ارید اکثر من ہذا فسامحونی.. ساقول وصیتی ومن لم یعمل بہا ساقاضیہ امام اللہ أہلی امانہ برقبتکم جمیعا .....یامسلمون لفونی برایات رسول اللّٰہ ولفو راسی  بعصابۃ القسام ولفو علی صدری عصابۃ ابا عمار وادخلوہم معی فی القبر.. انا اعی

ما اقول ومتشوق الی لقاء اللّٰہ .........ارجوکم لا تعملوا لی تئبین وتشغلوا الأغانی فقط تذکرونی وترحموا علی ارجوکم وحدوا صفوفکم فکلنا واحد ودمنا واحد وعدونا واحد واقصانا واحد فلم الفروقات الحمقاء بیننا؟

أخوکم بأذن اللّٰہ شہید

عمرالعبد

 ترجمہ:

حمد و صلوۃ کے بعد…

آپ سب میری وصیت اور میرے آخری کلمات پڑھیں۔ میں بیس سال کا نوجوان ہوں اور میرے بھی ویسے ہی خواب اور خیالات تھے جو اس عمر کے نوجوانوں کے ہوا کرتے ہیں۔

میں بھی ایسی زندگی جینا چاہتا تھا جو خوشیوں سے لبریز ہو اور لوگوں میں مسکراہٹیں بانٹنے میں صرف ہو ۔ میں جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے میرے یہ خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوں گے۔ لیکن یہ کیسی زندگی ہے جس میں ہماری عورتیں اور بچے ظلماً قتل کئے جا رہے ہیں اور ہماری اس مقدس مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور پامال ہو رہی ہے جو ہمارے حبیب حضرت محمدﷺکا مقام معراج ہے اور ہم سو رہے ہیں ۔ کیا یہ عار کی بات نہیں کہ ہم یوں بیٹھے رہیں؟

اے وہ لوگو جن کے ہتھیار گنگ ہیں

جو اپنے ہتھیاروں کی نمائش خاص مواقع پر لگاتے ہو کیا تمہیں اپنے آپ سے شرم اور عار نہیں آتی؟…

اللہ کے نام پر جنگ کا اعلان کر دو… کیا اللہ تعالیٰ کا تم پر حق نہیں ہے؟

انہوں نے ہماری مسجد اقصیٰ بند کر دی لیکن تمہارے ہتھیار بیدار نہ ہو سکے…

میں صرف ایک چھری کا مالک ہوں اور دیکھو میری یہ چھری مسجد اقصیٰ کی پکار پر لبیک کہنے جا رہی ہے۔

صد حیف تم پر جنہوں نے ہمارے درمیان فتنے اور تفرقے ڈال رکھے ہیں اللہ تعالیٰ تم سے اس کا سخت انتقام لے گا اور تمہیں اللہ کے حضور اس سب کا حساب دینا ہو گا اور تم سے پوچھا جائے گا بس یہ کافی ہے کہ ہم فلسطین کے بیٹے ہیں ہم اقصیٰ کے بیٹے ہیں…

اے سؤروں اور بندروں کی اولادو (یہود) اگر تم نے مسجد اقصیٰ کے دروازے نہ کھولے تو مجھے یقین واثق ہے کہ میرے بعد ایسے جوان نکلیں گے جو تم سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔ میں تمہیں خبردار کر رہا ہوں مجھے علم ہے کہ میں جس کام پر جا رہا ہوں اس کے بعد یہاں لوٹ کر نہیں آؤںگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت مکین ہو جاؤں گا۔ میں اللہ اور رسول کے لئے فدا ہونے موت اور شہادت کی طرف جا رہا ہوں۔ میری زندگی کی چند گھڑیاں باقی رہ گئیں ہیں لہٰذا سب مجھے معاف کر دیں۔ اے میری ماں، میرے والد اور میرے بھائیو! اور وہ تمام لوگ جو میرے بعد غمزدہ ہوں گے  مجھے معاف کر دیجئے گا اب میں کچھ وصیت کرتا ہوں، اس پر جس نے عمل نہ کیا میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے حساب طلب کروں گا۔ میرے اہل و عیال آپ سب کے پاس امانت ہیں۔ اے اہل ایمان! مجھے پرچم نبوی میں لپیٹ دینا اور میرے سر پر ’’قسام‘‘ کا شعار (رومال ) اور سینے پر ابو عمار کا شعار لپیٹ دینا اور یہ سب چیزیں میرے ساتھ قبر میں اُتار دینا۔

میں یہ سب باتیں سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں اور اب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں بے تاب ہوں۔ میری درخواست ہے کہ میرے لئے تعزیتی محفل منعقد نہ کی جائے اور نہ نغمے کہے جائیں بس آپ مجھے یاد رکھیں اور میرے لئے دعائے رحمت کریں۔ میری درخواست ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ ہم سب ایک ہیں ہمارا خون ایک ہے، ہمارا دشمن ایک ہے اور ہماری مسجد اقصیٰ ایک ہے۔ پھر یہ ہمارے درمیان احمقانہ تقسیم اور تفرقہ کیوں ہے؟ …

فقط

آپ کا شہید بھائی

عمر العبد

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online